PTM Karak

PTM Karak پي ټی ايم د امن سمبول🕊️
مونږ پشتانو ته امن،حوشحالي او ترقي غواړو
پيچ درسره لایک او شیئر کړئ مننه☺️ ملګري پيچ درسره لایک او شيئر کړئ

04/06/2026

*پی ٹی ایم شمالی وزیرستان کے عوام پر مسلط جاری کرفیو، فوجی آپریشنز اور اجتماعی سزا کے خلاف ٹوئٹر/X پر ٹرینڈ شروع کرنے جا رہی ہے۔*

*آپریشن ضربِ عضب، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، اور برسوں سے جاری سیکڑوں انٹیلیجنس بیسڈ اور فوجی آپریشنز برداشت کرنے کے باوجود، شمالی وزیرستان کے لوگ اب بھی پابندیوں، عدم تحفظ اور شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عام شہری، بشمول بچے، مریض، طلبہ اور دیہاڑی دار مزدور، اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔*

*ہم تمام انسانی حقوق کے محافظوں، کارکنوں، صحافیوں اور باشعور آوازوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مہم میں شامل ہوں اور محاصرے، اجتماعی سزا اور ان پالیسیوں کے خاتمے کا مطالبہ کریں جو مسلسل شہریوں کو تکلیف پہنچا رہی ہیں۔*

*وقت:*
*شام 6:00 بجے*

*ہیش ٹیگ:*

شاہرگ ہرنائی اور قلعہ عبداللہ میں بےگناہ نہتے پشتونوں کا منظم قتل پشتون دشمن ریاستی پالیسیوں کا تسلسل اور پشتون وطن میں ...
03/06/2026

شاہرگ ہرنائی اور قلعہ عبداللہ میں بےگناہ نہتے پشتونوں کا منظم قتل پشتون دشمن ریاستی پالیسیوں کا تسلسل اور پشتون وطن میں تشدد کو دوام دینے کی منظم سازش ہے۔ عیدالاضحیٰ کی مقدس رات کو ہرنائی میں نقاب پوش دہشت گردوں نے پانچ معصوم پشتونوں کو شہید کر دیا، جبکہ قلعہ عبداللہ کے میزائی اڈے کے مقام پر پانچ نہتے پشتونوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا
یہ دہشت گردی کے واقعات واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ پشتون دشمن قوتوں نے قاتلوں کے نئے ڈیتھ اسکواڈز تشکیل دے دیے ہیں، جن کا مقصد پشتون قوم کی آواز کو دبانا، استعماری قبضہ گری کو جواز فراہم کرنا اور قدرتی وسائل سے مالامال پشتون سرزمین پر پشتون نسل کشی جاری رکھتے ہوئے پشتون وطن پر استعماری قبضہ مزید مضبوط کرنا ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ ہرنائی کے عوام کی کمیٹی شہداء وطن کمیٹی کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتی ہے ریاستی سرپرستی میں پشتون اور بلوچ ٹرانسپورٹرز کے اثاثوں کو آگ لگا کر ان کی معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے، جو محکوم اقوام کے خلاف منظم معاشی دہشت گردی ہے۔
ضلع شیرانی میں دہشت گرد سرعام گھوم رہے ہیں، جبکہ ریاستی اداروں نے شام کے بعد سفر پر پابندی لگا رکھی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ریاست پرامن سیاسی کارکنوں اور حقیقی آوازوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پی ٹی ایم ضلع شیرانی کے بزرگ رہنما سردار لالا کی بلاجواز گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ گرفتاری اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور حقیقی پشتون قومی و پرامن سیاسی آوازوں کو کچلنا چاہتی ہے۔
پی ٹی ایم جنوبی وزیرستان میں جاری احتجاج اور آج درہ آدم خیل میں ریاستی دہشت گردی کے خلاف ہونے والے احتجاج کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

آج جانی خیل کے علاقے نورنگ خیل میں فوج اور طالبان کے درمیان، ہمیشہ کی طرح، عوام کو نقصان پہنچانے والی جنگ ہوئی۔ مالی خیل...
03/06/2026

