06/03/2026
*اسکرین کا غلام یا سجدے کا سپاہی؟*
آج کا نوجوان کمزور نہیں ہے… وہ بے سمت ہے۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، دل میں خواہشیں ہیں، دماغ میں خواب ہیں — مگر روح خالی ہو رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کیا بن رہا ہے، سوال یہ ہے کہ وہ کس کا غلام بن رہا ہے؟
ایک چھوٹی سی اسکرین نے اس کی توجہ، اس کا وقت، اس کی نیند، اس کی سوچ سب کو قید کر لیا ہے۔ وہ گھنٹوں سکرول کرتا ہے مگر چند منٹ سجدہ مشکل لگتا ہے۔ وہ ہر نوٹیفکیشن پر فوراً جاگ جاتا ہے مگر فجر کی اذان پر نہیں۔ کیا یہ آزادی ہے؟ یا ایک نیا غلامی کا نظام؟
قرآن ہمیں جھنجھوڑ کر یاد دلاتا ہے:
"أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ"
(کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟) — Quran
جب خواہشات حکم دینے لگیں اور انسان ماننے لگے، تو یہی غلامی ہے۔ فرق صرف زنجیروں کا ہے — پہلے لوہے کی ہوتی تھیں، آج روشنی کی اسکرین کی۔
مگر تاریخ گواہ ہے، جب نوجوان نے سجدہ سیکھا تو دنیا نے اس کے سامنے سر جھکایا۔ Salahuddin Ayyubi بھی کبھی ایک نوجوان تھا۔ اس کی طاقت تلوار نہیں، تہجد تھی۔ اس کا اعتماد لشکر نہیں، اللہ پر یقین تھا۔ سجدہ انسان کو جھکاتا نہیں، اسے بلند کرتا ہے۔
آج کا نوجوان اگر چاہے تو وہی اسکرین علم کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے، دعوت کا ہتھیار بھی، امت کی آواز بھی۔ مسئلہ موبائل نہیں، مقصد کی کمی ہے۔ اسکرین کا غلام بنو گے تو وقت تمہیں کھا جائے گا۔ سجدے کا سپاہی بنو گے تو وقت تمہیں یاد رکھے گا۔
فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔
انگوٹھا سکرول کرے گا یا پیشانی زمین کو چھوئے گی؟
تاریخ تمہیں ایک صارف کے طور پر یاد رکھے گی یا ایک مجاہدِ کردار کے طور پر؟
یاد رکھو…
امت کو ایسے نوجوان نہیں چاہییں جو آن لائن ہوں،
امت کو ایسے نوجوان چاہییں جو اللہ سے لائن میں ہوں۔
اب سوچو — تم کون ہو؟