Qaumi Waqar-Official

Qaumi Waqar-Official A Monthly Magazine Published From Lahore, Pakistan.

19/03/2026

*پاکستان میں عیدالفطر کا چاند نظر نہیں آیا۔عیدالفطر پرسو بروز ہفتہ کو ہوگی*
*رویت ہلال کمیٹی*

17/03/2026

پاکستان کو تیل بیچنے کیلئے تیار ہیں، پاکستان نے رابطہ کیا تو اسے سستا تیل دیں گے: روسی سفیر

اسلام آباد: پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے رابطہ کیا تو روس اسے سستا تیل فراہم کرے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو تیل بیچنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔

البرٹ پی خوریف نے کہا کہ تیل کی خریداری کے لیے پاکستان کے روس سے رابطے کا ابھی تک میرے علم میں نہیں، پاکستان نے رابطہ کیا تو اسے سستا تیل دیں گے، توانائی کا شعبہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون کا اہم ترین ستون ہے۔

روسی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ کئی دہائیوں سے فوجی اور تکنیکی تعاون ہے، ایران کا ردعمل امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف تھا جوخلیجی آبناؤں میں موجود ہیں، ایران کی کارروائیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مزید کچھ نہیں کہنا،صورتحال غیریقینی ہے۔

البرٹ پی خوریف کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی فوجی مہم جوئی پر پوری دنیا حیران ہے، موجودہ کشیدگی کب اورکیسے ختم ہوگی، اس کی پیشگوئی ممکن نہیں، صورتحال پیچیدہ ہے۔

17/03/2026

لاہور: غیر قانونی اسلحہ خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا گیا

لاہور: پنجاب حکومت کا غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے سی سی ڈی کو ذمہ داری دینے کا فیصلہ

لاہور: غیر قانونی ہتھیاروں کے خلاف کریک ڈاؤن، سی سی ڈی کو ٹاسک سونپ دیا گیا۔ذرائع

لاہور: پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار
لاہور: پنجاب سرنڈر آف الیسٹ آرمز ایکٹ 2026کا مسودہ محکمہ داخلہ نے تیار کرلیا۔ جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

لاہور: غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو 15 دن میں اسلحہ جمع کرانے کی مہلت دینے کی تجویز شامل۔بل

لاہور: مقررہ مدت میں اسلحہ جمع نہ کرانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

لاہور: غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر عمر قید اور جائیداد ضبطی کی سزا تجویز شامل ہے۔بل

لاہور: خودکار ہتھیار رکھنے پر کم از کم 10 سال قید کی سزا ہوگی۔بل

لاہور: عام اسلحہ غیر قانونی رکھنے پر 3 سے 14 سال قید کی سزا تجویز ہے۔بل

لاہور: رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کرانے والوں کو قانونی تحفظ دینے کی شق بھی شامل ہے۔بل

لاہور: بیرون ملک افراد کو واپسی کے 14 دن میں اسلحہ جمع کرانے کی اجازت ہوگی۔بل

لاہور: ایکسپائر لائسنس رکھنے والوں کو تجدید کا آخری موقع دیا جائے گا۔بل

لاہور: لائسنس کی تجدید نہ کرانے پر اسلحہ پولیس کے حوالے کرنا لازمی ہوگا۔بل

لاہور: اسلحہ جمع کرانے پر باقاعدہ رسید اور ریکارڈ رکھنے کا نظام متعارف کیا جائے گا۔بل

لاہور: غیر قانونی اسلحہ ضبط کر کے تلف یا ضائع کرنے کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔بل

لاہور: صوبے میں سرچ اینڈ ریکوری آپریشنز کیلئے سی سی ڈی خصوصی مہم شروع کرے گی۔

لاہور: اسلحہ لائسنس ہولڈرز کی جانچ پڑتال اور انسپکشن کا نیا نظام متعارف کیا گیا۔

لاہور: لائسنس رکھنے والوں کا ٹیکس ریکارڈ اور کریمنل ہسٹری بھی چیک کی جائے گی۔بل

لاہور: اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کا اختیار متعلقہ اتھارٹی کو دینے کی تجویز شامل ہے۔بل

