23/05/2026
🚨 جام پور کے نوجوان خطرناک نشے کی لپیٹ میں 🚨
جام پور میں “گیبیکا کیپسول” کا خطرناک استعمال تیزی سے نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
یہ زہر اب آئس جیسے نشوں سے بھی زیادہ خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں نوجوان سٹنگ بوتل میں 2 سے 3 کیپسول ملا کر استعمال کر رہے ہیں۔
یہ نشہ خاموشی سے انسانی دماغ، اعصاب، دل اور جسمانی نظام کو تباہ کر رہا ہے۔
کئی نوجوان ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں جبکہ کئی گھروں کے چراغ بجھنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر DRAP اور ڈرگ انسپیکٹرز کہاں ہیں؟
کس کی اجازت سے یہ کیپسول میڈیکل اسٹورز پر کھلے عام فروخت ہو رہے ہیں؟
کیا قانون صرف غریب کے لیے ہے؟
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور متعلقہ اداروں کی خاموشی لمحۂ فکریہ ہے۔
اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے دنوں میں جام پور کی نئی نسل مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پنجاب حکومت نوجوانوں کو بچانے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی کرتی نظر نہیں آ رہی۔
مقامی نمائندے بھی عوامی مسائل چھوڑ کر اپنی سیاسی مصروفیات اور مفادات میں مست دکھائی دیتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
✔ گیبیکا کیپسول کی فروخت فوری طور پر سخت نگرانی میں لائی جائے۔
✔ بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے یہ دوا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
✔ جام پور میں خصوصی اینٹی ڈرگ آپریشن شروع کیا جائے۔
✔ نوجوانوں کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ وہ اس زہر سے دور رہ سکیں۔
تمام فارمیسی مالکان سے بھی اپیل ہے کہ صرف چند روپوں کے لالچ میں نوجوان نسل کی زندگیاں برباد نہ کریں۔
اور نوجوانوں سے گزارش ہے کہ وقتی نشہ پوری زندگی کی تباہی بن سکتا ہے۔
اپنے والدین، اپنی صحت اور اپنے مستقبل کا خیال رکھیں۔
زندگی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اسے نشے کی بھینٹ مت چڑھائیں۔
📢 آواز اٹھائیں…
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی اور کسی گھر کا سہارا اس زہر سے بچ سکے۔
جواد ملک