13/08/2026
*کال ریکارڈنگ منظرِ عام پر چھالیا ڈیلر سے مبینہ ڈیل کی گفتگو نے نئے سوالات کھڑے کر دیے*
*کراچی (کرائم رپورٹر) 12 اگست 2026*
تھانہ بلال کالونی کی حدود میں چھالیا سے بھرے رکشے کو مبینہ طور پر 2 لاکھ روپے کے عوض چھوڑے جانے کے معاملے میں ایک مبینہ کال ریکارڈنگ منظرِ عام پر آنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے جس میں پولیس کانسٹیبل دانش پتافی اور چھالیا ڈیلر کے درمیان مبینہ گفتگو میں معاملات طے ہونے کی بات کی جا رہی ہے
ذرائع کے مطابق مبینہ کال ریکارڈنگ میں چھالیا ڈیلر اور پولیس کانسٹیبل دانش پتافی کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ معاملہ رقم کے عوض طے کیا گیا اور بعد ازاں چھالیا سے بھرے رکشے کو چھوڑ دیا گیا
ریکارڈنگ سامنے آنے کے بعد معاملے نے مزید سنگینی اختیار کر لی ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ رکشہ کس قانونی کارروائی کے تحت چھوڑا گیا اور اس تمام معاملے میں کون کون سے اہلکار ملوث ہیں
ذرائع کی جانب سے پہلے ہی پولیس کانسٹیبل دانش پتافی اور کانسٹیبل جعفر کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے تھے جبکہ ایس ایچ او بلال کالونی راؤ شبیر کی مبینہ سرپرستی کے بھی الزامات سامنے آ چکے ہیں
کال ریکارڈنگ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی تاہم اگر ریکارڈنگ درست ثابت ہوتی ہے تو یہ معاملہ محکمہ پولیس کے لیے انتہائی اہم نوعیت اختیار کر سکتا ہے
شہریوں اور قانونی حلقوں نے ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ کال ریکارڈنگ رکشہ چھوڑنے کے عمل ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں اور مبینہ رقم کی لین دین سمیت تمام پہلوؤں کی شفاف انکوائری کرائی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں
*اب اہم سوال یہ ہے کہ مبینہ 2 لاکھ روپے کی ڈیل کس نے طے کی رقم کس نے وصول کی اور چھالیا سے بھرا رکشہ کس کے حکم پر آزاد کیا گیا؟*