Sharp Eye

Sharp Eye Sharp Eye is Pakistan's independent news agency. Initially news service was started in English, Urdu and Arabic languages.

Sharp Eye was founded by renowned journalist, columnist, poet and Chief Editor Dr. Mian Muhammad Azhar Amin Godizt in 1999 with the aim to provide true news to all types of media in different languages.

Copy Paste
22/08/2026

Copy Paste

21/08/2026
Editorial of SHARP EYE - 21 August 2026  اداریہ ۔۔ شارپ آئی۔۔ 21 اگست 2026
21/08/2026

Editorial of SHARP EYE - 21 August 2026
اداریہ ۔۔ شارپ آئی۔۔ 21 اگست 2026

21 اگست 2026عدالت آخری فورم ہے لہزا بے انصاف جج کا واحد حل اسکا قتل ہے*****************************************عدلیہ کنج...
21/08/2026

21 اگست 2026
عدالت آخری فورم ہے لہزا بے انصاف جج کا واحد حل اسکا قتل ہے
*****************************************
عدلیہ کنجریہ میں خوفناک عبرتناک احتساب کی ضرورت ہے۔ کرپٹ ججوں، وکیلوں اور پولیس کونشان عبرت بنائے بغیر ملک میں کچھ بھی بہتری نہیں ہو سکتی چاہے جتنے مرضی نظام تبدیل کرنے کے فوج ڈرامے کرے ، اصل مجرم تو ہے ہی فوج اور ان کی داشتہ عدلیہ
وکیل پولیس سے بڑا حرامی جعلساز اور سپاریاں اٹھانے والا گینگ ہے اور عدالتوں میں ان کرائے کے غنڈوں کا 99فیصد جھوٹ لکھنے اور بولنے کی وجہ یہ ہے کہ ان حرامیوں کو معلوم ہے کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی اور اگر عدالت کرے تو پھر ججوں کو پھینٹا لگاتے ہیں۔
وکیل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور سیف اللہ سوہل کی عدالت میں نئے قبضہ ایکٹ کے تحت دائر چند مقدمات پر اس جج کے مجرمانہ افعال دیکھ کر مجھے ثابت ہوا کہ پنجاب حکومت اور ہائی کورٹ کا اس نئے قبضہ قانون پراصل جھگڑا یہ تھاکہ جوڈیشری کے "حصے"کےبغیر یہ کام انتظامیہ کرکےاکیلےکھائے گی۔
سیف اللہ سوہل کرپٹ جج ہے اور سپاریاں اُٹھا رہا ہے۔۔ میں جج سیف اللہ سوہل کو لائیو مناظرے کا چیلنج دیتا ہوں کہ جو الزام میں نے اس پر لگایا ہے تمام دنیا کے سامنے لائیو مناظرے میں ثابت کروں گا۔ لیکن یہ جج لائیو مناظرے کی کبھی جرات نہیں کرے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہ کتنا کرپٹ ہے۔
جب انتظامیہ جرم ظلم بے انصافی کرتی ہے تو آخری فورم عدالت ہے اور اگر یہ بھی اصل مجرموں یعنی سرکاری سوروں کو بچاتے نظر آئیں تو مظلوم کے پاس کیا حل ہے؟ 26 سال سے میں عدلیہ کنجریہ کے یہ مظالم جرائم درندگیاں خود دیکھ اور برداشت کررہا ہوں لہذا میں ان حالات میں عوام کو یہی مشورہ دے سکتا ہوں کہ جو مظلوم ہے وہ جب یہ دیکھے کہ جج انصاف نہیں دے رہا تو سب سے پہلے جج اور دونوں سائیڈ کے وکیل مارے کیونکہ جج ان دونوں وکیلوں کے ساتھ مل کر ہی جرم کرتا ہے۔ اسی لیے کرپٹ جج کو اصالتا ً آنے والے کی بہت تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ پھر متعلقہ محکمہ کا متعلقہ افسر مارے پھر اپنے مجرم کے ساتھ جو چاہے سلوک کرے۔ لیکن اب ریاستی اداروں پر قابض کرپٹ ترین درندوں کا واحد یہی حل ہے اور جن میں یہ ہمت طاقت ہے وہ ضرور کریں ورنہ مجھے دیکھ لیں کہ کیونکہ میرے دل میں کسی کو قتل کرنے کی ہمت نہیں ہے لہذا میرے ساتھ کھلی ننگی درندگیاں ریاستی اداروں اور ان کے سول ٹاوٹس 26 سال سے مسلسل کررہے ہیں۔۔۔ یہاں میں اپنے ساتھ آج تک سنگین جرائم کرنے والے درجنوں ججوں بشمول جسٹس امین الدین خان کو کم از کم علامتی سزائے موت تو سنا سکتا ہوں اور اگر تقدیر نے طاقت دی تو قانونی ٹرائل کے بعد سب کو سزا ئے موت دلواں گا۔
ڈاکٹر گاڈازٹDr. Godizt

12/08/2026

ڈاکٹر گاڈاِزٹ الیکٹرک انسپکٹر لاہور کی عدالت میں

Journalist Columnist Poet and Chief Editor SHARP EYE personally appeared in a petition against LESCO filed by him In-Person before the court of Learned Electric Inspector Lahore Engineer Usama Rauf. Accused LESCO appeared through Legal Advisor LESCO Advocate Azhar Iqbal who requested the court for adjournment for filling the reply of the case filed by Dr Godizt.....
صحافی، کالم نگار، شاعر اور 'شارپ آئی کے چیف ایڈیٹر نے لاہور کے الیکٹرک انسپکٹر انجینئر اسامہ رؤف کی عدالت میں لیسکو کے خلاف اصالتا دائر کردہ مقدمہ کے سلسلے میں ذاتی طور پر پیش ہوئے۔ دوسری جانب، ملزم لیسکو کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے قانونی مشیر ایڈووکیٹ اظہر اقبال پیش ہوئے اور عدالت سے استدعا کی کہ ڈاکٹر گاڈاِزٹ کی جانب سے دائر مقدمے کا جواب جمع کرانے کے لیے سماعت ملتوی کی جائے۔

