03/08/2026
2019 کا سال تھا۔ اُس وقت میری زندگی کا زیادہ تر وقت دینی تعلیم میں گزرتا تھا کیونکہ میں عالم کورس کر رہا تھا۔ ساتھ ہی ایک سکول میں میتھ بھی پڑھاتا تھا، اور اسی سکول میں تقریباً 45 بچوں کو قرآن پاک بھی پڑھاتا تھا۔ الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے اتنا رزق دیا ہوا تھا کہ اپنی ضروریات خود پوری کر لیتا تھا۔ لیکن ان سب کے درمیان میرے دل میں ایک عجیب سا شوق پیدا ہو چکا تھا، اور وہ شوق تھا ڈیزائننگ کا۔
مجھے آج بھی یاد ہے، جب بھی میں کہیں کوئی خوبصورت پوسٹر، بینر یا ڈیزائن دیکھتا تھا تو میرے ذہن میں ایک ہی سوال آتا تھا: "آخر یہ بنتا کیسے ہے؟" اُس وقت مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کام کو گرافک ڈیزائننگ کہتے ہیں۔ میں صرف اتنا جانتا تھا کہ یہ چیز مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جہاں میری جرنی حقیقت میں شروع ہو چکی تھی، لیکن اُس وقت مجھے خود بھی اس کا احساس نہیں تھا۔
اپنی جمع کی ہوئی کمائی سے، اور گھر میں کسی کو بتائے بغیر، میں نے اپنا پہلا Vivo ٹچ موبائل خریدا۔ میرے لیے وہ صرف ایک موبائل نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا دروازہ تھا جس کے پیچھے ایک بالکل نئی دنیا میرا انتظار کر رہی تھی۔ پھر میں نے مختلف لوگوں سے پوچھنا شروع کیا کہ آخر یہ ڈیزائننگ سیکھی کیسے جاتی ہے۔ کافی پوچھنے کے بعد پہلی بار مجھے پتہ چلا کہ اس سکل کا نام گرافک ڈیزائننگ ہے۔ بس پھر کیا تھا، یوٹیوب میرا استاد بن گیا۔
شروع میں میری ایک اور غلط فہمی تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ گرافک ڈیزائننگ صرف لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر پر ہی سیکھی جا سکتی ہے، اس لیے کئی دن میں صرف ویڈیوز دیکھتا رہا لیکن آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ پھر ایک دن یوٹیوب پر سرچ کرتے ہوئے میری نظر ایک لفظ پر پڑی: "Graphic Designing on Mobile"۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے میری سوچ بدل دی۔ میں نے اس پر کلک کیا، اور پہلی بار PixelLab کے بارے میں سنا۔ اُس دن مجھے محسوس ہوا کہ شاید میرے پاس بھی ایک موقع موجود ہے، بس مجھے اس کا علم نہیں تھا۔
اس کے بعد میرا معمول بدل گیا۔ مدرسے میں عصر کے بعد اکثر دوست کھیلنے چلے جاتے تھے، لیکن میں موبائل لے کر PixelLab کی ویڈیوز دیکھنے بیٹھ جاتا۔ ایک ویڈیو دیکھتا، پھر خود پریکٹس کرتا، غلطی ہوتی تو دوبارہ کوشش کرتا۔ یہ سلسلہ کئی مہینوں تک چلتا رہا۔ اس دوران میں نے صرف پوسٹر ڈیزائننگ ہی نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ لوگو ڈیزائننگ، سوشل میڈیا ڈیزائن، فلائر ڈیزائن، بینر ڈیزائن، بزنس کارڈ ڈیزائن اور برانڈ آئیڈینٹی جیسی مختلف کیٹیگریز کے بارے میں بھی جاننا شروع کیا۔ لیکن اُس وقت میری سوچ یہ تھی کہ جب تک یہ سب کچھ نہیں سیکھوں گا، تب تک میں خود کو گرافک ڈیزائنر نہیں کہہ سکتا۔
تقریباً تین سے چار مہینے مسلسل سیکھنے اور پریکٹس کرنے کے بعد مجھے لگنے لگا کہ اب میری سکل کافی بہتر ہو گئی ہے۔ لیکن اب میرے سامنے ایک نیا سوال تھا، اور شاید یہ میری جرنی کا پہلا بڑا سوال تھا۔
"اب اس سکل کا کیا کروں؟"
مجھے نہ آن لائن مارکیٹ کا علم تھا، نہ فری لانسنگ کا، نہ یہ معلوم تھا کہ موبائل سے بھی کام بیچا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنے شہر کی اُن دکانوں پر جا کر پوچھا جہاں فلیکس اور ڈیزائننگ کا کام ہوتا تھا کہ آپ کے پاس کلائنٹس کیسے آتے ہیں؟ انہوں نے بہت سادہ سا جواب دیا: "ہماری دکان ہے، لوگ خود آ جاتے ہیں۔"
