04/03/2024
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میٹرک کی طالبہ تھی میری عمر اس وقت 15 سال تھی۔ میری ماں ایک سرکاری سکول ٹیچر تھی اور ابو ڈاکٹر تھے باقی ہم سب بہن بھائی پڑھتے تھے۔
ایک دن مجھے ہلکا سا بخار تھا تو میں سکول نہیں گئ اور گھر پر اکیلی تھی کیونکہ ماں اور ابا اپنی اپنی نوکریوں پر چکے گئے اور بھائی اور باجی بھی سکول چلے گئے۔ میں گھر میں اکیلی تھی۔ صبح 9 بجے میں ناشتہ کر رہی تھی کہ دروازے کی بیل بجی میں نے دروازہ کھولا تو میری خالہ کا بیٹا عثمان دروازے پر موجود تھا۔ عثمان میری خالہ کا بیٹا تھا اور راولپنڈی میں رہتا تھا مگر کچھ دنوں سے گوجرانوالہ میں ہی رہ رہا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا تو عثمان اندر آگیا اور ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھ گیا اور میں نے عثمان کو چائے دی اور ہم ناشتے کے ساتھ ساتھ باتیں کرنے لگے۔
عثمان کی عمر 19 سال تھی اور وہ رنگ کا سانولا تھا اور کالج میں پڑھتا تھا۔ عثمان مجھے پسند کرتا تھا اور کافی بار اس نے مجھے کہا کہ وہ مجھ سے شادی بھی کرنا چاہتا ہے۔ میں بھی عثمان کو پسند کرتی تھی۔
اس دن عثمان نے جب دیکھا گھر میں کوئی موجود نہیں ہے تو عثمان نے مجھے کہا نورالعین مجھے تجھے آج کس کرنی ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے کر لو اور عثمان میرے قریب آگیا اور مجھے ہونٹوں اور گالوں پر کس کرنے لگا۔ میں نے کہا اچھا اب بس کرو اور مجھے برتن اٹھانے دو۔
عثمان بولا نور آج بہت وقت کے بعد موقع ملا ہے پلیز کسسنگ کرنے دو تو میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے کرو
عثمان بولا ایسے نہیں اندر کمرے میں جاتے ہیں، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ عثمان میرے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ عثمان نے اندر جاتے ہی مجھے دیوار کے ساتھ لگایا اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا اور چوسنے لگا۔ مجھے اچھا لگ رہا تھا پھر عثمان نے مجھے کہا نورالعین اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دو اور میں نے اپنی زبان عثمان کے منہ میں ڈال دی اور عثمان میری زبان چوسنے کھا۔
مجھے عجیب سا نشہ آور مزا آریا تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میری پھدی سے کچھ گیلا گیلا نکل رہا ہے اور میری پھدی میں جلن ہونے لگی۔ عثمان نے میرے ہونٹوں کو چوستے ہوئے میرے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور میں عثمان کو روکنے لگی تو عثمان نہ مانا اور میرے ممے جو اس وقت کافی چھوٹے تھے انکو دبانے لگا اور کبھی شلوار کے اوپر سے میری پھدی کو اپنے ہاتھ سے رگڑ رہا تھا۔
میں نے عثمان کو منع کیا مگر عثمان تو جیسے پاگل ہو چکا تھا اور مجھے زور زور سے چوم رہا تھا اور اسکی گرم سانسیں میرے اندر ہلچل پیدا کر رہی تھی۔
اب عثمان بولا نورالعین کپڑے اتارو جان میں بہت گرم ہو چکا ہوں تمہاری پھدی مارنی ہے ویسے بھی تمہاری شادی مجھ سے ہونی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا تمہاری پھدی ابھی چودوں یا شادی کے بعد چودوں تم سے ہی شادی ہونی ہے۔
میں عثمان کو منع کرنا چاہتی تھی مگر عثمان کے دماغ میں میری پھدی سوار تھی اور وہ نہ مانا تو میں نے بھی ہار مان لی اور اپنی شلوار اتار دی پھر میری قمیض عثمان نے اتاری اور میں نے عثمان کی شرٹ اور پینٹ دونوں کو اتار دیا اب ہم دونوں ننگے تھے۔
عثمان میری خالہ کا بیٹا تھا اور ہم اکثر فون پر سیکس چیٹ کرتے تھے تو مجھے عثمان کے سامنے ننگا ہوتے کوئی شرم نہیں آئی اور میں نے عثمان کے لن کو پکڑ کر ہلانا شروع کر دیا اور عثمان سے بولی میرا ببلو کافی لمبا اور موٹا ہو گیا ہے عثمان کا لن کالا اور 7 لمبا انچ 3 موٹا تھا۔ عثمان بولا تمہاری چوت مانگتا ہے تو میں بولی شادی کے بعد تمہارے لن کو ٹھنڈا رکھوں گئ۔
اب عثمان نے مجھے ایک پورن ویڈیو دکھائی اور مجھے مزید گرمی چڑھ گئ۔ عثمان نے مجھے لن چوسنے کا کہا اور میں نے عثمان کے لن کو چوسنا شروع کر دیا اف عثمان کے لن کی مہک مجھے آج بھی پاگل کر دیتی ہے 15 سال کی عمر میں 7 انچ کا لن چوس رہی تھی جو کچھ دیر کے بعد میری پھدی پھاڑنے والا تھا۔ مکمل کہانی کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔
اور اگر آپ کی پھدی بھی گرم ہے اور آپ کو ایک پارٹنر کی تلاش ہے تو انباس یا واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔
WhatsApp 07723 011872