Muhammad Mubashir

Muhammad Mubashir Creative Graphics Designer & UI/UX Designer

ہیکل سلیمانی اور قوم اسرائیل کا وجود.ہیکل سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی۔ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ ...
23/05/2021

ہیکل سلیمانی اور قوم اسرائیل کا وجود.

ہیکل سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی۔ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی تاکہ لوگ اس کی طرف منہ کرکے یا اس کے اندر عبادت کریں۔
ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے پہلے یہودیوں کے ھاں کسی بھی باقاعدہ ہیکل کا نہ کوئی وجود اور نہ اس کا کوئی تصور تھا۔ اس قوم کی بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی تھی۔ان کا ہیکل یا معبد ایک خیمہ تھا۔ اس خیمے میں تابوت سکینہ رکھا ھوتا تھا جس کی جانب یہ رخ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔ روایات کے مطابق یہ تابوت جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اسے " شمشاد کہتے ہیں۔ اور اسے جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا تھا۔ یہ تابوت نسل در نسل انبیا سے ھوتا ھوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تک پہنچا تھا، اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا من و سلویٰ اور دیگر انبیا کی یادگاریں تھیں۔ یہودی اس تابوت کی برکت سے ھر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو لشکر کے آگے رکھا کرتے اس کی برکت سے دشمن پر فتح پایا کرتے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہت عطا ھوئی تو آپ نے اپنے لئے ایک باقاعدہ محل تعمیر کروایا۔ ایک دن ان کے ذہن میں خیال آیا کہ میں خود تو محل میں رہتا ھوں جبکہ میری قوم کا معبد آج بھی خیمے میں رکھا ھوتا ہے۔ یہ بائیبل کی روایات ہے،
جیسے بائیبل میں ہے
" بادشاہ نے کہا: ’میں تو دیودار کی شان دار لکڑی سے بنے ہوئے ایک محل میں رہتا ہوں، مگر خدا وند کا تابوت ایک خیمے میں پڑا ہوا ہے( 2۔سموئیل 4؛2)۔
چنانچہ آپ نے ہیکل کی تعمیر کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک جگہ کا تعین کیا گیا۔ ماھرین نے آپ کو مشورہ دیا کہ اس ہیکل کی تعمیر آپ کے دور میں ناممکن ہے آپ اس کا ذمہ اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دے دیجئیے۔ چنانچہ حضرت سلیمان نے (970 ق م ۔ 930 ق م ) نے اپنے دور حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ آج اس کی بناوٹ اور مضبوطی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تعمیر انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی اتنے بھاری اور بڑے پتھروں کو ان جنات کی طاقت سے چنا گیا تھا جن پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت تھی۔ ہیکل کی پہلی تعمیر کے دوران ہی حضرت سلیمان علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ لیکن جنات کو پتہ نہ چل سکا اور انہوں نے ہیکل کی تعمیر مکمل کردی۔ یہ واقعہ آپ نے پہلے بھی پڑھا ہوگا۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی روح اللہ نے دوران عبادت ہی قبض کرلی لیکن اس کی ترکیب اس طرح بنی کے آپ ایک لکڑی پر سر اور کمر رکھ کر عبادت میں مصروف ہوگئے اور اس لکڑی کے سہارے سے یوں لگتا تھا کہ آپ اب بھی عبادت ہی کررہے ہیں۔ جبکہ آپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ بہرحال یہ ہیکل، معبد یا مسجد بہت عالیشان اور وسیع و عریض تعمیر کی گئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اس میں تین حصے کردئیے گئے تھے بیرونی حصے میں عام لوگ عبادت کیا کرتے اس سے اگلے حصے میں علما جو کہ انبیا کی اولاد میں سے ھوتے ان کی عبادت کی جگہ تھی اس سے اگلے حصے میں جسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا تھا اس میں تابوت سکینہ رکھا گیا تھا۔ اس حصے میں کسی کو بھی داخل ھونے کی اجازت نہیں تھی۔ سوائے سب سے بڑے عالم پیش امام کے۔
وقت گزرتا رھا اس دوران بنی اسرائیل میں پیغمبر معبوث ھوتے رہے یہ قوم بد سے بدتر ھوتی رھی ، یہ کسی بھی طرح اپنے گناھوں سے توبہ تائب ھونے یا ان کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے یہ ایک جانب عبادتیں کیا کرتے دوسری جانب اللہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی بھی کرتے رہے۔ ان کی اس دوغلی روش سے اللہ پاک ناراض ھوگیا۔ان کے پاس ایک بہت بڑی تعداد میں انبیا بھی بھیجے گئے لیکن یہ قوم سدھرنے کو تیار نہ تھی حتی کہ ان کی شکلیں تبدیل کرکے بندر اور سؤر تک بنائی گئیں لیکن یہ گناھوں سے باز نہ آئے تب اللہ نے ان پر لعنت کر دی۔ 586 ق۔ م میں بخت نصر نے ان کے ملک پر حملہ کیا ان کا ہیکل مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا، ہیکل میں سے تابوت سکینہ نکالا، چھ لاکھ کے قریب یہودیوں کو قتل کیا تقریبا" دو لاکھ یہودیوں کو قید کیا اور اپنے ساتھ بابل (عراق) لے گیا شہر سے باھر یہودی غلاموں کی ایک بستی تعمیر کی جس کا نام تل ابیب رکھا گیا۔ 70 سال تک ہیکل صفحہ ھستی سے مٹا رھا۔ دوسری طرف بخت نصر نے تابوت سکینہ کی شدید بے حرمتی کی اور اسی کہیں پھینک دیا کہا جاتا ہے اس حرکت کا عذاب اسے اس کے ملک کو اس طرح ملا کہ سن 539 ق۔ م میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل ( عراق) پر حملہ کر دیا اور بابل کے ولی عہد کو شکست فاش دے کر بابلی سلطنت کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ سائرس ایک نرم دل اور انصاف پسند حکمران تھا اس نے تل ابیب کے تمام قیدیوں کو آزاد کرکے ان کو واپس یروشلم جانے کی اجازت دے دی۔ اور ساتھ میں ان کو ہیکل کی نئے سرے سے تعمیر کی بھی اجازت دے دی ساتھ میں اس کی تعمیر کے لئے ھر طرح کی مدد فراھم کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔
چنانچہ ہیکل کی(دوسری) تعمیر 537 ق م میں شروع ہوئی۔لیکن تعمیر کا کام سر انجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیااور دارا (Darius) اوّل کے دورِ حکومت تک مداخلت ہی کا شکار رہا۔ اُس کی حکمرانی کے دوسرے سال میں حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں کے گورنر زروبابل اور سردار کاہن یوشواہ (یوشع) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہیکل کی تعمیر ثانی کی دوبارہ کوشش کریں۔ انھوں نے مثبت ردِ عمل کا اظہار کیااور پوری قوم کی پر جوش تائیداور ایرانی حکام اور بذات خودبادشاہ کی اشیرباد سے ہیکلِ ثانی اپنی اضافی تعمیرات سمیت ساڑھے چار سال کے عرصے میں 520۔ 515 ق م پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

