Sharp Eye

Sharp Eye Sharp Eye is Pakistan's independent news agency. Initially news service was started in English, Urdu and Arabic languages.

Sharp Eye was founded by renowned journalist, columnist, poet and Chief Editor Dr. Mian Muhammad Azhar Amin Godizt in 1999 with the aim to provide true news to all types of media in different languages.

مشتری ہوشیار باش۔۔۔ اطلاع متعلق جعلساز فراڈیے وکلاء گینگ NCCIA Complaint No. PU210626-92640035عوام الناس اور تمام قومی و...
23/06/2026

مشتری ہوشیار باش۔۔۔ اطلاع متعلق جعلساز فراڈیے وکلاء گینگ
NCCIA Complaint No. PU210626-92640035
عوام الناس اور تمام قومی و بین الاقوامی اداروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ رحیم یار خان میں جسٹس لاء چیمبر کا نام سے کھولی گئی اس جعلی برانچ سے جسٹس لاء چیمبر لیمٹڈ کا کوئی تعلق نہ ہے جعلساز فراڈئے وکیلوں کے جس گینگ نے 26 سالہ معروف پرائیوٹ لیمٹڈ لاء کمپنی کا نام استمعال کرکے سنگین جرم کیا ہے ان کے خلاف ایف آئی اے کو درخواست دی گئی جو این سی سی آئی اے کے ڈی جی کو قانونی کاروائی کے لیے پرائم منسٹر پورٹل سے فارورڈ ہوگئی ہے۔ ان جعلساز فراڈئیے وکیلوں کے گینگ میں اب تک ایڈووکیٹ اسامہ یونس گجر، یڈووکیٹ سید مدد علی شاہ بخاری، ایڈووکیٹ اقراء رشید چوہدری ، ایڈووکیٹ مریم غفور ، ایڈووکیٹ میاں عقبہ خالدوغیرہ کے نام کنفرم ہوئے ہیں دیگر نمعلوم ہیں جبکہ متعدد کی درج ذیل تصاویر جسٹس لاء چیمبر کی جعلی ویب سائٹس پر دیکھی جسکتی ہیں۔۔۔ اس گینگ کی ویب سائٹ سے معلوم ہو ہے کہ ہماری کمپنی "جسٹس لاء چیمبر" کا رحیم یار خان میں جعلی دفتر7 اپریل 2026کو کھولا گیا ہے جس پر ہماری کمپنی "جسٹس لاء چیمبر "کے بورڈ لگا کر عوام سے دھوکا دہی فراڈ کررہے ہیں، مال بٹور رہے ہیں اور اس فراڈ کے لیے سوشل میڈیا پراسے تشہیر کرکے سائبر کرائم بھی کررہے ہیں اب تک تین ویب سائٹس پر جسٹس لاء چیمبر کے نام کی جعلسازی پکڑی ہے وہ یہ ہیں
https://www.facebook.com/profile.php?id=61578541337282
https://www.facebook.com/profile.php?id=61590459522770
https://www.facebook.com/iqrarasheedadvocate See less

23/06/2026

امریکہ نے ایران سے پیٹرولیم مصنوعات کے فروخت پر 60 دن کے لیے پابندی ہٹا لی ہے۔ پاکستانی فوج میں چیخ و پکار شروع ہوگئی۔ پہلے 15 روپے لٹر اسمگل کرکے عوام سے 400 روپے لیٹر تک ڈاکا مار کر کھربوں مستقل اپنی جیب میں ڈالتے رہے۔ اب پابندی کا بہانہ ختم ہونے پر اگر عوام کو 15 نہیں تو زیادہ سے زیادہ 30روپے فی لیٹر کا نہ دیا تو عوام فوج کو چیر پھاڑ سکتی ہے اگر ان بے غیرت بدکردار جھوٹی کرپٹ عوام ، کوفی عوام میں غیرت کبھی جاگ گئی۔
۔ ڈاکٹر گاڈاِزٹ Dr Godizt
23-June-2026

فراڈیے وکلاء گینگ نے جسٹس لاء چیمبر لمیٹڈ کی جعلی برانچ کھول لیAttention Dg FIA and Director FIA-Complaint for opening F...
21/06/2026

فراڈیے وکلاء گینگ نے جسٹس لاء چیمبر لمیٹڈ کی جعلی برانچ کھول لی
Attention Dg FIA and Director FIA-Complaint for opening Fake office of Private Limited Law Company "JUSTICE LAW CHAMBER" by fraud lawyers Gang

