Independent Kohat

Independent Kohat کوہاٹ ، علاقائی خبروں ، سوشل افیئرز اور دیگر حالات حاضرہ کے حوالے سے مستند خبروں کی آگاہی کا زریعہ۔

24/05/2025

کوہاٹ ! بجلی گیس اور پانی نشتہ۔

بیلٹ ٹائٹ کرانے والے لوگ !
مو سرہ اختیار نشتہ۔واخے۔

08/04/2025

‏تفصیلی جائزہ: خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز بل 2025

(تحریر و تحقیق نمکین چائے)

یہ بل کوئی معمول کا مسودہ نہیں ہے۔ اس بل سے یہ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے کہ پاکستان اپنی وسیع معدنی دولت سے کیسے فائدہ اٹھاتا ہے، یا نقصانات کا سامنا کرتا ہے۔

سرمایہ کاری لانے والی اصلاحات کے بھیس پر تیار کیا گیا، خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز بل 2025 اپنے اندر کچھ سنگین خلا اور خطرات چھپائے ہوئے ہے

اگر ترامیم کے بغیر منظور کیا جاتا ہے، تو خیبرپختونخوا ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو یا یوکرین کی طرح غیر ملکی استحصال کا ایک بڑا ہدف بن سکتا ہے۔ جس سے مقامی لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ نقصان ہی نقصان ہوگا!

کانگو، یوکرین، اور چلی کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے، میں ذیل میں بتاؤں گی کہ کس طرح ان مذکورہ بالا ممالک کے وسائل سے مالا مال علاقے تنازعات، غربت، اور کارپوریشنز کے قبضے corporate capture میں چلے گئے۔

1. کلیدی شرائط اور کیا missing ہے:
💥 ایک نئی ریگولیٹری اتھارٹی جس کے پاس لائسنسنگ کے 'بڑے اختیارات' ہوں گے۔
💥 غیر ملکی کمپنیاں exploration کے حقوق حاصل کر سکتی ہیں، لیکن ان چیزوں کی ضرورت نہیں سمجھتیں:
> مقامی کارکنوں کی خدمات حاصل کرنا،
> ٹیکنالوجی کی منتقلی،
>منافع بانٹنا،
> منافع کی دوبارہ سرمایہ کاری کرنا،
> شفاف طریقے سے رپورٹ کرنا۔
💥 پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی اجازت ہے، لیکن شفافیت، عوامی bidding یا شہریوں کی oversight کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
💥 وفاقی حکومت کو "سٹریٹجک معدنیات" کے بارے میں حتمی فیصلے کا اختیار دیا جاتا ہے، لیکن کہیں بھی یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ اصل میں کیا ہے۔

حیران کن طور پر کیا غائب ہے:
❌ صوبے کے لیے کوئی لازمی رائلٹی نہیں ہے۔
❌ خیبرپختونخوا کے رہائشیوں کے لیے نوکریوں کا کوئی کوٹہ نہیں ہے۔
❌ مقامی کمیونٹیز کے لیے ملکیت کا کوئی حصہ نہیں رکھا گیا۔
❌ آج کل کے ماحولیاتی یا ESG (ماحولیاتی، سماجی، گورننس) معیارات پورے طریقے سے کوور نہیں کئے گئے۔

2. مقامی حکومت پر مرکز کو فوقیت دی گئے ہے:
💥 یہ براہ راست 18ویں ترمیم کو کمزور کرتا نظر آ رہا ہے، جس نے قدرتی وسائل پر صوبوں کو اختیار دیا تھا۔
💥 اس بل کے تحت قائم کردہ فیصلہ سازی پینلز (ٹربیونلز) پر وفاقی مقررین کا غلبہ نظر آتا، مقامی نمائندگی بل کے سائز کے حساب سے بہت ہی کم یے۔
💥 یہ اصطلاح "سٹریٹجک معدنیات" مبہم طور پر استعمال کی گئئ ہے، اس کا سیاسی طور پر غلط استعمال خیبرپختونخوا کی خودمختاری کو ختم کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

