04/05/2026
مدینہ منورہ کی گلیوں میں ایک بوڑھی عورت روزانہ ایک راستے پر بیٹھتی تھی۔ وہ اسلام کو پسند نہیں کرتی تھی اور اکثر لوگوں سے محمد ﷺ کے بارے میں سخت باتیں کہا کرتی تھی۔ جب بھی آپ ﷺ اس راستے سے گزرتے، وہ آپ پر کچرا پھینک دیتی۔
نبی کریم ﷺ خاموشی سے گزر جاتے۔
نہ بددعا، نہ ناراضی، نہ شکایت۔
ایک دن آپ ﷺ وہاں سے گزرے تو کچرا نہ آیا۔ آپ ﷺ رک گئے۔ حیرت ہوئی کہ آج وہ عورت نظر کیوں نہیں آئی؟ آپ ﷺ نے اس کا حال دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے۔
آپ ﷺ فوراً اس کے گھر تشریف لے گئے۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ جب اس نے دیکھا کہ محمد ﷺ خود عیادت کے لیے آئے ہیں تو وہ ششدر رہ گئی۔ جس شخصیت کو وہ روز اذیت دیتی تھی، وہی اس کی خیریت پوچھنے آئی تھی۔
آپ ﷺ نے نہایت نرمی سے اس کی مزاج پرسی کی اور اس کے لیے دعا فرمائی۔ عورت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کہا:
“آپ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اگر آپ جھوٹے ہوتے تو میرے ساتھ یہ سلوک نہ کرتے۔”
یہ واقعہ ہمیں نبی کریم ﷺ کے صبر، حلم اور اعلیٰ اخلاق کا عظیم درس دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے برائی کا جواب برائی سے نہیں دیا بلکہ حسنِ سلوک سے دیا۔ یہی اخلاق دلوں کو بدل دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ دشمنی کو محبت سے ختم کیا جا سکتا ہے، اور بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنا ہی اصل عظمت ہے۔
اللهم صلِّ وسلم على نبينا محمد ﷺ۔