Shez Graphics

Shez Graphics Digital Learning Academy

ٹرمپ کے بیان پر بھارت میں ہنگامہ! کیا یہ سچ ہے یا سیاست؟امریکہ کے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے سوشل میڈیا پر تہلکہ م...
24/04/2026

ٹرمپ کے بیان پر بھارت میں ہنگامہ! کیا یہ سچ ہے یا سیاست؟
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ حمل کے آخری مہینوں میں امریکہ جا کر بچے کو امریکی شہری بنواتے ہیں، اور پھر پورا خاندان وہاں لے آتے ہیں۔

اس بیان پر بھارت میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں لوگوں نے اسے توہین آمیز قرار دیا۔
سوال یہ ہے: کیا یہ حقیقت ہے یا صرف سیاسی بیان بازی؟

💬 آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں!

📢

Trump

رچرڈ ڈاکنز کا یہ اقتباس دراصل زندگی کی قدروقیمت اور اس کے محدود ہونے کے احساس کو ایک مثبت اور حوصلہ افزا تناظر میں پیش ک...
18/04/2026

رچرڈ ڈاکنز کا یہ اقتباس دراصل زندگی کی قدروقیمت اور اس کے محدود ہونے کے احساس کو ایک مثبت اور حوصلہ افزا تناظر میں پیش کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا زندہ ہونا بذاتِ خود ایک بہت بڑا معجزہ اور خوش قسمتی ہے، کیونکہ اربوں ممکنہ انسان کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے، اور ہم ان چند مراعات یافتہ لوگوں میں سے ہیں جنہیں زندگی کی لاٹری ملی۔

ان کے اس نقطہ نظر کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے درج ذیل پہلوؤں پر غور کیا جا سکتا ہے:

1۔ زندگی کا نایاب ہونا:

ڈی این اے کا امکان: جیسا کہ ڈاکنز نے ذکر کیا، ڈی این اے کے ذریعے ممکنہ انسانوں کی گنجائش، اصل میں پیدا ہونے والے انسانوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کے وجود میں آنے کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔

ارتقائی عمل: انسانی ارتقاء ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے، جس میں بے شمار عوامل نے حصہ لیا۔ اگر تاریخ کے کسی بھی موڑ پر حالات ذرا سے بھی مختلف ہوتے، تو آج ہم یہاں موجود نہ ہوتے۔

2۔ زندگی کی قیمت:

موت کا احساس: جب ہم جانتے ہیں کہ ہماری زندگی محدود ہے، تو اس کی اہمیت اور قدروقیمت بڑھ جاتی ہے۔ اگر ہم ہمیشہ زندہ رہتے، تو شاید ہم زندگی کے ہر لمحے کی قدر نہ کرتے۔

زندگی کا جشن: ڈاکنز کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی موت پر افسوس کرنے کے بجائے، اپنی زندگی کا جشن منانا چاہیے۔ ہمیں خوش ہونا چاہیے کہ ہمیں یہ موقع ملا کہ ہم اس خوبصورت دنیا کا تجربہ کر سکیں، سیکھ سکیں، محبت کر سکیں اور کچھ بامعنی کام کر سکیں۔

3۔ زندگی کی معنویت:

ذاتی ذمہ داری: ڈاکنز کا نظریہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی معنویت ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ ہم خود اپنی زندگی کو بامعنی بنا سکتے ہیں، اپنے مقاصد طے کر سکتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

انسانی ورثہ: ہم انسانی ورثے کا حصہ ہیں اور اپنے اعمال کے ذریعے اس میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ہم اپنے علم، فن، اور محبت کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا چھوڑ سکتے ہیں۔

4۔ موت کا قبول کرنا:

ناگزیر حقیقت: موت ایک ناگزیر حقیقت ہے، جسے ہمیں قبول کرنا چاہیے۔ اس سے ڈرنے کے بجائے، ہمیں اسے زندگی کے ایک قدرتی حصے کے طور پر سمجھنا چاہیے۔

عدم کا تصور: ڈاکنز کا کہنا ہے کہ اکثریت کبھی عدم سے باہر نہیں نکل پائی، یعنی وہ کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے۔ اس کے مقابلے میں، ہمیں زندگی کا موقع ملا، جو کہ ایک بہت بڑا انعام ہے۔

نتیجہ:

رچرڈ ڈاکنز کا یہ اقتباس ہمیں زندگی کے بارے میں ایک گہرا اور حوصلہ افزا نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری زندگی محدود ہونے کے باوجود، اس کی قدروقیمت بہت زیادہ ہے۔ ہمیں اپنی موت پر افسوس کرنے کے بجائے، اپنی زندگی کا جشن منانا چاہیے اور اسے بامعنی بنانا چاہیے۔ یہ نقطہ نظر ہمیں اپنی زندگی کو بھرپور طریقے سے جینے اور اس کے ہر لمحے کی قدر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

‏حسن والوں کے ہونگے چرچے بہت لیکن،مثالیں حیا والوں کی ہی دی جاتی ہیں!!!✨🩷
16/04/2026

‏حسن والوں کے ہونگے چرچے
بہت لیکن،
مثالیں حیا والوں کی ہی
دی جاتی ہیں!!!✨🩷

🔥 🏷️ Aplic Work Suit

Elegant 3 Piece Suit – Premium Look at Affordable Price 😍🔥

✨ New Arrival – Stylish 3 Piece Suit ✨

Looking for something elegant and unique?
This beautiful 3 piece suit is perfect for casual wear, events, and gatherings 💃

🖤 Premium black design with stunning golden pattern
🧵 Comfortable fabric & stylish look
👗 Perfect for daily wear & special occasions

💰 Price: Rs. 7000 only
🚚 Delivery available all over Pakistan
💵 Cash on Delivery available

📲 Order now on WhatsApp: 0302-1372610

⚡ Limited stock – Order fast before it’s gone!

