Syed Yousaf Kazmi

Syed Yousaf Kazmi یہ ورق اردو کی کچھ ہلکی پھلکی تحریروں پر مشتمل ہے۔ زندگی میں بہت غم ہیں۔ چند گھڑیاں مل بیٹھ کر ذرا مسکرا لیں۔ کیا خیال ہے

یہ محاورے! ارے باپ رےمیری بیٹی ایک دن دادو کے پاس بیٹھ کر ان سے باتیں کر رہی تھی۔ دادو بتا رہی تھیں کہ پہلے وہ اردن میں ...
06/09/2025

یہ محاورے! ارے باپ رے
میری بیٹی ایک دن دادو کے پاس بیٹھ کر ان سے باتیں کر رہی تھی۔ دادو بتا رہی تھیں کہ پہلے وہ اردن میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہ رہی تھیں ۔ چونکہ بیٹے کو پاکستان آنا تھا اور فلایٹ کراچی آنا تھی۔ تو دادو پہلے چند روز اپنی بہو کے گھر رہیں۔ پھر وہ کراچی سے فلایٹ کے ذریعے لاہور آئیں۔ اب واپسی کے لیے لاہور سے کراچی بذریعہ فلایٹ جانا تھا اور پھر کراچی سے اردن واپسی تھی۔ میری بیٹی یہ سن کر بولی، ’’ بابا ا! ٓج کل دادو بڑی ہواؤں میں اڑ رہی ہیں‘‘۔ ہم سب یہ سن کر ہنس پڑے ۔ میں نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ ہواؤں میں اڑنے کا کیا مطلب ہے؟ تو اس کو بالکل علم نہ تھا۔

انوکھا معجزہخالد حمید 1980 کی دہائی کے پاکستان ٹیلی وژن کے صف اول کے نیوز کاسٹر تھے۔ جانے کتنے برس سے  بلاناغہ وہ ہر رات...
06/09/2025

انوکھا معجزہ
خالد حمید 1980 کی دہائی کے پاکستان ٹیلی وژن کے صف اول کے نیوز کاسٹر تھے۔ جانے کتنے برس سے بلاناغہ وہ ہر رات خبرنامہ پڑھتے تھے۔ ہمارے گھر ٹیلی وژن دیر سے آیا تو ہم نے انہیں چند برس ہی خبریں پڑھتے دیکھا۔ پھر خالد حمید صاحب پاکستان چھوڑ کر امریکہ چلے گئے۔ ایک دفعہ وہ پاکستان آئے ہوئے تھے تو کسی نے ان کا انٹرویو کیا اور سوال پوچھا کہ کبھی آپ کی زندگی میں کوئی انوکھا واقعہ پیش آیا تو انہوں نے ایک دلچسپ قصہ سنایا۔ کہنے لگے کہ ایک دفعہ انہیں کسی ڈنر پر مدعو کیا گیا ۔ یہ ایک بوفے ڈنرتھا اور تمام کھانے پینے کی اشیا ٹیبل پر موجود تھیں۔ جس کو کچھ چاہیے ہوتا وہ کرسی سے اٹھ کر ٹیبل پر جاتا اور اپنی پسند کی چیز پلیٹ میں ڈال کر اپنی کرسی پر آن بیٹھتا۔ خالد حمید صاحب سویٹ ڈش لینے کے لیے کرسی سے اٹھے اور ٹیبل کی طرف آئے۔ ایک دس بارہ سال کی بچی نے اپنی امی سے پوچھا، ’’امی امی! وہ جو انکل ٹیبل کی طرف جارہے ہیں وہ خالد حمید ہیں؟ ‘‘ ان کی والدہ نے کہا ، ’’ جی بیٹا وہ خالد حمید انکل ہی ہیں۔‘‘ خالد حمید صاحب کہتے ہیں کہ یہ سن کر میرا سر فخر سے بلند ہو گیا کہ پاکستان کا بچہ بچہ مجھے جانتا ہے۔ بچی نے پھر اپنی امی سے پوچھا، ’’ امی یہ وہی خالد حمید انکل ہیں ناں جو ہر روز رات کو خبرنامہ پڑھتے ہیں؟‘‘۔ جی ہاں بیٹا! یہ وہی خالد حمید انکل ہیں۔ خالد حمید نے کہا کہ یہ جواب سن کر میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ پھر اس بچی نے اپنی والدہ سے حیرانگی سے پوچھا، ’’ اچھا امی! تو کیا خالد حمید انکل چلتے بھی ہیں؟‘‘۔ خالد حمید کہتے ہیں کہ یہ جملہ سن کر میری ساری خوشی اور میرا تمام فخر دھڑام سے زمین پر آن گرا۔ دراصل اس بچی نے اپنی ساری عمر خالد حمید کو کرسی پر بیٹھ کر خبریں پڑھتے ہی دیکھا تھا۔ لہذا وہ بچی یہی سمجھتی رہی کی خالد حمید صرف کرسی پر ہی بیٹھے رہتے ہیں اور چل نہیں سکتے۔