جناب ڈی جی ایف آئی اے پاکستان / ڈائریکٹر ایف آئی ے لاہور/
2000 میں جسٹس لاء چیمبر کے نام سے میں نے لاء کمپنی کی بنیاد رکھی۔ جس کا پہلا چیف اٹارنی بشیر گل ایڈووکیٹ 2000 میں بھرتی کیا جبکہ 2001 میں سید شاداب حسین جعفری ایڈووکیٹ کو یہ ذمہ داری دی۔ ان کے ناموں سے ملک بھر کے اخبارت میں خبریں بھی جاری ہوئیں کہ صحافی / چیرمین جسٹس لاء چیمبر میاں محمد اظہر امین (ڈاکٹر گاڈاِزٹ) نے چیف اٹارنی مقرر کردیا۔ اسی طرح مسلسل جسٹس لاء چیمبر کی خبریں شائع ہوتی رہیں۔ پھر کمپنی کو ایس ی سی پی کے ساتھ لیمیٹڈ رجسٹر کرا لیا گیا جس میں میری اہلیہ ایڈووکیٹ ڈائریکٹر بنیں اور تیسری چیف اٹارنی مقرر ہوئیں۔ان کے نام سے بھی ملک کے بڑے اخبارات میں خبریں بطور چیف اٹارنی "جسٹس لاء چیمبر " شائع ہوئیں۔ چونکہ 2000 میں جی ایچ کیو اور آئی یس آئی میں یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ میں چونکہ ٹاوٹ صحافی بننے کو تیار نہیں ، صدر یا وزیراعظم کے ساتھ غیر ملکی دورے کا نام ڈلتا ہے تو سرکاری ٹکٹ واپس کرکے ذاتی خرید لیتا ہوں صحافی کالونی میں اپنے حصے آنے والے پلاٹ غریب رپورٹروں کو دے دیتا ہوں ۔ خفیہ فنڈز سے لاکھوں ماہانہ کی آفر ڈی جی پی آر کے منہ پر دے مارتا ہوں ۔ فوج اور اس کی ا یجنسیوں کی غداریوں ان جرائم دھندوں م بشمول منشیات فروشی اسمگلنگ قبضہ مافیا منی لانڈرنگ چوریاں ڈکیتیاں اغو ابرائے تاوان اور دیگر جرائم کی خبریں شائع کرنے سے نہیں رُکتا لہذا اسے آوٹ کردیا جائے ،تباہ و برباد کردیا جائے، سب کچھ چھین لیا جائے، جعلی مقدما ت میں پھنسایا جائے او راس مقصد کے لیے سب سے زیادہ استعمال درندے پولیس ملازمین اور سپاریاں اُٹھانے والے دلے ٹاوٹ وکیلیوں کا کیا گیا اور کیا جارہا ہے۔ آئی ایس آئی اور پولیس وغیرہ نے جتنے بھی جرائم کرائے ان میں ملک نامور وکیلوں کو سُپاریاں دے کر جعلسازیاں کرائیں ، میرے میڈیاگروپس کے جعلی دفتر کھلوائے ، عدالتوں میں جب انصاف لینے جاتا تو وکیلوں کے جتھے حملے کرتے، متعدد وکلاءگینگز پر حملوں اور جعلی دفتر کھولنے کے پرچے درج ہیں جن میں متعدد جعلساز فراڈئیے وکیل نامزد اور سینکڑوں نامعلوم ہیں۔ ان حالات میں پہلے 2010 میں پھر 2021 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نے پولیس کو میرے لیے کمانڈوز کی سیکیورٹی فراہم کرنے کا باقاعدہ اپنی ججمنٹ میں حکم دیا جب تین ایڈیشنل سیشن ججوں نے انہیں شہادت دی کہ ان کی عدالت کے اندر بھی حملے ہوئے۔جس کی آج تک توہین ہو رہی ہے اور پولیس اور آئی ایس آئی خود حملے کرانے میں مسلسل ملوث پائی جارہی ہے اسی لیے سیکیورٹی نہ دی گئی۔۔ ان حملوں کی وجہ سے میری اہلیہ کا عدالتوں میں جاکر پریکٹس کرنا ممکن نہ رہا جس سے ان کے کیرئر کا بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ متعدد وکلاء گینگز پر دہشت گردی کے حملوں اور انصاف لینے کے آئینی حق سے روکنے کے متعدد پرچے پولیس نے پینڈنگ کررکھے ہیں تاکہ ان وکیلوں کو استعمال کرسکیں۔ اب ایک نئے گینگ کی نئی وردات سامنے آئی ہے کہ میں اپنی رہائش گا واقع سمن آباد لاہور میں کمپیوٹر پر سوشل میڈیا دیکھ رہا تھا تو میرے سامنے جسٹس لا چیمبر کی جعلی ویب سائٹ آئی جس میں ضلع رحیم یار خان میں واقع دفتر کی فوٹو بھی لگی ہے اور اس پر جعلساز وکلاء کے نام بھی لکھے ہیں جبکہ ویب سائٹس پر دیگرساتھی گینگسٹرز کے نام بھی موجود ہیں۔ جن میں ایڈووکیٹ اسامہ یونس گجر، سید مدد علی شاہ بخاری، اقراء رشید چوہدری ، مریم غفور ، میاں عقبہ خالدوغیرہ شامل ہیں۔ اس گینگ کی ویب سائٹ سے معلوم ہو ہے کہ ہماری کمپنی جسٹس لاء چیمبر کا رحیم یار خان میں جعلی دفتر7 اپریل 2026کو کھولا گیا ہے جس پر ہماری کمپنی "جسٹس لاء چیمبر "کے بورڈ لگا کر عوام سے دھوکا دہی فراڈ کررہے ہیں اور اس فراڈ کے لیے سوشل میڈیا پر ا سے تشہیر کرکے سائبر کرائم بھی کررہے ہیں اب تک تین ویب سائٹس پر جسٹس لاء چیمبر کے نام کی جعلسازی پکڑی ہے وہ یہ ہیں
https://www.facebook.com/profile.php?id=61578541337282
https://www.facebook.com/profile.php?id=61590459522770
https://www.facebook.com/iqrarasheedadvocate
جبکہ یہ ایڈریس فون اور ای میل لکھا گیا ہے
Main Road District Court Chamber no 12 , Rahimyar Khan, Pakistan, +92 324 3887035, [email protected]
۔
ڈاکٹر گاڈاِزٹ Dr. Godizt ولد میاں محمد اسلم امین
سکنہ میاں ہاوس ، سٹریٹ نمبر 40، گلزیب کلونی سمن آباد لاہور فون 03214050297 شاختی کارڈ 3520266863251

بیگم اسلم امین نے مسلسل پاکستانی فوج گردی پولیس اور عدلیہ گردی ریاستی دہشت گردی کے خلاف تمام دنیا سے اپیل کردیجس سڑک پر ...
21/06/2026

بیگم اسلم امین نے مسلسل پاکستانی فوج گردی پولیس اور عدلیہ گردی ریاستی دہشت گردی کے خلاف تمام دنیا سے اپیل کردی
جس سڑک پر بھی غدار فوجی کا نام ہو وہ بورڈ عوم اُکھاڑ پھینکے ۔۔۔ 81 سالہ مظلوم بیگم اسلم امین کی اپیل
پاکستانی عدالتوں میں کرپٹ ترین بے انصاف ظالم اور جی ایچ کیو کے دلے جج قابض ہیں
ہمارے ساتھ مسلسل ایسے جرائم ہورہے ہیں جن کے ثبوت اتنے واضح ہیں جیسے سورج
لاہور (شارپ آئی) 21 جون 2026

To Revenue Department Punjab, To PLRA, To DC Lahore, To Sub Registrar Samanabad Town Lahoreجناب عالی! ہر سرکاری محکمہ نا...
18/06/2026

To Revenue Department Punjab, To PLRA, To DC Lahore, To Sub Registrar Samanabad Town Lahore