لیکن اس بار اس میں تابوت سکینہ نہیں مل سکا ۔ اس کے بارے آج تک معلوم نہیں ھوسکا کہ بخت نصر نے اس کا کیا کیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ھے کہ اس مقدس صندوق کی مزید توھین سے بچانے کے لئے اسے اللہ پاک کے حکم سے کسی محفوظ مقام پر معجزانہ طور پر چھپا دیا گیا جس کا کسی انسان کو علم نہیں۔لیکن یہودی اس کی تلاش میں پورے کرہ ارض کو کھود ڈالنا چاھتے ھیں۔
ایک اور دلچسپ بات عام طور پر تاریخ دان ہیکل کی دو دفعہ تعمیر اور دو دفعہ تباھی کا ذکر کرتے ھیں۔ تاریخ کے مطالعے سے ایک بات میرے سامنے آئی کہ ایسا نہیں ، اس ہیکل کو تین بار تعمیر کیا گیا لیکن اس کے ساتھ بھی ایک دلچسپ کہانی وجود میں آئی۔ ھیروڈس بادشاہ جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چند سال پہلے کا بادشاہ ہے اس نے جب اس کی بہتر طریقے سے تعمیر کی نیت کی تو یہودیوں کے دل میں ایک خوف پیدا ھوا کہ اگر اسے نئے سرے سے تعمیر کے لئے گرایا گیا تو دوبارہ تعمیر نہیں ھوگا۔ ھیروڈس نے ان کو بہلانے کے لئے کہا کہ وہ صرف اس کی مرمت کرانا چاھتا ھے اسے گرانا نہیں چاھتا۔ چنانچہ سن 19 ق م میں اس نے ہیکل کے ایک طرف کے حصے کو گرا کر اسے تبدیلی کے ساتھ اور کچھ وسیع کرکے تعمیر کروایا یہ طریقہ کامیاب رھا اور یوں یہودیوں کی عبادت میں خلل ڈالے بغیر تھوڑا تھوڑا کرکے ہیکل گرایا جاتا اور اس کی جگہ نیا اور پہلے سے مختلف ہیکل وجود میں آتا رھا۔ یہ کام اٹھارہ ماہ میں مکمل ھوا اور یوں تیسری بار ھیروڈس کے ذریعے ایک نیا ہیکل وجود میں آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ھوا، اللہ کے اس رسول پر ایک بار پھر یہودیوں نے حسب معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دئیے۔ دراصل وہ اپنے مسیحا کے منتظر تھے جو دوبارہ آ کر ان کو پہلے جیسی شان و شوکت عطا کرتا ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ھونے کا واقعہ پیش آیا ، آپ کے مصلوب ھونے کے 70 سال بعد ایک بار پھر یہودیوں پر اللہ کا عذاب نازل ھوا۔ اس بار اس عذاب کا نام ٹائٹس تھا۔ یہ رومی جرنیل، بابل کے بادشاہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ھوا۔ اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس نے ھیروڈس کے بنائے ھوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور یہودیوں کو ھمیشہ کے لئے یروشلم سے نکال باھر کیا۔
یہودی پوری دنیا میں بکھر کر اور رسوا ھوکر رہ گئے۔ کم و بیش اٹھارہ انیس سو سال تک بھٹکنے کے بعد برطانیہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ساتھ ہی ایک ناجائز بچےاسرائیل کو فلسطین میں جنم دے دیا۔ اور یوں صدیوں سے دھکے کھانے والی قوم کو ایک بار پھر اس ملک اسرائیل میں اکٹھے ھونے رھنے کی اجازت مل گئی۔ لیکن یہ قوم اپنی ھزاروں سال پرانی گندی فطرت سے باز نہ آئی ۔ یہ برطانیہ کے جنم دئیے ھوئے اسرائیل تک محدود نہ رھے ایک بار پھر ھمسایہ ممالک کے لئے اپنی فطرت سے مجبور ھوکر مصیبت بننے لگے۔ 5 جون 1967 کو اس نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ 1968 میں اردن کے مغربی کنارے پر قابض ھوگئے۔ اسی سال مصر کے علاقے پر بھی کنٹرول کر لیا۔ آج اس قوم کی شرارتیں اور پھرتیاں دیکھ کر اندازہ ھوتا ہے کہ یہ آج سے دو تین ھزار سال پہلے بھی کس قدر سازشی رہے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کر دی تھی۔ مسلمان ممالک کی بے غیرتی اور بزدلی کی وجہ سے اب اس نے پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں آگ لگا کر رکھ دی ہے۔
اب ان کا اگلا مشن جلد ازجلد اسی ہیکل کی تعمیر ھے اور اس ہیکل میں تخت داؤد اور تابوت سکینہ کو دوبارہ رکھنا ہے تاکہ ایک بار پھر یہ اپنے مسایا (یہودی زبان کا لفظ ) مسیحا کے آنے پر پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ وہ یہ کام انتہائی تیزرفتاری سے کر رہے ھیں۔ اس ہیکل کی تعمیر کے نتیجے میں یہ پوری دنیا جنگ کی آگ میں لپٹ جائے گی۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل کے دارالخلافہ کی تبدیلی کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن مسلمان اقوام کو کوئی پرواہ نہیں۔