آج جانی خیل کے علاقے نورنگ خیل میں فوج اور طالبان کے درمیان، ہمیشہ کی طرح، عوام کو نقصان پہنچانے والی جنگ ہوئی۔ مالی خیل فوجی چیک پوسٹ سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں نورنگ خیل گاؤں میں ایک ہی گھر کے پانچ افراد متاثر ہوئے، جن میں دو افراد شہید اور تین زخمی ہوئے۔
شہداء میں نائلہ اور سفیر شامل ہیں، جو میاں بیوی تھے اور جن کی شادی صرف پانچ ماہ قبل ہوئی تھی۔ دونوں کا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے تھا۔ سفیر کی پوسٹ مارٹم کے دوران اس کی جیب میں صرف 20 روپے تھے۔
زخمیوں میں آٹھ سالہ ہاجرہ، پانچ سالہ عبداللہ اور 20 سالہ یاسمینہ شامل ہیں۔ تینوں کی حالت بہتر ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں، تاہم یاسمینہ کے پاؤں کی ہڈی مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔
کسی بھی کمانڈر نے اپنے گروہ کے اس مسلح فرد سے یہ سوال نہیں کیا کہ گھروں کے درمیان فائرنگ کرکے اس نے فوج کو زیادہ نقصان پہنچایا یا بے گناہ عوام کو؟
یہ لوگ اسی علاقے کے رہنے والے ہیں، اسی عوام کے درمیان رہتے ہیں اور اسی عوام کے کھاتے پیتے ہیں۔
فوج تو یہاں ہمیں مارنے، لوٹنے اور ذلیل کرنے کے لیے آئی ہے،

پشتون وطن کے بچے، بوڑھے اور خواتین جس اذیت اور تکلیف سے گزر رہے ہیں، اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔




28/05/2026

PAKISTAN: Fareedullah Afridi, a member of the civil rights movement Pashtun Tahafuz Movement (PTM), was abducted on the evening of 18 May 2026 from Peshawar city, Khyber Pakhtunkhwa province. The police have refused to file any First Information Report nor conducted any investigation into his disappearance despite requests from the family.

Fareedullah Afridi, is not the first PTM activist to be abducted without a trace. Amnesty International is concerned that Fareedullah’s disappearance fits into a worrying pattern of enforced disappearance of PTM activists and crackdown by state authorities.

Pakistani authorities must urgently carry out an effective, independent and transparent investigation into Afridi’s abduction. If he is in custody of the authorities, his whereabouts should be disclosed, he must be released immediately, and those responsible for his disappearance be held accountable in line with international human rights standards.

26/05/2026

سانحہ خڑ کمر ایک ایسا زخم جو آج بھی تازہ ہے۔

آج 26 مئی 2026 کو سانحہ خڑ کمر کی ساتویں برسی منائی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ پشتون قوم کے ان تاریخی واقعات میں سے ایک انتہائی دردناک سانحہ ہے۔

جس نے انسانی حقوق، ریاستی طاقت اور سیاسی آزادیوں کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا۔

26 مئی 2019 کو شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے علاقے خڑ کمر میں پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کا ایک پرامن قافلہ ایک احتجاجی دھرنے میں شرکت کے لیے جا رہا تھا۔
اس قافلے کی قیادت اُس وقت کے علی وزیر اور محسن داوڑ کر رہے تھے۔ راستے میں سیکیورٹی چیک پوسٹ سے پاکستانی فوج کے جانب سے مظاہرین پر اسٹریٹ فائرنگ شروع ہوا۔
جس کے نتیجے میں متعدد نہتے کارکنان جان کی بازی ہار گئے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

ریاستی اداروں اور فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (ISPR) نے مؤقف اختیار کیا کہ مظاہرین نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا۔
تاہم ویڈیوز کی موجودگی اور پی ٹی ایم، عینی شاہدین اور انسانی حقوق کے کئی کارکنان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے یکطرفہ طاقت کا استعمال اور ریاستی تشدد قرار دیا۔
یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب ملک میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت قائم تھی اور عمران خان وزیرِ اعظم تھے۔ واقعے کے بعد علی وزیر اور محسن داوڑ کو گرفتار کیا گیا اور ایف آئی آر شہداء اور مظاہرین کے خلاف درج کیا جبکہ پورے پشتون خطے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اپنے حقوق، امن اور انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا گیا؟

خڑ کمر صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ان سوالات کی علامت بن چکا ہے جو آج بھی جواب مانگتے ہیں۔
سات سال گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندان انصاف کے منتظر ہیں جبکہ یہ سانحہ پشتون سیاسی تاریخ میں ایک دردناک یاد کے طور پر زندہ ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہر مظلوم کو انصاف نصیب فرمائے۔
PTM NEWS.









