08/04/2025
تفصیلی جائزہ: خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز بل 2025
(تحریر و تحقیق نمکین چائے)
یہ بل کوئی معمول کا مسودہ نہیں ہے۔ اس بل سے یہ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے کہ پاکستان اپنی وسیع معدنی دولت سے کیسے فائدہ اٹھاتا ہے، یا نقصانات کا سامنا کرتا ہے۔
سرمایہ کاری لانے والی اصلاحات کے بھیس پر تیار کیا گیا، خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز بل 2025 اپنے اندر کچھ سنگین خلا اور خطرات چھپائے ہوئے ہے
اگر ترامیم کے بغیر منظور کیا جاتا ہے، تو خیبرپختونخوا ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو یا یوکرین کی طرح غیر ملکی استحصال کا ایک بڑا ہدف بن سکتا ہے۔ جس سے مقامی لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ نقصان ہی نقصان ہوگا!
کانگو، یوکرین، اور چلی کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے، میں ذیل میں بتاؤں گی کہ کس طرح ان مذکورہ بالا ممالک کے وسائل سے مالا مال علاقے تنازعات، غربت، اور کارپوریشنز کے قبضے corporate capture میں چلے گئے۔
1. کلیدی شرائط اور کیا missing ہے:
💥 ایک نئی ریگولیٹری اتھارٹی جس کے پاس لائسنسنگ کے 'بڑے اختیارات' ہوں گے۔
💥 غیر ملکی کمپنیاں exploration کے حقوق حاصل کر سکتی ہیں، لیکن ان چیزوں کی ضرورت نہیں سمجھتیں:
> مقامی کارکنوں کی خدمات حاصل کرنا،
> ٹیکنالوجی کی منتقلی،
>منافع بانٹنا،
> منافع کی دوبارہ سرمایہ کاری کرنا،
> شفاف طریقے سے رپورٹ کرنا۔
💥 پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی اجازت ہے، لیکن شفافیت، عوامی bidding یا شہریوں کی oversight کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
💥 وفاقی حکومت کو "سٹریٹجک معدنیات" کے بارے میں حتمی فیصلے کا اختیار دیا جاتا ہے، لیکن کہیں بھی یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ اصل میں کیا ہے۔
حیران کن طور پر کیا غائب ہے:
❌ صوبے کے لیے کوئی لازمی رائلٹی نہیں ہے۔
❌ خیبرپختونخوا کے رہائشیوں کے لیے نوکریوں کا کوئی کوٹہ نہیں ہے۔
❌ مقامی کمیونٹیز کے لیے ملکیت کا کوئی حصہ نہیں رکھا گیا۔
❌ آج کل کے ماحولیاتی یا ESG (ماحولیاتی، سماجی، گورننس) معیارات پورے طریقے سے کوور نہیں کئے گئے۔
2. مقامی حکومت پر مرکز کو فوقیت دی گئے ہے:
💥 یہ براہ راست 18ویں ترمیم کو کمزور کرتا نظر آ رہا ہے، جس نے قدرتی وسائل پر صوبوں کو اختیار دیا تھا۔
💥 اس بل کے تحت قائم کردہ فیصلہ سازی پینلز (ٹربیونلز) پر وفاقی مقررین کا غلبہ نظر آتا، مقامی نمائندگی بل کے سائز کے حساب سے بہت ہی کم یے۔
💥 یہ اصطلاح "سٹریٹجک معدنیات" مبہم طور پر استعمال کی گئئ ہے، اس کا سیاسی طور پر غلط استعمال خیبرپختونخوا کی خودمختاری کو ختم کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
3. بیرونی مفادات والے لوگ فیصلے کریں گے:
💥 اس بات کی کوئی حد نہیں ہے کہ مائننگ فرم کا کتنا حصہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاس ہو سکتا ہے۔ یہ خطرناک حد تک غیر محدود ہے!
