Kohati BaBa . Qurashi and sons. Kohat City

Kohati BaBa . Qurashi and sons. Kohat City Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kohati BaBa . Qurashi and sons. Kohat City, Advertising/Marketing, kohat city, Kohat.

Skip to contenttohed.com logoاُردو میں لکھ کر تلاش کریں۔۔۔18 ذوالقعدۃ، 1446 ہجریFacebook-f Google-play Facebook Whatsapp...
18/05/2025

Skip to content
tohed.com logo
اُردو میں لکھ کر تلاش کریں۔۔۔
18 ذوالقعدۃ، 1446 ہجری
Facebook-f
Google-play
Facebook
Whatsapp
Telegram
Discord
اگر قربانی کا جانور خریدنے کے بعد نقص پیدا ہوجائے تو
محمد صارم
جون 15, 2024
عشرہ ذوالحجہ، قربانی، عقیقہ, ماہنامہ الحدیث، حضرو
1157
شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ، پی ڈی ایف لنک
سوال:

اگر کوئی شخص قربانی کے لئے جانور خریدے، جانور خریدنے کے بعد اُس کے اندر عیب پیدا ہو جائے مثلاً اس کی ٹانگ ٹوٹ جائے یا کانا ہو جائے تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے جانور نیا خریدنا چاہئے یا وہی جانور قربان کر دیا جائے ۔ قرآن وحدیث ، آثار صحابہ اور اجماع امت کی روشنی میں جواب ارشاد فرما ئیں اور یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ کیا اہلحدیث اجماع امت اور اجتہاد شرعی کے قائل ہیں۔ اجماع واجتہاد کا حجت ہونا کس دلیل سے ثابت ہے؟

جواب مفصل تحریر فرمائیں۔

الجواب:

یہ بات بالکل صحیح ہے کہ کانے یالنگڑے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

((أربع لا تجوز فى الأضاحي: الــعــراء بين عورها، والمريضة بين مرضها والعرجاء بين عرجها والكسير التي لا تنقى.))

چار جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے :

واضح طور پر کانا ، واضح طور پر بیمار ، صاف طور پر لنگڑا اور اتنا کمزور جانور کہ اس کی ہڈیوں میں گودانہ ہو۔

(سنن ابی داود :۲۸۰۲ وسنده صحیح، وصححہ الترمذی: ۱۴۹۷ وابن خزیمہ: ۲۹۱۲ وابن حبان : ۱۰۴۶، ۱۰۴۷، وابن الجارود: ۴۸۱ ، ۹۰۷ والحاکم ار۴۶۷، ۴۶۸ و وافقہ الذہبی )

یہ اس حالت میں ہے جب قربانی کے لئے جانور خریدا جائے۔

اگر ان عیوب سے صاف ستھرا جانور برائے قربانی خریدا گیا ہو اور بعد میں اس میں کوئی عیب پیدا ہو جائے تو اس کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن الزبیرؓ فرماتے ہیں:

’’ إن كان أصابها بعد ما اشتريتموها فأمضوها و إن كان أصابها قبل أن تشتر وها فأبد لوها‘‘

اگر یہ نقص و عیب تمھارے خریدنے کے بعد واقع ہوا ہے تو اس کی قربانی کر لو اور اگر نقص و عیب تمھارے خریدنے سے پہلے واقع ہوا تھا تو اس جانور کو بدل لو یعنی دوسرے جانور کی قربانی کرو۔

(السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۹ص ۲۸۹ سندہ صحیح)

اہل سنت کے مشہور ثقہ امام اور جلیل القدر تابعی امام ابن شہاب الزہریؒ فرماتے ہیں:

’’إذا اشترى الرجل أضحية فمرضت عنده أو عرض لها مرض فهى جائزة “

اگر کوئی شخص قربانی کا جانور خریدے پھر وہ اس کے پاس بیمار ہو جائے تو اس جانور کی قربانی جائز ہے۔

(مصنف عبدالرزاق ۳۸۶/۴ ح ۸۱۶۱ وسنده صحیح، دوسرا نسخہ ۸۱۹۲)

خلاصہ یہ کہ صورتِ مسئولہ میں قربانی والے جانور کی قربانی جائز ہے۔

الحمد للہ اہل حدیث اجماع امت کے حجت ہونے اور اجتہاد شرعی کے جائز ہونے کے قائل ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