آپ اندازہ کیجئے یہودیوں کو جس بستی تل ابیب میں بخت نصر نے قیدی بنا کر رکھا تھا وہ اس کو آج تک نہیں بھولے ، انہوں نے اسرائیل بنانے کے بعد اپنے ایک شہر کا نام تل ابیب رکھ لیا۔ جبکہ ھم مسلمان اس مسجد اقصی کو بھی بھول چکے ھیں جہاں ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر شروع کیا تھا۔ یہودی آج تک بار بار گرائے گئے ہیکل کو نہیں بھولے حتی کہ اس میں رکھے تابوت سکینہ کی تلاش میں پوری دنیا کو کھود دینا چاہتے ہیں جبکہ ہم کو یہ بھی یاد نہیں کہ عراق میں کتنے انبیا اولیاء کے مزارات پچھلے کچھ عرصہ میں بم لگا کر شہید کر دئیے گئے ہیں۔ وہ بھی اس تنظیم داعش نے کئے ہیں جن کے تانتے بانتے اسرائیل سے ملتے ہیں۔ جن کے لیڈر ابوبکر بغدادی کا بیان تھا خدا ہمیں اسرائیل کے خلاف جہاد کا حکم نہیں دیتا۔ اس تنظیم کی ساری توجہ مسلمانوں کو مارنے میں ہی لگی رہی اور اب تک ہے۔ کبھی مکے اور مدینے پر حملے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور کبھی انتشار پھیلانے کےلئے مسلمان ملکوں میں بم دھماکے کرتے ہیں۔“