عوام کو چونا لگا کرریلیف کا نام دے رہے ہیں!
11/04/2026

عوام کو چونا لگا کر
ریلیف کا نام دے رہے ہیں!










10/04/2026

نہ ڈالو ستاروں پر کمند، انسان مر رہا ہے… اس کی خبر لو صدر ٹرمپ نے کہا: "میں آرٹیمس مشن سے واپس آنے والے خلا بازوں سے آٹو...
10/04/2026

نہ ڈالو ستاروں پر کمند، انسان مر رہا ہے… اس کی خبر لو صدر ٹرمپ نے کہا: "میں آرٹیمس مشن سے واپس آنے والے خلا بازوں سے آٹوگراف لوں گا۔ میں نے کبھی کسی سے آٹوگراف نہیں لیا… مگر ان سے ضرور لوں گا۔" کیوں؟ کیونکہ انہوں نے غیر معمولی بہادری اور استقامت دکھائی ہے۔ مگر سوال یہ ہے… کیا زمین پر مرتے انسانوں کی بہادری، بھوک، جنگ اور تکلیف… کسی تعریف کے قابل نہیں؟















ربّ پاران وڏي عطا ڪوثر جي خوشخبري پيارن لاءِ الله جو انعام اِنهي بيشڪ اسان توکي ڪوثر عطا ڪيو .سورت الڪوثر جو شانِ نزول ت...
08/04/2026

ربّ پاران وڏي عطا
ڪوثر جي خوشخبري
پيارن لاءِ الله جو انعام
اِنهي بيشڪ اسان توکي ڪوثر عطا ڪيو .
سورت الڪوثر جو شانِ نزول تمام گهڻو ايمان افروز ۽ تسلي بخش آهي:
مڪي جا ڪافر (خاص ڪري عاص بن وائل) رسول الله ﷺ کي (نعوذ باللہ) "ابتر" چئي طنز ڪندا هئا. عربيءَ ۾ "ابتر" ان شخص کي چئبو آهي جنهن کي پٽ نه هجي ۽ جنهن جو نالو کڻڻ وارو باقي نه رهي.
جڏهن پاڻ سڳورن ﷺ جي پٽ حضرت ابراهيم (رضي الله عنه) جو انتقال ٿيو، ته دشمنن خوشي ملهائي ۽ مذاق اڏايو ته هاڻي (نعوذ باللہ) پاڻ ﷺ جو سلسلو ختم ٿي ويو. ان ڏکئي وقت ۾ الله تعاليٰ هيءَ سورت نازل فرمائي:
تسلي ڏني: الله تعاليٰ فرمايو ته اسان اوهان کي "الڪوثر" (خيرِ ڪثير ۽ جنت جي نهر) عطا ڪئي آهي.
حڪم ڏنو: ته اي محبوب! اوهان پنهنجي رب لاءِ نماز پڙهو ۽ قرباني ڪريو.
انجام ٻڌايو: الله تعاليٰ اعلان فرمايو ته پاڻ ﷺ جو نالو ختم ڪندڙ دشمن پاڻ ئي "ابتر" (بي نام و نشان) هوندو.
بيشڪ، ڪيترن ئي مفسرين ۽ عالمن (خاص ڪري مڪتبِ اهلِ بيت) جي ويجهو "الڪوثر" مان مراد سيده فاطمه الزهرا (سلام الله عليها) جي ذات مبارڪ پڻ آهي.
دشمن جو جواب: سورت جي آخري آيت ۾ فرمايو ويو ته "تنهنجو دشمن ئي ابتر آهي". تاريخ گواه آهي ته جن دشمنن طنز ڪئي هئي، انهن جو نالو نشان مٽجي ويو، پر سيده فاطمه ﷺ جي اولاد (سادات) اڄ به پوري دنيا ۾ موجود آهي.


Hadith of the day
08/04/2026

Hadith of the day


پاکستان کی درخواست پر امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند: ’امریکہ کے ساتھ دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل اب...
08/04/2026

پاکستان کی درخواست پر امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند: ’امریکہ کے ساتھ دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل اب جمعے کو اسلام آباد میں شروع ہوگا‘




Cooking oil prices may be increased form coming moth.
06/04/2026

Cooking oil prices may be increased form coming moth.

06/04/2026

“To save Pakistan, I would even sacrifice my life,” said PM Pakistan
| |

04/04/2026

Address

Sukkur Sindh
Khairpur
66020

Telephone

+923021372610

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shez Graphics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shez Graphics:

Share