3. بیرونی مفادات والے لوگ فیصلے کریں گے:
💥 اس بات کی کوئی حد نہیں ہے کہ مائننگ فرم کا کتنا حصہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاس ہو سکتا ہے۔ یہ خطرناک حد تک غیر محدود ہے!
💥 ٹیکنالوجی کی منتقلی یا پاکستانی کارکنوں کی تربیت کے لیے کوئی شق نہیں ہے۔
💥 خیبرپختونخوا ایک ایسی جگہ بن سکتا ہے جہاں خام مال نکالا جاتا ہے، برآمد کیا جاتا ہے، اور مقامی لوگوں کے پاس ماحولیاتی گندگی اور کھوئے ہوئے مواقع کے سوا کچھ نہیں بچتا۔

4. کیس اسٹڈیز جنہیں ہم نظر انداز نہیں کر سکتے:
یوکرین:
🎯 2021 میں بڑے پیمانے پر بلین ڈالر کے لیتھیم اور ٹائٹینیم کے bills پر دستخط ہوئے۔
🎯 ایک سال بعد، روسی جنگ نے ان کان کنی والے علاقوں کو میدان جنگ میں بدل دیا گیا۔
سبق: غیر ملکی فرموں کو 'غیر مستحکم علاقوں' میں مدعو کرنا طویل مدتی قومی سلامتی کے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو (DRC):
🎯 کوبالٹ سے مالا مال لیکن غریب: دنیا کی کوبالٹ سپلائی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے۔ 70 فیصد کان کنی چینی فرموں کے زیر کنٹرول ہے۔
🎯 زیادہ تر کانیں غیر ملکی کمپنیوں کے زیر کنٹرول ہیں، کوئی ویلیو ایڈ، کوئی ترقی نہیں، صرف استحصال!
سبق: مضبوط قوانین کے بغیر وسائل ایک لعنت بن جاتے ہیں۔

چلی:
🎯 لیتھیم کان کنی پر کھلے دروازے open door کی پالیسی کے ساتھ شروع ہوا۔
🎯 بعد میں آلودگی اور غیر ملکی تسلط پر عوامی ردعمل کے بعد اس شعبے کو nationalize کرنا پڑا۔
سبق: اگر ریاست اپنے مفادات کا پہلے سے تحفظ نہیں کرتی ہے، تو لوگ آخرکار کورس کی اصلاح پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ تعلقات خراب ہوتے ہیں۔

5. اقتصادی طور پر کیا داؤ پر ہے:
خیبرپختونخوا میں بڑے وسائل:
💫 کاپر (تخمینہ ~ 200 بلین ڈالر)، لیتھیم، فلورائٹ، کرومائٹ، کوئلہ، بارائٹ، ماربل۔

یہ کیوں اہم ہے:
✅ لیتھیم الیکٹرک گاڑیوں اور سمارٹ گرڈز کو انرجی دیتا ہے۔
✅ کاپر سبز توانائی، ٹیلی کام اور دفاعی ٹیکنالوجی کے لیے ضروری ہے۔

بل کے ساتھ مسائل:
❓پاکستان کے اندر معدنیات کو ریفائن یا پروسیس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
❓️صنعتی ترقی سے کوئی ربط نہیں۔
❓ منافع کی دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے کوئی
حاض نظام نہیں ہے۔

باٹم لائن: ہم پاکستان کی معدنیات کو خام باہر بھیجتے ہوئے دیکھیں گے۔ جب کہ ہمارے لوگ غریب رہیں گے اور ہماری صنعتیں پسماندہ رہیں گی۔

6. سیکورٹی اور خودمختاری کے بلائنڈ مقامات:
❌ سویلین استعمال اور فوجی استعمال کے معدنیات میں کوئی فرق نہیں ہے۔
❌ افغانستان جیسے سرحدی علاقوں کے قریب کان کنی غیر ملکی surveillance کے لیے ممکنہ داخلے کی جگہ بن سکتی ہے۔
❌ سویلین حکام کو طاقتور ٹھیکیداروں (اندرونی اور بیرونی) کے ذریعے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، جس سے جمہوریت کمزور ہو سکتی ہے۔

