26/09/2026
حضرت عِتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر اور مصلیٰ سے منسوب تاریخی مقام ہے، جو مسجدِ جمعہ، مدینہ منورہ کے شمالی جانب واقع ہے۔ موجودہ تاریخی معلومات کے مطابق یہ مسجدِ جمعہ سے تقریباً 60 میٹر شمال میں ہے۔
1۔ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کون تھے؟
حضرت عِتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی اور انصارِ مدینہ میں سے تھے۔ وہ غزوۂ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہونے والے صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنی قوم بنی سالم کے امام تھے۔
بعد میں ان کی بینائی کمزور ہوگئی تھی۔ ان کے گھر اور ان کی قوم کی مسجد کے درمیان ایک وادی تھی، بارش کے دنوں میں اس میں سیلاب آجاتا، جس کی وجہ سے ان کے لیے مسجد تک پہنچنا مشکل ہوجاتا تھا۔
2۔ رسول اللہ ﷺ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف کیوں لے گئے؟
حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
> «يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي، وَإِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي، فَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ جِئْتَ فَصَلَّيْتَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى»
یعنی:
"یا رسول اللہ ﷺ! میری بینائی کمزور ہوگئی ہے اور بارش کے موسم میں سیلاب میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ ﷺ میرے گھر تشریف لائیں اور گھر میں کسی جگہ نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے نماز کی جگہ بنا لوں۔"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> «سَنَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ»
"ان شاء اللہ ہم ایسا کریں گے۔"
اگلے دن رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔
3۔ گھر کے اندر نبی کریم ﷺ نے کہاں نماز ادا فرمائی؟
جب رسول اللہ ﷺ گھر میں داخل ہوئے تو بیٹھنے سے پہلے فرمایا:
> «أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟»
یعنی:
"تم اپنے گھر میں کس جگہ پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟"
حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے گھر کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے وہاں کھڑے ہوکر دو رکعت نماز ادا فرمائی اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز ادا کی۔
یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے، اس لیے اس کی اصل بالکل صحیح اور مستند ہے۔
حوالہ:
صحیح البخاری، کتاب الصلاة، حدیث 425؛ صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، حدیث 33/657۔
---
4۔ اس مقام کی خاص اہمیت کیا ہے؟
اس جگہ کی سب سے بڑی تاریخی نسبت یہ ہے کہ:
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کے گھر میں ایک مخصوص جگہ پر نماز ادا فرمائی تھی۔
حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے اسی جگہ کو بعد میں مصلیٰ بنا لیا۔ بعد کے زمانے میں وہاں مسجد بھی قائم کی گئی، اور مدینہ منورہ کے مؤرخین نے اسے مسجدِ عتبان بن مالک کے نام سے ذکر کیا ہے۔ تاریخی کتابوں میں اسے مسجدِ جمعہ کے شمالی جانب، وادی کے قریب بیان کیا گیا ہے۔
موجودہ دور میں اس تاریخی مقام کی باقیات کو محفوظ کرنے کے لیے اس کی حدود کو نمایاں اور محفوظ کیا گیا ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ادارے نے 2025ء میں بھی اس مقام کی تجدیدِ حفاظت اور تاریخی آثار کو محفوظ رکھنے کا ذکر کیا ہے۔
5۔ مسجدِ جمعہ سے اس کا تعلق
یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ مسجدِ جمعہ اور مسجدِ عتبان ایک ہی مقام نہیں ہیں۔
مسجدِ جمعہ وہ تاریخی مقام ہے جہاں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے پہلی مرتبہ نمازِ جمعہ ادا فرمائی۔ یہ وادیِ رانوناء میں، مسجدِ قباء کے شمال میں واقع ہے۔
جبکہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کا گھر/مصلیٰ مسجدِ جمعہ کے بالکل قریب شمالی جانب تھا۔ جدید تاریخی حوالوں میں دونوں کے درمیان تقریباً 60 میٹر کا فاصلہ بیان کیا گیا ہے۔
6۔ وہاں حاضری کے وقت کیا نیت ہونی چاہیے؟
اگر آپ وہاں حاضری دے رہے ہیں تو اسے تاریخی اور سیرتِ نبوی ﷺ سے وابستہ مقام سمجھ کر دیکھیں، اللہ تعالیٰ کی نعمت پر شکر کریں، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت تازہ کریں اور رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے درود شریف پڑھیں۔
البتہ ایک اہم علمی بات:
یہ ثابت نہیں کہ اس مخصوص مقام پر آج کوئی خاص دعا، خاص نماز، خاص تعدادِ رکعات یا مخصوص وظیفہ پڑھنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ صحیح حدیث میں جو چیز ثابت ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کے گھر میں اس جگہ دو رکعت نماز ادا فرمائی تھی۔
لہٰذا زیارت کے دوران اس واقعے کو یاد کرنا اور درود و سلام پڑھنا مناسب ہے، لیکن کسی غیر ثابت مخصوص عمل کو سنت قرار نہیں دینا چاہیے۔
خلاصہ
حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کا مقام وہ تاریخی جگہ ہے جہاں:
حضرت عتبان رضی اللہ عنہ رہتے تھے۔
وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی اور اہلِ بدر میں سے تھے۔
کمزور بینائی اور بارش کے سیلاب کی وجہ سے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر تشریف لانے کی درخواست کی۔
رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر تشریف لے گئے۔
حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے گھر میں ایک جگہ مقرر کی۔
رسول اللہ ﷺ نے وہاں دو رکعت نماز ادا فرمائی۔
حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے اس جگہ کو مصلیٰ بنا لیا۔
بعد کے زمانے میں اس مقام پر مسجد قائم ہوئی، جسے مسجد عتبان بن مالک کہا گیا۔
یہ مقام مسجدِ جمعہ کے بالکل قریب، شمالی جانب تاریخی طور پر معروف ہے۔