20/05/2021
16/05/2021
Wishing you and your family a very happy Eid Mubarak 🌙 🎊
12/05/2021

Wishing you and your family a very happy Eid Mubarak 🌙 🎊

ہالی ووڈ کی فلموں کا ایک انتہائی مشہور اور کامیاب فلم ڈائریکٹر ، پروڈیوسر اور سکرین رائٹر "سٹیون سپل برگ" کے نام سے جانا...
17/07/2020

ہالی ووڈ کی فلموں کا ایک انتہائی مشہور اور کامیاب فلم ڈائریکٹر ، پروڈیوسر اور سکرین رائٹر "سٹیون سپل برگ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کٹر یہودی ہے اس کی فلموں کے موضوعات اکثر یہودیت کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ سنہ ء 1981 میں اس نے ایک فلم "ریڈرزآف دی لوسٹ آرک" کے نام سے بنائی۔ یہ فلم جنگ عظیم کے پس منظر میں بنائی گئی ۔

اس فلم میں دکھایا جاتا ہے کہ جرمن نازی تابوت سکینہ کی تلاش میں مصر کے اثار قدیمہ کی کھدائی کرتے ہیں تاکہ اس تابوت کی برکت سے جنگ میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ دوسری جانب امریکی خفیہ ادارے کے کچھ افراد فلم کے ہیرو آرکیالوجسٹ ڈاکٹر جونز کو جرمنوں کے اس منصوبے کے بارے بتاتے ہیں اور اسے معاوضے پر اس بات کے لئے تیار کرتے ہیں کہ وہ جرمنوں کے اس منصوبے کو ناکام کرے۔ قصہ مختصر ڈاکٹر جونز مصر روانہ ہوجاتا ہے اور بڑی مشکلات سے زمین کے نیچے دفن تابوت سکینہ تک جرمنوں سے پہلے پہنچ جاتا ہے لیکن عین اسی وقت تابوت سمیت جرمنوں کے ھتھے چڑھ جاتا ہے۔ جرمن افسران تابوت کو قبضے میں لے لیتے ہیں مگر اسے اپنی حکومت کے حوالے کرنے سے پہلے اس کی اصلیت جانچنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ایک خفیہ جگہ پر اس صندوق کو کھولا جاتا ہے، صندوق کے کھلنے پر اس خفیہ غار میں گویا قیامت سی آ جاتی ہے ، تمام افسران فوجی اور عملے کے لوگ جو اسے دیکھ رہے ھوتے ہیں ان پر صندوق میں سے برآمد ھونے والی بلائیں حملہ کر دیتی ہیں اور آن کی آن میں غار میں موجود تمام لوگوں کے جسم پانی کی طرح پگھل جاتے ہیں۔جبکہ ڈاکٹر جونز جو کہ اس موقع پر اپنی آنکھیں سختی سے بند کر لیتا ہے وہ زندہ بچ جاتا ہے۔ وہ صندوق کو لے جا کر امریکی حکومت کے حوالے کر دیتا ہے جو اپنی تحویل میں لیکر اسے انتہائی محفوظ جگہ پر چھپا لیتی ہے۔

