The Mafia Manager

The Mafia Manager Might is right and thought is wrong it's along road nowhere
Enjoy the ride with blinders on

24/07/2026

قانون کے رکھوالے یا بھیڑیے؟ کراچی میں ایس ایس پی خالد مصطفیٰ کورائی اور AVLC کا بھیانک ڈراؤنا خواب!

تحریر: اشتیاق سرکی

پاکستان کے سب سے بڑے معاشی حب کراچی میں مظلوموں کے خون، گن پوائنٹ پر بھتے، اغوا برائے تاوان اور چوری کی گاڑیوں کے کالے دھندے نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ شہرِ قائد کی عوام پہلے ہی سٹریٹ کرائمز کی زد میں تھی، مگر اب قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی شہریوں کی زندگی اور روزی روٹی کا سب سے بڑا عذاب بن چکے ہیں۔ اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل اور سی آئی اے کے ایس ایس پی خالد مصطفیٰ کورائی، جو خود کو اپنے قبیلے کا خود ساختہ سردار بھی ظاہر کرتے ہیں، ان کی سرپرستی میں کام کرنے والے اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے۔ سنگین الزامات کی ایک لمبی فہرست نے سندھ پولیس کا اصلی اور بھیانک چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔

یہ وہی نام نہاد "دبنگ" ایس ایس پی خالد مصطفیٰ کورائی ہیں جنہوں نے اپنی ناہلی اور ناکامی کا ملبہ شہریوں پر ڈالتے ہوئے کھلم کھلا کراچی کے عوام سے کہا تھا کہ وہ اپنی گاڑیوں میں ایک نہیں بلکہ دو دو ٹریکر لگوائیں، اور گاڑی صرف وہیں پارک کریں جہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوں، یعنی اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی حفاظت شہری خود کریں! جب پولیس افسر خود عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو پھر پولیس کا محکمہ کس کام کا؟ جب سے خالد مصطفیٰ کورائی نے عہدہ سنبھالا ہے، کراچی میں کسی شہری کی گاڑی یا موٹر سائیکل کا محفوظ رہنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے مہینے میں 111 گاڑیاں اور ڈھائی ہزار موٹر سائیکلیں چوری جبکہ 22 گاڑیاں اور 1,500 موٹر سائیکلیں گن پوائنٹ پر چھینی گئیں۔ مئی کے مہینے میں 106 گاڑیاں اور 2,240 موٹر سائیکلیں چوری جبکہ 20 گاڑیاں اور 445 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔ جون کے مہینے میں بھی یہ سلسلہ نہ تھما اور 100 گاڑیاں و 2,400 موٹر سائیکلیں چوری جبکہ 8 گاڑیاں اور 374 موٹر سائیکلیں ڈکیتی کا شکار ہوئیں۔ کروڑوں اربوں روپے کی یہ املاک کہاں جا رہی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ پورا گورکھ دھندا پولیس اور ڈکیتی گروہوں کی ملی بھگت سے چل رہا ہے۔

اسی ناانصافی کی ایک دلسوز داستان کراچی پریس کلب کے فٹ پاتھ پر گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے، جہاں ایک غیور اور خوددار باپ عبدالواحد قانون اور انصاف کا جنازہ اٹھائے بیٹھا ہے۔ دو سال قبل انڈرائیو چلانے والے عبدالواحد کو بکنگ کے بہانے کورنگی بلایا گیا، جہاں چار مسلح درندوں نے گن پوائنٹ پر تشدد کر کے اس کے بچوں کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ اس کی الٹو گاڑی چھین لی اور اسے لہو لہان حالت میں سڑک پر پھینک دیا۔ تین دن کی ذلت کے بعد پولیس نے جان بوجھ کر اتنی کمزور ایف آئی آر کاٹی جس کا سیدھا فائدہ ڈاکوؤں کو ملے۔ بعد میں جب وہی ڈاکو دوسرے تھانے کی حدود میں پکڑے گئے تو انکشاف ہوا کہ گاڑی ارشاد کلہوڑو نامی شخص کو بیچی گئی جو بھٹائی آباد میں رینٹ اے کار اور ریسٹورنٹ بزنس کی آڑ میں چوری کی گاڑیوں کا کالا دھندہ چلاتا ہے۔ سب کچھ شیشے کی طرح صاف ہونے کے باوجود ایس ایس پی خالد مصطفیٰ کورائی پچھلے تین ماہ سے اس بوڑھے باپ کو صرف لارے لپے دے رہے ہیں اور صحافیوں کے سوالات سے بھاگ رہے ہیں، کیونکہ غریب عبدالواحد کے پاس پولیس کا بھوکا پیٹ بھرنے کے لیے لاکھوں کی رشوت نہیں۔ الزامات ہیں کہ پولیس ملزمان سے بھاری کک بیکس لے کر انہیں مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