💥 ٹیکنالوجی کی منتقلی یا پاکستانی کارکنوں کی تربیت کے لیے کوئی شق نہیں ہے۔
💥 خیبرپختونخوا ایک ایسی جگہ بن سکتا ہے جہاں خام مال نکالا جاتا ہے، برآمد کیا جاتا ہے، اور مقامی لوگوں کے پاس ماحولیاتی گندگی اور کھوئے ہوئے مواقع کے سوا کچھ نہیں بچتا۔
4. کیس اسٹڈیز جنہیں ہم نظر انداز نہیں کر سکتے:
یوکرین:
🎯 2021 میں بڑے پیمانے پر بلین ڈالر کے لیتھیم اور ٹائٹینیم کے bills پر دستخط ہوئے۔
🎯 ایک سال بعد، روسی جنگ نے ان کان کنی والے علاقوں کو میدان جنگ میں بدل دیا گیا۔
سبق: غیر ملکی فرموں کو 'غیر مستحکم علاقوں' میں مدعو کرنا طویل مدتی قومی سلامتی کے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو (DRC):
🎯 کوبالٹ سے مالا مال لیکن غریب: دنیا کی کوبالٹ سپلائی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے۔ 70 فیصد کان کنی چینی فرموں کے زیر کنٹرول ہے۔
🎯 زیادہ تر کانیں غیر ملکی کمپنیوں کے زیر کنٹرول ہیں، کوئی ویلیو ایڈ، کوئی ترقی نہیں، صرف استحصال!
سبق: مضبوط قوانین کے بغیر وسائل ایک لعنت بن جاتے ہیں۔
چلی:
🎯 لیتھیم کان کنی پر کھلے دروازے open door کی پالیسی کے ساتھ شروع ہوا۔
🎯 بعد میں آلودگی اور غیر ملکی تسلط پر عوامی ردعمل کے بعد اس شعبے کو nationalize کرنا پڑا۔
سبق: اگر ریاست اپنے مفادات کا پہلے سے تحفظ نہیں کرتی ہے، تو لوگ آخرکار کورس کی اصلاح پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ تعلقات خراب ہوتے ہیں۔
5. اقتصادی طور پر کیا داؤ پر ہے:
خیبرپختونخوا میں بڑے وسائل:
💫 کاپر (تخمینہ ~ 200 بلین ڈالر)، لیتھیم، فلورائٹ، کرومائٹ، کوئلہ، بارائٹ، ماربل۔
یہ کیوں اہم ہے:
✅ لیتھیم الیکٹرک گاڑیوں اور سمارٹ گرڈز کو انرجی دیتا ہے۔
✅ کاپر سبز توانائی، ٹیلی کام اور دفاعی ٹیکنالوجی کے لیے ضروری ہے۔
بل کے ساتھ مسائل:
❓پاکستان کے اندر معدنیات کو ریفائن یا پروسیس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
❓️صنعتی ترقی سے کوئی ربط نہیں۔
❓ منافع کی دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے کوئی
حاض نظام نہیں ہے۔
باٹم لائن: ہم پاکستان کی معدنیات کو خام باہر بھیجتے ہوئے دیکھیں گے۔ جب کہ ہمارے لوگ غریب رہیں گے اور ہماری صنعتیں پسماندہ رہیں گی۔
6. سیکورٹی اور خودمختاری کے بلائنڈ مقامات:
❌ سویلین استعمال اور فوجی استعمال کے معدنیات میں کوئی فرق نہیں ہے۔
❌ افغانستان جیسے سرحدی علاقوں کے قریب کان کنی غیر ملکی surveillance کے لیے ممکنہ داخلے کی جگہ بن سکتی ہے۔
❌ سویلین حکام کو طاقتور ٹھیکیداروں (اندرونی اور بیرونی) کے ذریعے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، جس سے جمہوریت کمزور ہو سکتی ہے۔
نتیجہ:
یہ بل اپنی موجودہ شکل میں صرف ناقص نہیں بلکہ خطرناک بھی ہے۔ اگر اسی طرح منظور ہو جاتا ہے تو خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز بل 2025 کے پی کو نوآبادیاتی طرز کی extraction site میں تبدیل کر سکتا ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے کوئی آواز نہیں، مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی نہیں، ماحولیاتی حفاظتی انتظامات نہیں ہیں۔ پاکستان کو استحصال کی جگہ نہيں بننا چاہیے۔
فوری کارروائی کے نکات:
🚨 کان کنی کے تمام معاہدوں کے لیے 51% مقامی ایکویٹی شق شامل کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کان کنی کے کسی بھی منصوبے کا نصف سے زیادہ (51%) پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں یا کمپنیوں کی ملکیت ہونا چاہیے، خاص طور پر خیبرپختونخوا سے۔