یہ ایک مثال ہے جس کا مقصد اس صندوق یعنی تابوت سکینہ کی یہودیوں کی نظر میں اہمیت اجاگر کرنا ہے۔

صرف یہی فلم نہیں۔ ہزاروں فلمیں ڈاکومنٹریز اس تابوت سکینہ پر بنائی جا چکی ہیں جن میں اس کی اہمیت اور اس کی تلاش کے حوالے سے کوششیں دکھائی گئی ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس صندوق تک آج تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکی۔ پوری دنیا میں یہودی آج بھی ماہرین آثار قدیمہ کا روپ دھارے ملکوں ملکوں کھدائی کرتے پھر رہے ہیں لیکن آج بھی اس میں ناکام ہیں۔

اس صندوق میں کیا ہے؟۔ یہ صندوق یہودیوں کے لئے زندگی موت کا مسلہ کیوں بنا ہوا ہے؟۔ یہودی اس صندوق کا کیا کرنا چاہتے ہیں؟۔

سب سے پہلے ہم قران پاک میں دیکھتے ہیں کہ اس صندوق کی کیا اہمیت تھی اور اس میں کیا تھا۔ہمارے لئے قران پاک سے بڑھ کر اور کوئی حوالہ نہیں۔

وَقَالَ لَهُمْ نِبِیُّهُمْ إِنَّ آیَةَ مُلْکِهِ أَن یَأْتِیَکُمُ التَّابُوتُ فِیهِ سَکِینَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَکَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلآئِکَةُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَةً لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ۔
اور ان سے ان کے پیغمبر نے کہا: اس کی بادشاہی کی علامت یہ ہے کہ وہ صندوق تمہارے پاس آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے سکون و اطمینان کا سامان ہے اور جس میں آل موسیٰ و ہارون کی چهوڑی ہوئی چیزیں ہیں جسے فرشتے اٹهائے ہوئے ہوں گے، اگر تم ایمان والے ہو تو یقینا اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے۔

اس آیت مبارکہ میں لفظ تابوت کا مطلب صندوق اور سکینہ کا مطلب ایسا سامان جس سے دل کو سکون اور راحت ملے۔ یعنی اس صندوق میں ایسا سامان تھا جس کی برکت سے دلوں کو مضبوطی اور تسکین ملتی تھی۔

تفاسیر کے مطابق یہ صندوق سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام پر جنت سے اتارا گیا تھا یہ " شمشاد" نامی لکڑی سے بنا ہوا تھا۔ اس مقدس و متبرک صندوق میں حضرت آدم علیہ السلام اپنا ضروری سامان رکھا کرتے تھے۔ یہ صندوق نسل در نسل چلتا ہوا حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا ۔حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام اسرائیل تھا ان کی اولاد بنی اسرائیل یعنی اولاد اسرائیل کہلائی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام یہودا تھا جن کی نسل کو ھم یہودیوں کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ صندوق بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے پاس آ گیا۔ یہودیوں کے پہلے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے یہ صندوق ان کے زیراستعمال رہا۔ اس میں آپ علیہ السلام اپنا عصا مبارک اور آپ پر نازل ہونے والی تورات کی لوحیں رکھا کرتے تھے یعنی اس صندوق میں انبیا کے معجزات کی اشیا محفوظ ھوتی تھیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے دنیا سے رخصت ہونے پر ان کے لباس عصا مبارک ، عمامہ مبارک اور آسمان سے اتارا جانے والا من و سلویٰ بھی اس صندوق میں محفوظ کر دیا گیا اور یہ صندوق قوم کے سرداروں کی تحویل میں چلا گیا۔ یہ معجزات اللہ کی طرف سے ان انبیا پر اتارے گئے تھے چناچہ ان کی برکت سے اس صندوق کو خاص فضیلت حاصل تھی۔

