Anas Marketing Wala

Anas Marketing Wala 🚀 Client Acquisition
🤝 Client Success
📈 Business Growth
💻 Psychology Skills

2019 کا سال تھا۔ اُس وقت میری زندگی کا زیادہ تر وقت دینی تعلیم میں گزرتا تھا کیونکہ میں عالم کورس کر رہا تھا۔ ساتھ ہی ای...
03/08/2026

2019 کا سال تھا۔ اُس وقت میری زندگی کا زیادہ تر وقت دینی تعلیم میں گزرتا تھا کیونکہ میں عالم کورس کر رہا تھا۔ ساتھ ہی ایک سکول میں میتھ بھی پڑھاتا تھا، اور اسی سکول میں تقریباً 45 بچوں کو قرآن پاک بھی پڑھاتا تھا۔ الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے اتنا رزق دیا ہوا تھا کہ اپنی ضروریات خود پوری کر لیتا تھا۔ لیکن ان سب کے درمیان میرے دل میں ایک عجیب سا شوق پیدا ہو چکا تھا، اور وہ شوق تھا ڈیزائننگ کا۔
مجھے آج بھی یاد ہے، جب بھی میں کہیں کوئی خوبصورت پوسٹر، بینر یا ڈیزائن دیکھتا تھا تو میرے ذہن میں ایک ہی سوال آتا تھا: "آخر یہ بنتا کیسے ہے؟" اُس وقت مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کام کو گرافک ڈیزائننگ کہتے ہیں۔ میں صرف اتنا جانتا تھا کہ یہ چیز مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جہاں میری جرنی حقیقت میں شروع ہو چکی تھی، لیکن اُس وقت مجھے خود بھی اس کا احساس نہیں تھا۔
اپنی جمع کی ہوئی کمائی سے، اور گھر میں کسی کو بتائے بغیر، میں نے اپنا پہلا Vivo ٹچ موبائل خریدا۔ میرے لیے وہ صرف ایک موبائل نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا دروازہ تھا جس کے پیچھے ایک بالکل نئی دنیا میرا انتظار کر رہی تھی۔ پھر میں نے مختلف لوگوں سے پوچھنا شروع کیا کہ آخر یہ ڈیزائننگ سیکھی کیسے جاتی ہے۔ کافی پوچھنے کے بعد پہلی بار مجھے پتہ چلا کہ اس سکل کا نام گرافک ڈیزائننگ ہے۔ بس پھر کیا تھا، یوٹیوب میرا استاد بن گیا۔
شروع میں میری ایک اور غلط فہمی تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ گرافک ڈیزائننگ صرف لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر پر ہی سیکھی جا سکتی ہے، اس لیے کئی دن میں صرف ویڈیوز دیکھتا رہا لیکن آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ پھر ایک دن یوٹیوب پر سرچ کرتے ہوئے میری نظر ایک لفظ پر پڑی: "Graphic Designing on Mobile"۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے میری سوچ بدل دی۔ میں نے اس پر کلک کیا، اور پہلی بار PixelLab کے بارے میں سنا۔ اُس دن مجھے محسوس ہوا کہ شاید میرے پاس بھی ایک موقع موجود ہے، بس مجھے اس کا علم نہیں تھا۔
اس کے بعد میرا معمول بدل گیا۔ مدرسے میں عصر کے بعد اکثر دوست کھیلنے چلے جاتے تھے، لیکن میں موبائل لے کر PixelLab کی ویڈیوز دیکھنے بیٹھ جاتا۔ ایک ویڈیو دیکھتا، پھر خود پریکٹس کرتا، غلطی ہوتی تو دوبارہ کوشش کرتا۔ یہ سلسلہ کئی مہینوں تک چلتا رہا۔ اس دوران میں نے صرف پوسٹر ڈیزائننگ ہی نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ لوگو ڈیزائننگ، سوشل میڈیا ڈیزائن، فلائر ڈیزائن، بینر ڈیزائن، بزنس کارڈ ڈیزائن اور برانڈ آئیڈینٹی جیسی مختلف کیٹیگریز کے بارے میں بھی جاننا شروع کیا۔ لیکن اُس وقت میری سوچ یہ تھی کہ جب تک یہ سب کچھ نہیں سیکھوں گا، تب تک میں خود کو گرافک ڈیزائنر نہیں کہہ سکتا۔
تقریباً تین سے چار مہینے مسلسل سیکھنے اور پریکٹس کرنے کے بعد مجھے لگنے لگا کہ اب میری سکل کافی بہتر ہو گئی ہے۔ لیکن اب میرے سامنے ایک نیا سوال تھا، اور شاید یہ میری جرنی کا پہلا بڑا سوال تھا۔
"اب اس سکل کا کیا کروں؟"
مجھے نہ آن لائن مارکیٹ کا علم تھا، نہ فری لانسنگ کا، نہ یہ معلوم تھا کہ موبائل سے بھی کام بیچا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنے شہر کی اُن دکانوں پر جا کر پوچھا جہاں فلیکس اور ڈیزائننگ کا کام ہوتا تھا کہ آپ کے پاس کلائنٹس کیسے آتے ہیں؟ انہوں نے بہت سادہ سا جواب دیا: "ہماری دکان ہے، لوگ خود آ جاتے ہیں۔"
ایک بگنر ہونے کی وجہ سے میں نے یہی سمجھ لیا کہ شاید کامیاب ہونے کا صرف ایک ہی راستہ ہے... اپنی دکان کھولنا۔
میں کئی ہفتے اسی سوچ میں رہا کہ دکان کہاں بناؤں؟ پیسے کیسے جمع کروں؟ اور یہ سب کیسے ہوگا؟ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اُس وقت میری سب سے بڑی کمی سکل نہیں تھی، بلکہ سوچ تھی۔ میں ایک مسئلے کو صرف ایک زاویے سے دیکھ رہا تھا، اس لیے مجھے اس کا صرف ایک ہی حل نظر آ رہا تھا۔
پھر ایک دن میں نے اپنے ہی مدرسے کا ماہانہ رسالہ دیکھا۔ اس پر کوئی لوگو نہیں تھا۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ میں ان کے لیے لوگو بنا دوں۔ ہمت کر کے میں نے ذمہ دار حضرات سے بات کی۔ انہوں نے پہلے پوچھا کہ لوگو کی ضرورت ہی کیوں ہے؟ سچ یہ ہے کہ اُس وقت مجھے نہ کلائنٹ کمیونیکیشن آتی تھی، نہ اپنی ویلیو سمجھانا، نہ اعتراضات کا جواب دینا، نہ یہ معلوم تھا کہ پہلے سیمپل دکھانا چاہیے یا نہیں۔ میں صرف ایک بگنر تھا جس کے پاس شوق تھا، اعتماد تھا، لیکن تجربہ نہیں تھا۔
پھر بھی میں نے ہمت نہیں ہاری۔ میں نے ان کے لیے لوگو بنایا۔ انہوں نے پسند کیا، چند تبدیلیاں کروائیں، میں نے وہ بھی کر دیں۔ آخرکار انہوں نے مجھے میرا پہلا معاوضہ دیا۔ رقم زیادہ نہیں تھی، لیکن میرے لیے اُس کی اہمیت بہت بڑی تھی۔
آج جب اُس دن کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری پہلی کامیابی چند سو روپے نہیں تھے۔ میری پہلی کامیابی یہ تھی کہ میں نے پہلی بار اپنی سکل کو کسی کے مسئلے کا حل بنانے کی کوشش کی تھی۔
اور شاید اس سے بھی بڑا سبق مجھے بعد میں سمجھ آیا...
مسئلہ کبھی ایک نہیں ہوتا، اس لیے اس کا حل بھی ہمیشہ ایک نہیں ہوتا۔ جب آپ کسی مسئلے کو صرف ایک زاویے سے دیکھتے ہیں تو راستے محدود ہو جاتے ہیں، لیکن جب آپ مختلف زاویوں سے سوچنا شروع کرتے ہیں تو وہی مسئلہ نئے مواقع میں بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔
اُس وقت تو مجھے صرف اتنا لگ رہا تھا کہ میں نے اپنا پہلا کلائنٹ حاصل کر لیا ہے۔
لیکن آج سمجھ آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس دن مجھے گرافک ڈیزائننگ سے زیادہ "سوچنے کا طریقہ" سکھا رہے تھے۔
Key Lesson:
بگنر کی سب سے بڑی کمی سکل نہیں، محدود سوچ ہوتی ہے۔ جیسے جیسے آپ مختلف زاویوں سے سوچنا سیکھتے ہیں، ویسے ویسے نئے راستے خود نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

"آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری اصل غلطی نہ یہ تھی کہ میں گرافک ڈیزائننگ کو صرف لیپ ٹاپ تک محدود سمجھتا تھا، اور نہ ہی یہ کہ میں کلائنٹس کا واحد راستہ دکان کو سمجھتا تھا۔ میری سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ میں ہر مسئلے کا صرف ایک ہی حل دیکھتا تھا۔ لیکن انہی غلطیوں نے مجھے ایک ایسا سبق سکھایا جس نے میری سوچ بدل دی۔ میں نے ہر فیصلے سے پہلے رک کر سوچنا شروع کیا، اور ہر جواب کو مان لینے کے بجائے اس پر ریسرچ کرنا شروع کی۔ شاید یہی عادت میری پوری جرنی کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ بنی۔ آخر میں نے سوچنا کیسے سیکھا؟ ریسرچ نے میری سوچ کیسے بدلی؟ اور ایک بگنر کی طرح سوال پوچھنے کی عادت نے میری زندگی پر کیا اثر ڈالا؟ ان شاء اللہ، اگلی ایپیسوڈ میں میں آپ کے ساتھ یہی تجربہ شیئر کروں گا۔"

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کلائنٹ سب سے پہلے آپ کی سکلز، پورٹ فولیو یا پرائسنگ کو دیکھتا ہے، تو شاید آپ ابھی بھی کلائنٹ کے ...
01/08/2026

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کلائنٹ سب سے پہلے آپ کی سکلز، پورٹ فولیو یا پرائسنگ کو دیکھتا ہے، تو شاید آپ ابھی بھی کلائنٹ کے مائنڈ سیٹ کو مکمل طور پر نہیں سمجھتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی کلائنٹ پہلی بار کسی فری لانسر کی پروفائل، میسج یا پورٹ فولیو دیکھتا ہے تو وہ صرف یہ نہیں سوچ رہا ہوتا کہ "یہ شخص کیا کر سکتا ہے؟" بلکہ اس کے ذہن میں اس سے بھی بڑا سوال چل رہا ہوتا ہے: "کیا میں اپنے بزنس کے لیے اس شخص پر اعتماد کر سکتا ہوں؟" کیونکہ کلائنٹ کے لیے فری لانسر صرف ایک سروس پرووائیڈر نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے وقت، بجٹ، برانڈ اور بزنس کے مستقبل کے لیے ایک اہم فیصلہ کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلائنٹ کا پہلا فیصلہ اکثر سکل پر نہیں بلکہ اعتماد کے احساس پر بنتا ہے۔

زیادہ تر فری لانسر ایک بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی پروفائل، پورٹ فولیو اور میسجز میں صرف اپنے بارے میں بات کرتے ہیں۔ "میرے پاس پانچ سال کا تجربہ ہے، میں نے سو سے زیادہ پروجیکٹس کیے ہیں، میں یہ سروس دیتا ہوں، میں وہ سروس دیتا ہوں۔" لیکن ایک لمحے کے لیے خود کو کلائنٹ کی جگہ رکھ کر سوچیں۔ کیا اسے واقعی آپ کی پوری کہانی جاننے میں دلچسپی ہے؟ یا وہ صرف یہ جاننا چاہتا ہے کہ "کیا یہ شخص میرے مسئلے کو سمجھ سکتا ہے اور میرے لیے بہتر رزلٹس لا سکتا ہے؟" یہی وہ سوچ ہے جو ایک عام فری لانسر اور ایک پروفیشنل کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔ پروفیشنل اپنی قابلیت ثابت کرنے سے پہلے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ کلائنٹ کے بزنس کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یاد رکھیں، کلائنٹ آپ کو اپنی نظر سے نہیں بلکہ اپنی ضرورت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اگر اس کے سامنے دس فری لانسر موجود ہوں تو وہ صرف یہ موازنہ نہیں کرے گا کہ کس کی سکل بہتر ہے، بلکہ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ ان دس لوگوں میں سے کون میرے بزنس کو سب سے زیادہ سنجیدگی سے سمجھ رہا ہے، کون میری زبان میں بات کر رہا ہے، کون میرے بزنس گولز کو اہمیت دے رہا ہے، اور کون صرف اپنی سروس بیچنے کے بجائے میرے لیے ایک بہتر اسٹریٹجی سوچ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک ایسا فری لانسر پروجیکٹ جیت جاتا ہے جس کی سکل دوسرے سے کم ہوتی ہے، لیکن اس نے کلائنٹ کو یہ احساس دلا دیا ہوتا ہے کہ "یہ شخص میرے بزنس کے لیے صحیح انتخاب ہے