جناب عالی! ہر سرکاری محکمہ نالائقی، کرپشن، غداریوں، دہشت گردیوں اور لوٹ مار کی ایسی مثال ہے کہ جس کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ آپ کے محکمہ بھی جو جرائم لوٹ مار اختیارات کا غلط استعمال ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہ ہے۔ میں نے اس ادارہ محکمہ مال کے بھی جب بھی جرائم پکڑے اور صرف خبر ہی نہیں بلکہ متعلقہ قانونی فورمز پر جب دائر کیے تو ان جرائم کے کاونٹر کے طور پر ایسے ایسے مجرمانہ کام کیے جاتے ہیں کہ اداروں پر قابض کرپٹ بدکرادر تنخواہ دار ہمارے نوکر پہلے جرام سے زیادہ نئے جرائم کرجاتے ہیں۔ اب PLRA نامی ادارہ میں بیٹھے بد نیت، کرپٹ نوکروں کی وجہ سے عوام کو کام میں ذلیل ہو رہی ہے مثال کے طور پر جہاں بھی ٹاونز آتے ہیں وہاں سمن آباد ٹاون آپشن میں نہیں لکھا گیا۔ رجسٹری کرنے کے لیے ایسا سافٹ وئر ڈیژائن کیا گیا ہے جس میں پراپرٹی سے متعلق پہلے کی طرح انتہائی اہم معلومات یا موقع کی فوٹو یا نقشہ کوئی شامل کرنا چاہے تواب اس آن لائن سسٹم میں شامل نہیں کرسکتا۔ اِسی طرح پارٹنر شپ ڈیڈ میں کمپنی کا لوگو LOGO نہیں شامل کرسکتا۔ جبکہ پورٹل سے رجسٹری داخل کرنے کے لیے جو سسٹم ہے وہ بھی اتنا مجرمانہ ہے کہ ہر ڈیڈ کے حساب سے فیسوں کی اینٹری نہ ہے مثال کے طور پر پارٹنر شپ ڈیڈ / شراکت نامہ کی رجسٹریشن کو جب کلک کیا جاتا ہے تو آگے وہی فیسیں کُھلتی ہیں جو پراپرٹی کی رجسٹری کی فیسیں ہیں۔ کیسی سکھا شاہی ہے کہ وہ ادا نہ کرنے پر پورٹل آگے نہیں چل سکتا اور پارٹنر شپ ڈیڈ کو رجسٹر کرانے کی میری کوشش 14 جون 2026 سے مسلسل ناکام ہو رہی ہے۔ یہ فوری درج نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے لہذا آپ میرے ساتھ اس جرم اور وہ دیگر جرائم جن کے مقدمات عدالتوں، ڈی سی، یا اینٹی کرپشن میں پینڈنگ ہیں انکا حرجانہ پندرہ روز کے اندراندر 100 ارب روپے ادا کریں وگرنہ سول کریمنل مقدمات دائر کرنے کی ذمہ دری اور خرچہ بھی آپ کے ذمہ ہوگا اور مجھے سب سے بڑے وکیلوں سے بھاری فیس جو کروڑوں اربوں میں ہوسکتی ہے پر ٹھیکہ کرنا پڑے گا اور یہ فیس بھی آپ کو ادا کرنا ہو گی کیونکہ نواز شریف اور عمران خان لیول کے ملکی لیڈرز تک یہ بتا چکے ہیں کہ اس ملک میں تگڑے وکیلوں کو بھی اربوں روپے انہیں بھی فیسیں دینا پڑیں۔ دیگر فائدے کرسیاں دینا علیحدہ۔۔۔ پھر جج کو وکیل کے ذریعے مقدمات میں علیحدہ "فیس" دینا پڑتی ہے۔۔۔ یہاں ایک مثال دینا ضروری ہے کہ میرے ایک حرجانے کے جیتے ہوئے مقدمہ میں 5 کروڑ کے حکم ڈگری کی ایگزیکیوشن کیس کو نئے بنکنگ جج لیاقت نے میری حاضری کے باوجود عدم پیروی پر 3 کروڑ روپیہ لے کر خارج کردیا اور جس کی ہائی کورٹ اپیل میں جنرل پاشا نے جسٹس امین الدین خان وغیرہ کو اربوں روپیہ میرے ملزم یو بی ایل بنک سے دلوا کر سنگین جرائم کرائے جبکہ پنجاب پولیس نے اربوں لے کر یو بی ایل کے خلاف میرے درج دو پرچوں میں جعلی جھوٹی رپورٹس لکھیں۔ ان حالات میں اپنی زندگی کے 26 سال عدالتوں اور قانونی اداروں سے میرٹ پر نصاف لینے کی کوشش میں اپنا بے شمار جانی مالی عزت کا نقصان کرکے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہر جگہ مک مکا کرکے ہی چلے بغیر یہ ملک مکمل جہنم ہے لہزا اگر آپ نے فوری 100 ارب روپے حرجانہ نہ دیا تو میں وکیل سے اس کیس اور جج کی اربوں روپے فیس کا ٹھیکا کروں گا اور یہ قانون ہے کہ ڈگری کی صورت میں خرچہ بھی آپ کو ڈلے گا۔ مزید یہ کہ سب رجسٹرار سمن آباد کو میری ڈیڈ فوری مینول رجسٹر کرنے کا حکم دیا جائے یا پورٹل کا سافٹ وئر 24 گھنٹے میں درست کیا جائے اس ڈیڈ کی فیس بنک میں جمع ہوچکی ہے اور اس پورٹل میں موجود تمام جرائم ختم کیے جائیں یاد رہے کہ میں نے 1989 میں 18 سال کی عمر میں بطور چیف ایڈیٹر صحافت شروع کی اور میڈی گروپس کے ساتھ ساتھ کئی کمپنیاں بنائیں جن میں 1997 میں میاں سافٹ (آئی ٹی کمپنیwww.miansoft. com) شامل ہے لہزا میں آن لائین سسٹمز کو کچھ نہ کچھ سمجھتا ہوں۔ اگرچہ فوج ،آئی ایس آئی اور پولیس نے میرے دیگر اداروں کی طرح Miansoft بھی 2001 میں تباہ کردی اگر یہ نہ ہوتا تو میری یہ اکیلی کمپنی اس وقت 1000 ارب ڈالر سے زیادہ ویلیو کی ہوتی اور کم از کم کروڑوں ڈالرز ماہانہ اس کمپنی کی آمدن ہوتی جسے میں ناقابل تردید ثبوتوں سے ثابت کرسکتا ہوں۔ اسکا ایک چھوٹا سا ثبوت یہ ہے کہ میں نے www.miansoft. com میں 1997 میں وہ فیچرز ڈال کر سافٹ ویرز بنوائے تھےجو آج سرچ انجن گوگل ہے۔ اس وقت میں نے سرچ انجن yahoo اور Microsoft کی طرح بنایا تھا جبکہ بعد ازاں وہ فیچرز ڈالے تھے جو بہت بعد میں بننے والی ویب سائٹس ٹویٹر ، فیس بک اور یو ٹیوب میں ہیں جبکہ میں نے یہ سب عوام کو ایک ہی پلیٹ فارم پر دینے کے لیے سافٹ وئر بنوائے تھے جبکہ میاں سافٹ کی جو ٹیم پاکستان کے پہلے آن لائن روزانہ www.internetakhbar .com کو تیار کرکے اپ لوڈ کرتی تھی، اسے کیسے دہشت گردی پولیس سے کر توڑا گیا، کیسے اس دفتر(کوٹھی) کو ایل ڈی اے سے سیل کرایا گیا، جو ڈرے نہیں کیسے ان کی دِلی خواہشیں آئی ایس آئی نے پوری کرا کر ٹیم توڑ کر اخبار بند کرایا، ایک کو جی سی لاہور میں لیکچرار شپ دلوائی۔ کچھ کو ملک سے باہر کی خواہش پوری کی۔ پی ٹی اے سے اس اخبار سمیت میری متعدد ڈومینز بلاک کرادی گئیں۔ لعنت مزاہب کے بیان کردہ ایسے دنیا کے مالک پر جو 26 سالہ مسلسل دہشت گردی دیکھ کر نہ سن پا رہا ہے نہ دیکھ پا رہا ہے نہ ایسے درندوں پر عزاب لا پا رہا ہے۔ اصل مالک کو سمجھنے کے لیے کتاب "گاڈازم" پڑھئے جو www.godizm. com پر مفت دستیاب ہے۔تاریخ 18 جون 2026