بنی اسرائیل کے لوگ اس صندوق کا بے حد احترام کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی اس صندوق کی برکت سے ان کو بہت زیادہ فوائد حاصل ہوتے تھے کبھی کوئی آسمانی آفت آتی تو یہ اس صندوق کے سامنے بیٹھ کر دعا کرتے تو وہ آفت حیرت انگیز پر فورا" ٹل جاتی۔کبھی زلزلہ ، سیلاب خوفناک آندھی و طوفان آتا تو یہ تابوت سکینہ کے وسیلے سے دعا کرکے اس سے نجات پا لیا کرتے۔ اسی طرح جنگ و جدل کے دوران بڑے سے بڑے لشکر کے ساتھ مقابلہ کرتے وقت صندوق فوج کے آگے لیکر چلتے جس کی برکت سے ان کے حوصلے بھی بلند ہوجاتے اور دشمن کی افواج پر کم سے کم جانی نقصان کے بدلے غالب آ جاتے۔ خاص موقعوں اور تہواروں پر یہ صندوق کو عزت و احترام سے کندھوں پر اٹھا کر جلوس نکالا کرتے۔اس مقدس صندوق کی حفاظت کے لئے فوج کا ایک خصوصی محافظ دستہ تعینات ہوتا تھا۔

یہ قوم بہت عجیب و غریب عادات کی مالک تھی ایک طرف تو صندوق اور اس میں موجود اشیا کا احترام اس قدر کہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا دوسری طرف اللہ کے احکامات سے مکمل روگردانی کرنا ان کا معمول بن چکا تھا۔ یہ نہایت ضدی اڑیل مغرور اور سرکش لوگ تھے۔ حد سے زیادہ لالچی مال دولت سے محبت کرنے والے اور ظالم تھے اپنے انبیا اور علما کی روک ٹوک پر ان کو خوفناک اذیتیں دیا کرتے تھے۔ جب ان کی سرکشی حد سے بڑھنے لگی تو اللہ نے ان کو عذاب دینے کے لئے ان پر قوم عمالقہ مقرر کر دی۔ اس قوم کے بادشاہ جالوت نے ان پر انتہائی زبردست حملہ کیا ، ان کی بستیاں اجاڑ دیں ، شہروں کو جلا کر راکھ کے ڈھیر بنا دیا ، بے شمار لوگوں کو قتل عام کرکے ہلاک کر دیا اور ان کا تابوت سکینہ چھین کر ساتھ لے گیا۔ مفسرین کے مطابق اس نے اس تابوت کو گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ تابوت کی اس بے حرمتی پر اللہ کی طرف سے قوم عمالقہ پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔جس شہر کے گندگی ڈھیر پر یہ صندوق پھینکا گیا تھا اس شہر میں ایک عجیب سی وبا پھوٹ پڑی جس کا کسی حکیم معالج کے پاس علاج نہیں تھا۔ لوگ بہت تیزی سے لقمہ ء اجل بننے لگے۔ لوگ پریشان ہوکر حاکم شہر کے پاس پہنچے اس نے کاہنوں کو جمع کیا اور ان سے اس عذاب کی وجہ معلوم کرنا چاہی۔ کاہنوں نے حساب لگا کر بتایا کہ اس عذاب کی وجہ تابوت سکینہ کی شدید بے حرمتی ہے۔

وہ لوگ اس صندوق کو بنی اسرائیل کو کسی صورت میں واپس نہیں کرنا چاہتے تھے چناچہ یہ صندوق ایک دوسرے شہر میں پہنچا دیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر صندوق پہنچانے کے بعداس شہر میں بھی وہی خوفناک مرض پھوٹ پڑا اور ہزاروں کی تعداد میں روزانہ انسان مرنے لگے۔ کہا جاتا ہے اس صندوق کی وجہ اس قوم کے پانچ شہر مکمل طور پر تباہ ھوگئے مختلف آفات امراض نے اس قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس پر فیصلہ کیا گیا کہ یہ تابوت واپس بنی اسرائیل کو دے دیا جائے۔ صندوق کو ایک بیل گاڑی پر رکھا گیا اور اسے شہر سے نکال دیا گیا۔ خدا کی قدرت سے بیل اس صندوق کو لیکر بنی اسرائیل کے ملک کی طرف روانہ ھوگئے۔ دوسری جانب اس زمانے میں بنی اسرائیل میں حضرت شموئیل علیہ السلام معبوث کئیے گئے تھے ۔ حضرت شموئیل علیہ السلام طالوت کو جو کہ ایک نیک انسان تھے بنی اسرائیل کا بادشاہ بنانا چاھتے تھے جبکہ بنی اسرائیل حسب معمول سرکشی اختیار کئیے ہوئے تھے۔اپنے نبی کی کسی بات پر عمل کرنے کو تیار نہیں تھے۔ آخرکار قوم کے سرداروں نے جان چھڑانے کی خاطر حضرت شموئیل علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اللہ کے سچے نبی ہیں اور چاھتے ھیں کہ ان کا حکم مانا جائے تو وہ دعا کریں کہ ان کا قیمتی اور مقدس تابوت سکینہ ان کو واپس مل جائے اگر ان کی دعا قبول ھوگئی تو وہ ان کی ہر بات تسلیم کر لیں گے۔ اس پر حضرت شموئیل علیہ السلام نے حکم ربی سے ان کے ساتھ وعدہ کر لیا کہ تابوت سکینہ اگلے روز صبح تک خودبخود ان کے پاس پہنچ جائے گا۔ اس پر سردار ان کا مذاق اڑانے لگے کیونکہ وہ قوم عمالقہ کی غضبناکی سے اچھی طرح واقف تھے اور جانتے تھے کہ ان کے قبضے سے اس تابوت کا واپس ملنا ناممکن تھا۔ اگلے روز بیل گاڑی پر لدا ہوا تابوت سکینہ ان تک پہنچ گیا جس پر حسب وعدہ انہوں نے اپنے نبی کا حکم مان کر طالوت کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔ اوپر والی قران پاک کی آیت میں اسی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ تابوت سکینہ دوبارہ حاصل ہونے پر اس قوم کے حالات میں ایک بار پھر بہتری آنے لگی لیکن ان کے اعمال وہی رھے۔

