25/04/2026
گوادرگبد ریمدان پاک ایران باڈر کوریڈور کی باقاعدہ منظوری، سرحدی معیشت میں نئی جان ۔ گوادر سینٹرل اشیاء سے جڑ گیا ۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور گوادر پورٹ کی قیادت کی بڑی کامیابی
گوادر : بلوچستان خصوصاً گوادر کے لیے ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں حکومتِ پاکستان نے باضابطہ طور پر SRO 691(1)/2026 کے تحت گوادر–گبد پاک ایران روٹ کو بین الاقوامی ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ کوریڈور کا درجہ دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف خطے کی تجارتی اہمیت کو بڑھاتا ہے بلکہ پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی تجارت اور گوادر کو سنٹرل ایشاء سے جوڑنے کے لئے ایک نئے دور کا آغاز بھی سمجھا جا رہا ہے۔
ترجمان چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ساجد بن رحیم کے مطابق اس کامیابی کے پیچھے صدر چمبر آف کامرس جہند ہوت اور چیئرمین گوادر بندرگاہ نورالحق کی مسلسل، سنجیدہ اور مؤثر کوششیں کارفرما رہی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے نہ صرف وفاقی حکام سے رابطے کیے بلکہ گوادر کے تاجروں اور کاروباری حلقوں کی آواز کو بھرپور انداز میں متعلقہ اداروں تک پہنچایا۔
صدر چمبر آف کامرس جہند ہوت کے مطابق مطابق گوادر–گبد کوریڈور کو اس لیے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ براہِ راست ایران سے منسلک ہے اور کم فاصلے، کم لاگت اور تیز تر ترسیل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
صدر چمبر آف کامرس جہند ہوت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف قانونی تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ غیر رسمی تجارت (اسمگلنگ) میں بھی واضح کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی ٹرانسپورٹ، ویئرہاؤسنگ، کلیئرنگ اور فارورڈنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔
صدر ہوت کے مطابق گوادر–گبد بارڈر کو مکمل فعال اور جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے تو یہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ کوریڈور سی پیک کے وژن کو بھی تقویت دے گا اور گوادر کو حقیقی معنوں میں ایک علاقائی تجارتی حب بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
صدر ہوت نے وزیر اعلیٰ بلوچستان ۔ کمانڈر 12 کور ۔ جی او سی گوادر اور چیئرمین بندرگاہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان کی سول و ملٹری قیادت بلوچستان کو ترقی یافتہ بنانے اور نوجوانوں کے لئے روزگار کی فراہمی میں سنجیدہ ہے