ڈاکٹر گاڈاِزٹ Dr. Godizt ولد میاں محمد اسلم امین (صحافی، کالم نگار، چیف ایڈیٹر شارپ آئی) سکنہ میاں ہاوس، سٹریٹ 40 & سٹریٹ 43، گلزیب کالونی سمن آباد لاہور شناختی کارڈ نمبر3520266863251 فون 03214050297

www. sharpeye. news

16/06/2026

آئی ایس آئی نے آسٹریلین فیملی سے سانحہ چکوال کرایا؟؟؟
پاکستانی لاء انفورسمنٹ ایجنسیز ، بیورو کریسی، عدلیہ سمیت ہر
سرکاری و غیر سرکاری ادارے کے کرتے دھرتے غدار فوج، آئی ایس آئی ، ایم آئی جیسے درندوں کے یرغمال ہیں۔ یہ مالک و محکوم جو مرضی ظلم، بے انصافی، غداری، دہشت گردی کریں، انہیں ہر قسم کا استثناء حاصل ہے۔۔۔ یہ استثناء صرف دنیاوی نہیں بلکہ مزاہب کے بیان کردہ "دنیا کے مالک" کی طرف سے بھی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی اسی کردار کا مالک ہے جو ایسے درندوں کو اس لیے لمبا عرصہ تک صحت طاقت دیے رکھتا ہے کہ وہ ایمانداروں سچوں جرات مندوں، وطن پرستوں، حرام نہ کھانے والوں کی عزت جان مال لوٹتے رہیں۔ حج سے واپسی پر پاکستان نژاد آسٹریلین فیملی پر سی ڈی نامی دہشت گرد انڈرورلڈ (ونگ آف جی ایچ کیو بیکڈ بائی فیلڈ مارشل و کور کمانڈرز) نے اندھا دھندے فائرنگ کرکے قتل و غارت کی۔ یہ دہشت گردی بھی دبا دی جانی تھی لیکن آسٹریلیا کے وزیراعظم کے سخت بیان کی وجہ سے ممکن ہے کہ کسی ایک دو ملازموں کو صدقے کا بکرا بنایا جائے۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ اس مظلوم فیملی کے کسی یرغمال کو آئی ایس آئی نے کوئی جرم آسٹریلیا میں کرنے کا کہا ہوگا جس سے اس نے انکار کیا ہوگا اور پھر اب موقع ملنے پر اس کی فیملی کو سزا دی گئی۔۔۔اب وہ بے چارہ یرغمال اتنی بڑی دہشت گردی کے بعد حقیقت بھی کبھی نہیں بتائے گا۔ اگر ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی سی ، ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی اور ہیڈ سی سی ڈی چکوال وغیرہ کو فوری گرفتار کرکے "اصلی" ریمانڈ لے کر تفتیش کی جائے تو مجھے یقین ہے کہ یہی حقیقت نکلے گی۔بلکہ آسٹریلیا کو ان افسران نامی دہشت گردوں کو تفتیش کے لیے مانگ لینا چاہیے۔۔۔ میری پاس آئی ایس آئی کے ایسے جرائم کے بہت ثبوت موجود ہیں۔ ڈاکٹر گاڈاِزٹ ۔

13 JUNE 2026ROOT CAUSES OF ENERGY CRISIS AND BRUTAL PRICES IN PAKISTAN巴基斯坦能源危机和残酷价格的根源پاکستان میں توانائی کے بحران اور ظ...
13/06/2026

