17/05/2026
*ملک میں بے روزگاری خطرناک حدوں کو چھونے لگی،ڈگری ہولڈرنوجوان دربدر*
*تحریر: میاں محب حسن پیرزادہ*
ملک میں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح محض ایک عددی اضافہ نہیں بلکہ ایک خاموش معاشی المیہ ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہزاروں گھروں کی امیدوں کو کمزور کر رہا ہے۔ حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بیروزگاری کی شرح سات فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ گذشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 59لاکھ نوجوان روزگار سے محروم رہے۔ یہ صورتحال اس بات کی واضح علامت ہے کہ معیشت کی رفتار اور افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی تعداد کے درمیان فاصلہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔
سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار صرف اعداد نہیں بلکہ ایک ایسی اجتماعی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں جس میں نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرنے کے باوجود عملی زندگی میں داخل ہونے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ لیبر فورس سروے کے مطابق بے روزگاری میں اضافہ نہ صرف شہری علاقوں میں دیکھا جا رہا ہے بلکہ دیہی علاقوں میں بھی روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشی ڈھانچہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو جذب کرنے کی پوری طرح استعداد نہیں رکھتا۔
بے روزگاری میں اضافے کی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ صنعتی شعبے کی سست روی اور سرمایہ کاری میں کمی ہے۔ جب کارخانے اور کاروبار پھیلتے نہیں تو نئی ملازمتیں پیدا نہیں ہوتیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے نوجوانوں اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بہت سے نوجوان ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں لیکن ان کے پاس وہ عملی مہارتیں نہیں ہوتیں جو موجودہ دور کے تقاضوں سے مطابقت رکھتی ہوں۔ اس کے علاوہ معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی اور کاروباری لاگت میں اضافہ بھی نجی شعبے کو مزید ملازمتیں دینے سے روکتا ہے۔
اس بحران کے اثرات انتہائی گہرے اور دور رس ہیں۔ جب نوجوانوں کو روزگار نہیں ملتا تو ان میں مایوسی، ذہنی دباؤ اور بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ یہ صورتحال صرف انفرادی نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے استحکام کو متاثر کرتی ہے۔ بے روزگاری غربت میں اضافے کا سبب بنتی ہے، جرائم کی شرح کو بڑھاتی ہے اور سماجی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔ سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایک بڑی تعداد میں باصلاحیت نوجوان اپنی صلاحیتیں استعمال کیے بغیر ضائع ہو رہی ہیں جو کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑا نقصان ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے صنعتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاری بڑھے اور نئی صنعتیں قائم ہوں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو آسان قرضوں اور سہولیات کی فراہمی سے بھی روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ تعلیمی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ تعلیم کو محض ڈگری کے حصول تک محدود رکھنے کے بجائے عملی مہارتوں سے جوڑا جائے۔ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں کو مضبوط بنا کر نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جائے تاکہ وہ ملکی اور غیر ملکی دونوں منڈیوں میں بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔
مزید یہ کہ بیرون ملک روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے منظم اور شفاف نظام کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان محفوظ اور قانونی طریقے سے روزگار حاصل کر سکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ معاہدے مزید مضبوط کرے جہاں افرادی قوت کی ضرورت ہے اور اس عمل کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے تاکہ انسانی وسائل ضائع نہ ہوں۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بے روزگاری محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی چیلنج ہے جس کا حل اجتماعی کوششوں کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر آج اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں اس کے اثرات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور اگر یہی سرمایہ بے کار ہو جائے تو ترقی کے تمام خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔
#نوجوان
#پاکستان #معیشت #روزگار #تعلیم
#ہنر #مہنگائی
Value News HDValueDigitalhdXcellent NewsMohib HassanMinhaj ul Quran Youth League Lahore [official]Youth Congress Central U.P.Directorate of Youth Affairs KP