28/03/2026
امام مسجد قاری عبدالقوی (جو نمازوں کی امامت کرواتا ہے) کم سن بچی پر تشدد کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ مسجد کی انتظامیہ بے بس!!!
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قاری عبدالقوی کس طرح کم سن بچی کے پیچھے بھاگا اور پہلے تھپڑ مارے اس کے بعد اپنا جوتا اتار کے بچی کو مارا۔ بچی ڈر اور خوف سے بھاگی تو قاری عبدالقوی اس کے پیچھے اس بچی کے گھر تک گیا اور اس کے گھر والوں کو ڈرایا اور دھمکایا۔
ہمیشہ یہی دھمکی لگاتا ہے کہ میرا بھائی وکیل ہے اور میرا سالا (بچوں کا ماموں) پولیس میں ہے۔ اگر کسی نے میرے خلاف کاروائی کی تو وہ بچ نہیں سکے گا۔
معصوم بچی ایک محنت کش مزدور محمد اکرم کی بیٹی ہے جو کہ محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، قاری عبدالقوی کی دھمکیوں سے خاموش ہو گیا اور کوئی کارروائی نہ کر سکا۔
صرف یہی نہیں، قاری عبدالقوی کی بچوں میں جنسی حراسگی کے باعث مسجد میں کسی دلخراش واقعے کے جنم لینے کے سو فیصد امکانات موجود ہیں.
قاری عبدالقوی کی ظلم و زیادتیوں سے بچے محفوظ نہیں۔
قاری کا بڑا بیٹا "عبداللہ" بھی کسی سے کم نہیں ، کم سن بچوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے منع کرنے پر بچوں پر تشدد کیا اور کٹر سے بلیڈ مارے جس کے باعث بچوں کے جسم پر گہرے زخم آ گئے اور ہسپتال سے 6 ٹانکے لگوانا پڑے۔
اس سے قبل قاری عبدالقوی کا بیٹا عبداللہ شہر اور مسجد کی معزز شخصیت جناب صوفی لال دین صاحب کے پوتے کے ساتھ مسجد میں اذان کا مسئلہ بنا کر تھپڑ مار کر بدمعاشی و بدتمیزی کر چکا ہے اور مزید بچوں کے ساتھ مار پیٹ کے واقعات رونما ہو چکے ہیں
ان واقعات کے بعد قاری عبدالقوی متاثرین کے گھر جا کر دھمکی نما منتیں کرتا ہے کہ کہ اگر کوئ کاروائی کی تو پھر بھی دیکھ لونگا اور اپنے وکیل بھائ اور سالے کی دھمکی دے کر واپس آجاتا ہے. جس سے نمازی بے بس اور مجبور ہوکر خاموش ہوجاتے ہیں کیونکہ مسجد انتظامیہ بھی قاری عبدالقوی کے سامنے بے بس نظر آتی ہے اور والدین بچوں کے مستقبل سے بھی خائف ہوجاتے ہیں۔
مسجد کے نمازی بھی قاری عبدالقوی سے بہت تنگ ہیں، مسجد میں گروپ فتنہ و انتشار پھیلانا قاری کا وطیرہ بن چکا ہے، نمازیوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا اور غرور و تکبّر میں حقارت کی نظر سے دیکھنا قاری کی عادت میں شامل ہے۔
انتظامیہ سے گزارش ہے کہ فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے قاری عبدالقوی اور اس کے بیٹے عبداللہ کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔
اس پہلے کہ کوئی بڑا واقعہ رونما ہوجائے
متاثرین فریقین میں سے ایک فریق کی درخواست تھانہ اے ڈویژن میں رجسٹرڈ ہے اور کاروائی کی منتظر ہے