13 JUNE 2026
ROOT CAUSES OF ENERGY CRISIS AND BRUTAL PRICES IN PAKISTAN
巴基斯坦能源危机和残酷价格的根源
پاکستان میں توانائی کے بحران اور ظالمانہ قیمتوں کی اصل وجوہات
ڈاکٹر گاڈاِزٹ Dr. Godizt
قارئین! ہر گھر بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور ظالمانہ بلز سے بِلبلا رہا ہے۔ ہر گھر پیٹرول سے اذیت میں ہے۔ اس کی وجوہات صرف اور صرف فوج کے غیر قانونی غیر آئینی کاروباردھندے، اسمگلنگ اور بجلی گیس چوری اور اس کے حصہ دار پرائیویٹ خفیہ ملازمین ٹاوٹس دلے ہیں۔ جی ایچ کیو کے ان مستقل دلوں میں شعبہ سیاست میں شریف نامی بدمعاش کرپٹ غلیظ ترین خاندان گینگ سرِ فہرست ہے۔ یہاں میں مزید تفصیلات میں جانے سے پہلے چند ذاتی واقعات بیان کرتا ہوں۔ 2001 میں ایک روز ایک بڑا کاروباری گروپ میرے دفتر شارپ آئی ہیڈ کوارٹر آیا اور میرے سٹاف سے کہا کہ چیف ایڈیٹر صاحب سے ضروری ملاقات کرنا ہے چونکہ کور کمانڈر دفتر اور آئی ایس آئی سیکٹر ہیڈ لاہور دفتر سے میرے خلاف خوفناک سازشیں شروع ہو چکی تھیں اس لیے میں ملاقات بہت کم کررہا تھا۔ بہرحال مجھے اطلاع ملی کی میرے فلاں تعلق کے حوالے سے آئے ہیں اور ملک میں گیس مفت کرنے کا منصوبہ لائے ہیں۔ میں نے عوامی فلاح کو مد نظر رکھ کر فوری ملاقات کی تو ان سے معلوم ہوا کہ وہ کہتے ہیں کہ انہیں کوڑا اٹھانے کی اجازت دے دی جائے وہ تمام بڑے شہروں میں بائیو پلانٹ لگائیں گے اور اپنے خرچے سے ان شہروں سے کوڑا اُٹھائیں گے اور محکمہ سوئی گیس کی یہ پوزیشن ہو جائے گی کہ کم از کم 50 فیصد بلوں میں کمی کرنا پڑے گی اور ملک میں ضآئع ہوجانے والا کوڑا کرکٹ توانائی میں بدل جائے گا اور حکومت کا کوئی خرچہ نہیں آئے گا۔ قارئین! اس منصوبہ کو سمجھنے کے بعد میری آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں لہزا میں نے آپریٹر کو کہا کہ میری فوری طور پر صدر جنرل پرویز مشرف سے بات کراو۔ کال ملی اور دوسری طرف ملٹری سیکرٹری ٹو پریزیڈینٹ نے مجھ سے بات کی اور کہا کہ صدر / آرمی چیف صاحب کچھ جنرلز سے میٹننگ کررہے ہیں اور کہا کہ سر مجھے بتا دیں میں پیغام دے دوں گا۔ میں نے اسے ساری بات بتائی اور پوچھا کہ یہ لوگ پاکستانی ہیں اور باہر جتنی کمائی کی وہ پاکستان لاکر انویسٹ کرکے ملک کو گیس بحران بڑھنے سے قبل اتنی بڑی سپورٹ دینا چاہتے ہیں اور ایک ماہ سے صدر، وزیراعظم سمیت ہر سرکاری متعلقہ افسر سے ملے ہیں لیکن انہیں کیوں ذلیل کیا جارہا ہے۔ اس پر اُس ٖفوجی افسر نے کہا کہ آپ کا پیغام صدر صاحب کو دوں گا پھر وہ آپ سے وہ بات کرلیں گے۔ یہ بات تب کی ہے جب میں صدر کے ساتھ انڈیا آگرہ مزاکرات میں گیا تھا اور واپسی کے کچھ دن بعد یہ گروپ مجھے ملا۔ قارئین! اس فون کے بعد صدر کی کال کی جگہ میرے دفتر دو آئی ایس آئی کے میجر آئے اور مجھے سمجھایا کہ میں خاموشی سے صحآفت کروں اور ایسے چکروں میں پڑ کر اپنا زیادہ بڑا نقصان نہ کروں۔ مجھے یہ بھی کہا کہ آپ فوج اور آئی ایس آئی کو اپنی خبروں میں پہلے ہی جو رگڑے دے رہے ہیں وہی ناقابل برداشت ہیں کہ آپ نے اب فوج کی کمائی پر بھی لات مارنا شروع کردی ہے۔ اس کے بات وہ بزنس گروپ مایوس ہو کر ملک سے واپس چلا گیا۔ قارئین! دوسرا واقعہ میں بتانے سے قبل اس کے کردار کی مختصر تفصیل بتا دوں۔ ہوا یہ کہ جب جی ایچ کیو جب میں یہ فیصلہ ہوا کہ میاں محمد اظہر امین (ڈاکٹرگاڈاِزٹ) اتنا طاقتور صحآفی بن چکا ہے کہ اسے فوج نے جب بھی جھٹکا دیا تو یہ آگے سے مقابلہ کرتا ہے اور اس کے بہت بڑی تعداد میں دوست احباب اسپوٹرز ہیں۔ پورے ملک کے صحآفی جلسے جلوس کرنا شروع کردیتے ہیں، روڈز بلاک کردیتے ہیں لہزا اسے انجینئرڈ طریقے سے ختم کرو تاکہ بین القوامی میڈیا کو اسکے نیچرل لڑائی جھگڑے محسوس ہوں۔ کیونکہ میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی خبروں میں بھی شائع ہوتا تھا۔ قارئین! اس مقصد کے لیے اس دہشت گردی و غداری پلان کے لیے آئی ایس آئی نامی دہشت گرد انڈر ورلڈ ہراول دستہ بنی۔ جنہوں نے سب سے پہلے یہ کھیل شروع کیا کہ میری اپنے ہر تعلق سے کیسے لڑائی ہو یا لوگ مجھ سے پیچھے ہٹ جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو پلان کیے گئے ان میں میرے میڈایا گروپس کے ہیڈ کوارٹرز پلازہ کی پارکنگ میں انکروچمنٹس قائم کرکے لڑائی جھگڑے کرانا اور اس مقصد کے لیے رکشہ مکینک لاکر پارکنگ میں بٹھانا شامل تھا اس سازش کو میں فوری سمجھ نہ سکا ، ان لُچے لفنگوں سے الجھ کر میں اور میرا اسٹاف ایک مستقل لڑائی میں پڑ گئے۔ اس مقصد کے لیے آئی ایس آئی نے کچھ ایسے مکینک بٹھائے جن کے قریبی عزیز اہم سرکاری پوزیشن یا دیگر مضبوط افراد ہوں تاکہ وہ ہر فورم پر کہہ سکیں کہ ہمارا فلاں رشتہ دار ہے اس لیے ہم سفارشی ہیں۔ اس سازش کے لیے حاجی اقبال نامی ایک مکینک کو بٹھایا گیا جس کا بیٹا آرمی کیپٹن سے ڈی ایم جی گروپ میں لاکر صرف میرے میڈیا گروپس گرانے کے لیے مختص کرکے اسے ڈی ڈی اینٹی کرپشن لاہور لگا کر پولیس سمیت دیگر اداروں کو دہشت گردی پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ حاجی اقبال نامی انتہائی مکار بدکردار مکینک اس کا باپ تھا اور مجھے سر عام کہتا تھا کہ تینوں صحافت نئی کرن دینی ۔ اس کے ساتھ ایک اور مکینک شیخ اقبال بٹھایا گیا جو شیخ زعیم نامی ایس پی اور جاوید نامی ایف بی آر ڈی سی کا بڑا بھائی تھا۔ اسی طرح ایک تگڑے وکیل گینگ اور صحافی کا رشتہ دار خرادیہ بٹھایا گیا۔ ان سب سمیت دیگر انکروچرز نے ہماری زندگی عزاب بنا دی اور ہر وقت رپورٹرز کی سواریوں کو نقصان پہنچانا پیٹرول چوری کرلینا، آتے جاتے لڑائی جھگڑے کرنا، کھلی ننگی دہشت گردی کرنا وغیرہ مستقل شروع ہو گیا۔ پولیس ان انکروچرز کو اٹھانے کی بجائے ہماری ہی پارکنگ سے ہماری گاڑیاں لفٹر سے اُٹھوانے لگی۔ پولیس گردی کی انتہاء ہوگئی جب مرضی پولیس دفتر گھستی اور عملہ کو پھینٹا لگاتی اور کہتی کہ یہاں نوکریاں چھوڑو۔ پھر یہی کچھ میری آبائی رہائش پر بھی 2006 سے شروع کرایا گیا۔ لیکن استعمال ہونے والے لچے لفنگوں کے ڈر جانے کی وجہ سے کچھ عرصہ روک کر 2018 سے بھرپور یہی کچھ اور رہائش پر حملے شروع کرائے گئے۔ قارئین! یہ لکھتے لکھتے جب ماضی کی پورے 26 سال کی ریل دماغ میں چلی تو دل سے آواز آئی کہ مزاہب کا بیان کردہ خدا جو دیکھتا اور سنتا ہے وہ کتنا حرامی ہے کہ کرپٹ درندوں حرامیوں کو ظلم لوٹ مار جرائم کرنے کے لیے، سچوں فرض شناسوں کی عزت جان مال لوٹنے کے لیے کتنا لمبا عرصہ صحت اور طاقت ان درندوں کو دیئے رکھتا ہے۔ قارئین! بات توانائی کے بحران کی چل رہی تھی تو اس حوالے سے یہ وقوعے اس لیے لکھنے پڑے کہ ان کے ایک کردار کا حوالہ دینا تھا۔ ہوا یہ کہ ایک حملے کے بعد میں ان انکروچرز پر پرچہ دلوانے میں کامیاب ہوا جس میں بڑا ملزم رکشہ مکینک شیخ اقبال ثابت ہوا جو کہ ایس پی زعیم اقبال اور ڈی سی انکم ٹیکس جاوید کا بڑا بھائی تھا اور تفتیشی نے میرے سامنے تھانے میں اپنے ان دونوں افسران کو کہا کہ میں نے گناہ گار لکھ دیا ہے تو ایس پی شیخ زعیم بولا کہ اس کا مطلب ہے کہ کل مجسٹریٹ ضمانت بعد از گرفتاری خارج کردے گا۔ بہرحال اس کے بعد شیخ زعیم اور ڈی سی جاوید میرے دفتر آئے اور معزرت کی اور کہا کہ آپ کا پراپرٹی ڈسپیوٹ بھی عفی اسمگلر کو بلیک میل کرکے آئی ایس آئی نے کرایا ہے تو میں نے کہا کہ یہ بات عفی اسمگلر میرے گھر آکر بتا گیا تھا کہ اس کے کزن میجر کے ذریعے اسے جی ایچ کیو بھی بلوایا گیا اور آئی ایس آئی لاہور بھی افسران سے ملوایا گیا تھا کہ کچھ نہیں تمہارا بگڑے گا صحافی کے خلاف جرات سے قائم ہوجاو تو اس نے کہا کہ میں اس صحافی کے ساتھ زیادتی نہیں کرسکتا نہ ہی جھوٹ پر اس کے خلاف سٹینڈ لے سکتا ہوں، میرا اس کا کوئی پراپرٹی ڈسپیوٹ نہ ہے۔ تو اسے کہا گیا کہ ٹھیک ہے ہم بندے دیں گے جو تمہارے فرنٹ مین کے طور پر درخواستیں دیں گے لیکن جہاں تمہاری ضرورت ہو وہاں جانا ہوگا۔ عفی اسمگلر نے وہاں یہ طے کیا کہ وہ کوئی درخواست برائے پرچہ وغیرہ نہیں دے گا۔ یہ سب باتیں سُن کر ایس پی شیخ زعیم اور ڈی سی جاوید بولے کہ ہمیں شک ہو گیا تھا کہ ہمارا استعمال آپ کے خلاف غلط کیا جارہا ہے لیکن آئی ایس آئی نے آپ کو جس قسم کا فوج اور ملک دشمن اور وِلن بنا کرہمارے سامنے پیش کیا تھا ہم سمجھے کہ ہم کسی ظالم کے خلاف جہاد کا حصہ بننے لگے ہیں لیکن آپ سے ملنے کے بعد سمجھ آگئی کہ آپ سے بہت ظلم ہو رہا ہے۔ قارئین! اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے جب بھی کوئی حکم ہو بلا جھجک بتائے گا۔ ڈی سی جاوید نے کہا کہ میں چھٹی لے کر امریکا میں آج کل ہوتا ہوں وہاں بھی کوئی حکم ہو یا ایف بی آر کا کوئی حکم ہو تو ضرور بتائے گا۔ اس کے بعد مکینک شیخ اقبال میرے ساتھ ہو گیا اور اس نے ایک روز مجھے کہا کہ آپ الیکٹرک رکشے اور الیکٹرک موٹر سائکلز چائنا سے منگوا کر پاکستان دیں ایک تو پولوشن ختم ، پیٹرول بحران ختم اور آپ کی کمپنی کو اربوں بچے گا۔ میری اس نے ڈی سی جاوید سے بات کرائی کہ کسٹم وغیرہ میں وہ کیا سپورٹ کرے گا تو جاوید نے مجھے امریکہ سے فون پر کہا کہ ڈاکٹر صاحب اس طرف مت پڑجانا پہلے ہی فوج آپ کو ختم کرنے کا پلان کرچکی ہے اب آپ ان کے بجلی پیٹرول جیسے دھندوں پر لات ماریں گے تو وہ آپ کے ساتھ جو 5 سال میں کرنا ہے وہ ایک ماہ میں کردیں گے۔ جاوید نے یہ بھی کہا کہ وہ دو بھائی سی ایس پی ہیں اور انہوں نے اپنے بڑے بھائی مکینک شیخ اقبال کے نام پر یہ کام کرنے کی کوشش کی تو انہیں فوج سے خوفناک شٹ اپ کال ملی۔ قارئین!۔ 1995 میں آئی پی پیز کی مخالفت کرکے میں نے کہا کہ امریکہ سے سولرٹیکنالوجی لینے پر کام کرنے کی اسلام آباد میں وزیر پانی و بجلی غلام مصطفی کھر اور متعدد سرکاری افسران سے بات کی تو کھر صاحب نے مجھے کہا کہ او صحافی صاحب تیری عمر کتنی ہے تو میں نے کہا 25 سال تو انہوں نے کہا کہ اتنی چھوٹی عمر میں کیوں مرنا چاہتے ہوں۔ خاموشی سے صحافت کرو ایسی باتیں مت سوچا کرو۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میری ایک خبر پر وزیراعظم بے نظیر نے کھر صاحب کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بٹھائی اور مجھے اس میں خبریں اخبار اسلام آباد کی نمائندگی کے لیے بلایا گیا تھا۔ یعنی سب سے پہلے میں نے 1995 میں محسوس کیا تھا کہ مفت ٹائپ آلٹرنیٹیو انرجیز کی طرف جانا چاہیے۔ قارئین! چونکہ فوج اور انکے سول حرامیوں کے کاروباری مقاصد یہ تھے کہ بجلی گیس پیٹرول کا بحران رہے اور بل ظالمانہ ہوجائیں لہزا آئی پی پیز جیسے مجرمانہ کنٹریکٹس ، پیٹرول ایران سے دس پندرہ روپے میں خرید کر اسمگل کرکے حکومتی خزانے کو کھربوں سالانہ کا نقصان پہنچانا اور یہ رقم فوج کا اپنی جیب میں ڈالنا جیسے بے شمار جرائم ان غداروں کی حرام کمائی کے لیے مختلف دھندوں کے لیے توانائی بحران سے جُڑے ہیں۔ آج بھی سولر ، ہائبرڈ اور الیکٹرک وہیلکلز پر ہر قسم کا ٹیکس مکمل ختم کرکے توانائی بحران صرف ایک سال میں مکمل ختم کی جاسکتا ہے لیکن یہ دونوں کام فوج اور ان کے شریف کنجر خاندان ٹائپ حرامی غدار لُٹیرے نہیں کرنے دے رہے۔ میں نے 2011 میں اپنے ایک کالم "پاکستان کی تباہی کے اصل مجرم کون؟" کی کسی قسط میں بھی توانائی بحران کے حل لکھتے وقت یہ بھی لکھا تھا کہ اگر یہ کام کردیئے جائیں تو واپڈا کو پی ٹی سی ایل کی طرح لڑکیاں رکھ کر گھر گھر بھیج کر پانچ سو اور ہزار روپے میں بجلی کے ان لیمیٹڈ پیکج آفر کرنے پڑیں گے اور لوگ پھر بھی ان کو دھکے ماریں گے اور اس کالم کے بعد سے میرے خلاف کس لیول کی فوج گردی اور پولیس گردی بڑھی وہ کسی سے پوشیدہ نہ ہے۔ سمری یہ ہے کہ غدار لُٹیری فوج چور ڈاکو فوج عوام کو بجلی گیس پیٹرول کی اذیت سے جان بوجھ کر اپنی لوٹ مار کی خاطر مسلسل سالہا سال سے گزار رہی ہے اور مزاہب کا بیان کردہ خدا بھی ان درندوں کے آگے کھسی ہے۔ اس کا کوئی عزاب ان پر نہیں آنے کے قابل۔۔۔۔

