05/08/2025
آج امتِ مسلمہ کے لیے سب سے بڑی رسوائی یہ ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے ظالم کو “امن کا علمبردار” کہنے لگی ہے۔ حال ہی میں بعض اسلامی ممالک اور شخصیات نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے افراد کو نوبل امن انعام دینے کی حمایت کی، جن کے ہاتھ عراق، افغانستان، شام اور فلسطین کے معصوموں کے خون سے رنگے ہیں۔
یاد رکھیں، ڈونلڈ ٹرمپ وہی شخص ہے جس نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے لاکھوں فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکا، اور جس کے دور میں غزہ پر بمباری میں بےگناہ بچے شہید ہوئے۔ اس نے افغانستان میں بمباری تیز کر کے ‘Mother of All Bombs’ (MOAB) گرائی — جو کہ دنیا کا سب سے بڑا نان نیوکلئیر بم ہے، اور اس کا شکار بھی عام مسلمان ہی بنے۔
اگر اس سب کے باوجود کوئی حکومت، ادارہ یا فرد اس قاتل کو امن کا سفیر کہے، تو یہ محض نفاق نہیں، یہ امتِ مسلمہ کی توہین ہے۔ ایسے میں خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے، اور ظالم کی مدح سرائی، کھلی غداری۔
پاکستانی حکومت اگر عالمی دباؤ یا مفادات کے تحت ایسے اقدامات کی حمایت کرے تو یہ سوال اٹھانا لازم ہے: کیا ہم صرف زبانی امت ہیں یا واقعی کردار والی قوم؟
کیا ہمارے حکمران بیت المقدس کے سودے، فلسطینی خون، افغان لاشوں اور کشمیری خاموشیوں کے بدلے محض “جارحوں کی چاپلوسی” کو خارجہ پالیسی سمجھ بیٹھے ہیں؟
یاد رکھو، یہود و نصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہ تھے (سورۃ المائدہ: 51) —
جو ان کے خوشنودی کے لیے حق کی قربانی دے، وہ نہ امت کے ساتھ ہے، نہ رب کے ساتھ۔
تاریخی اور حالیہ ثبوت:
• 2017: ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا۔
• 2018-19: امریکہ نے فلسطینیوں کی مالی امداد بند کر دی۔
• 2017-2020: افغانستان پر ہزاروں حملے اور ڈرون اسٹرائیکس، MOAB کا استعمال۔
• ابراہام معاہدہ: اسرائیل کو عرب ممالک سے سفارتی تسلیم کروانا، ٹرمپ کی براہ راست پشت پناہی۔