لاہور: اسلحہ لائسنس منسوخی کے خلاف اپیل کا حق بھی دیا گیا۔بل

لاہور: ہر ضلع میں اسلحہ کیسز کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔بل

لاہور: اسلحہ سے متعلق مقدمات کا فیصلہ 45 دن میں کرنا لازمی ہوگا۔بل

لاہور: مقدمات کی روزانہ بنیاد پر سماعت، تاخیر پر پابندی کی تجویز ہے۔بل

لاہور: قانون کے تحت تمام جرائم ناقابل ضمانت اور قابل دست اندازی پولیس ہوں گے۔بل

لاہور: اینٹی کرپشن طرز پر "وہسل بلوئر" نظام متعارف کرانے کی تجویز

لاہور: جھوٹی اطلاع دینے والوں پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا۔بل

لاہور: حکومت کو کسی بھی شے کو غیر قانونی اسلحہ قرار دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔بل

لاہور: قدیم اسلحہ کو اینٹیک قرار دے کر صرف نمائش کیلئے رکھنے کی اجازت ہوگی۔بل

لاہور: قانون پر عملدرآمد کیلئے خصوصی اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز
لاہور: نیا قانون 1991 کے پرانے اسلحہ سرنڈر قانون کی جگہ لے گا۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے غیر قانونی اسلحہ خاتمے کا بل تیار کرکے محکمہ قانون کو بجھوایا دیا ہے۔ذرائع محکمہ داخلہ

12/03/2026

*کیپٹن عثمان کی ترقی نہ ملنے کا کیس زیر سماعت، عدالتی ریمارکس نے میرٹ کے نظام پر سوالات اٹھا دیے*

*جھنگ کے عام شہری کا معاملہ بھی انصاف کی تلاش کی علامت بن گیا۔*

سابق کمشنر لاہور اور سابق سیکرٹری محکمہ صحت کیپٹن عثمان کو اگلے عہدے پر ترقی نہ ملنے کے کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں ہونے والے ریمارکس نے سرکاری نظام میں میرٹ اور طریقہ کار کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

سماعت کے دوران وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سینٹرل سلیکشن بورڈ کا سر بمہر ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا جس کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت نے متعدد اہم نکات پر استفسار کیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیل بند ریکارڈ کا ہر صفحہ اپنی کہانی خود بیان کر رہا ہے۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب درخواست گزار کا سروس ریکارڈ گڈ، ایکسیلینٹ اور آؤٹ اسٹینڈنگ قرار دیا گیا تو پھر انہیں کم نمبر کیوں دیے گئے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ شہرت اور ساکھ کے لیے مختص تیس نمبروں میں سے صرف تین نمبر کیوں دیے گئے اور باقی ستائیس نمبر کس بنیاد پر کاٹے گئے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ سیل بند ریکارڈ کے مطابق سینٹرل سلیکشن بورڈ نے نمبرز میرٹ کے مطابق دیے۔

تاہم عدالت نے اس مؤقف پر مزید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ہر کیٹیگری میں دس میں سے صرف تین نمبر دیے گئے تو اس کی واضح بنیاد بھی سامنے آنی چاہیے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کسی افسر کو طریقہ کار سے ہٹ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کسی کو ترقی سے محروم کرنا قابل قبول نہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزار نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی اسی نظام کے اندر گزار دی اور جب اس کی تمام دستاویزات آؤٹ اسٹینڈنگ ہیں تو اسے نظر انداز کرنے کی وجوہات واضح ہونا ضروری ہیں۔

عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ دیے گئے کم نمبرز کسی صورت مناسب نہیں دکھائی دیتے اور اس حوالے سے واضح معیار ہونا چاہیے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ترقی کے معاملے میں صرف کارکردگی ہی نہیں بلکہ فیلڈ پوسٹنگ، رویہ، ساکھ، کریڈیبیلٹی اور ٹیم مینجمنٹ جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