SHARP EYE NEWS SERVICE – FILE B – News 1BREAKING NEWSLahore (Sharp Eye) 12 June 2026لاہور (شارپ آئی) 12 جون 2026خبر رساں...
12/06/2026

SHARP EYE NEWS SERVICE – FILE B – News 1

BREAKING NEWS

Lahore (Sharp Eye) 12 June 2026

لاہور (شارپ آئی) 12 جون 2026

خبر رساں ایجنسی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جی ایچ کیو، آئی ایس آئی، ایم آئی نے اپنے بھکاری نیٹ ورک کو بچانے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کو گرفتاریوں سے روک دیا ہے۔ آئی ایس آئی نے ملک بھر میں بھکاریوں کا ایک باقاعدہ ادارہ بنا رکھا ہے جس کے ضلعی اور تحصیل سطح کے انچارج ہوتے ہیں جبکہ ہر تھانہ کے علاقہ کی سطح پر بھی اِن کے انچارج متعلقہ تھانہ سے لین دین کے سلسلے جاری رکھتے ہیں۔ سعودیہ سمیت دیگر ممالک میں بھی بھکاری نیٹ ورک کے فارن سروس انچارج ہوتے ہیں جو ڈائریکٹ ہیڈ آفس آئی ایس آئی رپورٹ کرتے ہیں جبکہ دیگر اپنے اپنے سیکٹر کمانڈرز آئی ایس آئی کو رپورٹ کرتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک بھی جی ایچ کیو ، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے منشیات فروشی نیٹ ورک اور نائٹ کلبز و جسم فروشی نیٹ ورکس کی طرح چلایا جاتا ہے۔ ان تمام نیٹ ورکس سے باقاعدہ حصہ آرمی چیف اور تمام کور کمانڈروں و دیگر اہم فوجی اور پولیس عہدیداروں کو جاتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی شارپ آئی نے چند روز قبل گلی محلوں میں گداگروں کی مکینوں کے ساتھ بد تمیزیوں اور غنڈا گردیوں کی ویڈیو نشر کی تھی جس کے بعد پولیس نے فوری گدا گروں کو پکڑنے کا سلسلہ شروع کیا تھا لیکن جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے سخت احکامات کے بعد یہ گرفتاریاں روکنے کا چیف سیکرٹیریز نے تمام ڈی سی اور پولیس افسران کو حکم دیا ہے۔ آئی ایس آئی اپنے بھکاری نیٹ ورکس کا دھندا چلانے اور بڑھانے کے لیے بچے اغوا کرکے انہیں معزور کرکے شامل کرتی رہتی ہے جبکہ اسی طرح جسم فروشی اور کلبز کے دھندوں کے لیے بچیوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر کلبز فوج نے ملک بھر میں ڈیفینس ایریاز میں بنا رکھے ہیں جہاں پولیس کا بھی داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔ یہاں سر عام شراب فروشی بھی ہوتی ہے۔ یہ کلبز فوجی خود چلاتے ہیں۔ منشیات فروشی کے لیے ملٹری ایسٹلبلشمنٹ کے اتنے مضبوط گینگسٹرز ہیں کہ انہیں کبھی ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔ خانہ پُری کے لیے محض پینے والے یا چھوٹے موٹے ریٹیلرز گرفتار کئے جاتے ہیں۔ فوج کو صرف 5 دھندوں سے دس کھرب روپے سے زائد حرام مال اکٹھا ہوتا ہے ان دھندوں میں منشیات فروشی، پیر بابے عامل کامل دربار سجادہ نشین گینگز، اسمگلنگ، جسم فروشی اور کلبز، بیگرز نیٹ ورک شامل ہیں۔ جبکہ پولیس ، چائلڈ پروٹیکشن ، انسداد منشیات، انسداد گداگری جیسے تمام متعلقہ اداروں کے حصے علیحدہ سے جاتے ہیں۔ انسداد گداگری ایکٹ کا بھی سختی سے نفاذ فوج اپنی آمدن کے لیے نہیں ہونے دیتی۔ گدا گری کا دھندا ختم کرنے کے لیے بھیک دینا بھی جرم قرار دیا جانا چاہیے ۔ گدا گری کو تمام مزاہب بھی گناہ قرار دیتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب کوئی بھی کاروبار کیا جائے تو اس کے لیے میٹیریل درکار ہوتا ہے لہزا جسم فروشی یا گدا گری کے لیے میٹیریل انسان ہیں اور اس دھندے کی بقا آئے روز اغوا میں ہے۔ بچوں بچیوں عورتوں اور بوڑھوں کو اغوا کرکے یا بلیک میل کرکے آئی ایس آئی شامل کرتی ہے۔ اسی طرح 25 کروڑ عوام میں شائد ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں یہ بات نہ ہوتی ہو کہ ان پر کسی نے جادو تعویز یا عمل کرا دیا ہے اور پھر اس گھر کے افراد بالخصوص خواتین بابے ڈھونڈتی پھرتی ہیں اور آئی ایس آئی انڈر ورلڈ نیٹ ورک کے یرغمال ہو جاتے ہیں۔ کچھ باقاعدہ مُرید ہو کر اور کچھ مستقل گاہک بن کر ایسے جال میں پھنس جاتے ہیں کہ ساری زندگی نکل نہیں پاتے۔ شارپ آئی چیف نے 2001 میں ان جادوگروں پیروں بابوں پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کیا تھا تو یہ بھی ان کی تباہی کا سب سے بڑا سبب اس لیے بنا تھا کہ آٰئی ایس آئی اپنے اس دھندے پر اتنا مضبوط حملہ برداشت نہیں کرسکی تھی۔ یہ فراڈ سرعام ہوتا ہے حالانکہ کسی بھی نام سے چاہے نوری ہو یا کالا جادو کسی بھی نام سے دھندا چلانے والوں کو قتل کردینا چاہیے اور یہی مزاہب بھی کہتے ہیں جس کی عملی مثال سعودیہ میں موجود ہے۔ تمام دربار لنگر خانے میں تبدیل کر دیے جانے چاہیں اور درباروں میں بنی قبروں کے نشان بھی ختم کرکے یہاں پوجا پاٹ ختم کردی جانی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