09/08/2026

Turkey Saudia Pakistan Agreement
چوہدری کو اگر اپنی چودھر بچانے کے لیے کنجروں میراثیوں کمیوں کی ضرورت پڑتی ہے تو سمجھ لیں چوہدری کا وقت دور ختم ہو چکا ہے۔۔ اب ترکی اور سعودی عرب کا عبرت ناک انجام قریب ہے ۔پھر انہوں نے تو مالکوں کے غداروں لٹیروں کی مدد لی ہے۔۔۔ ڈاکٹر گاڈاِزٹ

08/08/2026

Breaking News- Complaint for FIR against LESCO-SNGPL and other from Iram Ashfaq -Fake reports of Electric Inspector contractors are being used by LESCO
بخدمت جناب ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے پاکستان،بخدمت جناب ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور

درخواست برائے اندراج ایف آئی آر برخلاف لائن سپرنٹنڈنٹ جاوید سب ڈویزن اتحاد کالونی لیسکو لاہور و دیگر ملوث ادارے و نوکر برائے اختیارات کا غلط استعمال، جعلسازی فراڈ، لوٹ مار ، رشوتیں لینا، میرے ساتھ بد تمیزی بوجہ نیا کنکنکشن کے لیے رشوت نہ ملنا درخواست رجسٹریشن نمبر 11244016201