ایک بگنر ہونے کی وجہ سے میں نے یہی سمجھ لیا کہ شاید کامیاب ہونے کا صرف ایک ہی راستہ ہے... اپنی دکان کھولنا۔
میں کئی ہفتے اسی سوچ میں رہا کہ دکان کہاں بناؤں؟ پیسے کیسے جمع کروں؟ اور یہ سب کیسے ہوگا؟ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اُس وقت میری سب سے بڑی کمی سکل نہیں تھی، بلکہ سوچ تھی۔ میں ایک مسئلے کو صرف ایک زاویے سے دیکھ رہا تھا، اس لیے مجھے اس کا صرف ایک ہی حل نظر آ رہا تھا۔
پھر ایک دن میں نے اپنے ہی مدرسے کا ماہانہ رسالہ دیکھا۔ اس پر کوئی لوگو نہیں تھا۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ میں ان کے لیے لوگو بنا دوں۔ ہمت کر کے میں نے ذمہ دار حضرات سے بات کی۔ انہوں نے پہلے پوچھا کہ لوگو کی ضرورت ہی کیوں ہے؟ سچ یہ ہے کہ اُس وقت مجھے نہ کلائنٹ کمیونیکیشن آتی تھی، نہ اپنی ویلیو سمجھانا، نہ اعتراضات کا جواب دینا، نہ یہ معلوم تھا کہ پہلے سیمپل دکھانا چاہیے یا نہیں۔ میں صرف ایک بگنر تھا جس کے پاس شوق تھا، اعتماد تھا، لیکن تجربہ نہیں تھا۔
پھر بھی میں نے ہمت نہیں ہاری۔ میں نے ان کے لیے لوگو بنایا۔ انہوں نے پسند کیا، چند تبدیلیاں کروائیں، میں نے وہ بھی کر دیں۔ آخرکار انہوں نے مجھے میرا پہلا معاوضہ دیا۔ رقم زیادہ نہیں تھی، لیکن میرے لیے اُس کی اہمیت بہت بڑی تھی۔
آج جب اُس دن کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری پہلی کامیابی چند سو روپے نہیں تھے۔ میری پہلی کامیابی یہ تھی کہ میں نے پہلی بار اپنی سکل کو کسی کے مسئلے کا حل بنانے کی کوشش کی تھی۔
اور شاید اس سے بھی بڑا سبق مجھے بعد میں سمجھ آیا...
مسئلہ کبھی ایک نہیں ہوتا، اس لیے اس کا حل بھی ہمیشہ ایک نہیں ہوتا۔ جب آپ کسی مسئلے کو صرف ایک زاویے سے دیکھتے ہیں تو راستے محدود ہو جاتے ہیں، لیکن جب آپ مختلف زاویوں سے سوچنا شروع کرتے ہیں تو وہی مسئلہ نئے مواقع میں بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔
اُس وقت تو مجھے صرف اتنا لگ رہا تھا کہ میں نے اپنا پہلا کلائنٹ حاصل کر لیا ہے۔
لیکن آج سمجھ آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس دن مجھے گرافک ڈیزائننگ سے زیادہ "سوچنے کا طریقہ" سکھا رہے تھے۔
Key Lesson:
بگنر کی سب سے بڑی کمی سکل نہیں، محدود سوچ ہوتی ہے۔ جیسے جیسے آپ مختلف زاویوں سے سوچنا سیکھتے ہیں، ویسے ویسے نئے راستے خود نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
"آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری اصل غلطی نہ یہ تھی کہ میں گرافک ڈیزائننگ کو صرف لیپ ٹاپ تک محدود سمجھتا تھا، اور نہ ہی یہ کہ میں کلائنٹس کا واحد راستہ دکان کو سمجھتا تھا۔ میری سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ میں ہر مسئلے کا صرف ایک ہی حل دیکھتا تھا۔ لیکن انہی غلطیوں نے مجھے ایک ایسا سبق سکھایا جس نے میری سوچ بدل دی۔ میں نے ہر فیصلے سے پہلے رک کر سوچنا شروع کیا، اور ہر جواب کو مان لینے کے بجائے اس پر ریسرچ کرنا شروع کی۔ شاید یہی عادت میری پوری جرنی کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ بنی۔ آخر میں نے سوچنا کیسے سیکھا؟ ریسرچ نے میری سوچ کیسے بدلی؟ اور ایک بگنر کی طرح سوال پوچھنے کی عادت نے میری زندگی پر کیا اثر ڈالا؟ ان شاء اللہ، اگلی ایپیسوڈ میں میں آپ کے ساتھ یہی تجربہ شیئر کروں گا۔"