11/07/2026
بھارتی فلم ستلج کے متعلق آپ نے سن ہی لیا ہوگا۔ یہ فلم ضرور دیکھنی چاہیے اور سمجھنی چاہیے کہ جب پولیس کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو کیسے کیسے المیے جنم لیتے ہیں۔ جب ان کے پاس بے لگام اختیارات ہوتے ہیں تو جان و مال کیسے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں اور جرائم کے ثبوت کیسے مٹا دیے جاتے ہیں۔
فلم کا ایک منظر ہے۔ دلجیت زخموں سے چور، لہولہان بدن کے ساتھ تھانے کی کچی زمین پر بیٹھا ہوتا ہے۔ ایک پولیس والا، جس سے اس کی تکلیف دیکھی نہیں جا رہی ہوتی، اس کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے:
"تم ان کی بات مان کیوں نہیں لیتے؟ اس احتجاج سے پیچھے کیوں نہیں ہٹ جاتے؟ اس سب سے کیا ہو جائے گا؟ تم مر بھی جاؤ گے تو کیا بدل جائے گا؟"
دلجیت اسے ایک قصہ سناتا ہے:
"جب پہلی بار سورج ڈوبا اور اندھیرا چاروں طرف پھیلنے لگا تو دنیا کو لگا کہ اب بس اندھیرا ہی اندھیرا رہ جائے گا۔ لوگ ڈر گئے، روشنی کی آس چھوڑنے لگے۔ تبھی دور ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں ایک دیا جل اٹھا اور کہنے لگا، 'میں اندھیرے کا مقابلہ کروں گا۔ اندھیرا چاہے جتنا بھی گہرا کیوں نہ ہو، میں اپنے اردگرد روشنی پھیلاتا رہوں گا۔'
اس دیے کی ہمت دیکھ کر دوسری جھونپڑیوں میں بھی ایک ایک دیا جل اٹھا، اور دنیا حیران رہ گئی کہ ان سب نے مل کر اندھیرے کو شکست دے دی۔"
اگر ہم اپنے وطنِ عزیز پر نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ معاشی تنگی ہو، قانون کی بالادستی ہو، عوامی خوشحالی ہو، رشتوں کا تقدس ہو یا پُرسکون زندگی کا خواب، ہر طرف مایوسی دکھائی دیتی ہے۔
ہم اکیلے اس اندھیرے کو ختم نہیں کر سکتے، لیکن اگر ہم بھی اس دیے کی طرح روشن ہو کر اپنا کردار ادا کریں تو اپنے اردگرد روشنی ضرور پھیلا سکتے ہیں۔ کیا معلوم، ہماری روشنی دیکھ کر اور کتنے ہی دیے جل اٹھیں۔ ہم مایوسی کے ان اندھیروں میں اپنے حصے کی روشنی ضرور پھیلا سکتے ہیں۔
آپ وطنِ عزیز کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتے، نہ ہی اکیلے اس اندھیرے کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن کیا آپ اپنے حصے کی روشنی پھیلا رہے ہیں؟
کیا آپ کا رویہ درست ہے؟ کیا آپ غلط کا ساتھ دینے کے بجائے حق کے ساتھ کھڑے ہو کر مضبوط آواز میں غلط کو غلط کہہ سکتے ہیں؟
آپ درست سمت میں کھڑے رہیے، اپنے اردگرد لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے رہیے، اپنا کردار ادا کرتے رہیے۔ آپ اتنا ہی کر سکتے ہیں، لیکن اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال ضرور کرتے رہیے کہ کیا میں واقعی اپنے حصے کا کردار ادا کر رہا ہوں؟
یہ اندھیرے ایک دن ضرور چھٹ جائیں گے، سب کچھ بہتر ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔ لیکن تب یہ ضرور یاد رکھا جائے گا کہ آپ اندھیرے کا حصہ تھے یا ایک دیا بن کر اس کا مقابلہ کر رہے تھے۔
اپنے حصے کا کردار ضرور ادا کیجیے، اپنے حصے کی روشنی ضرور پھیلائیے۔
احمد فراز نے کیا خوب کہا ہے:
شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
اپنے حصے کی شمع جلا دیجیے، اپنے حصے کی روشنی پھیلا دیجیے۔ یقین مانیے، آپ کے دل میں اطمینان اتر آئے گا، زندگی بامقصد محسوس ہونے لگے گی اور آپ کو حقیقی سکون نصیب ہوگا۔