عدالت نے اس پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ محض کارکردگی کی بنیاد پر ہی ترقی دینا لازم نہیں مگر اس کے لیے کوئی واضح اور قابل فہم معیار ہونا ضروری ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ تمام نکات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ تحریر کیا جائے گا اور فریقین کے وکلاء کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر اپنے تحریری جوابات پیش کریں۔ کیس کی مزید سماعت 17 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

سماعت جسٹس خالد اسحاق نے کی جبکہ کیپٹن عثمان کے وکیل حیدر رسول مرزا نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سینٹرل سلیکشن بورڈ نے بغیر کسی قانونی جواز کے درخواست گزار کو گریڈ 20 سے گریڈ 21 میں ترقی دینے کے معاملے میں نظر انداز کیا۔

ادھر اس مقدمے کی سماعت اور عدالتی ریمارکس نے ایک اور اہم پہلو کو بھی اجاگر کیا ہے صوبہ پنجاب کے تاریخی شہر جھنگ میں محکمہ صحت کی ایک بھرتی کے دوران بھی ایک عام شہری کے ساتھ مبینہ طور پر اسی نوعیت کا معاملہ پیش آیا تھا۔

ذرائع کے مطابق سلیکشن کمیٹی نے اس شہری کو میرٹ پر منتخب قرار دیا تھا مگر بعد ازاں مبینہ طور پر کلیریکل سٹاف کی جانب سے ریکارڈ میں ٹمپرنگ، عمر کے تضاد اور ریمارکس میں تبدیلی جیسے اقدامات کے ذریعے اسے ملازمت سے محروم کر دیا گیا اور اس کا حق نااہل افراد کو دے دیا گیا۔

اس معاملے پر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی ہدایات کے تحت تعلیمی اسناد کی ویریفکیشن کا عمل بھی زیر سماعت ہے، تاہم متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے اپنے حق کے حصول کے لیے دربدر ہے۔

شہری کے مطابق جب ایک اعلیٰ عہدے پر فائز افسر کو اپنے ایک گریڈ کے لیے عدالتی جنگ لڑنی پڑ رہی ہے تو یہ صورتحال عام شہریوں کے لیے مزید سوالات کھڑے کرتی ہے۔

متاثرہ شہری نے اپنے بیان میں کہا کہ عدالتوں میں ہونے والے ریمارکس یقیناً کئی پہلوؤں کو واضح کرتے ہیں مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ عام شہریوں کو انصاف کے حصول کے لیے اتنی طویل جدوجہد کیوں کرنا پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میرٹ اور شفافیت کے اصول ہر سطح پر یکساں طور پر نافذ کیے جائیں تو نہ صرف نظام پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے بلکہ بے شمار شہریوں کو برسوں کی محرومی سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔

یہ نوٹیفکیشن حکومتِ پنجاب کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں موجودہ عالم...
11/03/2026

یہ نوٹیفکیشن حکومتِ پنجاب کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری دفاتر کے لیے ورک فرام ہوم (گھر سے کام) کے انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکومتِ پنجاب کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک نہایت اہم اور فوری نوعیت کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کے پیش نظر سرکاری اداروں میں ورک فرام ہوم کے انتظامات نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد سرکاری امور کی روانی کو برقرار رکھتے ہوئے ملازمین کی سہولت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام متعلقہ سیکشن افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ دفاتر میں صرف ضروری اور بنیادی عملہ (Core Staff) ہی طلب کیا جائے جبکہ باقی ملازمین اپنے فرائض گھر سے انجام دیں گے۔ تاہم وہ شعبے جو عوامی خدمات یا ضروری امور سے متعلق ہیں، وہاں ضروری عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ سرکاری معاملات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مزید برآں تمام سیکشنز کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے شعبوں کے ایسے ملازمین کی فہرست مرتب کر کے فراہم کریں جو دفتری امور کی انجام دہی کے لیے دفتر حاضر ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے سرکاری کاموں کو موثر انداز میں جاری رکھنا ہے۔
یہ معاملہ انتہائی فوری (Most Urgent) قرار دیا گیا ہے اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حکامِ بالا کی ان ہدایات پر فوری اور مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ یہ فیصلہ موجودہ حالات میں حکومتی ذمہ داریوں کو برقرار رکھنے اور ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم انتظامی قدم ہے۔