(لا يجمع الله أمتي على ضلالة أبدًا ويد الله على الجماعة)

اللہ میری اُمت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت (یعنی اجماع) پر ہے۔

(المستدرک للحاکم ج ا ص ۱۱۶ ح ۲۹۹ وسندہ صحیح)

اس حدیث سے حاکم نیشاپوری نے اجماع کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔

سیدنا عمرؓ نے قاضی شریحؒ کی طرف لکھ کر بھیجا تھا:

اگر کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی نہ ملے تو دیکھنا کہ کس بات پر لوگوں کا اجماع ہے پھر اسے لے لینا۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج ۷ ص ۲۴۰ ح ۲۲۹۸۰ وسنده صحیح، المختارة للضياء المقدسی ۱/ ۲۳۸ ح ۱۳۴ سنن الدارمی : ۱۶۹، ماہنامہ الحدیث حضرو: ۴۷ ص ۴۸)

سید نا عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا:

’’ما رأى المسلمون حسنًا فهو عند الله حسن وما رآه المسلمون سيئًا فهو عندالله ن سيئًا فهو عند الله سي …. “

تمام مسلمان جسے اچھا سمجھیں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے اور جسے تمام مسلمان بُرا سمجھیں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی بُرا ہے۔

(المستدرک للحاکم ۷۸/۳ح۴۴۶۵ وسنده حسن وصححہ الحاکم ووافقہ الذہبی )

سید نا ابو مسعود عقبہ بن عمر والانصاریؓ فرمایا:

’’ أوصيك بتقــوى الـلـه ولـزوم الجماعة فإن الله لم يكن ليجمع أمة محمد ﷺ على ضلالة “

میں تجھے اللہ کے تقویٰ اور جماعت (اجماع) کے لازم پکڑنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔

(النقیہ والمنفقہ للخطیب (۱۹۷/۱، وسندہ صحیح)

امام محمد بن ادریس الشافعیؒ نے اپنی مشہور کتاب الرسالہ میں حجیت اجتماع پر دلائل ذکر کئے ہیں۔

دیکھئے ص ۴۷۱۔ ۴۷۶ فقرہ:۱۳۰۹ تا ۱۳۲۰

حافظ ابن حزم اندلسی اپنے غرائب وشذوذ کے باوجود اعلان فرماتے ہیں:

” أن الإجماع من علماء أهل الإسلام حجة و حق مقطوع به في دين الله عز وجل‘‘

علمائے اہلِ اسلام کا اجماع حجت اور اللہ کے دین میں قطعی حق ہے۔

(الاحکام فی اصول الاحکام جلد اول حصہ چہارم ص ۵۲۵)

امام بخاریؒ کے مشہور ثقہ استاذ امام ابوعبید القاسم بن سلام فرماتے ہیں:

’’ إلا أن يوجد علمه في كتاب أو سنة أو إجماع ‘‘

سوائے یہ کہ اس کا علم کتاب ( قرآن ) یا سنت (حدیث) یا اجماع میں پایا جائے۔

(کتاب الطہو للامام ابی عبید ص ۱۲۴‘ قبل ح ۳۳۵)

اس طرح کے بے شمار حوالے کتب حدیث وغیرہ میں مذکور ہیں۔

برصغیر کے اہل حدیث علماء بھی اجماع کو حجت تسلیم کرتے ہیں مثلاً

سید نذیر حسین دہلویؒ کے شاگرد حافظ عبد اللہ غازیپوریؒ فرماتے ہیں:

واضح رہے کہ ہمارے مذہب کا اصل الاصول صرف اتباع کتاب وسنت ہے۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اہل حدیث کو اجماع امت وقیاس شرعی سے انکار ہے۔ کیونکہ جب یہ دونوں کتاب وسنت سے ثابت ہیں تو کتاب وسنت کے ماننے میں ان کا ماننا آ گیا“۔

(ابراء اہل الحدیث والقرآن باب اہل حدیث کے اصول و عقائد ص ۳۲)

معلوم ہوا کہ اہلِ حدیث کے نزدیک ہر دور میں اُمت مسلمہ کا اجماع شرعی حجت ہے۔ اجتہاد کا جواز کئی احادیث سے ثابت ہے مثلاً نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت علم ديا –

((لا يصلين أحد العصر إلا في بني قريظة))