پھر حضرت داؤد علیہ السلام کا دور آیا، آس وقت تک یہ قوم خانہ بدوشوں کی سی زندگی گذارتی تھی اور تابوت سکینہ بھی ایک خیمہ میں ہی رکھا جاتا تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے ان کے لئے ایک عبادت گاہ تعمیر کرنے کا ارادہ کیا جسے ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کے مقام پر عظیم الشان عبادتگاہ کی شکل میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ تابوت سکینہ کو خیمنے سے نکال کر اس عبادتگاہ میں رکھ دیا گیا۔ اس عبادت گاہ کے تابوت سکینہ والے حصے میں سوائے انبیا اور سب سے بڑے عالم کے کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ حضرت سلیمان کی وفات کے بعد آپ کی انگوٹھی مبارک بھی اسی تابوت میں محفوظ کر دی گئی۔ جب حضرت زکریا علیہ السلام کا زمانہ آیا تو اس وقت تک یہ قوم اس قدر گمراہی میں ڈوب چکی تھی کہ اللہ کے پیغمبروں کی تذلیل و تحقیر ان کا معمول بن چکی تھی ان پہ ظلم و تشدد ان کے لئے عام سی بات تھی۔ جب حضرت زکریا علیہ السلا م کوزندہ آرے سے چیرا گیا ، اور بعد میں ان کے بیٹے حضرت یحیٰ علیہ السلام کو انتہائی بے رحمی سے قتل کیا گیا تو اللہ تعالی ان سے سخت ناراض ہوگیا۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 586 سال پہلے کی بات ہے کہ حضرت یحیٰ کے قتل کے تھوڑے ہی عرصہ بعد عراق کے بادشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر بہت بڑا حملہ کیا ، اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، لاکھوں یہودی قتل کئیے اور لاکھوں کو غلام بنا لیا۔ بیت المقدس کو مکمل تباہ کر دیا اور اس میں رکھے تابوت سکینہ کو قبضے میں لے کر اپنے ساتھ لے گیا۔ یہ وقت بنی اسرائیل پر تاریخ میں سب سے کڑا تھا۔ بخت نصر نے تابوت سکینہ کا کیا کیا، یہ آج تک کسی کو معلوم نہیں ہوسکا۔

تابوت سکینہ ہمیشہ کے لئے یہودیوں سے چھن گیا۔ساتھ ہی یہودی قوم۔۔۔۔ وہ قوم جو تاریخ کی سب سے بہترین قوم تھی۔ جسے اللہ کی لاڈلی قوم ہونے کا فخر حاصل تھا اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے اللہ کی بارگاہ میں ملعون ہوگئی۔ دنیا میں رسوا ہوکر رہ گئی۔

