06/08/2026
6 August 2026
Why is it that the police force consists almost entirely of the most depraved, vile, and criminal elements?
پولیس میں تقریباً تمام بد کردار ترین، غلیظ ترین ، جرائم پیشہ ہی کیوں ہیں؟
اچانک دو سال قبل سی ایس پی پولیس افسران نے کیوں ویڈیوز ڈرامہ شروع کرکے ثابت کرنا شروع کیا کہ وہ رینکر پولیس میں احتساب کرتے ہیں؟ اہم راز
کالم نگار: ڈاکٹر گاڈاِزٹ Dr. Godizt
قارئین! میں پچھلے 26 سال میں بے شمار مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ ملک میں ہر سرکاری ادارہ میں 99 فیصد بھرتی ہر طرح سے کرپٹ عناصر کی ہوتی ہے جس کی وجہ پاکستان پر قابض بارڈر چوکیدار کا ہر شعبہ ہر گلی محلہ تک مکمل قبضہ ہے اور اپنے جرائم، لوٹ مار، غداریاں برقرار رکھنے کے لیے ملٹری ایسٹبلشمنٹ بشمول جی ایچ کیو آئی ایس آئی ، ایم آئی کو ہرسرکاری ادارہ ہر کاروبار ، سیاست ، صحافت میں صرف کرپٹ افراد درکار ہیں۔ جس وجہ سے پولیس میں بھی بھرتی کے وقت یہ خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کوئی ایسا نوجوان نہ بھرتی ہو جائے جس کا ایمان ضمیر زندہ ہو۔ جس میں انسانیت کا کیڑا موجود ہو۔ بھرتی کے لیے مکمل درندہ ہونا پہلی شرط ہے۔ پولیس افسران ہمیشہ سے اگر کسی ماتحت کو معطل کرتے ہیں تو اُسے علیحدہ بلوا کر کہتے ہیں کہ اوے گدھے یہ کیا اتنا میڈیا پر شور ڈلوا دیا ہے چل اب کچھ ماہ آرام کر۔ اس کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ ایک ڈی پی او اچانک حکم کرتا ہے کہ ضلع میں جتنے افراد سنگین جرائم پر نوکری سے نکالے گئے ان سب کو 10 درخت لگانے کا حکم دیا جاتا ہے اور جو 10 درخت لگائے گا وہ بحال ہوجائے گا۔ صرف اس ایک مثال سے سمجھ جائیں کہ فوجی کے ساتھ ساتھ سی ایس پی سب سے حرامی اور کرپٹ ہے اور جرائم کی اصل جڑ ہے۔ میں نے جب یہ پوسٹ پڑی تھی تو عوام کا سب سے دلچسپ کمنٹ یہ تھا کہ " یہ وہ حرامی پُلسیے ہیں کہ اُلٹا دس دس درخت اُکھاڑ کر بیچ دیں گے"۔ قارئین! انسان کی نیچر میں منفی سوچ کی زیادہ پکڑ ہوتی ہے لہذا ریاست کا فیصلہ ہوتا ہے کہ ریاست اپنے غنڈے بھرتی کرکے تاکہ اگر سول سائیڈ پر کوئی غنڈا گردی کرکے عوام کو کوئی تکیلف دے تو حکومت اپنے سرکاری غنڈے کا استعمال کرکے سول غنڈے کو سزا دے سکے، روک سکے۔ اس مقصد کے لیے سب سے اہم یہ تھا کہ پہلے یہ غور کیا جاتا کہ اگر سرکاری غنڈے نے عوام کی عزت جان مال لوٹنا شروع کردی تب کیا ہو گا اور اس کا کیا نظام بنایا جائے۔ اب جو نظام بنا اور اُس پر جو تعنیات ہوتے ہیں فوج نے وہ سب بھی کرپٹ سسٹم بنا دیا ہے چاہے وہ عدلیہ ہی ہو۔ لہذا ہر روز ہر پولیس والا کئی جرم کرتا ہے ایک سے بھی عوام محفوظ نہیں۔ وقتی پکڑ دھکڑ معطلیوں کا ڈرامہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ معاملہ میڈیا میں ہائی لائٹ ہو جاتا ہے۔ میں اب یہاں ایک ناقابل تردید ثبوت دیتا ہوں جس سے ثابت ہو گا کہ یہ حرامی جرائم پیشہ کرپٹ سی ایس پی پولیس افسران کو اچانک کیوں ویڈیو پر جعلی احتسابی ڈرامہ شروع کرنا پڑا۔ اس کے لیے میں ایک یتیم بچے کی درخواست ری پروڈیوس کررہا ہوں۔ یہ درخواست اس بچے نے سب سے پہلے تین چار سال قبل دی جس میں تحریر تھا کہ اس کی جس پراپرٹی پر قبضہ پولیس ملازمین نے کیا ہے اس پراپرٹی کے جعلی دستاویزات بنائے گئے جسے سول کورٹ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے بھی جعلی قرار دیا ہے لہذا جعلسازی فراڈ قبضہ کا پرچہ درج کیا جائے۔ پولیس نے پرچہ درج نہ کیا پھر اس نے 16 اگست 2025 کو نئی درخواست تھانہ سمن آباد دی جس میں تازہ جعلی کرائے نامے بنائے جانے کا جرم شامل کیا گیا۔ اس درخواست پر سیش کورٹ نے ایس ایچ او کو فوری پرچہ درج کرنے کا حکم دیا۔ سی سی پی او اور دیگر افسران بشمول ڈٰی آئی جی آپریشنز فیصل ، ایس ایس پی آپریشنز اور ایس پی صاحبان نے خود یہ معاملہ سنا اور کہا کہ ہم نہیں مانتے عدالت کے حکم کو۔ پھر عدالت نے یہ حکم دیا کہ ایس ایچ او پربھی یہ سچا پرچہ درج نہ کرنے کے جرم میں فوری سی سی پی او لاہور 155 سی کا پرچہ درج کرے جس پر ان افسران کا موقف تھا کہ یہ حکم لے جاکر جج کی گانڈ میں دے دو۔۔۔ سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ، ایس پی ڈاکٹر عمر ، ایس پی سدرہ خان نے بطور فرنٹ مین یہ مینیج کیا کہ اس یتیم بچے کو اسکی ایک ملزم کی طرف سے جعلی پرچہ میں پھنسایا جائے تاکہ یہ ڈر کر اپنے اصل پرچے سے بھاگ جائے۔ اس مقصد کے لیے ان سب پلسیوں نے اس حد تک خوفناک جعلسازیاں کیں کہ بنک ریکارڈ تک چوری کیا، کنسیلConceal کیا اور عدالت میں جعلی رپورٹیں داخل کی گئی۔ بلکہ ابھی تازہ حرامی کرپٹ آئی جی عبدالکریم نے بھی پچھلوں کی طرح عدالت میں جھوٹی رپورٹ داخل کی۔ اس درخواست پر اب جب پھر آن لائن کمپلینٹس دی گئیں تو مجبوراً ڈی ایس پی مسلم ٹاون لاہور رانا مجاہد کو مارک ہوئی جس نے اس بچے سے ساری بات سمجھنے کے لیے اور اس کے ساتھ ہونے والے اب تک کے تمام جرائم کی درخواستوں پر انکوائری کے لیے تین چار روز قبل ماتحت عملہ کے تین تھانے داروں اے ایس آئی حسن ، اے ایس آئی خلیل اور ملازم ریڈر برانچ ریاست کا بورڈ بنایا جنہوں نے تین گھنٹے سارے معاملات سُنے اور یہ تاثر دیا کہ اتنے سنگین جرائم کرنے میں سی ایس پی افسران ملوث ہیں جن کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس درخواست میں شامل وہ فقرے جسے کاونٹر کرنے کے لیے افسران نے ویڈیو ڈرامہ لگا رکھا ہے اور نہ رُک سکنے والا پرچہ بھی درج نہ ہونے دیا جارہا ہے۔ درج ذیل درخواست ری پروڈیوس کی جارہی ہے اور یہ فقرے ہائی لائٹ کیے جارہے ہیں۔
بخدمت جناب ایس ایچ او صاحب تھانہ سمن آباد لاہور
جناب عالی!قمر آرا خانم اور اسکی مرحومہ بہن مہر آرا خانم نے شفقت عرف کونکا نائی اور کچھ نامعلوم بلیک میلرز کے ساتھ مل کر ہم مشورہ ہوکر جعلی ہبہ نامہ منجانب شمشاد عالم خان (درخواست دہندہ کا تایا) تیار کرایا اور مرحوم شمشاد عالم خان کے مکمل مکان پر زبردستی ناجائز قبضہ کرلیا۔ اس جعلی ہبہ نامہ منجانب شمشاد عالم خان اور جعلی رسید منجانب زین وغیرہ کا استعمال کرکے سول کورٹ لاہور میں جھوٹا دعویٰ دائرکرکے مکان اپنے نام کرانے کی کوشش کی۔ اس مقدمہ میں ملزمہ قمر آراخانم اور اسکی مرحومہ بہن نے درخواست دہندہ کو بھی مدعا علیہ بنایا اور مالک مکان مرحوم شمشاد عالم خان کے یتیم بچوں زین وغیرہ کو بھی مدعا علیہ بنایا۔ درخواست دہندا نے جواب دعوی دیا اور عدالت کو بتایا کہ ملزمان جعلی دستاویزات تیار کرکے مکان ہڑپنا چاہتے ہیں جبکہ زین نے عدالت کو بتایا کہ جعلی ہبہ نامہ کے ساتھ ساتھ جو زین اور اسکی بہنوں کی طرف سے جعلی رسید برائے وصولی مبلغ 50 لاکھ تیار کرکے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ زین اور اسکی بہنوں نے 50 لاکھ لے کرملزمان کو مکان فروخت کیا ہے۔ سول کورٹ نے تمام دستاویزات جعلی ثابت ہونے پر مقدمہ خارج کردیا جس کے بعد ملزمان کی تمام اپیلیں بھی خارج ہو گئی ہیں۔ شفقت عرف کونکا نائی اب تک تمام جعلی کرائے نامے بنانے اور کرائے دار گھسانے کا جرم کررہا ہے۔ اس کو درخواست دہندہ اور معززین محلہ نے بارہا منع کیا ہے کہ تم آئے روز غنڈے کریمینلز ٹائپ گاہک قمر آرا کو مت دو تو وہ الٹا سائل کو کہتا ہے کہ ہم سرکار ہیں ہم سے الجھے تو ساری عمر جیلوں میں سڑو گے۔ اندازہ کریں کہ پولیس کے کلاس فور کے ملازم نائی بھی علاقوں میں کھلی اور ننگی بدمعاشی کرتے ہیں۔ کیونکہ ان جیسوں کے ذریعے ہی پولیس افسران مخبری اور لوگوں کو لڑائیوں جھگڑوں، شیطانیوں اور جرائم میں پھنسانے کا کام بھی دیگر جرائم کے ساتھ ساتھ لیتے ہیں اور مال کماتے ہیں۔ اس کونکا نائی نے سرکاری ملازم ہوتے ہوئے علاقے میں دیگ پکوائی شاپ ، باربر شاپ اور پراپرٹی ڈیلنگ جیسے کاروبار شروع کررکھے ہیں اور اپنے بیٹۓ کو بھی اب اپنے ساتھ علاقہ میں غنڈا گردی اور ان فراڈز اور کاروباروں میں شامل کر لیا ہے۔ آج تک پولیس افسران کو اس کے خلاف جتنی بھی درخواستیں گئی ہیں، کسی آفیسر نے اس کے خلاف کاروائی نہ کی۔ کیونکہ علاقہ میں مختلف سازشیں کرکے تھانہ سمن آباد کو سب سے زیادہ دیہاڑیاں لگوانے والا یہی ٹاوٹ ہے۔ اس نائی نے قمر آرا خانم کو آج تک بیس سے زائد کرائے دار دیے اور تمام جعلی کرائے نامے اسی نائی نے تیار کرائے تھانہ میں ہر مرتبہ جمع کرائے۔ کیونکہ قمرآرا کے پاس کسی قسم کا ملکیتی دستاویز یا مختار نامہ بھی نہ تھا کہ وہ کرایہ نامہ بناتی۔ کونکا نائی اور قمر آرا سے درخواست دہندا نے متعدد بار تمام جعلی کرائے ناموں کی کاپیاں مانگی مگر دونوں دینے سے انکاری ہیں محکمہ پولیس بھی نہیں دیتا شاید غائب کردئے ہیں۔ لہزا جعلی رسید مبلغ 50 لاکھ، جعلی گفٹ ڈیڈ اور تمام جعلی کرایہ ناموں کا برآمد کیا جانا بھی لازمی ہے۔ علاقہ سے شہادت لی جاسکتی ہے کہ کونکا نائی ہر چار پانچ ماہ بعد اس مکان کی اوپر کی منزل میں کوئی نہ کوئی کریمینل نیا کرایہ دار بنا کر گھساتا ہے۔ جبکہ درخواست دھندا کو اسی نائی اور قمر آرا نے علاقہ کے مختلف غنڈوں سے دھمکیاں بھی دلوائیں۔۔۔ قبل ازیں موڑ سمن آباد کے قریب ٹوٹل پیٹرول پمپ کے بالکل ساتھ والا کمرشل ایریا مکان جو ہمارا آبائی ہے اوردادای کا تھا اسے بھی قمر آرا کو بلیک میل کرکے مستقل لوٹنے والے پولیس کے گینگ نے جعلی پی ٹی ون بنا کر جعلی رجسٹری کرکے ہڑپ کرلیا ہے۔ جناب عالی اب چند ہفتے قبل پھر ہمارے اس 6 مرلہ مکان میں کونکا نائی نے چنگڑ ٹائپ 5 مرد تین عورتیں گھساکر ناجائز قبضہ کرا دیا ہے جن سے ہمارے سارے گھر کی جان کو خطرہ ہے۔ پولیس کے بلیک میلرز نے یہ گینگ بغیر کسی کرایہ نامہ کے گھسائے ہیں۔ کونکا گینگ کا پراپرٹی پر ناجائز زبردستی قبضہ کرنا ، جعلی گفٹ ڈیڈ تیار کرنا، مکان کی زین وغیرہ کے نام سے جعلی رسید تیار کرنا اور سول کورٹ میں استعمال کرنا اور جعلی کرائے نامے تیار کرکے استعمال کرنا، ٹوٹل پمپ کے ساتھ والے مکان کی جعلی رجسٹری کراکے قبضہ کرا دینا ، قتل کی دھمکیوں اور حراسمنٹ سمیت تمام جرائم پر ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔۔۔ ایک طرف پولیس کرائے دار، کرائے نامے چیک کرنے کے بہانے گھر گھر جاکر عزتیں لوٹتی ، مال لوٹتی ہے دوسری طرف سالہا سال سے اپنے مکان میں جعلی کرائے ناموں یا بغیر کرایہ ناموں پر گھسنے والے گینگز کی اطلاع کرتا ہوں اور آج تک کاروائی تو دور پولیس نے آکر چیک نہیں تک نہیں کیا۔ جو پولیس پر درج بالا تمام الزامات کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ مزید یہ کہ چند ماہ قبل جب اوپر کا پورشن خالی ہوا تو میں نے محلہ معززین کے ہمراہ کونکا نائی کو کہا کہ نیچے قمر آرا رہ رہی ہے اس سے میں عدالت کے ذریعے قبضہ لوں گا لیکن اوپر کے پورشن کا میں نے تالا لگایا ہے اب تم اسے توڑ کر مت نیا قبضہ گروپ گُھسانا لیکن اس نے تین سادہ کپڑوں والے مبینہ نامعلوم پولیس ملازمین کے ہمراہ تالا توڑا اور کہا کہ یہ تالا پولیس نے توڑا ہے اور اب جو روکے گا اسے دیکھ لیں گے اور پھر پولیس نے نیا قبضہ گروپ اس طرح آہنی تالا توڑ کراب تازہ قبضہ کرایا ہے۔۔۔ مزید یہ کہ قمر آرا کو بلیک میل کرنے والوں نے اس کے ذریعے 2008 میں جب قبضہ کیا تھا تب مرحوم شمشاد عالم خان کا مکمل سامان، زیورات، نقدی اور اس پراپرٹی سمیت دیگر پراپرٹیز کے کاغزات ملکیت اور دیگر فائلیوں وغیرہ پر بھی قبضہ کرلیا تھا جس سے آج تک مرحوم کا بیٹا زین محروم ہے۔ تاریخ: 16 اگست 2025
قارئین! اس مقدمہ میں انتہائی دلچسپ امر یہ ہے کہ قبضہ کے لیے فرنٹ پر رکھی گئی یرغمال خاتون ہر فورم بشمول عدالتوں میں تسلیم کرتی ہے کہ اس نے جعلی کاغذات جعلی گفٹ ڈیڈ جعلی رسیدیں سادہ کاغذ پر چند وکیلوں کے گینگ بشمول ہارون الیاس ایڈووکیٹ سے بنوائے۔ جبکہ سیشن کورٹ میں تحریری بیان دیا کہ مکان کی وہ مالکہ نہ ہے اور گراونڈ فلور پر ناجائز قابض ہے۔ اس عدالت میں مقدمہ دائر ہوا کہ فرسٹ فلور پر 2008 سے پولیس قابض ہے جبکہ گراونڈ فلور پر قمر قابض ہے۔ پھر بھی پرچہ روکنے جیسا جرم ایسا ثبوت ہے کہ اس میں ملوث تمام افسران کو برطرف کرکے فوری جیل ہونا چاہیے۔ لیکن کون کرے گا؟ اس ملک میں ایسا کون سا فورم ہے جو اصل طاقتور کرپٹ لُٹیروں کو سزا دے سکے؟ کوئی نہیں ہے؟ عوام کو بچانے کے لیے بھرتی کیے گئے سارے سرکاری غنڈے چوکیدار ہی اب ڈاکو چور غدار ہیں۔ پرائیوٹ کریمنلز ان ہی کے ایجنٹ ٹاوٹ فرنٹ مین ہیں جنہیں بچانے کے لیے یہ سب سرکاری حرامی سول مدعی کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