ایک حقیقت جو ہر فری لانسر کو سمجھنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ کلائنٹ آپ کو اس نظر سے نہیں دیکھتا جس نظر سے آپ خود کو دیکھتے ہیں۔ آپ اپنی محنت، اپنی سکلز اور اپنے تجربے کو جانتے ہیں، لیکن کلائنٹ ان میں سے کسی چیز کا گواہ نہیں ہوتا۔ وہ صرف وہی دیکھتا ہے جو آپ اسے دکھاتے ہیں۔ اسی لیے کلائنٹ کے ذہن میں سب سے پہلے یہ سوال نہیں آتا کہ "یہ فری لانسر کتنا محنتی ہے؟" بلکہ وہ یہ سوچتا ہے کہ "اگر میں آج اس شخص کو ہائر کروں تو کیا میرا فیصلہ صحیح ثابت ہوگا؟" کیونکہ اس کے لیے ہر نیا فری لانسر ایک نئی رسک بھی ہوتا ہے۔ اگر فیصلہ درست ہوا تو بزنس آگے بڑھے گا، لیکن اگر فیصلہ غلط ہوا تو وقت، پیسہ اور مواقع تینوں ضائع ہو سکتے ہیں۔

اسی لیے کلائنٹ ہر فری لانسر کو ایک خاموش رسک اسیسمنٹ کے ذریعے دیکھتا ہے۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ کیا یہ شخص میری بات کو غور سے سنتا ہے یا صرف اپنی سروس بیچنے کی کوشش کر رہا ہے؟ کیا یہ صرف میرے سوالوں کے جواب دے رہا ہے یا میرے بزنس کو بھی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے؟ کیا اس کی کمیونیکیشن پروفیشنل ہے؟ کیا یہ وقت کی قدر کرتا ہے؟ کیا یہ مسئلہ آنے پر ذمہ داری لے گا یا غائب ہو جائے گا؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر سوال کلائنٹ زبان سے نہیں پوچھتا، لیکن آپ کی ہر بات، ہر میسج، ہر جواب اور ہر رویے سے ان کے جواب خود تلاش کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک چھوٹا سا غیر پروفیشنل رویہ بھی کلائنٹ کے ذہن میں آپ کی پوری امیج بدل دیتا ہے۔

یہاں ایک اور اہم حقیقت سمجھنا ضروری ہے۔ کلائنٹ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ آپ کیا کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ آپ کیسے سوچتے ہیں۔ اگر آپ کی ہر بات صرف اپنی سروس، اپنی قیمت اور اپنے پورٹ فولیو کے گرد گھومتی ہے تو کلائنٹ آپ کو ایک عام سروس پرووائیڈر سمجھے گا۔ لیکن اگر آپ اس کے بزنس گولز، اس کے چیلنجز، اس کی پرائرٹیز اور متوقع رزلٹس کے بارے میں بات کرتے ہیں تو آہستہ آہستہ اس کے ذہن میں آپ کی پوزیشن بدلنے لگتی ہے۔ اب وہ آپ کو صرف کام کرنے والا شخص نہیں بلکہ ایک ایسا ٹرسٹڈ پروفیشنل سمجھنے لگتا ہے جو اس کے بزنس میں حقیقی ویلیو ایڈ کر سکتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں قیمت کی بحث کم اور اعتماد کی اہمیت زیادہ ہو جاتی ہے
...................
ضروری اناؤنسمنٹ
اگر آپ واقعی فری لانسنگ کو صرف ایک سکل نہیں بلکہ ایک مکمل کیریئر بنانا چاہتے ہیں، تو یہ پیج آپ کے لیے ہے۔ یہاں صرف میں ایک موضوع پر بات نہیں کرتا، بلکہ مرحلہ وار وہ تمام چیزیں شیئر کروں گا جن کی ایک فری لانسر کو ضرورت ہوتی ہے۔
Beginner to Professional Freelancer Series
میں بنیاد سے پروفیشنل لیول تک کا سفر،
Client Blueprint Series
میں IT کلائنٹس کو ڈھونڈنے، سمجھنے اور لانگ ٹرم ریلیشن شپ بنانے کے اصول،
Freelancer Mistakes Series
میں وہ غلطیاں جن سے بچ کر سالوں کا وقت بچایا جا سکتا ہے،
اور
Business Foundation Series
میں وہ بزنس سوچ جو ہر فری لانسر کو آگے بڑھنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

اگر آپ قدم بہ قدم اپنی سوچ، اپنی ویلیو اور اپنے کیریئر کو اگلے درجے تک لے جانا چاہتے ہیں، تو ابھی میرا یہ پیج
Anas Marketing Wala
کو فالو کریں، کیونکہ ہر نئی پوسٹ پچھلی پوسٹ سے جڑی ہوگی، اور ایک مکمل روڈمیپ کی شکل میں آگے بڑھتی جائے گی۔

لازمی بات 📌
اب میں نے اپنی سیریز کو 2 پارٹ میں تقسیم کر دیا ہے
ایک دن یہ دو سیریز قسط وار اپلوڈ ہوا کریں گی
• Client Blueprint Series
• Beginner to professional Freelancer Series

اور دوسرے دن یہ سیریز قسط وار اپلوڈ ہوا کریں گی
• Freelancer Mistakes Series
• Business Foundation series

اور ان شاءاللہ اگر آپ کو میری ان سیریز سے کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے تو اپنی رائے کمنٹ میں لازمی دیں
کیونکہ آپ ہی کی رائے پر میں ایک نیو سیریز بہت جلد شروع کروں گا جس میں میں اپنی جرنی شیئر کروں کہ میں نے کیسے سٹارٹ کیا اور کیا کیا چیزیں دیکھنی پڑی اس جرنی میں اور وہ کونسی چیزیں تھیں جنہوں نے مجھے آج یہاں تک پہنچایا کہ میں الحمدللہ آج پرسنلی 12 کلائنٹ کے ساتھ کام کررہا ہوں اور 3 کلائنٹ ہولڈ پر ہیں ................
Follow | Like | Shear | Comment |...................