په دې ورځ اوه کاله مخکې، د ۲۰۱۹ کال د مې په ۲۶مه نېټه، د پاکستان پوځ د شمالي وزیرستان په خړ قمر شمالي وزیرستان کې د پښتو...
26/05/2026

په دې ورځ اوه کاله مخکې، د ۲۰۱۹ کال د مې په ۲۶مه نېټه، د پاکستان پوځ د شمالي وزیرستان په خړ قمر شمالي وزیرستان کې د پښتون ژغورنې غورځنګ پر سوله‌ییزو مظاهره کوونکو برید وکړ، چې پکې ۱۶ کسان شهیدان شول، په شمول د ځوانانو، او لږ تر لږه ۴۷ نور ټپیان شول. دا د خونریزۍ له تر ټولو وحشیانه او مرګونو پېښو څخه یوه وه. دا ډول سخت تاوتریخوالی موږ د برتانوي استعمار د واکمنۍ سختۍ رايادوي.

تر اوسه هم شمالي وزیرستان د امنیتي محاصرې لاندې دی، او د کرفیو په څېر وضعیت پکې حاکم دی. د لوی ازادي‌غوښتونکي فقیر اي اپي د خاورې په دې سیمه کې لا هم د استعمار ته ورته کړنلارې دوام لري.

ځايي خلک د جبري بې‌ځایه کېدو له ګواښ سره مخ دي او تر سختې څارنې لاندې ساتل کېږي. په سلګونو سخت پوځي چک‌پواینټونه موجود دي، چې د یوه پوځي مستعمرې په څېر حالت یې رامنځته کړی.

په شمالي وزیرستان کې په سلګونو ځايي خلک د بې دلیله پوځي بندخونو (internment centres) کې ساتل شوي دي. د معدنیاتو او کانونو د کنټرول لپاره یو سخت پوځي نظام رامنځته شوی دی. هر څه په نږدې توګه د پوځ له خوا څارل کېږي.

ځايي خلک داسې چلند کېږي لکه په قفس کې بند شوي وي. د تګ راتګ ازادي تر سخت کنټرول لاندې ده.

22/05/2026

ریاستِ پاکستان میں پختونوں کی عدم تحفظ اور بے بسی: کچے کے ڈاکو اور پکے کے ڈاکو۔
۱۱ سالہ پختون بچی کو کچے کے ڈاکوؤں تک پہنچانا، پھر وہاں اسے زیرِ حراست رکھنا، پھر اس کی ماں کو بلانا اور پھر اس پر بھی تشدد کرنا اور بچی نہیں دینا ۔ مگر اتنے سنگین اور طویل معاملے میں ریاست کے کسی بھی ادارے کی طرف سے نہ صرف تحفظ فراہم نہیں کیا گیا بلکہ اس کی ماں کی چیخ و فریاد کو بھی مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔
کیا ریاستِ پاکستان کبھی بھی پختونوں کو تحفظ دے گی؟
کیا جدید دنیا میں کوئی قوم استعماری نظام کی موجودگی میں تحفظ اور ترقی حاصل کر سکتی ہے؟
ریاستِ پاکستان تو باجوڑ میں کم عمر اسکول بچوں پر ڈرون حملوں میں مصروف تھی۔ گزشتہ روز اسکول سے واپس آنے والے دو باجوڑی پختون بچوں پر پاکستانی فوج نے ڈرون حملہ کر کے شہید کر دیے۔
ریاستِ پاکستان کے سیکورٹی ادارے پختونوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے شمالی وزیرستان کے علاقوں، تحصیل شواہ، تحصیل سپین وام اور تحصیل دتہ خیل، کے عوام پر توپ خانے کی شیلنگ اور ڈرون حملے کر رہی ہے، اور انہیں اپنے گھروں اور علاقوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں موجود معدنیات کو باآسانی لوٹا جا سکے اور کوئی آواز نہ اٹھے۔
پختونوں کو اغوا کرنے کے لیے صرف کچے کے ڈاکو (سندھ کے چور مافیہ) ہی نہیں بلکہ پکے کے ڈاکو (پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے) بھی سرگرم ہیں۔
دو دن قبل پشاور سے فرید آفریدی کو، جبکہ پانچ ماہ پہلے نوراللہ ترین اور حنیف پشتین کو انہی اداروں نے اغوا کیا، جو تاحال لاپتہ ہیں۔
کم سن پختون بچی کے حوالے سے پی ٹی ایم کا پیغام:
اس بچی کے والد کے ساتھ پی ٹی ایم سندھ کے ذمہ دار عہدیدار رابطے میں ہیں، اور آج بازیابی کے حوالے سے اس کے خاندان کی رضامندی سے ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
پی ٹی ایم کے دوست وہاں میدان میں اس خاندان کے ساتھ زور سے لیکر زر تک ہر محاذ پر مکمل ساتھ دیں گے۔
(کاش خیبر جرگے پر عمل ہوتا تو آج پختونوں کا اپنا متحد مرکز اور منظم سیکیورٹی نظام موجود ہوتا۔)

