18/08/2026
سابق وزیرِ اعظم عمران خان میں بے چینی اور گھبراہٹ کی ’شدید‘ علامات پائی گئی ہیں۔
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں آج جمع کروائی گئی میڈیکل رپورٹ ۔
میڈیکل بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کی اہلِخانہ اور شریکِ حیات سے ملاقاتوں کا دورانیہ بڑھانے کی سفارش کی ہے۔
میڈیکل بورڈ نے سابق وزیر اعظم کے لیے روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی اور کچھ دیر ذہنی سکون کی سرگرمیاں تجویز کی ہیں۔
عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں اینزائٹی (بے چینی) کا لیول تھری پلس بیان کیا گیا ہے، جو انتہائی شدید سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا آخری مرتبہ طبی معائنہ 10 اگست 2026 کو میڈیکل بورڈ نے کیا تھا اور اس میڈیکل بورڈ میں آنکھوں، امراضِ قلب اور میڈیسن کے ماہر ڈاکٹرز شامل تھے۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم کی عمر تقریباً 73 سال ہے اور طبی معائنے کے دوران عمران خان کا بلڈ پریشر 140/80 جبکہ نبض 54 فی منٹ ریکارڈ ہوئی۔ اس رپورٹ میں سابق وزیر اعظم کی ای سی جی نارمل، سینہ صاف اور دل کے والوز و چیمبرز نارمل قرار دیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان نے سر میں بوجھل پن اور دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے کی شکایت کی، تاہم میڈیکل رپورٹ کے مطابق سینے میں درد، بھاری پن یا سانس پھولنے کی شکایت نہیں۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ نے بلڈ پریشر اور بے چینی پر قابو پانے کے لیے ادویات تجویز کی ہیں۔
رپورٹ میں عمران خان کو میگزین، اخبارات، ٹی وی اور مطالعے کی کتابیں فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق خاندانی میل جول بڑھانے سے عمران خان کی بے چینی اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی ہر منگل کو جیل رولز کے تحت باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور رپورٹ کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ کی اب تک 84 ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر بھی 10 فروری اور چار اپریل 2026 کو سابق وزیر اعظم سے ملاقات کر چکے ہیں۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میڈیکل افسران عمران حان کا دن میں تین مرتبہ کھانے پینے کی جانچ اور میڈیکل چیک اپ کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کا چیک اپ متعدد سرکاری معالجین بھی کرتے رہے جس کا ریکارڈ موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ماہر امراض چشم سے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا علاج کرایا جاتا رہا ہے۔
جیل حکام کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ایک آنکھ تقریباً نارمل ہو چکی ہے۔
سورس : BBC