07/01/2023
میرا دل یہ کہہ رہا تھا کہ یہ ملاقات کوئی عام ملاقات نہیں تھی۔کیوں کہ اورنگزیب چودھری صاحب اور میں پچھلے پانچ سالوں سے ملنے کی کوشش کررہے تھے اورپھر قدرت نے ایک ہی جگہ ہمیں ڈیڑھ گھنٹہ اکھٹا انتظار کرنے کا موقع دے دیا۔ وہاں سے اٹھنے کے بعد ہم دونوں کویہ یقین تھا کہ یہ ڈیڑھ گھنٹے کا وقت بے وجہ نہیں ملا،لہٰذا ہم نے ایک دوسرے سے نمبر کے تبادلے کے بعد یہ وعدہ کیا کہ کل ہی ہم ملاقات کرتے ہیں اور اگلی شام میں چودھری صاحب کے پاس تھا۔آپ میری بات کو شاید مبالغہ سمجھیں، میری زندگی میں ہزاروں نہیں،لاکھوں شاگرد اور دوست ہیں لیکن جو عزت اورمحبت مجھے اورنگزیب چودھری صاحب کرتے ہیں،اس کی مثال نہیں ملتی۔
آج ہماری دوستی کو سال سے زیادہ گزر چکا ہے۔ہم نے دوممالک اکھٹے دیکھ لیے۔ہم مغرب بھی گئے، پرتگال دیکھ کر آگئے اور روحانی فیض لینے کے لیے امام علی علیہ السلام کے روضہ اقد س نجف بھی پہنچ گئے۔وہاں سے ہماری جرات اور بہادری کی فائلوں کو بھی اسٹمپ لگ گیا۔عجب بات ہے جب بھی ہم جد اہوتے وقت گلے ملتے ہیں تو ہماری آنکھیں نم ہوتی ہیں اور پھر انتظار ہوتاہے کہ دوبارہ کب ملنا ہے۔آپ کمال دیکھیے کہ قدرت نے ہم دونوں کے ملنے میں ایک دوسرے کے لیے کوئی نہ کوئی نفع ضرور رکھاہے۔ہم دونوں زور لگاتے ہیں تو ایک دوسرے کا نقصان نہیں کرسکتے۔ہم ہمیشہ ایک دوسرے کی جیت کے لیے اور اس کو سیلیبریٹ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
چودھری صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار خوبیاں دی ہیں جن کا تذکرہ میں پہلے بھی کرچکا ہوں لیکن آج ایک اور خوبی کا تذکرہ کرتاہوں۔وہ یہ ہے کہ چودھری صاحب کسی کے ساتھ تادیر چلناجانتے ہیں۔جو چلاجائے تو کوئی مسئلہ نہیں، واپس آجائے تومسکراہٹ کے ساتھ اس کو خوش آمدید کہتے ہیں۔اس کی معذرت کو قبول کرتے ہیں، دوبارہ دل جوڑتے ہیں اور دل جڑ جائے تو روح جوڑنے کی آفر بھی ہمیشہ ان کی طرف سے ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات چودھری صاحب پر بڑی مہربان ہے۔ہماری عادت ہے کہ ہم اپنی ملاقاتوں کو تصویر کی نذر نہیں کرتے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں۔آپ یہ سمجھیے کہ ہماری ملاقاتیں زیادہ ہیں اور سوشل میڈیاپر ان کاریکارڈ کم ہے۔آج میری خوش قسمتی کہ چودھری صاحب میرے دفتر تشریف لائے اور کہنے لگے کہ ”شاہ صاحب! آپ نے فاؤنڈیشن کے لیے اتنا بڑا فیصلہ کرلیا،میری کہیں بھی کوئی ضرورت ہو تو بلا تکلف مجھے بتادیں۔“ میں نے کہا”چودھر ی صاحب! چند ہی دن پہلے جاوید چودھری صاحب نے”تعلیم ممکن کلب“ کے نام سے ایک کالم لکھا، جس کوپڑھ کر پاکستان کے ہر بڑے شخص نے تعریف کی۔اگر یہ کہوں تو غلط نہیں ہے کہ جاوید چودھری صاحب میرے بڑے بھائیوں جیسے ہیں لیکن اس کالم کے بعد میری عزت میں بہت اضافہ ہوااور میرا تعارف بھی لوگوں کے لیے آسان ہوگیا کہ میں کیا کررہاہوں۔“اورنگزیب چودھری صاحب کہنے لگے کہ ”مجھے بھی”تعلیم ممکن کلب“ کاممبر بنادیجیے۔“
آپ کو بتاتاچلوں کہ پچھلے چند دن میں جب سے کالم لکھا گیا ہے 250بچوں کی تعلیمی کفالت کی ذمہ داری میرے مختلف دوست لے چکے ہیں۔چودھری صاحب کہنے لگے کہ”یہ بچے قوم کے بچے نہیں ہیں، یہ میرے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔میں انھیں CSS,PMSکروانا چاہتاہوں اور میں ان کو جج بھی دیکھنا چاہتاہوں۔آپ 50 بچوں کی ذمہ داری مجھے دے دیں۔“میں نے اسی وقت ہامی بھری اور چودھری صاحب سے وعد ہ کیا کہ ان بچوں کی گرومنگ کا خرچا میں برداشت کروں گا۔ آپ فقط ان کی کفالت کردیں۔
چنانچہ آج چودھری صاحب کو ”تعلیم ممکن کلب“ کا چیئرمین تسلیم کیاجارہا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ چودھری صاحب جتنا بڑا دل سب کاروباری دوستوں کو دے اور اس طرح کا میٹاپن(عاجزی) بھی دے کہ جب میں نے ان سے کہا کہ چودھری صاحب! میں نے ایک پوسٹ لگانی ہے تو انھوں نے انکارکردیا اور بولے:”شاہ صاحب! اگر یہ اللہ کو پتا لگ گیا ہے تو پھر عوام کو بتانے کی کیاضرورت ہے۔“ میں نے کہا،”چودھری صاحب! میں دین کو یہی سمجھا ہوں کہ نیکی کاتذکرہ اور اظہار بھی اعلانیہ ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کو مزید نیکی کاحوصلہ ملے۔“
اللہ آپ سب کو بھی خوش رکھے۔آمین