19/05/2026

کل شام کے وقت فرید آفریدی کو پشاور ارباب روڈ سے پنجابی استعماری فورسز کے خفیہ اداروں نے اغوا کیا، جو کہ تاحال لاپتہ ہے۔
پختون سرزمین پر اس سے پہلے فرنگی قابض تھے، تو فرنگیوں نے یہاں کی قوموں کے لیے جو استعماری قوانین بنائے تھے، کم از کم ان اپنے بنائے گئے غیرانسانی قوانین کے ساتھ تو وفادار تھے اور اسی کے مطابق استعماریت کرتے تھے، مگر کم اصل پنجابی استعمار اپنے بنائے گئے قوانین کے ساتھ بھی غدار ہے۔ انہی کے قوانین کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے، جبکہ فرید آفریدی کو تاحال پیش نہیں کیا گیا ہے۔
نوراللہ ترین اور حنیف پشتین کو پانچ مہینے سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے کہ وہ فوج کے عقوبت خانوں میں سختیاں برداشت کر رہے ہیں اور تاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیے گئے ہیں۔
چور ڈاکو کتنے بدتر لوگ ہوتے ہیں، جو چند پیسوں کی خاطر دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، مگر پھر بھی کسی کے اغوا پر اس کے خاندان کو خبر دے دیتے ہیں اور اپنے بدترین اصولوں کے مطابق تاوان کے بعد چھوڑ دیتے ہیں۔
مگر پختونوں کے معاملے میں پاکستانی ریاست بدترین گئے گزرے چور ڈاکوؤں سے بھی بدتر ہے؛ پختونوں کو اغوا کے بعد نہ خاندان کو اطلاع دی جاتی ہے اور نہ ہی اُنکے اپنے قوانین کے مطابق وقت پر عدالت میں پیش کئے جاتے ہیں۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو تو ڈرون حملوں میں شہید ہونے والے پختونخوا کے ایک ایک سال کے بچوں کے قتلِ عام کی بھی فکر نہیں ہے، تو ان پر اور کیا بات کی جائے۔
پختونخوا کے عوام کے ساتھ وعدے اور بیانات یہی دیے جا رہے تھے کہ خیبر پختونخوا میں سیاسی قیدی نہیں ہوں گے، مگر قیدی تو چھوڑیں، سندھ کی پیپلز پارٹی اور پنجاب کی نون لیگ کی حکومتوں کو پختونوں کے انتہائی معزز مشران کو دستخط کر کے مزید قید میں رکھنے کے لیے دے دئے گئے۔ قید و بند تو اپنی جگہ، سیاسی ورکر پشاور جیسے شہر سے اغوا ہو رہے ہیں۔
جب بھی ان سے سوال کیا جائے کہ تم لوگ روک تھام کی کوشش کیوں نہیں کرتے، تو ان کا جواب ہوتا ہے: "ہم بے بس ہیں۔"
یہ جملہ کہہ کر یہ لوگ خود عوام میں پی ٹی آئی سے لاتعلقی پیدا کر رہے ہیں، کیونکہ مستقبل میں عوام کے ذہنوں میں یہی "بے بسی" بطور ثبوت محفوظ ہو چکی ہوگی۔
اور جب دوبارہ الیکشنوں سے پہلے سخت تقاریر کریں گے، تو لوگوں کو یاد ہوگا کہ یہ آج چاہے جتنی سخت باتیں کریں، کل حکومت ملنے کے بعد یہی کہیں گے: "ہم بے بس ہیں"، اور خود اپنے ذاتی مفادات میں لگ جائیں گے۔ اور یوں عوام کے امن اور بہتر زندگی کے لئے کچھ نہیں کرینگے ۔
پی ٹی ایم کی پارلمانی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے میں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس میں سیاستدانوں کے لئے جیب بھرنے اور عوام کے لئے "ہم تو بے بس ہے جی" ہمارے پاس تو اختیار نہیں ہے جیسے دہرائے جانے والے منتروں کے علاوہ عوام کے امن اور بہتر زندگی کے لئے کچھ نہیں ہے۔
پیپلز پارٹی کے زیر حکومت سندھ کے جیلوں میں قید حاجی عبدالصمد اور علی وزیر پر عین اس وقت ایف آئی آرز درج کئے جا رہے ہیں جب وہ باہر موجود ہی نہیں، بلکہ جیل میں ہیں۔ پھر بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ بہت سے پشتون اس بنیاد پر جڑے ہوئے ہیں کہ یہ ایک جمہوری پارٹی ہے۔
کیا یہی ان کی جمہوریت ہے؟ جمہوریت تو چھوڑیں، کیا یہ ذرا سی بھی انسانیت ہے؟
عرصے سے پی ٹی ایم کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈا اور اسے مجرم بنا کر پیش کرنا استعماری پالیسیوں کا حصہ تھا، تاکہ پنجابی استعمار کو پی ٹی ایم میں شامل لاکھوں پختونوں پر گھیرا تنگ کرنے اور غیرقانونی طور پر ان پر ظلم کرنے کا جواز مل سکے۔