جناب عالی! یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ہر سرکاری، نیم سرکاری ادارہ میں جو بھی تنخواہ دار نوکر جس کام کے لیے بھرتی کیا گیا ہے وہ کام نہ کرنے کی تنخواہ مراعات ،چودھر اور بدمعاشی غنڈا گردی کررہا ہے ۔ جبکہ کام صرف رشوت لے کر کرتا ہے اور اگر کوئی شریف سائل طے کرلے کہ رشوت کے بغیر میرٹ پر کام کرانا ہے تو اُس کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا ہے کہ انسان خود کشی کی نوبت تک آجاتا ہے ۔میرے ساتھ لیسکو اتحاد کالونی سب ڈویزن دفتر میں محض نئے میٹر کی درخواست بغیر رشوت دینے پر اتنا ظلم ہوا کہ میں تین مرتبہ دفتر سے سیدھی ہسپتال گئی اور پھر حالت درست ہوئی اور زندگی بچی۔ یہ بات سارے دفتر کو معلوم ہے کہ بیوہ ہے اور اس ذلت ، حبس اور گرمی کی وجہ سے تین مرتبہ ہسپتال پہنچی ۔۔۔میرے خاوند کا دو سال قبل اچانک انتقال ہو گیا جس وجہ سے مجھے اکیلےدفتروں میں دھکے کھانے پڑ رہے ہیں۔ میں بجلی کا میٹر کنکنشن لگوانے کے لیے آن لائن درخواست جمع کروا کر تمام ریکوائر منٹس بمع ثبوت ملکیت ، پہلے سے ایک پورشن میں لگے دیور کے میٹر کے بل کی کاپی، الیکٹرک انسپکٹر کی رپورٹ وغیرہ سمیت ہر چیز پوری کی ، مکمل ہارڈ کاپی فائیل جسٹس لاء چیمبر لیمٹڈ (فری سیل)سے مکمل کروا کر لے کر لائن سپرنٹنڈنٹ جاوید کو ملی اور ڈیمانڈ نوٹ جاری کرنے کی درخواست کی تو اس نے کہا کہ ایس ڈی سی راشد سے پہلے ڈاکومنٹس ویریفیکیشن کراکے ڈائری نمبر لگوا لیں پھر فائیل میرے پاس آئے گی تو فوراً ایک دو روز میں سائن کردوں گا۔ ایس ڈی سی نے پہلے تو مجھے کہا کہ یہ آن لائن فائیل آپ نے جسٹس لاء چیمبر لیمٹڈ سے کیوں تیار کرائی ہے آپ خضر ا مسجد کے پاس جائیں وہاں فلاں شخص کمپیوٹر رکھ کر بیٹھا ہے وہ آپ کو نئے سرے سے آن لائن ENC پر اپلائی کرکے فائیل بنا کر صرف 4000 روپے میں تیار کردے گا وہ لے کر آئیں۔ میں نے کہا کہ جب یہ بالکل درست ہے مکمل فائیل ہے تو دوبارہ کیوں بنواوں اورجسٹس لاء چیمبر لیمٹڈ کے فری سیل نے مجھے یہ سب کچھ فری کرکے دیا ہے جوکہ بے شمار لوگوں کے ساتھ ایسے ہی نیکی کرتے ہیں۔۔ جس وہ بُڑبڑایا کہ ایک تو یہ ڈاکٹر گاڈاِزٹ صحافی سب کے مفت کام کرنے کا ٹھیکا اُٹھا کر بیٹھاہے۔۔۔ مجھے ایس ڈی سی نے ناجائز چار پانچ چکر لگوائے، کبھی کہتا کہ سارے کاغذات پی ٹی ڈی/ٹی او وغیرہ کی اصل مکمل فائیل لاو اور جب میں وہ لے گئی تو کہا کہ ہم تو صرف پی ٹی ون پر لگاتے ہیں اپنے نام کا وہ لاو تو میں نے کہا کہ یہ میرے خاوند کی وراثتی جائداد ہے ابھی تک دادا سُسر کے نام ہے۔ اپنے اپنے پورشن تو کر لیے ہیں اوپر دیور ہے نیچے میں ہوں لیکن پی ٹی ون شاید اس لیے نہیں ہے کہ پانچ مرلہ سے کم پر ٹیکس نہیں تھا۔ ورنہ پراپرٹی ٹیکس والے تو محض محلے سے رہائشی کا نام پوچھ کر بغیر کسی ملکیتی کاغذ کے پی ٹی ون ٹیکس ڈالتے چلے آرہے ہیں چاہے رہائشی محض ناجائز قابض ہو۔۔ اور میں نے کہا کہ پی ٹی ون تو ملکیت ہوتی ہی نہیں تم کیسے صرف پی ٹی ون پر کنکشنز لگارہے ہو تو اس نے کہا کہ نہیں ہم تو صرف وہی مانتے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ ان ہی ملکیتی کاغذات پر تم نے میرے دیور کا میٹر کیسےپاس کیا تھا جب اس نے لائن میں کو رشوت دے کر باھی کچھ عرصہ قبل لگوایا تھا۔ تو اس بات پر اور زیادہ غصے اور بدتمیزی پرراشد اتر آیا ۔۔۔ پھر میں نے ڈاکٹر گاڈاِزٹ سے ایس ڈی سی راشد اور زبیر کی فون پر بات کرائی اوروہ ان دونوں کو فون پر آدھ گھنٹا یہ سمجھا سمجھا کر تھک گئے کہ تم اصل ملکیت الاٹمنٹ بائی گورنمنٹ کو ماننے سے انکار کررہے ہو اور ٹیکس رسید /پی ٹی ون پر رشوتیں لے کر کنکشن لگاتے ہو تب بھی انہوں نے ماننے سے انکار کیا ۔تو ڈاکٹر گاڈاِزٹ نے ان کے اعلی افسران کو یہی بات کی اور کہا کہ اب میں کئی درجن ثبوت دوں گا کہ علاقے میں جتنے بھی میٹرز پچھلے چند سال میں لگے ہیں وہ لائن مینوں /لائن سپرنٹنڈنٹس کو محض شناختی کارڈ کی کاپی اور ہزاروں روپے رشوت دے کرگھر آکر لگا کر گئے ہیں ۔اس کے بعد انہوں نے مجھے فون پر ہی کہا کہ اب ایک مرتبہ ایس ڈی او کو جاکر ساری بات بتائیں ، تو میں ایس ڈی او حسنین کے پاس گئی اس نے تما م ملکیتی فائیل اصل دیکھ کر ایس ڈی سی والی فائیل پر Allowed کر دیا اور جب میں ایس ڈی سی راشد کے پاس گئی تو پھر اس نے ڈائری نمبر دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ ایس ڈی او نے فائیل کے اوپر کیوں لکھا ہے اندر صفے پر لکھے ، میں پھر ایس ڈی او کے پا س دوبارہ گئی تو انہوں نے اندر لکھ دیا ۔ لیکن پھر بھی اس ایل ڈی سی نے مجھے ڈائری نمبر نہ دیا اور کہا دو دن بعد معلوم کریں ۔ اس وقت ایک شخص مجھے کہا کہ ایس ڈی او بے چارہ کیا کرے یہ سب یونین کے غنڈے ہیں۔ تو مجھے ڈاکٹر گاڈاِزٹ کی بات یاد آگئی جو اکثر کہتے ہیں کہ فوج نے اس ملک کے کاروبار تباہ کرکے اپنے غیرقانونی کاروبار چلانے کے لیے جو سب سے بڑا جرم بھٹو کو گن پوائنٹ پرکرنے پر مجبور کیا تھا وہ یہ تھا کہ کاروبار حکومت نے چھین لیے اور یونین بازی بنا دی گئی ۔۔۔ اسکے بعد ایس ڈی سی مجھے نے کہا کہ آپ جائیں اور میں کچھ دن میں ڈاکومنٹس منظور کرکے اوپر کی منزل پر ایل ایس جاوید کو فائیل بھجوا دوں گا اور اس نے پھر بھی ڈائری نمبر نہ دیا۔۔ ایل ایس جاوید خبیث کنجر کرپٹ ترین بدتمیز ترین غنڈے نے مجھے چکر لگوا لگوا کر ، بد تمیزیاں کرکر کے دو ہفتے رُلا دیا اور مجھے دفتر سے ہی معلوم ہوا کہ اسے جس کیس میں حصہ نہیں آتا تو یہ سارے دفتر کو پاگلوں کی طرح کھانے کو پڑتا ہے ۔ ان حالات میں پھر میں نے جاکر ڈاکٹر گاڈاِزٹ کو جاوید کی بدمعاشی بتائی تو انہوں نے لکھ کر تمام افسران اور تمام اداروں کو اپنا کالم جاری کیا جس کے بعد اسی روز یکم اگست کو ہفتہ کے دن دفتر سپیشل کھول کر ہنگامی طور پر میرا ڈیمانڈ نوٹ بنا اور ہفتہ کو ہی ہمیں دفتر نے واٹس ایپ کیا اور زبیر اور راشد نے کہا کہ ہمیں معاف کردیں ہم نے تو کلیر کردیا تھا، فائیل تو جاوید نے پھنسا رکھی ہے ۔ جناب عالی! معاملہ یہاں بھی ختم نہیں ہوا ۔ ایک اور سکھا شاہی معلوم ہوئی کہ بنک ڈیمانڈ نوٹ کا بل جمع ہی نہیں کرتا جب تک الیکٹرک انسپکٹر کی وائرنگ کی رپورٹ اصل فائیل سے نکلوا کر بنک کو نہ دی جائے حالانکہ بنک نے ڈیمانڈ نوٹ بل کی رقم جمع کرنا ہے اس کا کوئی تعلق نہ ہے لیکن رشوت نہ دینے والوں کے راستے میں بے شمار پتھر ہر سرکاری دفتر میں رکھے گئے ہیں کہ اگر رشوت نہیں تو جاو ریکوائرمنٹس پوری کرتے مر جاو۔میں مورخہ 3 اگست پیر کے روز سے اصل رپورٹ لینے روزانہ دفتر جانا شروع ہوئی اور راشد او ر زبیر کے پاس گھنٹوں بیٹھ کر آجاتی لیکن یہ کہتے فائیل نہ مل رہی ہے کل آئیں، پرسوں آئیں۔۔ اب گزشتہ روز بروز جمعہ مورخہ 7 اگست 2026 کو میں پھر گئی اور شور ڈالا تو ایک فائیل سے ایس ڈی سی راشد نے مجھے الیکٹرک رپورٹ نکال کردی ۔ میں پھر پیدل کافی دور آکر گرمی اور حبس میں بیماری میں چنگ چی پر بیٹھ کر بنک کی جانب جارہی تھی کہ راستے میں دیکھا کہ کسی اور نام کی کسی اور کی الیکٹرک رپورٹ مجھے دے دی ہے ۔ گرتی پڑتی پھر واپس گئی اور کہا کہ یہ کسی اور کی رپورٹ کیوں دی ہے تو راشد بولا کہ آپ اس بات کو چھوڑیں جاکر یہی لگا کر بنک میں ڈیمانڈ نوٹ فیس جمع کرائیں ۔ میں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ تم لوگ مجھ سے شکایات کا بدلہ لینے کے لیے پھنسا کر پرچہ کرانا چاہتے ہو جب بنک نام دیکھے گا کہ ڈیمانڈ نوٹ ارم اشفاق کا ہے اور رپورٹ کسی رمضان کی ہے تو وہ جعلسازی کا پرچہ وہیں کھڑے مجھ پر کرائے گا تو راشد نے کہا کہ کوئی وہاں پڑھتا ہی نہیں ہم ایک ہی رپورٹ کئی فائیلوں میں چلا دیتے ہیں ہمارا روز کا تجربہ ہے آپ میری گارنٹی پر بے فکر ہو کر جائیں۔ اس سے مجھے انداز ہوا کہ الیکٹرک انسپکٹر کے کنٹریکٹر کے پیسے بھی اس طرح کھائے جاتے ہیں کہ ایک رپورٹ کئی فایلوں میں لگائی جاتی ہے۔۔ جس پر میں نے یہ جعلی رپورٹ راشد اور زبیر کو واپس کی اور اپنی مانگی تب یہ بولے کہ فائیل اوپر جاوید نے غصے میں دبا لی ہے کیونکہ اسے اس کے حصہ کے اس ڈیمانڈ نوٹ جاری کرنے پر پیسے /رشوت نہیں ملی وہ اب نہیں دے رہا تو ہم کیا کریں اسی لیے آپ کو کسی اور کی رپورٹ دی کہ آپ کا کام تو ہو جائے۔۔آگے ہی ڈاکٹر گاڈاِزٹ بڑے غصے میں ہیں۔۔۔ اِسی دوران ہمارے علاقے کے ایک دکاندار کا بیٹا وہاں کھڑا جو سب دیکھ رہا تھا اس نے مجھے کہا کہ باجی کیا مسلئہ ہے تو میں نے کہا کہ لائن سپرنٹنڈنٹ کو رشوت نہیں ملی تو اب فائیل سے مجھے الیکٹرک انسپکٹر رپورٹ اصل واپس نہیں کررہا جس کے بغیر ڈیمانڈ نوٹ بنک جمع نہیں کرتا اور میں بار بار اوپر سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی تب اس نے مجھ سے ڈیمانڈ نوٹ لیا اور اوپر جاکر جاوید کو درخواست کی کہ ہماری محلے دار باجی بہت خوار ہو گئی ہیں مہربانی کرکے اس ڈیمانڈ نوٹ کی فائیل سے پیپر دے دیں تاکہ وہ ڈیمانڈ نوٹ کا بل بنک میں جمع کرا سکیں تو جاوید نے کہا کہ دو تین روز بعد آنا فائیل تلاش کروں گا۔ وہ بھی مایوس ہوکر واپس آگیا اور پھر میں اوپر گئی اور جاکر زور زور سے چیخنا شروع کیا اور یہ لفظ کہے کہ تم تنخواہ دار نوکر داتا بن کر بیٹھے ہو۔ اس چیخ پکار سے سارا دفتر اکٹھا ہو گیا تو جاوید نے جلدی سے میز پر ہی پڑی فائیل سے مجھے رپورٹ نکال کردی او رکہا جا بی بی جان چھڈ۔۔۔۔ اب مجھے ڈاکٹر گاڈاِزٹ کی باتوں کا یقین ہو گیا ہے کہ یہ سب جرائم ہر ادارہ صرف اسی لیے کررہا ہے کہ فوج کو اپنے جرائم غداریاں لوٹ مار، ناجائز غیرقانونی کاروبار اور زمینوں پر قبضے ، اسمگلنگ، منشیات فروشی ، بجلی گیس ٹیکس چوری وغیرہ جیسے جرائم کا دھندا برقرار رکھنے کے لیے ہر ادارہ میں ہر شخص کرپٹ چاہیے اور پھر یہ کرپٹ بیورو کریسی اس طرح آئے روزانہ عوام کی عزت جان مال لوٹ رہے ہیں کہ ان کے پاس فوج کے جرائم کے ثبوت ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب بھی فوج کے کوئی جرائم سے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کی حکومت کو سب سے بڑا دہشت گرد ملک دشمن اور ملک لوٹنے والا ثابت کرکے اس کی حکومت گرا کر خود یہ کہہ کر ناجائز قبضہ کرکے غداری کرکے کہتے ہیں کہ سسٹم ٹھیک کرنے آئے ہیں اور جب اُن ہی کے ساتھ دوبارہ نیا سودا ہو جاتا ہے تو یہی پھر فرشتے فوج کی طرف سے ڈیکلئر کرکے دوبارہ حکومت دے دی جاتی ہے جیسا کہ اب پھر غدار فوج سسٹم فیل کانعرہ لگا کر ہر ادارہ پر اب مکمل اپنا قبضہ کرنے کا پلان بنا رہی ہے تاکہ اس کے جرائم پر اب تھوڑا بہت بھی کوئی بات کرنے کے بھی قابل نہ رہے۔ ڈاکٹر گاڈِزٹ بتاتے ہیں کہ پلان یہ ہے کہ ہرادارے پر ہر ضلع اور تحصیل پر بریگیڈئرز اور کرنل انچارج بنا دئے جائیں اور عوام کو تھوڑا ریلیف دیا جائے اور عوام کہے واہ واہ چلو جو بھی ہے یہ عوام کو کچھ ریلیف دے رہے ہیں۔۔۔ اپنے آپ کو عوام کے غیض و غضب سے بچانے کے لیے سسٹم فیل کا یہ ڈرامہ تیار کرکے نئے طریقے سے عوام کو گدھا بنایا جانے والا ہے۔۔۔ جناب عالی! ملک کے تمام آر اوز اور سب ڈویزنز چوری کرائے گئے یونٹس کو ریکارڈ میں جعلسازی سے پورا کرنے کے لیے مل کر اس لیول کے جرائم بھی کررہے ہیں کہ دفتر بیٹھ کر ریڈنگ کی فوٹو کو ایڈیٹ کرکے یونٹ بڑھا دیتے ہیں اور اگر کوئی شور ڈالے تو کہتے ہیں کہ تم نے میٹر پیچھے کیا ہے۔جعلی ریڈنگز مخلتف جعلسزیوں سے ڈلی جاتی ہے۔میں خود اپنے محلے اور ملنے والوں میں ہر دوسرے شخص کو روتے دیکھ رہی ہوں۔ ایس ڈی او ، ایس ای،ایکس ای این، آر او دفاتر اس جرم کے متاثرین سے بھرے ہوتے ہیں۔ ۔۔۔ اس کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ ہمارے ہی محلے میں ایسے درجنوں جرائم ہوئے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ ہر شخص جانتاہے کہ گھر گھر میں بھائی بھائی کی لٹرائیاں، قتل وغارت ا ور خود کشی اور لڑئی جھگڑ جیسے حالات بجلی اور گیس کے بلز کی وجہ سے بھی انتہا تک پہنچ چکے ہیں ، کیونکہ گھروں میں کئی کچن علیحدہ ہو چکے ہوتے ہیں لیکن میٹرز انہیں یہ کرپٹ ادارے علیحدہ نہیں لگانے دیتے اُلٹا جاہلانہ ظالمانہ بیلک میلنگ کے لیے نئی نئی مجرمانہ پالیسیاں بناتے ہیں کہ دو میٹر جس گھر میں ہوئے تو بس پھانسی ہی لگا دیں گے حالنکہ رشوت اور سرکاری فیس لے کر خود لگائے ہوتے ہی۔ بجائے اس کے کہ حکومت ایسی پالیسی بنائے کہ جس گھر میں ایک کنکشن لگا ہے اس گھر کا کوئی بچہ یا کرائے دار اگر میٹر اپلائی کرے تو فوراً محض اس کے شناختی کارڈ پر لگا دیا جائے کیونکہ اس کے لیے تو محکمہ کا خرچہ ایک روپیہ بھی نہیں ہونا ہوتا اور گھر کے دروازے پر گیس یا بجلی تو موجود ہوتی ہے اور پہلے کنکشن پر ملکیت وغیرہ کاغذی کاروائی ہو چکی ہوتی ہے۔محض اسی لائن پر میٹر لگنا ہوتا ہے کہ اپنا اپنا بل دے کر گھر میں قتل و غارت لڑائی جھگڑے نہ ہوں لیکن سرکاری ادارے تو کام ہی یہی کرتے ہں کہ دفاتر، تھانے عدالتیں بھرے رہیں اور ان کا کاروبار خوب چلے۔پاکستان میں ہیومن رائٹس کا تو وجود ہی نہ ہے ۔ سرکاری نوکر بالاخصوص سی ایس پی اور فوجی افسران ایسی پالیسیاں بناتے ہیں کہ کسی نہ کسی بہانے ہر گھر کی عزت جان مال لوٹ سکیں۔۔۔ اب ایس این جی پی ایل کا تازہ جرم یہ سامنے آیا ہے کہ دو روز قبل اچانک میرے گھر سمیت ہماری سٹریٹ نمبر 43 اور دیگر گلیوں کے سینکڑوں سارے گیس میٹر بدل دیئے ہیں اور معلوم ہوا کہ کہ بڑی تعداد میں بدلے جارہے ہیں۔ حالنکہ یہ سب میٹر اے ون ہیں۔ لہذا ثابت ہے کہ میٹروں میں کسی جرنیل اور گیس افسران کی لمبی دیہاڑی لگائی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف پچھلے بیس سال میں جمع ہونے والے نئے کنکشنکز کی درخواستیں غیرقانونی طور پر کینسل کردی گئی ہیں اور ان لاکھوں درخواستوں کے ساتھ جمع فیس درخواست بھی محکمہ فراڈ کرکے کھا گیا ہے۔۔۔ کیا یہی میٹرز ان کو کنکشنز دے کرنہیں لگائے جاسکتے تھے ان پینڈنگ درخوستوں پر ، جو بلاوجہ تبدیل کیے گئے ہیں اور زیادہ درخواستیں ان لوگوں کی تھیں جن کے گھر گیس کنکشن پائپ پہنچا ہوا ہے۔اس سے لوڈ بھی نہیں بڑھے گا محض بلنگ علیحدہ ہو گی۔۔ لیکن اس ملک میں غدار جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک جرنیل اربوں روپے کے خراب میٹر بجلی خرید کر رقم کھا جاتا ہے اور آج تک کسی نے نہیں پوچھا اور ایسے کا م روز ہو رہے ہیں جیسا کہ یہ گیس میٹر تبدیل کا ایک نیا خوفناک اسکینڈل ہے ۔ اگر گیس کے متعلقہ افسران کو گرفتار کرکے باقاعدہ ریمانڈ لے کر چھتر مارے جائیں تو وہ تسلیم کریں گے کہ یہ صرف دیہاڑی پروگرم ہے تاہم خبر رساں ایجنسی "شارپ آئی" کے ایک ذرئع کے مطابق یہ میٹر اس لیے تبدیل کیے گئی ہیں کہ بجلی کی طرح اِن کی بھی کئی گنا سپیڈ بڑھا دی گئی ہے ۔۔۔ میں نے ڈاکٹر گاڈاِزٹ سے پوچھا کہ میرے ساتھ ہونے والے جرائم کا یہ پرچہ کیا درج ہو جائے گا تو انہوں نے کہا کہ میں نے دو تین سال قبل ایس این جی پی ایل کی جعلسازی فراڈ اور اربوں روپے کی خرد برد کی درخواست ایف آئی اے کو ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ دی تھی جس میں ہمارے ساتھ بھی جرم ہوا تھا لیکن ایف آئی اے افسران نے کروڑوں رشوت لے کر فائیل دبا دی او راسی طر ح ایس ای سی پی کے خلاف ناقابل تردید دستاویزی ثبوت دیکھ کر سیشن کورٹ نے دو سال قبل پرچے کا حکم دیا جو ایف آئی اے افسران نے رشوت لے کر اس حکم کی بھی توہین آج تک کررہے ہیں۔۔۔ اسی طرح ابھی تازہ چند ماہ قبل نادرا کے سنگین جرائم پر سیشن کورٹ نے پرچہ درج کرنے کا حکم ایف آئی اے کو دیا لیکن ڈی جی اور ڈائریکٹر لاہور اسے بھی تعمیل کرنے اور سچے پرچے درج کرنے سے انکاری ہیں۔۔ اسی طرح لیسکو کے جعلی بل ڈالنے کی متعدد درخواستیں بھی میری اپنی یہ حرامی سور دبائے بیٹھے ہیں جن میں لیسکو جرائم تسلیم بھی کرچکی ہے۔۔۔ لہذا میں آپ کو کیسے کہہ دوں کہ یہ حرامی کرپٹ اصل درندے ،حرامی پُلسیے ، فوجی بیورو کریٹ پرچہ درج ہونے دیں گے۔۔۔ تاریخ:8 اگست 2026