نتیجہ:
یہ بل اپنی موجودہ شکل میں صرف ناقص نہیں بلکہ خطرناک بھی ہے۔ اگر اسی طرح منظور ہو جاتا ہے تو خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز بل 2025 کے پی کو نوآبادیاتی طرز کی extraction site میں تبدیل کر سکتا ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے کوئی آواز نہیں، مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی نہیں، ماحولیاتی حفاظتی انتظامات نہیں ہیں۔ پاکستان کو استحصال کی جگہ نہيں بننا چاہیے۔

فوری کارروائی کے نکات:
🚨 کان کنی کے تمام معاہدوں کے لیے 51% مقامی ایکویٹی شق شامل کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کان کنی کے کسی بھی منصوبے کا نصف سے زیادہ (51%) پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں یا کمپنیوں کی ملکیت ہونا چاہیے، خاص طور پر خیبرپختونخوا سے۔
🚨 اور ESG آڈٹ (ماحولیاتی، سماجی، اور گورننس) کو لازمی بنائیں۔ کیونکہ ESG آڈٹ باقاعدہ ایک چیک ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مائنگ کمپنی ہے:
> فطرت کو نقصان نہ پہنچائے (ماحولیاتی)
> کارکنوں اور مقامی لوگوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کرے (سماجی)
> قواعد کی صحیح طریقے سے پیروی کرے (گورننس)
🚨 معدنیات کی تزویراتی، فوجی اور اقتصادی اہمیت کے لحاظ سے درجہ بندی کریں۔
🚨 مکمل شفافیت کے ساتھ وفاقی اور صوبائی نگرانی کے بورڈز بنائیں۔
🚨 تمام معدنیات کو پاکستان کے اندر پروسیس کرنے کی ضرورت ہے۔

عوامی سوالات جو ضرور پوچھے جانے چاہئیں:
1️⃣ اس بل سے اصل میں کون فائدہ اٹھاتا ہے؟
زیادہ تر غیر ملکی کمپنیاں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ مقامی لوگ سائیڈ پر کر دیے جاتے ہیں۔

2️⃣ مقامی یا قبائلی برادریوں کا تحفظ کہاں ہے؟
کہیں نہیں ہے۔ یہ ایک بہت بڑا blind spot ہے۔

3️⃣ اسٹریٹجک اور نایاب معدنیات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی؟
کسی وضاحت clarity کا نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس اصطلاح کو سیاسی جوڑ توڑ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

4️⃣ اگر کوئی غیر ملکی فرم ماحولیاتی قوانین کو توڑتی ہے تو کیا ہوگا؟
بل صرف بہت سی نئی authorities کا ذکر کرتی نظر آتی ہے مگر اس بات کی وضاحت نہیں کرتا ہے کہ کیا ہوگا۔ نفاذ کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔

5️⃣ کیا ہم ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو کی غلطی دہرا رہے ہیں؟
اگر یہ بل ایکویٹی مینڈیٹ یا مقامی کنٹرول کے بغیر پاس ہو جاتا ہے - بالکل ممکن ہے!

6️⃣ کیا قومی سلامتی کے ذمہداران کو ہر غیر ملکی کان کنی کے معاہدے کی جانچ کرنی چاہیے؟
کم از کم، ان سے مشورہ کیا جانا چاہئے. خاص طور پر سرحدی علاقوں کے قریب کان کنی کے لیے۔

7️⃣ صوبائی اسمبلی/پارلیمنٹ نے ابھی تک کھل کر بات کیوں نہیں کی؟
یہ وہ سوال ہے جو فوری ہر شہری کو اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھنا چاہیے۔ بلکہ یہ بھی پوچھیں کے عمران خان سے مشورہ کیوں نہیں کیا گیا!