بنوقریظہ کے پاس پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز کوئی نہ پڑھے۔

صحابہ کی ایک جماعت نے (اجتہاد کرتے ہوئے) راستے میں نماز پڑھ لی اور دوسرے گروہ نے بنو قریظہ جا کر ہی نماز پڑھی تو نبی کریم ﷺ نے کسی کو بھی برا نہیں کہا۔

( صحیح بخاری: ۱۹۴۶ صحیح مسلم: ۱۷۷۰)

معلوم ہوا کہ نص ( واضح دلیل : قرآن ، حدیث اور اجماع ) نہ ہونے یا نص کے فہم میں اختلاف ہونے کی صورت میں اجتہاد جائز ہے لیکن یہ اجتہاد عارضی اور وقتی ہوتا ہے، اسے دائمی قانون کی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔

اجتہاد کی کئی اقسام ہیں مثلاً :

➊ آثار سلف صالحین کو تر جیح دینا

➋ اولیٰ کو اختیار کرنا

➌ قیاس کرنا ( نص کے مقابلے میں ہر قیاس مردود ہے۔)

➍ مصالح مرسلہ کا خیال رکھنا وغیرہ

بعض اہل تقلید دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ ادلہ اربعہ چار ہیں یعنی قرآن ، حدیث، اجماع اور اجتہاد لیکن یہ لوگ صرف اپنے خود ساختہ اور مزعوم امام کا اجتہاد ہی حجت سمجھتے ہیں اور اس کے علاوہ دوسرے تمام اماموں کے اجتہادات کو دیوار پر دے مارتے ہیں۔ مثلاً مدرسہ دیوبند کے بانی محمد قاسم نانوتوی صاحب نے ایک اہلِ حدیث عالم مولانا محمد حسین بٹالویؒ سے کہا:

” دوسرے یہ کہ میں مقلد امام ابو حنیفہ کا ہوں، اس لئے میرے مقابلہ میں آپ جو قول بھی بطور معارضہ پیش کریں وہ امام ہی کا ہونا چاہئے ۔ یہ بات مجھ پر حجت نہ ہوگی کہ شامی نے یہ لکھا ہے اور صاحب در مختار نے یہ فرمایا ہے، میں ان کا مقلد نہیں ۔“

(سوانح قاسمی ج ۲ ص ۲۲)

محمود حسن دیوبندی صاحب لکھتے ہیں لیکن سوائے امام اور کس کے قول سے ہم پر حجت قائم کرنا بعید از عقل ہے .‘‘

(ایضاح الادلہ ص ۲۷۶ سطر نمبر ۱۹‘۲۰)

احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب لکھتے ہیں:

’’کیونکہ حنفیوں کے دلائل یہ روایتیں نہیں ان کی دلیل صرف قول امام ہے۔“

(جاء الحق حصہ دوم ص ۹)

نعیمی صاحب مزید لکھتے ہیں:

’’ اب ایک فیصلہ کن جواب عرض کرتے ہیں۔ وہ یہ ہے۔ کہ ہمارے دلائل یہ روایات نہیں۔ ہماری اصل دلیل تو امام اعظم ابو حنیفہؓ کا فرمان ہے۔ ہم یہ آیت واحادیث مسائل کی تائید کے لئے پیش کرتے ہیں۔ احادیث یا آیات امام ابو حنیفہؓ کی دلیلیں ہیں ۔“

(جاءالحق حصہ دوم ص ۹۱)

اہل حدیث کے نزدیک اس طرح کی تنگ نظری اور تقلید باطل ہے بلکہ مسائل اجتہادیہ میں جمہور سلف صالحین کو ترجیح دیتے ہوئے اجتہاد جائز ہے اور جو شخص اجتہاد نہیں کرتا وہ بھی قابل ملامت نہیں ہے لیکن ہم تو واضح دلیل نہ ہونے کی صورت میں اجتہاد اور اس کے جواز کے قائل ہیں ۔

وما علينا إلا البلاغ

(۱۹/ جون ۲۰۰۸ء)

[فتاویٰ علمیہ۶۵۳/۱]

https://tohed.com/529dc3
گزشتہ پوسٹ
ماں کے پیٹ میں فوت ہو جانے والے بچے کی نماز جنازہ
اگلی پوسٹ
مسئلہ حاضر و ناظر قرآن و حدیث کی روشنی میں
یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں
فیس بک