درخواست دھندہ
ارم اشفاق بیوہ محمد اشفاق احمد سکنہ مکان نمبر 4/1، گلی نمبر 43 گلزیب کالونی سمن آباد لاہور،
بزریعہ جسٹس لاء چیمبر لیمٹڈ JUSTICE LAW CHAMBER PVT LIMITD فون 03127599814

06/08/2026

6 August 2026
Why is it that the police force consists almost entirely of the most depraved, vile, and criminal elements?
پولیس میں تقریباً تمام بد کردار ترین، غلیظ ترین ، جرائم پیشہ ہی کیوں ہیں؟
اچانک دو سال قبل سی ایس پی پولیس افسران نے کیوں ویڈیوز ڈرامہ شروع کرکے ثابت کرنا شروع کیا کہ وہ رینکر پولیس میں احتساب کرتے ہیں؟ اہم راز
کالم نگار: ڈاکٹر گاڈاِزٹ Dr. Godizt
قارئین! میں پچھلے 26 سال میں بے شمار مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ ملک میں ہر سرکاری ادارہ میں 99 فیصد بھرتی ہر طرح سے کرپٹ عناصر کی ہوتی ہے جس کی وجہ پاکستان پر قابض بارڈر چوکیدار کا ہر شعبہ ہر گلی محلہ تک مکمل قبضہ ہے اور اپنے جرائم، لوٹ مار، غداریاں برقرار رکھنے کے لیے ملٹری ایسٹبلشمنٹ بشمول جی ایچ کیو آئی ایس آئی ، ایم آئی کو ہرسرکاری ادارہ ہر کاروبار ، سیاست ، صحافت میں صرف کرپٹ افراد درکار ہیں۔ جس وجہ سے پولیس میں بھی بھرتی کے وقت یہ خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کوئی ایسا نوجوان نہ بھرتی ہو جائے جس کا ایمان ضمیر زندہ ہو۔ جس میں انسانیت کا کیڑا موجود ہو۔ بھرتی کے لیے مکمل درندہ ہونا پہلی شرط ہے۔ پولیس افسران ہمیشہ سے اگر کسی ماتحت کو معطل کرتے ہیں تو اُسے علیحدہ بلوا کر کہتے ہیں کہ اوے گدھے یہ کیا اتنا میڈیا پر شور ڈلوا دیا ہے چل اب کچھ ماہ آرام کر۔ اس کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ ایک ڈی پی او اچانک حکم کرتا ہے کہ ضلع میں جتنے افراد سنگین جرائم پر نوکری سے نکالے گئے ان سب کو 10 درخت لگانے کا حکم دیا جاتا ہے اور جو 10 درخت لگائے گا وہ بحال ہوجائے گا۔ صرف اس ایک مثال سے سمجھ جائیں کہ فوجی کے ساتھ ساتھ سی ایس پی سب سے حرامی اور کرپٹ ہے اور جرائم کی اصل جڑ ہے۔ میں نے جب یہ پوسٹ پڑی تھی تو عوام کا سب سے دلچسپ کمنٹ یہ تھا کہ " یہ وہ حرامی پُلسیے ہیں کہ اُلٹا دس دس درخت اُکھاڑ کر بیچ دیں گے"۔ قارئین! انسان کی نیچر میں منفی سوچ کی زیادہ پکڑ ہوتی ہے لہذا ریاست کا فیصلہ ہوتا ہے کہ ریاست اپنے غنڈے بھرتی کرکے تاکہ اگر سول سائیڈ پر کوئی غنڈا گردی کرکے عوام کو کوئی تکیلف دے تو حکومت اپنے سرکاری غنڈے کا استعمال کرکے سول غنڈے کو سزا دے سکے، روک سکے۔ اس مقصد کے لیے سب سے اہم یہ تھا کہ پہلے یہ غور کیا جاتا کہ اگر سرکاری غنڈے نے عوام کی عزت جان مال لوٹنا شروع کردی تب کیا ہو گا اور اس کا کیا نظام بنایا جائے۔ اب جو نظام بنا اور اُس پر جو تعنیات ہوتے ہیں فوج نے وہ سب بھی کرپٹ سسٹم بنا دیا ہے چاہے وہ عدلیہ ہی ہو۔ لہذا ہر روز ہر پولیس والا کئی جرم کرتا ہے ایک سے بھی عوام محفوظ نہیں۔ وقتی پکڑ دھکڑ معطلیوں کا ڈرامہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ معاملہ میڈیا میں ہائی لائٹ ہو جاتا ہے۔ میں اب یہاں ایک ناقابل تردید ثبوت دیتا ہوں جس سے ثابت ہو گا کہ یہ حرامی جرائم پیشہ کرپٹ سی ایس پی پولیس افسران کو اچانک کیوں ویڈیو پر جعلی احتسابی ڈرامہ شروع کرنا پڑا۔ اس کے لیے میں ایک یتیم بچے کی درخواست ری پروڈیوس کررہا ہوں۔ یہ درخواست اس بچے نے سب سے پہلے تین چار سال قبل دی جس میں تحریر تھا کہ اس کی جس پراپرٹی پر قبضہ پولیس ملازمین نے کیا ہے اس پراپرٹی کے جعلی دستاویزات بنائے گئے جسے سول کورٹ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے بھی جعلی قرار دیا ہے لہذا جعلسازی فراڈ قبضہ کا پرچہ درج کیا جائے۔ پولیس نے پرچہ درج نہ کیا پھر اس نے 16 اگست 2025 کو نئی درخواست تھانہ سمن آباد دی جس میں تازہ جعلی کرائے نامے بنائے جانے کا جرم شامل کیا گیا۔ اس درخواست پر سیش کورٹ نے ایس ایچ او کو فوری پرچہ درج کرنے کا حکم دیا۔ سی سی پی او اور دیگر افسران بشمول ڈٰی آئی جی آپریشنز فیصل ، ایس ایس پی آپریشنز اور ایس پی صاحبان نے خود یہ معاملہ سنا اور کہا کہ ہم نہیں مانتے عدالت کے حکم کو۔ پھر عدالت نے یہ حکم دیا کہ ایس ایچ او پربھی یہ سچا پرچہ درج نہ کرنے کے جرم میں فوری سی سی پی او لاہور 155 سی کا پرچہ درج کرے جس پر ان افسران کا موقف تھا کہ یہ حکم لے جاکر جج کی گانڈ میں دے دو۔۔۔ سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ، ایس پی ڈاکٹر عمر ، ایس پی سدرہ خان نے بطور فرنٹ مین یہ مینیج کیا کہ اس یتیم بچے کو اسکی ایک ملزم کی طرف سے جعلی پرچہ میں پھنسایا جائے تاکہ یہ ڈر کر اپنے اصل پرچے سے بھاگ جائے۔ اس مقصد کے لیے ان سب پلسیوں نے اس حد تک خوفناک جعلسازیاں کیں کہ بنک ریکارڈ تک چوری کیا، کنسیلConceal کیا اور عدالت میں جعلی رپورٹیں داخل کی گئی۔ بلکہ ابھی تازہ حرامی کرپٹ آئی جی عبدالکریم نے بھی پچھلوں کی طرح عدالت میں جھوٹی رپورٹ داخل کی۔ اس درخواست پر اب جب پھر آن لائن کمپلینٹس دی گئیں تو مجبوراً ڈی ایس پی مسلم ٹاون لاہور رانا مجاہد کو مارک ہوئی جس نے اس بچے سے ساری بات سمجھنے کے لیے اور اس کے ساتھ ہونے والے اب تک کے تمام جرائم کی درخواستوں پر انکوائری کے لیے تین چار روز قبل ماتحت عملہ کے تین تھانے داروں اے ایس آئی حسن ، اے ایس آئی خلیل اور ملازم ریڈر برانچ ریاست کا بورڈ بنایا جنہوں نے تین گھنٹے سارے معاملات سُنے اور یہ تاثر دیا کہ اتنے سنگین جرائم کرنے میں سی ایس پی افسران ملوث ہیں جن کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس درخواست میں شامل وہ فقرے جسے کاونٹر کرنے کے لیے افسران نے ویڈیو ڈرامہ لگا رکھا ہے اور نہ رُک سکنے والا پرچہ بھی درج نہ ہونے دیا جارہا ہے۔ درج ذیل درخواست ری پروڈیوس کی جارہی ہے اور یہ فقرے ہائی لائٹ کیے جارہے ہیں۔
بخدمت جناب ایس ایچ او صاحب تھانہ سمن آباد لاہور
جناب عالی!قمر آرا خانم اور اسکی مرحومہ بہن مہر آرا خانم نے شفقت عرف کونکا نائی اور کچھ نامعلوم بلیک میلرز کے ساتھ مل کر ہم مشورہ ہوکر جعلی ہبہ نامہ منجانب شمشاد عالم خان (درخواست دہندہ کا تایا) تیار کرایا اور مرحوم شمشاد عالم خان کے مکمل مکان پر زبردستی ناجائز قبضہ کرلیا۔ اس جعلی ہبہ نامہ منجانب شمشاد عالم خان اور جعلی رسید منجانب زین وغیرہ کا استعمال کرکے سول کورٹ لاہور میں جھوٹا دعویٰ دائرکرکے مکان اپنے نام کرانے کی کوشش کی۔ اس مقدمہ میں ملزمہ قمر آراخانم اور اسکی مرحومہ بہن نے درخواست دہندہ کو بھی مدعا علیہ بنایا اور مالک مکان مرحوم شمشاد عالم خان کے یتیم بچوں زین وغیرہ کو بھی مدعا علیہ بنایا۔ درخواست دہندا نے جواب دعوی دیا اور عدالت کو بتایا کہ ملزمان جعلی دستاویزات تیار کرکے مکان ہڑپنا چاہتے ہیں جبکہ زین نے عدالت کو بتایا کہ جعلی ہبہ نامہ کے ساتھ ساتھ جو زین اور اسکی بہنوں کی طرف سے جعلی رسید برائے وصولی مبلغ 50 لاکھ تیار کرکے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ زین اور اسکی بہنوں نے 50 لاکھ لے کرملزمان کو مکان فروخت کیا ہے۔ سول کورٹ نے تمام دستاویزات جعلی ثابت ہونے پر مقدمہ خارج کردیا جس کے بعد ملزمان کی تمام اپیلیں بھی خارج ہو گئی ہیں۔ شفقت عرف کونکا نائی اب تک تمام جعلی کرائے نامے بنانے اور کرائے دار گھسانے کا جرم کررہا ہے۔ اس کو درخواست دہندہ اور معززین محلہ نے بارہا منع کیا ہے کہ تم آئے روز غنڈے کریمینلز ٹائپ گاہک قمر آرا کو مت دو تو وہ الٹا سائل کو کہتا ہے کہ ہم سرکار ہیں ہم سے الجھے تو ساری عمر جیلوں میں سڑو گے۔ اندازہ کریں کہ پولیس کے کلاس فور کے ملازم نائی بھی علاقوں میں کھلی اور ننگی بدمعاشی کرتے ہیں۔ کیونکہ ان جیسوں کے ذریعے ہی پولیس افسران مخبری اور لوگوں کو لڑائیوں جھگڑوں، شیطانیوں اور جرائم میں پھنسانے کا کام بھی دیگر جرائم کے ساتھ ساتھ لیتے ہیں اور مال کماتے ہیں۔ اس کونکا نائی نے سرکاری ملازم ہوتے ہوئے علاقے میں دیگ پکوائی شاپ ، باربر شاپ اور پراپرٹی ڈیلنگ جیسے کاروبار شروع کررکھے ہیں اور اپنے بیٹۓ کو بھی اب اپنے ساتھ علاقہ میں غنڈا گردی اور ان فراڈز اور کاروباروں میں شامل کر لیا ہے۔ آج تک پولیس افسران کو اس کے خلاف جتنی بھی درخواستیں گئی ہیں، کسی آفیسر نے اس کے خلاف کاروائی نہ کی۔ کیونکہ علاقہ میں مختلف سازشیں کرکے تھانہ سمن آباد کو سب سے زیادہ دیہاڑیاں لگوانے والا یہی ٹاوٹ ہے۔ اس نائی نے قمر آرا خانم کو آج تک بیس سے زائد کرائے دار دیے اور تمام جعلی کرائے نامے اسی نائی نے تیار کرائے تھانہ میں ہر مرتبہ جمع کرائے۔ کیونکہ قمرآرا کے پاس کسی قسم کا ملکیتی دستاویز یا مختار نامہ بھی نہ تھا کہ وہ کرایہ نامہ بناتی۔ کونکا نائی اور قمر آرا سے درخواست دہندا نے متعدد بار تمام جعلی کرائے ناموں کی کاپیاں مانگی مگر دونوں دینے سے انکاری ہیں محکمہ پولیس بھی نہیں دیتا شاید غائب کردئے ہیں۔ لہزا جعلی رسید مبلغ 50 لاکھ، جعلی گفٹ ڈیڈ اور تمام جعلی کرایہ ناموں کا برآمد کیا جانا بھی لازمی ہے۔ علاقہ سے شہادت لی جاسکتی ہے کہ کونکا نائی ہر چار پانچ ماہ بعد اس مکان کی اوپر کی منزل میں کوئی نہ کوئی کریمینل نیا کرایہ دار بنا کر گھساتا ہے۔ جبکہ درخواست دھندا کو اسی نائی اور قمر آرا نے علاقہ کے مختلف غنڈوں سے دھمکیاں بھی دلوائیں۔۔۔ قبل ازیں موڑ سمن آباد کے قریب ٹوٹل پیٹرول پمپ کے بالکل ساتھ والا کمرشل ایریا مکان جو ہمارا آبائی ہے اوردادای کا تھا اسے بھی قمر آرا کو بلیک میل کرکے مستقل لوٹنے والے پولیس کے گینگ نے جعلی پی ٹی ون بنا کر جعلی رجسٹری کرکے ہڑپ کرلیا ہے۔ جناب عالی اب چند ہفتے قبل پھر ہمارے اس 6 مرلہ مکان میں کونکا نائی نے چنگڑ ٹائپ 5 مرد تین عورتیں گھساکر ناجائز قبضہ کرا دیا ہے جن سے ہمارے سارے گھر کی جان کو خطرہ ہے۔ پولیس کے بلیک میلرز نے یہ گینگ بغیر کسی کرایہ نامہ کے گھسائے ہیں۔ کونکا گینگ کا پراپرٹی پر ناجائز زبردستی قبضہ کرنا ، جعلی گفٹ ڈیڈ تیار کرنا، مکان کی زین وغیرہ کے نام سے جعلی رسید تیار کرنا اور سول کورٹ میں استعمال کرنا اور جعلی کرائے نامے تیار کرکے استعمال کرنا، ٹوٹل پمپ کے ساتھ والے مکان کی جعلی رجسٹری کراکے قبضہ کرا دینا ، قتل کی دھمکیوں اور حراسمنٹ سمیت تمام جرائم پر ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔۔۔ ایک طرف پولیس کرائے دار، کرائے نامے چیک کرنے کے بہانے گھر گھر جاکر عزتیں لوٹتی ، مال لوٹتی ہے دوسری طرف سالہا سال سے اپنے مکان میں جعلی کرائے ناموں یا بغیر کرایہ ناموں پر گھسنے والے گینگز کی اطلاع کرتا ہوں اور آج تک کاروائی تو دور پولیس نے آکر چیک نہیں تک نہیں کیا۔ جو پولیس پر درج بالا تمام الزامات کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ مزید یہ کہ چند ماہ قبل جب اوپر کا پورشن خالی ہوا تو میں نے محلہ معززین کے ہمراہ کونکا نائی کو کہا کہ نیچے قمر آرا رہ رہی ہے اس سے میں عدالت کے ذریعے قبضہ لوں گا لیکن اوپر کے پورشن کا میں نے تالا لگایا ہے اب تم اسے توڑ کر مت نیا قبضہ گروپ گُھسانا لیکن اس نے تین سادہ کپڑوں والے مبینہ نامعلوم پولیس ملازمین کے ہمراہ تالا توڑا اور کہا کہ یہ تالا پولیس نے توڑا ہے اور اب جو روکے گا اسے دیکھ لیں گے اور پھر پولیس نے نیا قبضہ گروپ اس طرح آہنی تالا توڑ کراب تازہ قبضہ کرایا ہے۔۔۔ مزید یہ کہ قمر آرا کو بلیک میل کرنے والوں نے اس کے ذریعے 2008 میں جب قبضہ کیا تھا تب مرحوم شمشاد عالم خان کا مکمل سامان، زیورات، نقدی اور اس پراپرٹی سمیت دیگر پراپرٹیز کے کاغزات ملکیت اور دیگر فائلیوں وغیرہ پر بھی قبضہ کرلیا تھا جس سے آج تک مرحوم کا بیٹا زین محروم ہے۔ تاریخ: 16 اگست 2025
قارئین! اس مقدمہ میں انتہائی دلچسپ امر یہ ہے کہ قبضہ کے لیے فرنٹ پر رکھی گئی یرغمال خاتون ہر فورم بشمول عدالتوں میں تسلیم کرتی ہے کہ اس نے جعلی کاغذات جعلی گفٹ ڈیڈ جعلی رسیدیں سادہ کاغذ پر چند وکیلوں کے گینگ بشمول ہارون الیاس ایڈووکیٹ سے بنوائے۔ جبکہ سیشن کورٹ میں تحریری بیان دیا کہ مکان کی وہ مالکہ نہ ہے اور گراونڈ فلور پر ناجائز قابض ہے۔ اس عدالت میں مقدمہ دائر ہوا کہ فرسٹ فلور پر 2008 سے پولیس قابض ہے جبکہ گراونڈ فلور پر قمر قابض ہے۔ پھر بھی پرچہ روکنے جیسا جرم ایسا ثبوت ہے کہ اس میں ملوث تمام افسران کو برطرف کرکے فوری جیل ہونا چاہیے۔ لیکن کون کرے گا؟ اس ملک میں ایسا کون سا فورم ہے جو اصل طاقتور کرپٹ لُٹیروں کو سزا دے سکے؟ کوئی نہیں ہے؟ عوام کو بچانے کے لیے بھرتی کیے گئے سارے سرکاری غنڈے چوکیدار ہی اب ڈاکو چور غدار ہیں۔ پرائیوٹ کریمنلز ان ہی کے ایجنٹ ٹاوٹ فرنٹ مین ہیں جنہیں بچانے کے لیے یہ سب سرکاری حرامی سول مدعی کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔

Address

Sharp Eye Headquarter, Qurtaba Chowk
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sharp Eye posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sharp Eye:

Shortcuts

Share

Category