اگر میں آپ سے پوچھوں کہ "آپ فری لانسنگ کیوں کرنا چاہتے ہیں؟" تو شاید آپ کا جواب ہوگا، "کیونکہ میں جاب نہیں کرنا چاہتا۔" ...
01/08/2026

اگر میں آپ سے پوچھوں کہ "آپ فری لانسنگ کیوں کرنا چاہتے ہیں؟" تو شاید آپ کا جواب ہوگا، "کیونکہ میں جاب نہیں کرنا چاہتا۔" یہ جواب میں نے بے شمار لوگوں سے سنا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جاب سے نفرت کرنا، فری لانسنگ کرنے کی اچھی وجہ نہیں ہے۔ کیونکہ جس شخص نے صرف جاب سے بچنے کے لیے فری لانسنگ کا انتخاب کیا ہو، وہ اکثر فری لانسنگ کی حقیقت سامنے آنے پر مایوس ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے دونوں راستوں کا فرق سمجھنے کے بجائے صرف ایک راستے سے بھاگنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ہمارے معاشرے میں اکثر فری لانسنگ اور جاب کا موازنہ اس انداز میں کیا جاتا ہے جیسے ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔ کوئی کہتا ہے کہ جاب میں آزادی نہیں، کوئی کہتا ہے کہ فری لانسنگ میں مستقبل محفوظ نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ جاب غلط ہے اور نہ فری لانسنگ۔ غلط صرف وہ فیصلہ ہوتا ہے جو حقیقت کو سمجھے بغیر کیا جائے۔ ہر راستے کی اپنی قیمت ہوتی ہے، اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور اپنی قربانیاں ہوتی ہیں۔ جو شخص صرف فوائد دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے، وہ بعد میں انہی چیزوں سے پریشان ہوتا ہے جنہیں اس نے پہلے نظر انداز کیا تھا۔
جاب میں آپ اپنی ذمہ داریوں کے بدلے ایک مقررہ آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ آپ کے کام کا ایک وقت ہوتا ہے، ایک نظام ہوتا ہے، اور اکثر معاملات میں کوئی نہ کوئی آپ کی رہنمائی بھی کر رہا ہوتا ہے۔ اگر کمپنی کا کوئی مسئلہ ہو تو اس کی ذمہ داری زیادہ تر کمپنی کی ہوتی ہے، آپ کی نہیں۔ لیکن فری لانسنگ میں تصویر بالکل مختلف ہوتی ہے۔ یہاں آپ صرف اپنا کام نہیں کرتے، بلکہ اپنے فیصلوں، اپنی غلطیوں، اپنی کامیابیوں اور اپنی ناکامیوں کے بھی خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فری لانسنگ آزادی ضرور دیتی ہے، لیکن اس آزادی کی قیمت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔
زیادہ تر بیگنرز فری لانسنگ کو صرف اس لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ یہاں کوئی باس نہیں ہوتا، کوئی دفتر نہیں جانا پڑتا اور وقت اپنی مرضی کا ہوتا ہے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جہاں باس نہیں ہوتا، وہاں خود کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی آپ کی اپنی ہوتی ہے۔ اگر آج آپ نے کام نہ کیا تو کوئی آپ سے جواب نہیں مانگے گا، لیکن اس کا اثر آپ کے مستقبل پر ضرور پڑے گا۔ اگر آپ نے اپنی سکل بہتر نہیں کی تو کوئی آپ کو نوٹس نہیں دے گا، لیکن مارکیٹ خاموشی سے آپ کو نظر انداز کر دے گی۔ فری لانسنگ میں سب سے سخت باس اکثر آپ کی اپنی بے نظمی ہوتی ہے۔
ایک اور دلچسپ فرق یہ ہے کہ جاب میں اکثر آپ کی شناخت کمپنی سے بنتی ہے، جبکہ فری لانسنگ میں کمپنی نہیں، آپ خود اپنی شناخت ہوتے ہیں۔ لوگ آپ کے نام، آپ کے کام، آپ کے رویے اور آپ کے معیار کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر آپ نے اپنی پروفیشنل شناخت مضبوط بنا لی تو مارکیٹ آپ کو یاد رکھتی ہے، اور اگر آپ نے صرف سکل پر انحصار کیا تو بہت جلد آپ جیسے سینکڑوں لوگ مارکیٹ میں موجود ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پروفیشنل فری لانسر صرف کام کرنا نہیں سیکھتے، بلکہ خود کو ایک قابلِ اعتماد پروفیشنل کے طور پر بھی بناتے ہیں۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ جاب اور فری لانسنگ کا اصل فرق آمدنی میں نہیں بلکہ ذمہ داری میں ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فری لانسنگ کا مطلب صرف زیادہ ارننگ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ ارننگ ہمیشہ زیادہ ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے۔ اگر آپ زیادہ آزادی چاہتے ہیں تو آپ کو زیادہ نظم و ضبط بھی لانا ہوگا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ فیصلے آپ خود کریں، تو پھر ان فیصلوں کے نتائج بھی آپ کو ہی قبول کرنے ہوں گے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے کے بعد ایک بیگنر آہستہ آہستہ پروفیشنل سوچ کی طرف بڑھنا شروع کرتا ہے۔

