03/09/2026
🚨 مقدمہ درج ہونے کے باوجود اے ایس آئی امین کی مغلپورہ تھانے میں تعیناتی برقرار، ڈی آئی جی آپریشنز کے ویژن پر سوالات
لاہور: ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے ویژن کے مطابق کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث پولیس اہلکاروں کی تعیناتی نہ ہونے کی پالیسی کے باوجود تھانہ مغلپورہ میں تعینات اے ایس آئی امین کی موجودگی نے محکمہ پولیس میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق 8 اپریل 2025 کو درج کی گئی رپورٹ میں ایک پولیس اہلکار کے خلاف اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور شہری سے رقم وصول کرنے کے الزامات کا معاملہ سامنے آیا۔ دستاویز میں درخواست کا حوالہ 29 مارچ 2025 کی تاریخ کے ساتھ دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شکایت کے معاملے میں رقم کی منتقلی کا بھی ذکر موجود ہے، جس میں 10 ہزار روپے کی رقم اور JazzCash کے ذریعے رقم بھیجے جانے کی تفصیل درج ہے۔ دستاویز میں پولیس اہلکار کی جانب سے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کا ذکر کرتے ہوئے قانونی کارروائی اور FIR کے اندراج کی کارروائی بھی ظاہر کی گئی ہے۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق متعلقہ حکام کو معاملے سے آگاہ کیا گیا اور قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی، تاہم سوال یہ ہے کہ اگر کسی اہلکار کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے معاملے میں مقدمہ درج ہو چکا ہو تو وہ اہلکار تاحال تھانہ مغلپورہ میں کیسے تعینات ہے؟
پولیس ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی پالیسی کا بنیادی مقصد محکمہ پولیس میں شفافیت کو فروغ دینا اور ایسے اہلکاروں کو اہم پوسٹنگ سے دور رکھنا ہے جن کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات یا مقدمات موجود ہوں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مقدمہ اور سرکاری ریکارڈ سامنے آنے کے باوجود اے ایس آئی امین کی تھانہ مغلپورہ میں تعیناتی برقرار رکھنے کی وجہ کیا ہے اور کیا متعلقہ پولیس حکام اس معاملے کا نوٹس لیتے ہیں؟
کرائم نیوز 24 نے اس معاملے پر پولیس حکام اور متعلقہ اہلکار کا مؤقف جاننے کی کوشش کی ہے۔ فریقین کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔
کرائم نیوز 24 — حقائق سامنے لانے کے لیے کوشاں