وفاقی حکومت نے ہفتے میں 3 چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہفتے میں بروز پیر، منگل، بدھ اور جمعرات کو دفاتر کھولے جائیں گ...
11/03/2026

وفاقی حکومت نے ہفتے میں 3 چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

ہفتے میں بروز پیر، منگل، بدھ اور جمعرات کو دفاتر کھولے جائیں گے، کابینہ ڈویژن

بروز جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو دفاتر میں چھٹی ہوگی، کابینہ ڈویژن

09/03/2026

وزیر اعظم شہباز شریف نے خطے کی موجودہ صورتحال پر قوم سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے، ایران پر ہونیوالے اسرائیلی حملوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر ملکوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، پاکستان آزمائش کی گھڑی میں ان ملکوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے، پاکستان ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 سے بڑھ کر 100 ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہے، ہماری معیشت کا انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے مشکل فیصلے کیے ہیں، عالمی منڈی میں تیل گیس کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے، حکومت نے توانائی بحران کم کرنے کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ مشکل حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ مشکل اور دل پر پتھر رکھ کر کیا گیا، دماغ کہتا تھا کہ تیل کی قیمت میں اضافے کے سوا آپشن نہیں لیکن دل کہتا تھا کہ کہیں تیل کی قیمت میں اضافے سے غریب عوام پر بوجھ نہ بڑھے۔

کفایت شعاری اقدامات
وزیر اعظم نے کہا آئندہ 2ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جارہی ہے جس سے ایمبولینسز اور عوامی استعمال کی بسیں مستثنیٰ ہوں گی۔

وزیر اعظم کے مطابق آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کی جارہی ہیں، جبکہ کابینہ کے تمام ارکان، وزرا، مشیر، معاونین رضاکارانہ طورپر2 ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے اسی طرح ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بھی 25 فیصد کٹوٹی کی جارہی ہے۔

گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران جن کی تنخواہ 3 لاکھ سے زائد ہے ان کی تنخواہ سے دو دن کی کٹوتی کرکے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔

وزیر اعظم کے مطابق تمام محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کٹوتی اور سرکاری محکموں میں اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ سرکاری افسران، مشیران اور وفاقی و صوبائی وزرا کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ گورنرز پربھی بیرون ملک دوروں پر پابندی ہوگی۔

وزیر اعظم کے مطابق ٹیلی کانفرنس اور آئن لائن اجلاس کو ترجیح دی جائے گی، سرکاری عشائیے اور افطار پارٹیوں پر بھی مکمل پابندی ہوگی، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے سیمینار اور کانفرنسز ہوٹلوں کے بجائے سرکاری مقامات پر ہوں گے۔

وزیر اعظم کے مطابق ایندھن اور تونائی کی بچت کے لیے سرکاری اور نجی شعبے میں انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام کرے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہفتے میں صرف چار دن دفاتر کھلیں گے اور ہفتے میں ایک دن اضافی چھٹی دی جائے گی، اس کا اطلاق بینکوں اور صنعتوں اور زراعت کے شعبوں پر نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم کے مطابق رواں ہفتے کے آخر سے تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جارہی ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا اجرا کیا جارہا ہے

*حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا*پیٹرولیم ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا اطلاق گ...
01/03/2026

*حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا*

پیٹرولیم ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا
اطلاق گزشتہ رات 12 بجے سے ائندہ 15 روز کے لیے ہوگا

پیٹرول فی لیٹر۔ 8روپے مہنگا کر دیا گیا
ہائی ہائی سپیڈ ڈیزل 5 روپے 16فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا

23/02/2026

‏شناختی کارڈ سے محروم شہریوں کے لئے نادرا کا اہم اقدام
پیدائش سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنوانے کی مشروط سہولت