8️⃣ مقامی ملازمتوں کا کوٹہ کیوں نہیں؟
بل میں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ اس کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے۔

9️⃣ اگر اس سے خیبرپختونخوا میں بدامنی پھیلتی ہے تو کیا ہوگا؟
بل میں ممکنہ طور پر تنازعات، استحصال اور بیرونی کنٹرول کے تمام 'معلوم اجزاء' موجود ہیں۔

🔟 ہم گھر میں اپنی ویلیو کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟
پاکستان میں ریفائننگ، پروسیسنگ اور دوبارہ سرمایہ کاری کرکے۔ صرف خام مال برآمد کرکے نہيں رکھ سکتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوپر کی تحریر سے یہ واضح ہے کہ صوبائی حکومت کی وفاق کے ساتھ حقیقی آزادی کی لڑائی ایک ڈھکوسلہ کے سوا کچھ نہی۔ یہ تمام کے تمام لوگ حقیقی آزادی کے نام پر اپنے کارکنوں اور ورکروں کو دھوکا دے رہے ہیں۔ خان کا نام صرف بطور جزباتی بلیک میلنگ یا ٹچ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اندر سے یہ سارے ایک ہیں۔

Shehryar Khan Afridi
Daud Afridi
Aftab Alam
Shafi Jan
PTI Khyber Pakhtunkhwa
Gohar Saif Ullah Khan Bangash
PTI Kohat
Kohat City

29/03/2025

اعتراف تو دھڑلے سے کر دیا جناب نے۔ کیونکہ معلوم ہے کہ پارٹی ورکر اندھے بہرے لولے لنگڑے ہیں۔ شاید اس وضاحت کو قبول کرلیا جائے گا۔ اب دوسری وضاحت شناختی کارڈوں کی دینی پڑے گی کہ جن کی بات کررہے ہیں کیا وہ ان کے بغیر تھے۔ آپنے خاندان کے بندوں کی جگہ کسی اور کے نام لکھے جاسکتے تھے تاکہ اس طرح سبکی نہ ہوتی۔

مگر کیا واقعی یہ اخلاقیات ہے۔

ارے میں تو بھول گیا اخلاقیات اخلاق والوں میں ہوتی ہے۔ موصوف کا تو انداز گفتگو یہ ظاہر نہیں کرتا۔ آپ کیا کہتے ہیں۔

حضرات حاضری لگائیں۔
Shehryar Khan Afridi
PTI Khyber Pakhtunkhwa
Sajid Iqbal
Shafi Jan
PTI Kohat
Aftab Alam
Daud Afridi
#کوہاٹ

یہ شخص بہت سے نادار اور غریب مساکین ( پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی اور میر وغیرہ )  کی معاشی بحالی کا سبب پچھلے تیرہ سال س...
25/03/2025

یہ شخص بہت سے نادار اور غریب مساکین ( پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی اور میر وغیرہ ) کی معاشی بحالی کا سبب پچھلے تیرہ سال سے بن چکا ہے۔ خصوصی طور پر اس نے بہت سے غریب مساکین زکوٰۃ خیرات کے مستحق لوگوں کو مہینوں میں غریب سے امیر ترین بنا دیا۔ کوئی سونے کی کانوں سے زکوٰۃ خیرات وصول کررہا ، کوئی ٹھیکوں میں کمیشن وغیرہ سے۔ اور کوئی ماشاءاللہ زکوٰۃ اور رمضان پیکج میں بھائیوں اور بھتیجوں بھتیجیوں کے نام پر دس دس ہزار روپے وصول کررہا۔ ماشاءاللہ اللہ نظر بد سے بچائے۔

حضرات حاضر ہو۔

Shehryar Khan Afridi
Daud Afridi
Shafi Jan
Aftab Alam
Sajid Iqbal
PTI Khyber Pakhtunkhwa

زکوٰۃ کے حقدار اول لوگ۔  خیرات کے مستحق لوگ۔ تحصیل گمبٹ میں تحصیل چیئرمین ساجد اقبال کے بھائی ، بھتیجے جو سرکاری سکول ٹی...
23/03/2025

زکوٰۃ کے حقدار اول لوگ۔ خیرات کے مستحق لوگ۔

تحصیل گمبٹ میں تحصیل چیئرمین ساجد اقبال کے بھائی ، بھتیجے جو سرکاری سکول ٹیچر ہے نے ، دو کزنز سمیت ایک ہی گھر کے ٹوٹل 8 افراد نے رمضان پیکج حاصل کرلیا ۔