د پښتون ژغورنې غورځنګ (PTM) بېړنۍ اعلامیه!!!د پښتون ژغورنې غورځنګ فعال او تکړه غړی، فرید افریدی، پرون د پېښور د ابدرې رو...
19/05/2026

د پښتون ژغورنې غورځنګ (PTM) بېړنۍ اعلامیه!!!

د پښتون ژغورنې غورځنګ فعال او تکړه غړی، فرید افریدی، پرون د پېښور د ابدرې روډ څخه په زور تښتول شوی دی. د سي سي ټي وي کېمرو او موجودو شواهدو له مخې ښکاره ثبوتونه موجود دي چې نوموړی د ریاستي استخباراتي ایم ای ادارو له لوري بې درکه کړل شوی دی.
دا عمل د بشري حقونو، انساني وقار او قانون ښکاره نقض دی. د سیاسي او ولسي فعالانو جبري لادرکي د ریاست هغه ناکامه هڅه ده چې غواړي د حق غږونه خاموشه کړي، خو موږ په ډاګه وایو چې د ظلم او جبر په زور د ولس شعور نه شي ختمېدلی.
د پښتون ژغورنې غورځنګ په واضح ټکو غوښتنه کوي؛
چې فرید افریدی دې سمدستي او بې له کوم شرطه راخوشې کړل شي؛
د هغه د ژوند او امنیت بشپړ مسؤلیت د پاکستان پر ریاستي ادارو دی؛
د دې پېښې شفاف تحقیقات دې وشي او عاملین دې عدالت ته وړاندې کړل شي.
موږ نړیوالو بشري حقونو ادارو، رسنیو، ملګرو ملتونو او عدالت غوښتونکو فعالانو ته غږ کوو چې د فرید افریدی د جبري بې درکۍ پر ضد خپل مؤثر غبرګون وښيي.
که چېرې فرید افریدي ته کوم زیان ورسېد یا هغه ژر تر ژره راخوشې نه کړل شو، نو پښتون ژغورنې غورځنګ به په ټوله نړۍ کې احتجاجونه، لاریونونه او پراخ پرامن ولسي کمپاینونه پیل کړي، او د دې ظلم پر ضد به نړیوال غږ پورته کړي.
پښتون ژغورنې غورځنګ
د مطبوعاتو څانګه

پشتون تحفظ موومنٹ کے متحرک اور نڈر کارکن فرید آفریدی کو آج شام یونیورسٹی ٹاؤن ابدرہ روڈ سے مبینہ طور پر پاکستانی اداروں ...
18/05/2026

پشتون تحفظ موومنٹ کے متحرک اور نڈر کارکن فرید آفریدی کو آج شام یونیورسٹی ٹاؤن ابدرہ روڈ سے مبینہ طور پر پاکستانی اداروں نے زبردستی اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ فرید آفریدی ہمیشہ اپنے قوم کے حقوق، امن اور انصاف کی آواز املی میدان سوشل میڈیا اور ہر فورم پر بلند کرتا تھا۔ ان کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے مظلوم عوام کے حق میں بولتے تھے۔
ہم اس غیر قانونی اور ماورائے آئین اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ فرید آفریدی کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے اور ان کے اہل خانہ کو ان کی خیریت کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ پشتون نوجوانوں کی آواز کو اس طرح دبانا ظلم ہے اور اس سے نفرت اور بے چینی میں اضافہ ہوگا۔
خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔ ہر باشعور انسان کو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔


Address

Al Karak

Telephone

+923348120190

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTM Karak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share