قومی شناختی نظام میں تقریباً 98.3 فیصد بالغ آبادی کی رجسٹریشن مکمل ہونے کے باوجود تقریباً 1.7 فیصد بالغ افراد نے ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔ بالغ ہونے کے باوجود شناختی کارڈ نہ بنوانے والے شہریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے، اور بعض ایسے اضلاع جہاں مقامی حکومت کے اداروں سے پیدائش کی سول دستاویزات بنوانے والوں کی تعداد کم ہے، وہاں شناختی کارڈ نہ بنوانے والوں میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔ نادرا مقامی حکومت کی جانب سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش کا سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پہلی بار رجسٹریشن کرتا ہے اس کی غیرموجودگی ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔
سال 2025 کی سالانہ رپورٹ کی تیاری کے دوران نادرا نے ادارۂ شماریات پاکستان، الیکشن کمیشن آف پاکستان، قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں، قومی کمیشن برائے بہبودِ اطفال و ترقی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر گزشتہ دس برس کے رجسٹریشن کے اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیااس تجزیے میں آبادی کے رجحانات، مختلف اضلاع اور اصناف کے درمیان فرق کا جائزہ لے کراس خلاء کے اسباب کی نشاندہی کی گئی اور اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے۔
ان سفارشات کی روشنی میں وفاقی وزیر برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے ایک منظم اور قانونی بنیاد پر مبنی سہولت متعارف کرانے کی ہدایت جاری کی، جس کی منظوری بعد ازاں نادرا اتھارٹی بورڈ نے بھی دے دی ۔
اسی تناظر میں نادرا نے پہلی بار رجسٹریشن کے لیے ایک مخصوص سہولت متعارف کرائی ہے، جو 31 دسمبر 2026 تک مؤثر رہے گی۔ اس طریقۂ کار کے تحت ایسے افراد جن کے پاس مقامی حکومت کا کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ دستیاب نہ ہو، انہیں تصدیق کی شرائط پوری ہونے پر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جاری کیا جا سکے گا۔ یہ سہولت نادرا آرڈیننس اور قومی شناختی کارڈ کے مروجہ قواعد و ضوابط کی ان شقوں کے تحت دی جا رہی ہے جو نادرا کو رجسٹریشن میں اضافے کی غرض سے مخصوص حالات میں متبادل تصدیقی طریقہ کار کے ذریعے قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
اس سہولت کے تحت شناختی کارڈ صرف ان افراد کو جاری کیا جائے گا جن کی شناخت نادرا کے موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر متعین کی جا سکے اور پہلے سے رجسٹرڈ خاندان کے قریبی افراد کی لازمی بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہو جائے۔ اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی شادی شدہ خاتون کے لیے مقامی حکومت کا مستند نکاح نامہ، والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، شوہر کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، اور والدین میں سے کسی ایک اور شوہر کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی غیر شادی شدہ خاتون کے لیے والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور شناختی کارڈ کے حامل والد یا والدہ کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔
چوبیس سال سے زائد عمر کے مرد درخواست گزار کے لیے ضروری ہو گا کہ والدین میں سے کسی ایک کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہو اور کم از کم ایک بہن یا بھائی بھی رجسٹرڈ ہو، جبکہ والدین میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔
اگر کسی درخواست گذار کے والد اور والدہ دونوں یا شوہر وفات پا چکے ہوں لیکن ان کا ریکارڈ نادرا میں موجود ہو تو مجاز افسر ریکارڈ کی بنیاد پر جانچ کے بعد بائیو میٹرک کی تصدیق سے استثنیٰ دے سکتا ہے۔محدود مدت کی یہ سہولت تصدیق کے ان مراحل کی تکمیل سے مشروط ہو گی۔ مزید سہولت کے لیے اس طریقۂ کار کے تحت نارمل کیٹیگری میں نان اسمارٹ شناختی کارڈ کسی فیس کے بغیر جاری کیا جائے گا۔
قومی شناختی نظام میں اندراج کے بعد ولدیت، تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش ناقابلِ تنسیخ اور ناقابلِ تبدیلی ہوں گے۔ نادرا کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت تمام معلومات کی درستی کو یقینی بنائیں۔ ان شرائط پر پورا اترنے والے اہل درخواست گزار مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز سے اپنا شناختی کارڈ بنوائیں۔