اردو ہے جس کا نامہمارے ایک جاننے والے تھے جن کی اہلیہ کو مشکل اردو بولنے کا بہت شوق تھا ۔ لیکن اتنا ہی وہ اردو زبان سے ن...
27/08/2025

اردو ہے جس کا نام
ہمارے ایک جاننے والے تھے جن کی اہلیہ کو مشکل اردو بولنے کا بہت شوق تھا ۔ لیکن اتنا ہی وہ اردو زبان سے نابلد تھیں۔ ایک دن جو ان کو مشکل اردو بولنے کا شوق حد سے زیادہ بڑھا تو انہوں نے اپنے خاوند سے کہا۔’’مجھے اردو کا کوئی مشکل سا لفظ سکھائیں جو میں مہمانوں کے سامنے بولوں تو ان پر میرا رعب پڑے‘‘۔ ان کی شوہر نے کہا کہ بیگم آپ سے اردو زبان کا بوجھ اٹھایا نہیں جائے گا، آپ بس اچھی ہانڈی بنانے کے فن میں ہی مہارت حاصل کریں۔لیکن بیگم صاحبہ مصر رہیں تو شوہر نے بادل نخواستہ کہا کہ آپ مہمانوں کو کھانے کی دعوت دیں تو کہیں کہ کھانا تناول فرمائیں ۔ بیگم صاحبہ بولیں کہ یہ تو ایک ہی لفظ ہے مجھے دو لفظوں والے مشکل الفاظ بتائیں ۔ شوہر نامدار نے کہا اچھا پھر آپ ایک لفظ’’ مجازی خدا‘‘ اور دوسرا لفظ ’’کسر نفسی‘‘ یاد کر لیں ۔ بیگم حیرانی اور خوشی سے بولیں کہ ان الفاظ کے کیا معنی ہیں اور یہ کس موقع پر استعمال ہوتے ہیں؟ ان کے شوہر نے کہا کہ مجازی خدا تو بیویاں اپنے شوہر کے لیے استعمال کرتی ہیں اور کسر نفسی اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی شخص تکلف سے کام لے اور کھانا نہ کھا ئے تو کہتے ہیں کہ ’’آپ کسر نفسی سے کام نہ لیں اور کھانا نوش فرمائیں‘‘۔ بیگم صاحبہ خوش ہو گئیں۔ کچھ دنوں کے بعد ان کے گھر چند مہمان آئے ۔ ان میں سے ایک صاحب کو شوگر تھی ۔ جب سویٹ ڈش پیش کی گئی تو وہ مہمان جنہیں شوگر کی بیماری تھی انہوں نے میٹھا کھانے سے معذرت کر لی۔ اس لمحے بیگم صاحبہ کی مشکل اردو بولنے کی رگ پھڑک اٹھی۔ فوراً بولیں۔ ’’بھائی ! آپ کم ظرفی سے کام نہ لیجیے سویٹ ڈش ضرور کھائیے‘‘۔ ان صاحب نے حیرت سے پوچھا’’ بھابھی یہ لفظ آپ کو کس نے بتایا؟ ۔ اس پر وہ بڑے فخر سے بولیں’’ میرے مزاجی خدا نے اور کس نے؟ ‘‘۔

ہوں یا  ہوںکاش سب دوست اکٹھے ہوں۔ میں ایک اچھا انسان ہوں۔ مجھے بچپن میں ہوں اور ہوں میں بہت مشکل درپیش ہوتی تھی۔ اسی لیے...
24/06/2025

ہوں یا ہوں
کاش سب دوست اکٹھے ہوں۔ میں ایک اچھا انسان ہوں۔ مجھے بچپن میں ہوں اور ہوں میں بہت مشکل درپیش ہوتی تھی۔ اسی لیے ایک دفعہ جب یہ شعر پڑھا گیا
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر
میں نے اپنے اردو کے ٹیجر سے پاسبانی، تا بخاک اور کاشغر کا مطلب اور مفہوم اچھی طرح سمجھ لیا مگر ہوں کو ’’ میں ایک اچھا انسان ہوں‘‘ والا ہوں سمجھا۔ اب جو میں نے اپنے دوست کو اس شعر کا مطلب سمجھایا تو وہ کچھ یوں تھا۔
علامہ اقبال کہتے ہیں کہ میں ایک ہی مسلمان ہوں جو نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر شہر تک حرم کی پاسبانی کر رہا ہوں۔ پھر میں نے اپنے دوست کو ان دو مقامات کا جغرافیہ سمجھایا تو وہ بے اختیا ر بول اٹھا۔ اتنے لمبے چوڑے علامہ اقبال؟

دیار غیر میں بھاگتا چورمیرے ایک دوست مشرق وسطی کے ایک ملک میں سیر کرنے گئے۔ چونکہ وہ پہلے ہی سے مشرق وسطی کے  ایک دوسرے ...
23/06/2025