سب سے بڑی غلطی جو اکثر لوگ کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ فری لانسنگ اور جاب کا موازنہ صرف ارننگ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ اگر کوئی فری لانسر ایک مہینے میں زیادہ ارننگ کر لے تو لوگ فوراً کہتے ہیں کہ فری لانسنگ بہتر ہے، اور اگر کسی مہینے کام کم ملے تو یہی لوگ کہتے ہیں کہ جاب زیادہ محفوظ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کا موازنہ صرف ارننگ سے کرنا ویسا ہی ہے جیسے کسی کتاب کا معیار صرف اس کے سرورق کو دیکھ کر طے کر لیا جائے۔ اصل فرق ارننگ میں نہیں، بلکہ اس نظام میں ہے جس کے تحت آپ کام کرتے ہیں۔
جاب میں آپ اپنی سکل استعمال کرتے ہیں، لیکن فری لانسنگ میں آپ کو اپنی سکل کے ساتھ اپنی سوچ، اپنے فیصلے، اپنی پلاننگ اور اپنی شخصیت بھی استعمال کرنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک پروفیشنل فری لانسر صرف اپنے کام پر نہیں بلکہ اپنی عادتوں پر بھی مسلسل کام کرتا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ خود کو بہتر نہیں بنائے گا تو صرف سکل اسے زیادہ دور تک نہیں لے جا سکے گی۔ اس کے نزدیک ہر دن صرف کام کرنے کا دن نہیں ہوتا بلکہ خود کو بہتر بنانے کا بھی دن ہوتا ہے۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر شخص فری لانسنگ ہی کرے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جاب میں زیادہ اچھا کام کرتے ہیں، کیونکہ انہیں ایک منظم ماحول پسند ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی شخصیت آزادانہ فیصلے کرنے، نئے تجربات کرنے اور اپنی ذمہ داری خود اٹھانے کے لیے زیادہ موزوں ہوتی ہے۔ اس لیے مسئلہ یہ نہیں کہ کون سا راستہ بہتر ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آپ کی شخصیت، آپ کی سوچ اور آپ کے اہداف کس راستے سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں؟ جو شخص اپنی فطرت کو سمجھے بغیر صرف دوسروں کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے، وہ اکثر چند مہینوں بعد اپنے ہی فیصلے پر پچھتانے لگتا ہے۔
ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ پروفیشنل لوگ کبھی جاب کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھتے اور نہ ہی فری لانسنگ کو جادوئی حل سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دونوں راستے عزت والے ہیں، دونوں میں محنت کرنی پڑتی ہے، اور دونوں میں کامیابی صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے کام کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہر راستہ مختلف قسم کی ذمہ داری مانگتا ہے۔ اسی لیے سمجھدار لوگ راستہ نہیں، بلکہ اپنی صلاحیت، اپنے مزاج اور اپنے مستقبل کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔
اگر آپ واقعی فری لانسنگ میں آنا چاہتے ہیں تو صرف اس لیے مت آئیں کہ یہاں کوئی باس نہیں ہوگا یا آپ گھر بیٹھ کر کام کریں گے۔ اس لیے آئیں کہ آپ اپنی ذمہ داری خود اٹھانے کے لیے تیار ہیں، آپ مسلسل سیکھنے کے لیے تیار ہیں، اور آپ ایک ایسا پروفیشنل کیریئر بنانا چاہتے ہیں جس کی بنیاد صرف ارننگ نہیں بلکہ ویلیو، اعتماد اور مسلسل بہتری ہو۔ جب آپ اس سوچ کے ساتھ فری لانسنگ میں قدم رکھتے ہیں تو پھر آپ صرف ایک فری لانسر نہیں بنتے، بلکہ ایک ایسے پروفیشنل بنتے ہیں جس کی پہچان اس کے فیصلوں، اس کے معیار اور اس کے کردار سے ہوتی ہے۔
اگر آپ اس سیریز کی ہر ایپی سوڈ کو صرف پڑھنے کے بجائے اپنی سوچ کا حصہ بناتے گئے، تو یقین کریں آپ صرف معلومات حاصل نہیں کریں گے، بلکہ آہستہ آہستہ ایک نئی پروفیشنل سوچ بھی پیدا کریں گے۔ یہی سوچ آنے والے وقت میں آپ کے فیصلوں کو بہتر بنائے گی، اور بہتر فیصلے ہی ایک مضبوط کیریئر کی بنیاد بنتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ اس سفر کو ادھورا نہیں چھوڑنا چاہتے تو پیج کو فالو کریں، کیونکہ اگلی ایپی سوڈ میں ہم ایک ایسی حقیقت پر بات کریں گے جو ہر اس شخص کو جاننی چاہیے جو فری لانسنگ شروع کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

ضروری اناؤنسمنٹ
اگر آپ واقعی فری لانسنگ کو صرف ایک سکل نہیں بلکہ ایک مکمل کیریئر بنانا چاہتے ہیں، تو یہ پیج آپ کے لیے ہے۔ یہاں صرف میں ایک موضوع پر بات نہیں کرتا، بلکہ مرحلہ وار وہ تمام چیزیں شیئر کروں گا جن کی ایک فری لانسر کو ضرورت ہوتی ہے۔
Beginner to Professional Freelancer Series
میں بنیاد سے پروفیشنل لیول تک کا سفر،
Client Blueprint Series
میں IT کلائنٹس کو ڈھونڈنے، سمجھنے اور لانگ ٹرم ریلیشن شپ بنانے کے اصول،
Freelancer Mistakes Series
میں وہ غلطیاں جن سے بچ کر سالوں کا وقت بچایا جا سکتا ہے،
اور
Business Foundation Series
میں وہ بزنس سوچ جو ہر فری لانسر کو آگے بڑھنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

اگر آپ قدم بہ قدم اپنی سوچ، اپنی ویلیو اور اپنے کیریئر کو اگلے درجے تک لے جانا چاہتے ہیں، تو ابھی میرا یہ پیج
Anas Marketing Wala
کو فالو کریں، کیونکہ ہر نئی پوسٹ پچھلی پوسٹ سے جڑی ہوگی، اور ایک مکمل روڈمیپ کی شکل میں آگے بڑھتی جائے گی۔

لازمی بات 📌
اب میں نے اپنی سیریز کو 2 پارٹ میں تقسیم کر دیا ہے
ایک دن یہ دو سیریز قسط وار اپلوڈ ہوا کریں گی
• Client Blueprint Series
• Beginner to professional Freelancer Series

اور دوسرے دن یہ سیریز قسط وار اپلوڈ ہوا کریں گی
• Freelancer Mistakes Series
• Business Foundation series

اور ان شاءاللہ اگر آپ کو میری ان سیریز سے کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے تو اپنی رائے کمنٹ میں لازمی دیں
کیونکہ آپ ہی کی رائے پر میں ایک نیو سیریز بہت جلد شروع کروں گا جس میں میں اپنی جرنی شیئر کروں کہ میں نے کیسے سٹارٹ کیا اور کیا کیا چیزیں دیکھنی پڑی اس جرنی میں اور وہ کونسی چیزیں تھیں جنہوں نے مجھے آج یہاں تک پہنچایا کہ میں الحمدللہ آج پرسنلی 12 کلائنٹ کے ساتھ کام کررہا ہوں اور 3 کلائنٹ ہولڈ پر ہیں ................
Follow | Like | Shear | Comment |

اگلی ایپی سوڈ:

Freelancing Is Not for Everyone
ہر شخص فری لانسنگ کے لیے نہیں بنا

یہ صرف میں اپنی جرنی شیئر نہیں کررہا ہوں بلکہ اپنی کامیابی سے پہلے کی ہوئی غلطیاں اور سیکھے ہوئے سبق اور زیرو سے 3 لاکھ ...
01/08/2026

یہ صرف میں اپنی جرنی شیئر نہیں کررہا ہوں بلکہ اپنی کامیابی سے پہلے کی ہوئی غلطیاں اور سیکھے ہوئے سبق اور زیرو سے 3 لاکھ پر منتھ کی وہ تمام چیزیں شیئر کروں گا جن کو اگر آپ فالو کرتے ہیں تو آپ کا وقت بھی بچے گا اور جلدی گروتھ بھی ہوگی

کبھی کبھی زندگی میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب انسان پیچھے مڑ کر اپنی جرنی کو دیکھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے صرف کام نہیں کیا، بلکہ ہر موڑ پر کچھ نہ کچھ سیکھا بھی ہے۔ کچھ فیصلے ایسے تھے جن پر آج بھی فخر ہوتا ہے، اور کچھ ایسے بھی تھے جنہیں یاد کر کے لگتا ہے کہ اگر اُس وقت تھوڑی سی سمجھ ہوتی تو شاید راستہ مختلف ہوتا۔ یہی احساس میرے اندر کافی عرصے سے تھا کہ ان تجربات کو صرف اپنے تک محدود رکھنا شاید ان کی اصل ویلیو کو ضائع کرنا ہے۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی اس پوری جرنی کو ایک
100 Days Series

