22/01/2026
اول تو ہم خود اپنے سسٹم میں بے ترتیبی کے سرزد ہوجاتے ہیں دوم چھوٹے معملات اور اپنے جیسے عام عوام کی غلطی کو نوٹ کرنے اور کروانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اللہ پاک بھی کہیں نہ کہیں ہماری خطاؤں کو درگزر کرکے عطاء کرتا رہتا ہے ڈرتے ہیں کہیں ہم بھی اس کی رد کی ہوئی فہرست میں شامل نہ ہو جائیں اسی وجہ سے اکثر پیشہ ور فقیر کو بھی دینے سے ہاتھ نہیں روکتے کیونکہ اوپر بیٹھا اس سارے امتحان کا مالک بھی ہمیں اہلیت ناپے بغیر عطاء کررہا ہوتا ہے لیکن کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں کہ ہم پہلے ہی اپنے آپ سے بیزار ہوتے ہیں وہیں ایک چھوٹا سا عمل ہمیں اپنے آپے سے باہر کردیتا ہے مجھے اتفاقاً کافی دفع قصور چیزیس پر جانا ہوا تو پارکنگ فری ہونے کے باوجود پارکنگ پہ معمور بندہ فرض سمجھ کر ہربارپوچھتا ہے سرجی کوئی پیار محبت تو کیا ہی نئی آپ نے؟ ایک تو انداز ایسا ہوتا ہے جیسے ہم نے اسکا ڈی ایچ اے والا کورنر پلاٹ ناجائز فروخت کی نظر کردیا ہو اور دوسری طرف پنجاب بنک شہباز روڈ مین برانچ کی اے ٹی ایم کے باہر جس رات کو بھی مشین استعمال کی وہاں موجود گارڈ نے ہمیشہ چائے کے پیسے اس لہجے میں مانگے ہیں جیسے اسے اسپیشل میرا بتایا گیا ہےکہ یہ بندہ جب بھی آئے اس سے چائے کی 100 روپے لازمی لینا جیسے میرے کوئی 1000 کی جگہ 2000 نکل آتےہیں😡 ساری تحریر کا مقصد یہ ہے کہ کیا پیار محبت اور چائے کی مد میں آپ بھی ادائیگی کرچکے ہیں یا ابھی پاک ہیں؟
دوسرا یہ بتاناچاہتا تھا کہ میں بھی چیزیس پہ ہو آیا ہوں قسم دے سکتا ہوں😁
Copied