کراچی پولیس کی وردی میں اغوا کاروں اور ڈکیتوں کا یہ گروپ انتہائی شاطر اور چال باز ہے۔ سہراب گوٹھ میں تعینات پولیس افسر وزیر علی سموں اور اس کی ٹیم نے عدنان یونس نامی شہری کو اغوا کیا، پہلے سہراب گوٹھ سیل اور پھر شاہ فیصل کے عقوبت خانے منتقل کر کے 20 لاکھ روپے تاوان مانگا۔ اعلیٰ پولیس حکام کی مداخلت پر شہری تو بازیاب ہو گیا مگر مجرم پولیس پارٹی کو بچا لیا گیا۔ اسی طرح کیماڑی میں تعینات ڈسٹرکٹ انویسٹی گیشن افسر واحد بروہی، اس کی پارٹی میں شامل پولیس اہلکار بلال، ذیشان، فیاض اور پرائیویٹ بیٹر ناصر ٹرکوں، ڈمپروں اور شہزور گاڑیوں کے مالکان کو دھمکا کر دو سے تین لاکھ روپے فی گاڑی بھتہ وصول کرتے ہیں۔ حب چوکی کے قریب اے ایس آئی فیصل فارنزک کی دھمکی دے کر دو لاکھ روپے بھتہ سمیٹتا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ گلستان جوہر کے ڈسٹرکٹ انویسٹی گیشن آفیسر محمد خان کھوڑو پر شہری محمد مہیب نے کراچی پولیس چیف آزاد خان کو خط لکھ کر الزامات عائد کیے ہیں کہ اس افسر نے پولیس وردی میں پرائیویٹ افراد کے ساتھ مل کر اسے اغوا کیا، گدھے کی طرح مارا پیٹا، جیب سے 34 ہزار روپے نکالے اور پھر پانچ لاکھ روپے بھتہ اور ذاتی موٹر سائیکل پر قبضہ کرنے کے بعد ہاف فرائی کی دھمکیاں دیں۔ متاثرہ شہری کے مطابق یہ افسر ایس ایس پی سی آئی اے کو اپنا بڑا بھائی بتاتا ہے۔

بات صرف عام شہریوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ گزشتہ دنوں کراچی کے کاروباریوں اور تاجروں نے پولیس افسران کی جانب سے اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے کروڑوں روپوں کا بھتہ و "تعاون" وصول کرنے، مزید رقم کے مطالبے اور جانی تحفظ کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی، جس میں اس ایس ایس پی خالد مصطفیٰ کورائی کا نام سرِ فہرست تھا۔ ایس ایس پی خالد مصطفیٰ کورائی ان تمام معملات پر یا تو مکمل خاموش ہیں یا مبینہ طور پر اس پورے گینگ کے برابر کے پارٹنر ہیں۔ یہ وہی پولیس ہے جو کسی بااثر یا امیر کی چوری شدہ گاڑی دو دن میں برآمد کر لیتی ہے، مگر یہاں غریب کی زندگی بھر کی کمائی واپس دلانے میں انہیں موت پڑ رہی ہے۔

سندھ حکومت نے تو لگتا ہے کہ پولیس کی وردیوں میں یہ بھیڑیے عوام پر چھوڑ دیے ہیں اور یہ سب ایک منظم طریقے سے، سیاسی و سرکاری آشیرباد کے ساتھ ہو رہا ہے۔ لیکن سب سے بڑا اور چبھتا ہوا سوال یہ ہے کہ ہمارے مقتدر حلقے ان تمام سنگین معملات اور تباہ کاریوں پر آخر کیوں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں؟ وہ کب تک اس کھلے عام ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری پر آنکھیں بند رکھیں گے؟ آخر مقتدر حلقے کب حرکت میں آئیں گے اور کراچی کے معصوم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے؟

23/07/2026

India today

08/07/2026
08/07/2026

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Mafia Manager posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share