🚨 اور ESG آڈٹ (ماحولیاتی، سماجی، اور گورننس) کو لازمی بنائیں۔ کیونکہ ESG آڈٹ باقاعدہ ایک چیک ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مائنگ کمپنی ہے:
> فطرت کو نقصان نہ پہنچائے (ماحولیاتی)
> کارکنوں اور مقامی لوگوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کرے (سماجی)
> قواعد کی صحیح طریقے سے پیروی کرے (گورننس)
🚨 معدنیات کی تزویراتی، فوجی اور اقتصادی اہمیت کے لحاظ سے درجہ بندی کریں۔
🚨 مکمل شفافیت کے ساتھ وفاقی اور صوبائی نگرانی کے بورڈز بنائیں۔
🚨 تمام معدنیات کو پاکستان کے اندر پروسیس کرنے کی ضرورت ہے۔
عوامی سوالات جو ضرور پوچھے جانے چاہئیں:
1️⃣ اس بل سے اصل میں کون فائدہ اٹھاتا ہے؟
زیادہ تر غیر ملکی کمپنیاں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ مقامی لوگ سائیڈ پر کر دیے جاتے ہیں۔
2️⃣ مقامی یا قبائلی برادریوں کا تحفظ کہاں ہے؟
کہیں نہیں ہے۔ یہ ایک بہت بڑا blind spot ہے۔
3️⃣ اسٹریٹجک اور نایاب معدنیات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی؟
کسی وضاحت clarity کا نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس اصطلاح کو سیاسی جوڑ توڑ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
4️⃣ اگر کوئی غیر ملکی فرم ماحولیاتی قوانین کو توڑتی ہے تو کیا ہوگا؟
بل صرف بہت سی نئی authorities کا ذکر کرتی نظر آتی ہے مگر اس بات کی وضاحت نہیں کرتا ہے کہ کیا ہوگا۔ نفاذ کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔
5️⃣ کیا ہم ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو کی غلطی دہرا رہے ہیں؟
اگر یہ بل ایکویٹی مینڈیٹ یا مقامی کنٹرول کے بغیر پاس ہو جاتا ہے - بالکل ممکن ہے!
6️⃣ کیا قومی سلامتی کے ذمہداران کو ہر غیر ملکی کان کنی کے معاہدے کی جانچ کرنی چاہیے؟
کم از کم، ان سے مشورہ کیا جانا چاہئے. خاص طور پر سرحدی علاقوں کے قریب کان کنی کے لیے۔
7️⃣ صوبائی اسمبلی/پارلیمنٹ نے ابھی تک کھل کر بات کیوں نہیں کی؟
یہ وہ سوال ہے جو فوری ہر شہری کو اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھنا چاہیے۔ بلکہ یہ بھی پوچھیں کے عمران خان سے مشورہ کیوں نہیں کیا گیا!
8️⃣ مقامی ملازمتوں کا کوٹہ کیوں نہیں؟
بل میں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ اس کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے۔
9️⃣ اگر اس سے خیبرپختونخوا میں بدامنی پھیلتی ہے تو کیا ہوگا؟
بل میں ممکنہ طور پر تنازعات، استحصال اور بیرونی کنٹرول کے تمام 'معلوم اجزاء' موجود ہیں۔
🔟 ہم گھر میں اپنی ویلیو کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟
پاکستان میں ریفائننگ، پروسیسنگ اور دوبارہ سرمایہ کاری کرکے۔ صرف خام مال برآمد کرکے نہيں رکھ سکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوپر کی تحریر سے یہ واضح ہے کہ صوبائی حکومت کی وفاق کے ساتھ حقیقی آزادی کی لڑائی ایک ڈھکوسلہ کے سوا کچھ نہی۔ یہ تمام کے تمام لوگ حقیقی آزادی کے نام پر اپنے کارکنوں اور ورکروں کو دھوکا دے رہے ہیں۔ خان کا نام صرف بطور جزباتی بلیک میلنگ یا ٹچ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اندر سے یہ سارے ایک ہیں۔
Shehryar Khan Afridi
Daud Afridi
Aftab Alam
Shafi Jan
PTI Khyber Pakhtunkhwa
Gohar Saif Ullah Khan Bangash
PTI Kohat
Kohat City