ماشاءاللہ قیدی 804 کے بہانے اپنی استطاعت بڑھانے کی خوب مشقیں ہورہی ہیں۔ کل کا پی سی او اور وی سی آر سنٹر چلانے والا آج خوشحال گڑھ سونے کی کان میں خوب جیبیں بھر رہا ہے۔ سوزوکی میں پھرنے والا آج ماشاءاللہ حرام کے پیسوں سے اب اپنے خاندان کی خوب کفالت کررہا ہے۔ بچارے زکوٰۃ اور خیرات کے مستحق لوگ۔۔ غریب نادار لوگ۔۔۔

ویگو ڈالے ، اشتیاق قریشی اور صابر عزیز جیسے لوگوں کے لیے لیے جارہے۔

سرکاری دفاتر رنڈی خانے بنے ہوئے ہیں۔ جس کی دلالی میں یہی لوگ ملوث ہیں۔ پھر عمروں پر جاکر اپنی تصاویر اپ لوڈ کرکے لوگوں کو اپنا دامن فرشتوں جیسا بنایا جاتا ہے۔

ادھر ایم این اے صاحب ہیں جن کا مشہور قول کہ کرپشن زنا کے برابر ہے مگر ان کو اپنے ناک نیچے یہ کرپشن نظر ہی نہی اتی۔ صاحب کالے چشمے لگا کر سوئے پڑے ہیں۔ اور درباری ان کے مال حرام بنا رہے ہیں۔ غریبوں کے لیے رمضان پیکج میں اپنے حصے وصول کررہے ہیں۔

ہائے رے کوہاٹا۔۔۔۔

صاحبان حاظر ہو۔۔۔۔
Shehryar Khan Afridi

Shafi Jan

Aftab Alam

Daud Afridi

PTI Khyber Pakhtunkhwa

Gohar Saif Ullah Khan Bangash

Sajid Iqbal

12/03/2025
12/03/2025

کوہاٹ خوشحال گڑھ گولڈ مائننگ میں اسمبلی نمائندگان کی دلچسپی کی خاطر تمام کوہاٹ کی حکومتی مشینری اس وقت ممبران اسمبلی کی چوکھٹ کے ملازم بنے ہوئے ہیں۔ گلشن ان کا آباد رہے باقی سب کا برباد رہے کے تحت غیر قانونی آئل ایجنسیوں کو کھلی چھوٹ۔ جب نمائندگان اپنی تمام دلچسپیاں سونے کی تلاش کے کاروبار میں مصروف رہینگی تو خاک کوہاٹ کی بہبود کے لیے کام کیا جائے گا۔

روڈز تباہ حال۔
انفراسٹرکچر تباہ حال۔
بجلی اور گیس کی ناروا بندش۔
ہسپتال تباہ حال۔
منشیات فروشی اور بدامنی عروج پر۔


#کوہاٹ
Shehryar Khan Afridi
Shafi Jan
Daud Afridi
Aftab Alam
Kohat City
Beautiful Kohat City
Zia Ullah Khan Bangash
PTI Khyber Pakhtunkhwa
PTI Kohat
Gohar Saif Ullah Khan Bangash

25/02/2025

وسائل سے بھرپور مگر مسائل کا شکار میرا شہر کوہاٹ جہاں بدامنی عروج پر ، جہاں بجلی گیس اور ہسپتال سے محرومی بھی ساتھ ساتھ۔ جہاں ریفر ٹو پشاور کا کاغز مریض کے ہاتھ میں، جہاں تھانوں میں پیسہ گردی عروج پر، جہاں روڈوں کی تنگی اور ان کی خرابی ، جہاں صحت تعلیم اور دیگر سہولیات ناپید ،جہاں دعوے نمائندگان کے بڑے بڑے لیکن کام چھوٹے چھوٹے سے۔ باتیں بڑی بڑی عمل چھوٹے سے بھی چھوٹے۔ جہاں کے بازار تنگ ، جہاں سہولتیں نہ ہونے کے برابر۔

وہ شہر جہاں منشیات فروشی ، جسم فروشی ، بھتہ گیری ، قبضہ مافیا طاقتور لیکن عوام کمزور۔ بے بس، لاچار۔

ہائے رے کوہاٹا۔۔۔۔ جار دنا شم۔

Kohat

#کوہاٹ

Daud Afridi
Shehryar Khan Afridi
Aftab Alam
Shafi Jan

25/02/2025

کوہاٹ!!!!!!