کی شکل دوں، تاکہ جو کچھ میں نے تقریباً پانچ سال میں سیکھا، وہ آپ تک روز ایک نیو ایپیسوڈ کی صورت میں پہنچ سکے۔

جب میں نے آئی ٹی فیلڈ میں قدم رکھا تھا تو میرے ذہن میں بھی وہی خواب تھے جو آج ہزاروں نئے فری لانسرز کے ذہن میں ہوتے ہیں۔ مجھے لگتا تھا کہ بس ایک اچھی سکل سیکھ لوں، پھر کلائنٹس خود آنا شروع ہو جائیں گے، اچھی انکم ہوگی اور سب کچھ آسان ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت اس سوچ سے کافی مختلف تھی۔ راستے میں ایسے سوال بھی آئے جن کے جواب کسی کورس میں نہیں ملے، ایسے فیصلے بھی کرنے پڑے جن کے نتائج بعد میں سمجھ آئے، اور ایسی غلطیاں بھی ہوئیں جنہوں نے مجھے صرف کام کرنا نہیں بلکہ سوچنا بھی سکھایا۔ آج احساس ہوتا ہے کہ اصل فرق صرف سکل نہیں بناتی، بلکہ وہ سوچ بناتی ہے جس کے ساتھ آپ ہر قدم اٹھاتے ہیں۔
یہ سیریز میری کامیابیوں کی فہرست نہیں ہوگی، اور نہ ہی میں یہاں خود کو کسی ایسے شخص کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں جس نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں آج بھی سیکھ رہا ہوں، نئے تجربات کر رہا ہوں، اپنی غلطیوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں اور ہر نئے سبق کے ساتھ اپنی سوچ کو بہتر بنا رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھیں جو آپ سے چند قدم آگے ضرور ہے، لیکن ابھی بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔

شاید اس سیریز کی سب سے خاص بات یہی ہوگی کہ میں صرف یہ نہیں بتاؤں گا کہ میرے ساتھ کیا ہوا، بلکہ یہ بھی بتاؤں گا کہ اُس وقت میں نے کیا سوچا، کیوں سوچا، کہاں غلط تھا، اور اگر آج دوبارہ وہی صورتحال آ جائے تو میں کیا مختلف کروں گا۔ کیونکہ میرے نزدیک کسی بھی جرنی کی اصل ویلیو اس کی کہانی میں نہیں، بلکہ اُس سے نکلنے والے سبق میں ہوتی ہے۔ اگر میری ایک غلطی آپ کا ایک مہینہ، ایک سال یا ایک غلط فیصلہ بچا دے، تو میرے لیے یہی اس پوری سیریز کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

ہو سکتا ہے آپ میں سے بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہوں کہ آخر اس سیریز میں ایسا کیا مختلف ہوگا؟ کیونکہ آج سوشل میڈیا پر فری لانسنگ کے بارے میں ہزاروں ویڈیوز، پوسٹس اور کورسز موجود ہیں۔ ہر کوئی بتاتا ہے کہ کون سی سکل سیکھنی ہے، پروفائل کیسے بنانی ہے، یا کلائنٹ کیسے ڈھونڈنا ہے۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ ایک چیز ایسی ہے جس پر بہت کم بات ہوتی ہے، اور وہ ہے ایک عام انسان کی اصل جرنی۔ وہ جرنی جس میں کنفیوژن بھی ہوتی ہے، غلط فیصلے بھی ہوتے ہیں، وقت بھی ضائع ہوتا ہے، اور پھر آہستہ آہستہ انسان صرف کام کرنا نہیں بلکہ صحیح انداز میں سوچنا بھی سیکھتا ہے۔
اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اس سیریز میں میں صرف اپنی کامیابیاں شیئر نہیں کروں گا۔ میں وہ دن بھی شیئر کروں گا جب مجھے لگتا تھا کہ شاید میں غلط راستے پر ہوں۔ وہ غلط فہمیاں بھی بتاؤں گا جنہیں میں کافی عرصے تک سچ سمجھتا رہا۔ وہ فیصلے بھی شیئر کروں گا جنہوں نے میرا وقت ضائع کیا، اور وہ چھوٹے چھوٹے سبق بھی جو بعد میں جا کر میری سوچ بدلنے کی وجہ بنے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ کامیابی سے متاثر ضرور ہوتے ہیں، لیکن اپنی زندگی بدلتے دوسروں کی غلطیوں سے سیکھ کر ہیں۔

ایک بات میں پہلے دن ہی واضح کرنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ یہ سیریز اس امید سے پڑھیں گے کہ ہر پوسٹ میں کوئی جادوئی فارمولا یا شارٹ کٹ ملے گا، تو شاید آپ مایوس ہوں۔ لیکن اگر آپ واقعی یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ ایک عام انسان کس طرح آہستہ آہستہ بہتر بنتا ہے، اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے، اپنی سوچ بدلتا ہے اور پھر آگے بڑھتا ہے، تو مجھے امید ہے کہ یہ 100 دن آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرے پاس ہر سوال کا جواب ہے۔ لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میں آپ سے کچھ بھی نہیں چھپاؤں گا۔ جہاں میں غلط تھا، وہاں اپنی غلطی مانوں گا۔ جہاں میں نے اچھا فیصلہ کیا، وہاں یہ بھی بتاؤں گا کہ وہ فیصلہ کیوں درست ثابت ہوا۔ اور جہاں آج بھی سیکھ رہا ہوں، وہاں یہ بھی کھل کر کہوں گا کہ میں ابھی اس سفر میں ہوں۔
Key Lesson:
ہر پروفیشنل کبھی نہ کبھی ایک بگنر تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اپنی غلطیوں کو چھپاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ انہی غلطیوں کو دوسروں کے لیے سبق بنا دیتے ہیں۔ اس سیریز کا مقصد بھی یہی ہے۔

اگر آپ واقعی اس 100 دن کے سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو یہ یاد رکھیں کہ اگر اپ نے یہ سیریز پڑھ لی اور اپنے وہ سوال جو اپ کو آگے بڑھنے سے روکے ہوئے ہیں کمنٹ میں پوچھے تو آپ کی جرنی کا سفر ان شاءاللہ تیزی سے بڑھے گا
اگلی ایپیسوڈ میں میں اپنا پہلا سٹیپ بتاؤں گا جو میں نے لیا اور وہ کیوں کیا تھا یہ بھی بتاؤں گا
ان شاءاللہ