SHARP EYE NEWS SERVICE – FILE A – News 1BREAKING NEWSLahore (Sharp Eye) 12 June 2026PETITION FOR FIR AGAINST FAKE FRAUD ...
11/06/2026

SHARP EYE NEWS SERVICE – FILE A – News 1
BREAKING NEWS
Lahore (Sharp Eye) 12 June 2026
PETITION FOR FIR AGAINST FAKE FRAUD FIELD MARSHAL TRAITOR GEN. ASIM MUNIR, TRAITOR GEN. QAMAR BAJWA AND OTHER UNTOUCHABLES FOR KIDNAP OF DR. GODIZT
DETAILS OF MURDER OF DIG CAPTAIN MUBEEN BY GEN ASIM MUNIR AND GEN QAMER BAJWA INCLUDED
ADDITIONAL DISTRICT AND SESSION JUDGE LAHORE AYESHA RASHEED WILL HEAR THE CASE ON 7-7-2026 ALONG WITH OTHER 5 PENDING CASES AGAINST POLICE OFFICIALS AND OTHERS.
سیشن کورٹ لاہور میں جعلی فیلڈ مارشل غدار جنرل عاصم منیر، غدار جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر ناقابل احتساب درندوں کے خلاف ڈاکٹر گاڈاِزٹ کے اغوا پرآج تک ایف آئی آر درج نہ کرنے پر مقدمہ دائر
مقدمہ میں ڈی آئی جی کیپٹن مبین کے قتل میں ملوث غدار جنرل قمر باجوہ اور غدار جنرل عاصم منیر کے خلاف تفصیلات شامل--- ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور عائشہ رشید مقدمہ کی سماعت کررہی ہیں۔ پولیس اور دیگر کے خلاف 7 جولائی 2026 کے لیے دیگر 5 پینڈنگ مقدمات کےساتھ اس مقدمہ کی سماعت بھی فکس کی گئی ہے۔ ۔ SHARP EYE NEWS SERVICE – FILE A – News 2
لاہور (شارپ آئی) 12 جون 2026
خبر رساں ایجنسی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئی ایس آئی ایک نئی سازش کے تحت شارپ آئی کے نام سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں جعلی نمائندگان اور رپورٹرز وغیرہ کا استعمال کررہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی شارپ آئی کے نام سے بعض جعلی خبریں پائی گئیں اور جعلی نمائندگان ، شارپ آئی کے جعلی پریس کارڈز بنائے جانے کے حوالے سے پنجاب پولیس کو ایف آئی آر کی ایک درخواست بھی کچھ عرصہ قبل دی گئی تھی جس پر پولیس نے ایف آئی آر درج نہ کی تھی اور ایک اعلی پولیس آفیسر نے چیف ایڈیٹرڈاکٹر گاڈاِزٹ (میاں محمد اظہر امین) کو کہا تھا کہ آپ کی طرف سے پنجاب پولیس نے جنرل پرویز مشرف، فیڈرل سیکرٹریز ، ڈی جی پی آر اور فوج کے اشارے پر آپ کے خلاف استعمال ہونے والے اعلی پولیس افسران سمیت متعدد ناقابل احتساب طاقتوروں کے خلاف بھی انتہائی مشکل درجنوں ایف آئی آرز درج کیں لیکن جب سے آئی ایس آئی نے سختی سے پنجاب پولیس وغیرہ کو آپ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی وقوعہ کی ایف آئی آر درج نہ کرنے کا حکم دے رکھا ہے جس کی پشت پناہی و نگرانی ہر وقت جی ایچ کیو اور کور کمانڈر لاہور بھی کرتا ہے لہزا ہم مجبور ہیں۔ اسی لیے عدالتوں کے ڈائریکٹ احکامات کے باوجود بھی ہم تعمیل نہیں کرپاتے۔ ڈاکٹر گاڈاِزٹ نے کہا ہے کہ اب ہر جرم بشمول جعلسازی فراڈ، پیکا ایکٹ اوردیگر دفعات کے ساتھ ساتھ کاپی رائٹ اینڈ ٹریڈ مارک ایکٹ کے تحت بھی ایف آئی آرز صرف آئی ایس آئی، جی ایچ کیو اور ایم آئی پر درج کرائی جائیں گی۔۔ کیونکہ اب شارپ آئی کا ٹریڈ مارک بھی رجسٹرڈ ہے اور جرائم بھی صرف یہی غدار کراتے ہیں۔

05/06/2026

2598 likes, 57 comments. Check out .’s video.

Address

Sharp Eye Headquarter, Qurtaba Chowk
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sharp Eye posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sharp Eye:

Share

Category