04/06/2026
کتبے پر ٹیکس اور حسرتوں کا کفن: حکومت اور عوام کا المیہ
تحریر و تحقیق: ظہور خان (تحقیق نیوز)
کہتے ہیں کہ دنیا میں دو ہی چیزیں اٹل ہیں: ایک موت اور دوسرا ٹیکس۔ لیکن ہمارے ملک میں المیہ یہ ہے کہ یہاں موت پر بھی ٹیکس ہے اور کفن پر بھی۔ ایک عام شہری پیدا ہوتا ہے تو دودھ کے ڈبے پر ٹیکس دیتا ہے، زندگی بھر ماچس کی تیلی سے لے کر موٹر سائیکل کے پٹرول تک پر سرکار کا حصہ نکالتا ہے، اور جب مر جاتا ہے تو اس کی آخری آرام گاہ کے کتبے اور کفن پر بھی جی ایس ٹی وصول کر لیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیکسوں کے اس لامتناہی جال میں جکڑے ہوئے اس عام انسان کو بدلے میں ریاست سے ملتا کیا ہے؟ جواب صرف ایک لفظ میں سمویا جا سکتا ہے:
آئیے اس نظام کے ان تین ستونوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں جن پر غریب کی زندگی کا دارومدار ہے، لیکن وہ اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں۔
۱۔ سرکاری اسکول: عمارتیں غائب، مراعات قائم
ریاست کی سب سے پہلی ذمہ داری تعلیم ہوتی ہے، لیکن ہمارے سرکاری اسکولوں کا حال دیکھ کر رونا آتا ہے۔ کہیں اسکول کی شاندار بلڈنگ ہے تو وہاں سالوں سے کوئی استاد نہیں آیا۔ کہیں استاد موجود ہے تو بچے کھلے آسمان تلے، تپتی دھوپ یا جماتی سردی میں زمین پر بیٹھنے پر مجبور ہیں کیونکہ فرنیچر کا نام و نشان نہیں۔ سیشن آدھا گزر جاتا ہے لیکن غریب کے بچوں کو سرکاری کتابیں نصیب نہیں ہوتیں۔
اگر کچھ وقت پر ہوتا ہے، تو وہ ان اسکولوں کے بڑے افسران کی تنخواہیں، مراعات اور بیوروکریسی کے فنڈز ہیں۔ غریب کا بچہ تعلیم کے نام پر صرف وقت ضائع کرتا ہے، جبکہ نظام چلانے والوں کے اپنے بچے مہنگے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ یہ تعلیم نہیں، غریب کی نسلوں کو جان بوجھ کر پیچھے رکھنے کی سائش دکھائی دیتی ہے۔
۲۔ سرکاری ہسپتال: علاج کی جگہ، پرچی کا عذاب
بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کا بنیادی اصول کہتا ہے کہ کسی بھی ہسپتال کی "کیجولٹی" (ایمرجنسی) میں آنے والے مریض کا علاج مکمل طور پر مفت ہوگا۔ وہاں دوا، سرنج، پٹی اور ڈاکٹر کی فیس ریاست کے ذمے ہوگی۔ لیکن ہمارے سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار دیکھیں۔ دل کا دورہ پڑے یا سڑک پر حادثہ ہو، لواحقین مریض کو لے کر ایمرجنسی پہنچتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب سب سے پہلے ایک لمبی پرچی تھما کر کہتے ہیں: "باہر سے ادویات اور سرنج لے کر آؤ۔"
ہسپتالوں میں سہولیات کا شدید فقدان ہے، مشینیں خراب ہیں اور جو وسائل ہیں وہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سفید پوش انسان اپنی عزتِ نفس اور اپنوں کی زندگی بچانے کے لیے سود پر قرض لیتا ہے اور پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرتا ہے۔ یہاں علاج بعد میں شروع ہوتا ہے، غریب کا دیوالیہ پہلے نکل جاتا ہے۔
۳۔ واپڈا اور بجلی:
یونٹس سے زیادہ ٹیکس اور اندھیر نگری
ظلم اور معاشی قتل کی سب سے بدترین مثال ہمارا توانائی کا نظام ہے۔ واپڈا اور بجلی کے بل اب غریب کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ یہاں ظلم کا یہ عالم ہے کہ بل میں جلی ہوئی بجلی کے اصل یونٹس کی قیمت ایک طرف، اور حکومت کی طرف سے عائد کیے گئے مختلف قسم کے ٹیکسز کی قیمت اس سے بھی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ جی ایس ٹی، فدرل ایکسائز ڈیوٹی، فیول ایڈجسٹمنٹ اور نہ جانے کون کون سے نام نہاد ٹیکس لگا کر بل کو دگنا تگنا کر دیا جاتا ہے۔ غریب جتنی بجلی استعمال نہیں کرتا، اس سے زیادہ حکومت کو ٹیکس بھرنے پر مجبور ہے۔
ایک عام آدمی جس کے گھر میں صرف دو پنکھے چلتے ہیں، وہ ہزاروں روپے کا بل بھگتتا ہے، اور اس بھاری بھرکم بل میں وہ "مفت بجلی" بھی شامل ہوتی ہے جو بڑے بڑے سرکاری افسران، وزراء اور امراء عیاشی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ غریب بل نہ دے تو اگلے ہی دن میٹر کاٹ دیا جاتا ہے، لیکن جو ایمانداری سے خون پسینہ ایک کر کے یہ ظالمانہ بل دیتے ہیں، انہیں انعام میں چھ سے آٹھ گھنٹے کی بدترین لوڈ شیڈنگ ملتی ہے۔ یعنی غریب تپتی گرمی میں اندھیرے کا عذاب بھی بھگتے، امراء کی مفت بجلی کا تاوان بھی بھرے، یونٹس سے زیادہ ٹیکس بھی دے اور پھر بھی ذلیل ہو۔
یہ نظام اب چلنے کے قابل نہیں رہا۔ عوام ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کہ حکمران طبقہ لینڈ کروزرز میں گھومے اور ان کے محلات کے ایئر کنڈیشنر چوبیس گھنٹے چلیں۔ عوام ٹیکس اس لیے دیتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کو کتاب، بیمار کو دوا اور گھر کو روشنی مل سکے۔ جس دن اس ملک کا غریب قرض کی دلدل میں ڈوب کر سسکنا بند کر گیا، اس دن یہ پورا نظام زمین بوس ہو جائے گا۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کا صبر اب آخری کتبے تک پہنچ چکا ہے، اب مزید ظلم کی گنجائش نہیں ہے۔