Follow | Like | Comment | Share |

فری لانسنگ میں ناکامی کی سب سے خطرناک بات یہ نہیں کہ آپ کے پاس کلائنٹس نہیں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کو خود بھی معلوم نہیں ...
30/07/2026

فری لانسنگ میں ناکامی کی سب سے خطرناک بات یہ نہیں کہ آپ کے پاس کلائنٹس نہیں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ روزانہ کئی کئی گھنٹے محنت کرتے ہیں، نئی سکلز سیکھتے ہیں، اپنی پروفائل بہتر بناتے ہیں، مختلف پلیٹ فارمز پر وقت لگاتے ہیں، لیکن چند سال بعد بھی ان کے پاس یہ جواب نہیں ہوتا کہ ان کا اصل مقصد کیا ہے۔ جب راستہ واضح نہ ہو تو ہر قدم محنت تو ہوتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ منزل کی طرف لے جا رہا ہو۔
زیادہ تر بیگنر فری لانسرز فری لانسنگ کو ایک موقع کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایمرجنسی کے حل کے طور پر شروع کرتے ہیں۔ کسی کو نوکری نہیں ملتی، کسی کو جلدی پیسے کمانے ہوتے ہیں، کوئی دوسروں کی کامیابی دیکھ کر متاثر ہو جاتا ہے، اور کوئی صرف اس لیے شروع کر دیتا ہے کیونکہ اسے بتایا جاتا ہے کہ "فری لانسنگ میں بہت پیسہ ہے۔" مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ جب آغاز کسی واضح مقصد کے بجائے صرف جذبات یا حالات کی بنیاد پر ہوتا ہے تو آگے جا کر ہر فیصلہ بھی بغیر اسٹریٹیجی کے ہونے لگتا ہے۔ پھر انسان یہ نہیں سوچتا کہ مجھے کہاں پہنچنا ہے، بلکہ صرف یہ سوچتا ہے کہ اگلا کام کہاں سے ملے گا۔
اسی وجہ سے ایک عام بیگنر ہر چند ہفتوں بعد اپنی سمت بدل دیتا ہے۔ آج وہ گرافک ڈیزائننگ سیکھ رہا ہوتا ہے، کل ویڈیو ایڈیٹنگ کی طرف چلا جاتا ہے، پھر سوشل میڈیا مارکیٹنگ، اس کے بعد ویب ڈویلپمنٹ، پھر اے آئی ٹولز، پھر کسی اور نئی چیز کی طرف۔ اسے ہر نئی چیز ایک نیا موقع دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ کسی بھی شعبے میں اتنا وقت نہیں دے پاتا کہ مارکیٹ اسے اس شعبے کا قابلِ اعتماد شخص ماننا شروع کرے۔ باہر سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے کہ وہ بہت کچھ سیکھ رہا ہے، لیکن اندر سے وہ اپنی بنیاد کو کمزور کر رہا ہوتا ہے۔
یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ سیکھنا اور بھٹکنا دونوں الگ چیزیں ہیں۔ ایک پروفیشنل بھی مسلسل نئی چیزیں سیکھتا ہے، لیکن اس کی ہر نئی سکل اس کی موجودہ سمت کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ جبکہ ایک بیگنر ہر نئی سکل کے ساتھ اپنی پچھلی سمت چھوڑ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کی تمام محنت ایک ہی مقصد کی طرف جمع ہوتی رہتی ہے، جبکہ دوسرے شخص کی محنت مختلف سمتوں میں بکھر جاتی ہے۔ مارکیٹ ہمیشہ اس شخص کو زیادہ اہمیت دیتی ہے جس کی شناخت واضح ہو، نہ کہ اس شخص کو جو ہر مہینے اپنی شناخت بدل رہا ہو۔
ایک اور بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ لوگ فری لانسنگ شروع کرتے وقت صرف یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ "مجھے کیا سیکھنا ہے؟" لیکن وہ کبھی یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ "مجھے کس مسئلے کا بہترین حل بننا ہے؟" یہی سوال ایک عام فری لانسر اور ایک پروفیشنل کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ کلائنٹ کسی سافٹ ویئر کے ماہر کی تلاش میں نہیں ہوتا، وہ اپنے مسئلے کے بہترین حل کی تلاش میں ہوتا ہے۔ جس دن آپ کی سوچ سکل سے نکل کر پرابلم سالونگ کی طرف آ جاتی ہے، اسی دن آپ کی فری لانسنگ بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ سمت صرف بڑے فیصلوں سے نہیں بنتی، بلکہ روزانہ کے چھوٹے فیصلوں سے بنتی ہے۔ آج آپ کس چیز پر وقت لگا رہے ہیں، کس قسم کا کانٹینٹ دیکھ رہے ہیں، کن سکلز کو ترجیح دے رہے ہیں، کس قسم کے کلائنٹس کو ٹارگٹ کر رہے ہیں، اور ہر دن اپنے آپ کو کس مقصد کے قریب لے جا رہے ہیں، یہی فیصلے چند مہینوں بعد آپ کے پورے کیریئر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی لیے فری لانسنگ میں سب سے پہلے رفتار بڑھانے کی نہیں، سمت واضح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ تیز چلنے والا شخص بھی غلط راستے پر ہو تو منزل سے دور ہی جاتا ہے۔