شہر نا پرساں۔

ایک ایسا شہر جو اپنے جغرافیائی اور محل وقوع کے حوالے سے بہتر اہمیت رکھنے والا جو آج بھی جدید سہولتوں سے محروم شہر جہاں سے مختلف شعبوں میں نام اور شہرت کمانے والے لاتعداد سپوت پیدا ہوئے ہیں۔ جہاں کا نام لیتے وقت لوگوں کو خوبصورت باغات اور سوغاتوں کی یاد آتی ہے ہر اس شخص کو جو یہاں کا باشندہ یا یہاں کچھ وقت گزار چکا ہو۔

ایک بدقسمت شہر جہاں 2013 سے تبدیلی سرکار براجمان ہے۔ جو دعوی تبدیلی کے نام سے صوبے میں حکومت کررہی ہے۔ جس نے صحت ، تعلیم اور امن کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کیے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ شہر ترقی کے زینے کیا چڑھتا رہی سہی سہولیات بھی دم توڑ چکی ہیں جو کہ صرف اور صرف ناتجربہ کاریوں اور نااہلی کے سبب پیدا ہوئی ہیں جہاں صرف زبانی تیر اور بلند بانگ ناہل لوگ اقتدار میں آئے لیکن سوائے اپنی مالی حیثیت بڑھانے کے علاؤہ اس شہر کو تباہ کاریوں میں چھوڑ کر اب بھی صرف لفاظی تقریروں اور زبانی دعویٰ کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
کوہاٹ آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے تنزلی کا شکار شہر جہاں ہسپتال، اسکول اور انفراسٹرکچر کی کمی اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ جہاں دیگر ٹو پشاور کا گھناؤنا چکر پچھلے 12 سالوں سے کوہاٹ کے عوام کو جسمانی ، زہنی کوفت میں مبتلا کرکے اذیت دے رہا ہے۔ جہاں ایک کمشنر راتوں کو جاکر ہسپتالوں کی صفائی اور بجلی اپنی نگرانی میں بحال کرواتا ہے۔ جس شہر کے نمائندگان صرف زبانی جمع خرچ کے ماہر ہوں لیکن اپنی نااہلی اور کمزور حیثیت میں مبتلا ہوں وہ کیا خاک اس شہر کو ترقی کا گہوارہ بنائینگے۔ جہاں قبضہ مافیا ، بھتہ مافیا۔ لینڈ گریپنگ اور بدمعاشی کے تمام صفات انھی نمائندگان کے خاندانوں میں موجود ہوں۔ وہ کیا خاک اس شہر کے باقی لوگوں کی یہ حرکات بند کروائنگے جہاں وہ خود اس میں گردن گردن مبتلا ہو۔
وہ شہر جو اس کے نمائندگان کو وزرات داخلہ ، سیفران اور منشیات جیسے عہدے قومی اسمبلی میں دے چکا ہو۔ جہاں صوبائی لیول پر وزرات قانوں دو دفعہ مشیر تعلیم ایک دفعہ اس شہر کو نمائندگان کو عزت افزائی کے تحت نواز چکا ۔ مگر افسوس کہ ترقی یہ وزیران و مشیران اتنی کرچکے کہ اگر ان کے اثاثوں کی بات کی جائے تو وہ کئ سو فیصد بڑھ چکی ہے مگر کوہاٹ شہر ترقی کیا خاک کرتا الٹا اور تنزلی کا شکار ہے۔