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے وضاحت کر دی گئی ہے کہ سرکاری (گورنمنٹ) نمبر پلیٹ کا اجرا بند کر دیا گیا ہے۔ اس لیے...
21/02/2026

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے وضاحت کر دی گئی ہے کہ سرکاری (گورنمنٹ) نمبر پلیٹ کا اجرا بند کر دیا گیا ہے۔ اس لیے وہ پرائیویٹ مینوفیکچررز جو منظور شدہ (اپرووڈ) پیٹرن کے مطابق نمبر پلیٹس تیار کر رہے ہیں، ان کی بنائی ہوئی پلیٹس گاڑی پر آویزاں کی جا سکتی ہیں۔ ایسی منظور شدہ ڈیزائن کی نمبر پلیٹ لگانے پر کسی قسم کا جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔

20/02/2026

*حکومت پنجاب کی نئی ٹرانسپورٹ پالیسی جاری، اعلیٰ افسران کیلئے مراعات میں اضافہ*

چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو تین سرکاری گاڑیاں رکھنے کی اجازت

2800، 1800 اور 4700 سی سی گاڑیوں کے استعمال کی منظوری

چیف سیکرٹری اور آئی جی کی 4700 سی سی گاڑی کیلئے پیٹرول کی کوئی حد مقرر نہیں

گریڈ 22 اور 21 افسران کو دو گاڑیاں اور لا محدود سرکاری پیٹرول کی سہولت

گریڈ 19 اور 20 افسران کیلئے 1600 سی سی گاڑی اور 250 لیٹر ماہانہ پیٹرول

ڈپٹی سیکرٹری گریڈ 18 کیلئے 1500 سی سی گاڑی اور 175 لیٹر پیٹرول مقرر

وزراء کے سٹاف افسران کو 1300 سی سی گاڑی اور 125 لیٹر ماہانہ پیٹرول کی اجازت

18/02/2026

18 فروری،2026

ایل ڈبلیو ایم سی کی جانب سے رمضان صفائی پلان جاری

تمام ٹاؤنز میں تراویح کے مقامات، جامع مساجد اور ممکنہ راستوں پر خصوصی صفائی ٹیمیں مامور

آپریشن ٹیموں کو 1500 سے زائد مساجد کی صفائی دھلائی کا ہدف دے دیا

آپریشن ٹیمیں روزانہ 160مساجد کی صفائی دھلائی یقینی بنائیں گی۔ بابر صاحب دین

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لگائے جانے والے 23 رمضان بازاروں میں صفائی عملہ تعینات

رمضان کے موقع پر لگائے گئےماڈل اورسہولت بازاروں میں پہلی اور دوسری شفٹ میں 156 ورکرزصفائی انتظامات پر مامور

شہر میں موجود 250 چھوٹے بڑے قبرستانوں میں صفائی کا عمل روزانہ کی بنیادوں پر جاری

رمضان بازاروں کے اطراف اضافی ویسٹ کنٹینرز اور بنز نصب کر دی گئیں۔ سی ای او بابر صاحب دین

ایل ڈبلیو ایم سی کے 21 واشر رکشے اور 210 ورکرز شہر میں سجنے والے 21 بڑے افطار دستر خوانوں پرصفائی ستھرائی یقینی بنائیں گے۔ بابر صاحب دین

شہریوں کی سہولت کے لیے قائم رمضان نگہبان ڈیسک پر بھی صفائی عملہ تعینات

رمضان بازاروں سے موصول ہونے والی شکایات کو فوری حل کرنے کی ہدایت

شہری کسی بھی شکایت کی صورت میں ہیلپ لائن 1139 پر رابطہ کریں۔ سی ای او ایل ڈبلیو ایم سی

Address

Office # 102, 1st Floor, Sajjad Center, Johar Town
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qaumi Waqar-Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share