21/02/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“افضل صدقہ وہ ہے جو تم اس رشتہ دار پر کرو جو تم سے دشمنی رکھتا ہو۔”
حوالہ: مسند احمد ، حدیث نمبر: 23530
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کی اعلیٰ ترین صورت کو بیان فرمایا ہے کہ سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو ایسے رشتہ دار پر کیا جائے جو تم سے ناراض ہو یا دشمنی رکھتا ہو، کیونکہ اس میں نہ صرف مالی مدد شامل ہوتی ہے بلکہ صلہ رحمی، نفس کی اصلاح اور دلوں کو جوڑنے کی کوشش بھی شامل ہوتی ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ رشتہ داری کو قائم رکھے اور دلوں کی دوری کو ختم کرنے کے لیے پہل کرے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی ناراض رشتہ دار کی مالی مدد کر دے یا اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو اس کا یہ عمل نہ صرف صدقہ ہوگا بلکہ تعلقات کی بحالی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اسلام نفرت کو محبت میں بدلنے اور رشتوں کو جوڑنے کی تعلیم دیتا ہے اور یہی عمل اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