وہ شہر جہاں تیل ، گیس اور دیگر معدنیات ان سالوں میں پیدا ہوچکے جو اگر ان کو صحیح طریقوں سے استعمال کیا جاتا تو آج یہ شہر پشاور سے زیادہ ترقی یافتہ اور بہترین سہولیات کا مرکز ہوتا۔ لیکن افسوس جہاں کے نمائندگان ان سہولیات کو لوٹنے میں مصروف ہیں وہ کیا خاک ان کو علاقے کی ترقی کا گہوت بنائینگے۔
نیچے دی گئی ویڈیو ایک ہلکی سی جھلک ہے ان تیرہ سالوں کی محنت کا جو واضح اور کھلی مثال ہے ان نااہلوں کی نااہلی اور بلند بانگ دعوے کی حقیقت کو دکھانے کی اس شہر کی باسیوں کو کہ دیکھ لو تم اپنی تقدیر کن کے سپرد کرچکے ہو ۔ جو صرف الیکشن کے دنوں میں نظر آتے ہیں اور اپکو کسی جمگھٹے میں موجود مداری کی طرح کرتب یا نظر کا دھوکوں میں ڈال کر اپنے پانچ سالہ اقتدار کی راہ ہموار کرکے اپنی زاتی حیثیت کو بڑھانے واسطے پانچ سالہ عزاب میں ڈال دیتے ہیں۔ اور آپ اسی طرح پانچ سال روتے چیختے چلاتے بلبلاتے رہتے ہیں ۔۔ ویڈیو میں لعنت بھیجنے والے نے بھی تو ووٹ ڈالا ہوگا۔ کسی کے کہنے پر ،کسیںکو چاہنے پر۔ کسی پارٹی کو اپنی پارٹی سمجنے پر۔ اپنے ہی محلے کے کسی گماشتے پر جو دن رات فلاں بھائی فلاں بھائی۔ کرتا ہوگا۔ وہ جو فن رات کسی نمائندے کے دامن سے چپکا رہتا ہوگا۔ آج یہی ووٹ ڈالنے والا صرف لعنت اور سٹریچر کھینچنے کے علاؤہ کچھ نہی کرسکتا۔۔ بھیجیں اب لعنتیں۔ یہی آپکا مقدر ہے جو خود آپ نے لکھا ہے۔ آسائشیں سہولتیں اور طاقت صرف نمائندگان اپنی زات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

کیا سوال نہی پوچھا جاسکتا ان تمام لوگوں سے جو گلی گلی محلے محلے میں موجود ان کے ان گماشتوں سے جو پانچ سال ان کے پہلو سے چمٹے رہتے ہیں جن کا سفر موٹر سائیکل سے شروع ہوکر پرتعیش گاڑیوں پر ختم ہوتا ہے۔ جن کی لالچ ٹھیکوں ، سونے کی تلاش میں گرداں شاول اور گلی کوچے کی ٹھیکوں پر ہوتی ہے ، جو اپنی اس لالچ کے لیے آپ کے پانج سالہ تقدیر کو ان نمائندگان کے حوالے کر دیتے ہیں جن کے لیے وہ پانج سال میں دو چار مہینے آپ کے سامنے سینے پر ہاتھ رکھ کر مؤدبانہ انداز میں ووٹ مانگتے ہیں ۔ جیسے ہی الیکشن کا وقت گزر جاتا ہے تو پھر لال آنکھوں کے ساتھ اپ کے سامنے پھر گزرتے ہیں۔
جاگنے کا وقت ہے۔ سوچنے کا وقت ہے۔ بدلنا آپ نے ہے۔ تبدیلی آپ نے لانی ہے۔ سوچنا اپکو ہے کہ کون آپکا خیر خواہ ہے کون بدخواہ۔

یہاں سوال ان نمائندوں سے بھی ہے ۔ اپکو عزت کوہاٹ کے لوگوں نے دی ہے۔ اپکو اقتدار کی راہداریوں میں ہم کوہاٹ کے عوام نے دیا ہے۔ جو زمہ داریاں اور طاقت آج اپکو رب کریم کے فضل اور کوہاٹ کے عوام کے انگھوٹوں کی طاقت سے ملی ہے کیا وہ استعمال صرف اپنی حیثیت بڑھانے واسطے یا اپنے اردگرد جم غفیر یا احباب کو نوازنے کے لیے صرف ملی ہے۔ زرا سوچیئے ۔۔ آج آپ ہیں ۔ کل آپ نہی ہونگے۔ پھر کیا ہوگا۔ لوگ سوال پوچھتے ہیں اور جواب ان کا حق ہے جو آپ نے دینا ہے۔

#کوہاٹ



Shehryar Khan Afridi
Daud Afridi
Shafi Jan
Aftab Alam

Address

کوہاٹ
Kohat
26000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Independent Kohat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share