آج یہودیوں کو دو ہزار سال بعد دوبارہ اسرائیل کی سرزمین پر قدم جمانے کا موقع ملا ہے تو بھی اس قوم کی وہی عادات و اطوار ہیں۔ وہی ظلم و جبر، دھونس دھاندلی، تکبر،خود کو ساری دنیا سے اعلیٰ و ارفع سمجھنے کا خناس، اللہ کی طرف سے لعنت زدہ ہوجانے کے باوجود بھی ابھی تک اللہ کی لاڈلی قوم ہونے کی خوش فہمی موجود ہے۔ وہی مال و دولت کا لالچ اور مال جمع کرنے کے وہی صدیوں پرانے شیطانی طریقے، ان کا کچھ بھی نہیں بدلا۔آج بھی اسی جگہ حضرت سلیمان علیہ السلام والی عبادت گاہ تعمیر کرنے کا جنون اور اسی طرح تابوت سکینہ کو دوبارہ حاصل کرکے ھیکل سلیمانی میں رکھنے کا بخارہے۔ یہ آج بھی مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار جو ٹائٹس کے حملے میں بچ گئی تھی ھیکل سلیمانی کی آخری نشانی سمجھ کر اس سے لپٹ لپٹ کر دھاڑیں مار کر روتے ہیں۔ اپنی عظمت کے دنوں کو یاد کرکے رونا ان کی عبادت بن چکی ہے لیکن ابھی تک ناسمجھ ہیں۔۔۔

ان کے جنون اور ماضی سے لپٹے رھنے کا یہ عالم ہے کہ پورے کرہ ارض کو کھود کر اس میں سے تابوت سکینہ تلاش کرتے پھر رھے ھیں۔ان کو اپنے مسایا (آخری مسیحا) کا بے صبری سے انتظار ہے جس کے جھنڈے تلے ایک بار پھر ان کو پوری دنیا پر غلبہ حاصل ہوجائے گا۔ اس ایک آنکھ والے مسایا (دجال اکبر) سے ان کو اس قدر محبت ہے کہ پوری دنیا میں اس کی ایک آنکھ کی نشانی کا پرچار کرتے پھر رھے ھیں۔اس کی آمد پر متحد ھونے کے لئے کئی خفیہ تنظیمیں بنا رکھی ہیں جو اسے خوش آمدید کہہ کر اسے خدا مان لیں گی۔

تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں مختلف لوگ قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں ۔ اس پر انگریز عیسائیوں اور یہودیوں نے بڑی ریسرچ کیں ہیں۔ لیکن حتمی طور پر سارے ایک نقطے پر متفق نہیں ہوسکے۔ لیکن مجھے جو سب سے قرین قیاس تھیوری لگتی ہے وہ یہ کہ اس وقت یہ صندوق یا تابوت حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل میں کہیں دفن ہے۔ جو فلسطین میں آج بھی گم ہے جس کو یہودی کافی عرصے سے ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور آئے دن وہاں بیت المقدس میں کھدائی کرتے رہتے ہیں۔
اس کے متعلق بہت سے نظریات ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ تابوت اب بھی حضر ت سلیمان علیہ السلام کے محل کے اندر ہی کہیں دفن ہے۔
کچھ کے نزدیک اس کو افریقہ لے جایا گیا۔
ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ ران وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں موجود ہے۔
کچھ لوگوں کے مطابق اسکو ڈھونڈنے کی کوشش انگلینڈ کے علاقے میں کرنی چاہیے۔
جبکہ کچھ سکالرز کا ماننا ہے کہ یہ تابوت ایتھوپیا کے تاریخی گرجا گھر ایکسم میں پڑا ہواہے۔
ایک اور نظریہ ہے کہ یہ بحیرہ مردار کے قریب ایک غار کے اندر کہیں گم ہو چکا ہے۔

ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہودیوں نے 1981 میں اسے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پہلے محل سے کھدائی کے دوران نکال کر کہیں نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا ہے۔ جبکہ کھدائی کرنے والے یہودیوں کا کہنا تھا۔ کہ وہ اس صندوق کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔ لیکن اسرائیلی گورنمنٹ نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے پریشر میں آکر اس کی کھدائی پر پابندی لگا دی تھی۔ اسلئے انہیں یہ کام نامکمل ہی چھوڑنا پڑا۔

بہرحال کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے۔ اور حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ تابوت کہاں ہے..............................

Address

M. A Jinnah Road
Karachi
75510

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Mubashir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share