دیار غیر میں بھاگتا چور
میرے ایک دوست مشرق وسطی کے ایک ملک میں سیر کرنے گئے۔ چونکہ وہ پہلے ہی سے مشرق وسطی کے ایک دوسرے ملک میں رہتے تھے لہذا وہ اپنی ہی گاڑی میں دوسرے ملک سیر پر نکل گئے تھے۔ ان کی فیملی ان کے ساتھ تھی۔ میرے دوست بتاتے ہیں کہ جب وہ بارڈر کراس کر کے ایک نسبتا ویران جگہ پر سفر کر رہے تھے تو ایک شرطہ کی گاڑی نے ان کو رکنے کا اشارہ کیا۔ وہ رک گئے۔ دو شرطے ان کے پاس آئے اور ان سے کوئی دستاویز مانگی۔ چونکہ میرے دوست عربی زبان سے نابلد تھے سو انہیں کچھ خاص سمجھ نہ آیا۔ لیکن ایک لفظ ’’ورقہ ‘‘ سے وہ سمجھ گئے ۔ انہوں نے ایک ایک کر کے تمام کاغذات دکھائے مگر وہ مسلسل کہتے رہے ’’ ورقہ اخری‘‘ یعنی دوسرا کاغذ/ ڈاکومنٹ۔ اب کے باری ان کے پاس صرف گاڑی کی انشورنس کا ورقہ بچ رہا تھا۔ سو انہوں نے ڈیش بورڈ سے اسے نکالا اور باہر آ کر کانپتے ہاتھوں سے شرطہ کو دینا چاہا۔ یکایک ہوا کے ایک تیز جھونکے نے وہ کاغذ ہوا برد کر دیا۔ میرے دوست نے آو دیکھا نہ تاو، اس کاغذ کے پیچھے دوڑ لگا دی۔ ہوا بھی ایسی خراب تھی کہ اس ورقے کو ڈھلان کی جانب لے گئی۔ ان دو شرطہ نے بھی دوڑ لگا دی۔ شرطوں کا مقصد تو مدد کرنا تھا مگر گاڑی میں بیٹھی فیملی کو لگا جیسے ان کے بابا کے پاس شائید وہ کاغذات نہ تھے جو شرطے ان سے طلب کر رہے ہیں سو انہوں نے راہ فرار اختیار کر لی ہے اور شرطوں نے ان کو پکڑنے کے لیے ان کے پیچھے دوڑ لگا دی ہے۔ گھر والوں کی خوف کے باعث سانسیں رک گئیں اور انہوں نے سوچا کہ اب شرطوں نے گن نکال کر فائرنگ شروع کر دینی ہے۔ خدا خدا کرکے وہ کاغذ ہاتھ آیا اور شرطوں کی بھی سانسیں بحال ہوئیں۔ میرے دوست کہتے تھے کہ جب کسی پردیس میں آپ کو ان کی زبان نہ آتی ہو تو قسمت کے ساتھ ساتھ ہوائیں بھی دشمن ہو جاتی ہیں۔

کڑی پنجابی۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم سیالکوٹ میں تھے۔  میری بیٹی کی عمر دو سال تھی۔  میں یہ چاہتا تھا کہ وہ اردو       ...
22/06/2025

کڑی پنجابی۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم سیالکوٹ میں تھے۔ میری بیٹی کی عمر دو سال تھی۔ میں یہ چاہتا تھا کہ وہ اردو اور پنجابی زبان سیکھے لیکن میری بیگم یہ چاہتی تھیں کہ بیٹی کو فقط انگریزی سکھائی جائے۔
چنانچہ ایک روز بیگم نے بیٹی کو بلایا اور کہا کہ
Areeba show me your nose.
میری بیٹی نے اپنی ناک پر انگلی رکھ دی۔
Now show me your ear.
اس دفعہ اس نے اپنے کان کو ہاتھ سے پکڑ لیا۔
How sweet. Our daughter is being Americanized.
Now show me your eyes.
اس مرتبہ اس نے اپنی دونوں آنکھیں زور سے بھینچ لیں۔
میری بیگم کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔
اب بیگم نے کہا۔
Areeba show me your tongue.
میری بیٹی نے ایک ٹانگ کو ذرا سا اوپر اٹھایا اور اسے ہلانا شروع کر دیا۔
What???
بیگم نے غصے میں کہا اور ساتھ ہی ہم دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔
بیگم کی آنکھوں میں خوف کے سائے تھے اور میری آنکھوں میں مسکراہٹ کی پرچھائیاں۔
کہیں دور سے جیسے کوئی اچانک کہے۔
کڑی پنچابی!۔

20/03/2024
08/11/2023
08/01/2023

I am Dr. Syed Yousaf Kazmi, and I specialize in PPC account setup and management for google ads campaigns. I utilize the google ads platform to generate leads & sales for businesses through effective Google keywords research and performance to help grow your business and achieve your marketing goals. I am committed to helping my clients manage their online presence. Through the right marketing strategies and effective Google ads campaign, I can help clients attain quality website visitors and attract potential customers with higher conversion rates with a reasonable cost per click. Furthermore, through Google Ads analytics, I can identify and recommend actionable steps to improve the Quality score and raise your ad ranking.

Address

Pakistan
Al Majma`ah
54810

Telephone

+966549560854

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Yousaf Kazmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Syed Yousaf Kazmi:

Share