فری لانسنگ میں سب سے مہنگی غلطی غلط سکل سیکھنا نہیں ہوتی، بلکہ بغیر کسی واضح سمت کے مسلسل آگے بڑھتے رہنا ہوتا ہے۔ کیونکہ غلط سکل کو آپ چند مہینوں میں بدل سکتے ہیں، لیکن بغیر سمت گزارے ہوئے دو یا تین سال واپس نہیں لا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ سالوں کی محنت کے باوجود خود سے ایک ہی سوال کرتے ہیں، "میں نے اتنا وقت دیا، پھر بھی میں آج وہاں کیوں نہیں ہوں جہاں ہونا چاہتا تھا؟" اکثر اس سوال کا جواب محنت کی کمی نہیں، بلکہ سمت کی کمی ہوتی ہے۔
ایک اور حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر بیگنر فری لانسرز اپنی پوری توجہ اس بات پر رکھتے ہیں کہ مارکیٹ میں اس وقت کون سی سکل زیادہ چل رہی ہے۔ وہ ہر نئے ٹرینڈ کے پیچھے بھاگتے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کامیابی کا راز ہمیشہ نئی چیز میں ہوتا ہے۔ لیکن ایک پروفیشنل کی سوچ مختلف ہوتی ہے۔ وہ خود سے یہ سوال کرتا ہے کہ "میں آنے والے تین یا پانچ سال بعد کس شناخت کے ساتھ جانا جانا چاہتا ہوں؟" کیونکہ جو شخص صرف ٹرینڈ کے مطابق چلتا ہے، وہ ہر چند مہینوں بعد اپنی سمت بدلتا ہے، جبکہ جو شخص اپنی شناخت بناتا ہے، مارکیٹ وقت کے ساتھ خود اس کی قدر بڑھانا شروع کر دیتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ سمت صرف یہ فیصلہ کرنے کا نام نہیں کہ آپ گرافک ڈیزائنر بنیں گے یا ویب ڈویلپر۔ اصل سمت اس سے کہیں آگے کی چیز ہے۔ سمت یہ بھی طے کرتی ہے کہ آپ کس قسم کے کلائنٹس کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، کس انڈسٹری میں اپنی پہچان بنانا چاہتے ہیں، کس مسئلے کے لیے لوگ آپ کو یاد کریں، اور جب آپ کا نام لیا جائے تو لوگوں کے ذہن میں سب سے پہلے کون سی ویلیو آئے۔ اگر یہ سوالات واضح نہیں ہیں تو پھر آپ صرف کام کر رہے ہیں، کیریئر نہیں بنا رہے۔
مارکیٹ میں ایک اصول ہمیشہ کام کرتا ہے۔ جس شخص کی شناخت واضح ہوتی ہے، اس پر اعتماد کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔ فرض کریں ایک فری لانسر اپنی پروفائل میں لکھتا ہے کہ وہ لوگو بھی بناتا ہے، ویب سائٹ بھی بناتا ہے، ایس ای او بھی کرتا ہے، ویڈیو ایڈیٹنگ بھی کرتا ہے، ورچوئل اسسٹنس بھی دیتا ہے اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ بھی کرتا ہے۔ دوسری طرف ایک شخص صرف ایک مخصوص مسئلے کے حل پر اپنی پوری توجہ دیتا ہے اور اسی کے مطابق اپنی پوزیشننگ بناتا ہے۔ اب اگر کسی کلائنٹ کو اسی مسئلے کا حل چاہیے ہوگا تو اعتماد کس پر زیادہ ہوگا؟ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ زیادہ سروسز دکھانے سے زیادہ کلائنٹس ملیں گے، جبکہ حقیقت میں اکثر ایسا کرنے سے آپ کی شناخت کمزور ہو جاتی ہے۔
اسی لیے کامیاب فری لانسر اپنی ہر نئی سکل سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا یہ میری موجودہ سمت کو مضبوط کرے گی یا مجھے میری منزل سے دور لے جائے گی؟ کیونکہ ہر نئی چیز سیکھنا ترقی نہیں ہوتی۔ ترقی وہ ہوتی ہے جو آپ کو اپنی منتخب کی ہوئی منزل کے ایک قدم اور قریب لے جائے۔ اگر ہر نئی سکل آپ کو نئی سمت میں لے جا رہی ہے تو آپ سیکھ ضرور رہے ہیں، لیکن آگے نہیں بڑھ رہے۔
آخر میں خود سے ایک سوال ضرور پوچھیں۔ اگر آج کوئی آپ سے پوچھے کہ آپ کس مسئلے کے ماہر ہیں، تو کیا آپ ایک واضح جواب دے سکتے ہیں؟ اگر آپ کا جواب مبہم ہے، تو شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ کو اپنی فری لانسنگ کی بنیاد دوبارہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جس دن آپ کی سمت واضح ہو جاتی ہے، اسی دن آپ کے فیصلے، آپ کی محنت، آپ کی سکلز اور آپ کا وقت ایک ہی مقصد کے لیے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سے ایک عام فری لانسر آہستہ آہستہ ایک حقیقی پروفیشنل میں تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے۔

ضروری اناؤنسمنٹ
اگر آپ واقعی فری لانسنگ کو صرف ایک سکل نہیں بلکہ ایک مکمل کیریئر بنانا چاہتے ہیں، تو یہ پیج آپ کے لیے ہے۔ یہاں صرف میں ایک موضوع پر بات نہیں کرتا، بلکہ مرحلہ وار وہ تمام چیزیں شیئر کروں گا جن کی ایک فری لانسر کو ضرورت ہوتی ہے۔
Beginner to Professional Freelancer Series
میں بنیاد سے پروفیشنل لیول تک کا سفر،
Client Blueprint Series
میں IT کلائنٹس کو ڈھونڈنے، سمجھنے اور لانگ ٹرم ریلیشن شپ بنانے کے اصول،
Freelancer Mistakes Series
میں وہ غلطیاں جن سے بچ کر سالوں کا وقت بچایا جا سکتا ہے،
اور
Business Foundation Series
میں وہ بزنس سوچ جو ہر فری لانسر کو آگے بڑھنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

اگر آپ قدم بہ قدم اپنی سوچ، اپنی ویلیو اور اپنے کیریئر کو اگلے درجے تک لے جانا چاہتے ہیں، تو ابھی میرا یہ پیج
Anas Marketing Wala
کو فالو کریں، کیونکہ ہر نئی پوسٹ پچھلی پوسٹ سے جڑی ہوگی، اور ایک مکمل روڈمیپ کی شکل میں آگے بڑھتی جائے گی۔

لازمی بات 📌
اب میں نے اپنی سیریز کو 2 پارٹ میں تقسیم کر دیا ہے
ایک دن یہ دو سیریز قسط وار اپلوڈ ہوا کریں گی
• Client Blueprint Series
• Beginner to professional Freelancer Series

اور دوسرے دن یہ سیریز قسط وار اپلوڈ ہوا کریں گی
• Freelancer Mistakes Series
• Business Foundation series

اور ان شاءاللہ اگر آپ کو میری ان سیریز سے کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے تو اپنی رائے کمنٹ میں لازمی دیں
کیونکہ آپ ہی کی رائے پر میں ایک نیو سیریز بہت جلد شروع کروں گا جس میں میں اپنی جرنی شیئر کروں کہ میں نے کیسے سٹارٹ کیا اور کیا کیا چیزیں دیکھنی پڑی اس جرنی میں اور وہ کونسی چیزیں تھیں جنہوں نے مجھے آج یہاں تک پہنچایا کہ میں الحمدللہ آج پرسنلی 12 کلائنٹ کے ساتھ کام کررہا ہوں اور 3 کلائنٹ ہولڈ پر ہیں ................
Follow | Like | Shear | Comment |

Address

Karachi Gulistan-e-Johar
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anas Marketing Wala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share