وٹس اپ

ٹویٹر ایکس

ای میل
مضمون کا پی ڈی ایف
مضمون کا ٹیکسٹ کاپی
موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:
قربانی کے جانوروں کی عمر کتنی ہونی چاہیئے، قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی
حج کے موقع پر قربانی کی سنت ابراہیمی حیثیت
سیدنا ابو ہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بازاروں میں باآواز بلند تکبیرات کہنا
من دون اللہ کا صحیح مفہوم
قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانا ؟
سب سے پہلے قیاس کس نے کیا؟
مدینہ پہنچنے کے بعد نبی ﷺ کا پہلا خطاب
جو کام نبی ﷺ نے کیا ہے اس میں ہرگز کوئ تبدیلی نہ کرو
حدیث کے بارے میں ” قیل و قال“ کرنے والوں کے لیے امام شافعی رحمہ اللہ کی نصیحت
فتنہ انکار حدیث: عزیز اللہ بوہیو کے گمراہ کن افکار کا علمی رد
کفایت اللہ سنابلی کی امام ابن الجوزی سے متعلق ہزرہ سرائی کا رد
ملت ابراہیم کی یاد اور شرک سے بیزاری
بدعت اور وحدۃ الوجود کے خلاف امام ذہبی کی رہنمائی
مشاجرات صحابہ کرام کے بارے میں سلف کا موقف
حفاظت حدیث کا وعدہ الہی،حفاظت قرآن اور حفاظت حدیث کے طریقے
حدیث کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے
حدیث کے مقابلے میں سلف کے اقوال و افعال بھی حجت نہیں
شرک کی غلط تعریف اور بریلوی تاویلات کا جائزہ
کیا شرک سے متعلق آیات پتھر کے بتوں اور مورتیوں سے متعلق ہیں؟
شرک کی مذمت اور انبیائے کرام کی دعوت توحید: قرآن و حدیث کی روشنی میں
امت مصطفی ﷺ اور شرک: قرآنی و احادیثی دلائل کے ساتھ تجزیہ
تبصرہ کریں
آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تبصرہ *

نام

ای میل

ڈس کلیمر: بارہا کوششوں کے باوجود املاء یا دیگر غلطیوں کا امکان رہتا ہے، اگر کوئی غلطی نظر آئے یا آپ اپنے لکھے ہوئے علمی و تحقیقی مضامین ویب سائٹ پر شائع کروانا چاہیں تو براہِ کرم واٹس اپ پر رابطہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
توحید ڈاٹ کام - اُردو مضامین
توحید ڈاٹ کام - انگلش مضامین
شاملہ عربی کتب کے موضوعات اُردو میں
توحید مساجد ڈائریکٹری
توحید رشتہ ڈائریکٹری
اہم روابط
یونیکوڈ کتب
اسلامی واٹس اپ، سوشل میڈیا میسجز
توحید اینڈرائیڈ ایپلیکیشن
ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں
Facebook-f
Whatsapp
Android
Facebook
Discord
Telegram
ہمارے متعلق
ہم کون ہیں؟
ہم سے رابطہ کریں
ہمارے واٹس اپ گروپس
ہمارا پتہ: 209، سیوک سینٹر، گلبرگ گرین، اسلام آباد، پاکستان

توحید ڈاٹ کام پرسال 2014 سے مستند تحریروں کی اشاعت کا سلسلہ بلاتعطل جاری ہے۔ ہماری ویب سائٹ سوفیصد غیر منافع بخش ہے جس سے ہمیں کسی قسم کی کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔ہماری ویب سائٹ پر موجود مواد کے کوئی کاپی رائٹس نہیں۔ آپ ہماری ویب سائٹ پر موجود مواد دعوتی مقاصد کے لیئے استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری آپ سے درخواست ہے کہ ہمارا مواد شئیر کرتے وقت ہماری ویب سائٹ کا لنک بھی شئیر کریں، اس سے ہمیں ہماری دعوتی کوششوں میں مدد ملے گی۔ جزاک اللہ خیرا۔
1

انگوٹھی میں یاقوت قیمتی پتھر اور جواہرات کے نگینے استعمال کرنا کیسا ہے؟

11/04/2025

Address

Kohat City
Kohat
0000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kohati BaBa . Qurashi and sons. Kohat City posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share