بدل رہا ہے منڈی بہاءالدین

  • Home
  • بدل رہا ہے منڈی بہاءالدین

بدل رہا ہے منڈی بہاءالدین انشااللہ منڈی بہاءالدین پنجاب کا مثالی ضلع بنے گا

سول سروس میں مکمل تبدیلی متوقعوفاقی حکومت نے سول سروس میں وسیع اصلاحات کے پیکیج کو حتمی شکل دے دی ہے، جس پر تقریباً 11 ا...
21/09/2026

سول سروس میں مکمل تبدیلی متوقع
وفاقی حکومت نے سول سروس میں وسیع اصلاحات کے پیکیج کو حتمی شکل دے دی ہے، جس پر تقریباً 11 ارب روپے لاگت آئے گی۔ اصلاحات کے تحت 11 خصوصی پیشہ ورانہ کیڈرز متعارف کرانے، CSS امتحان میں بڑی تبدیلیاں، اعلیٰ عہدوں پر میرٹ کی بنیاد پر تقرری، کارکردگی سے منسلک مالی مراعات اور ترقی کے نئے نظام کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ نیشنل ایگزیکٹو سروس کے تحت گریڈ 20 اور اس سے اوپر کی اسامیوں پر پانچ سالہ معاہدوں کے ذریعے کھلے مقابلے کی بنیاد پر تقرری ہوگی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہیومن ریسورس اینڈ آرگنائزیشن ڈویلپمنٹ ڈویژن میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ وفاقی فیصلہ سازی کے مراحل پانچ سے کم کرکے تین کر دیے جائیں گے۔
CSS امتحان برقرار رہے گا، تاہم پریliminary ٹیسٹ کے لیے کامیابی کی شرح 40 فیصد مقرر کرنے، تجزیاتی صلاحیت کو شامل کرنے اور پانچ لازمی مضامین اردو میں دینے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔ بھرتی کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے گا اور اسے چھ ماہ تک محدود کرنے کا ہدف ہے۔
سرکاری افسران کی سال میں دو مرتبہ کارکردگی جانچی جائے گی، جبکہ ملازمین سے متعلق اخراجات کا 5 فیصد کارکردگی کی بنیاد پر مالی مراعات کے لیے مختص کیا جائے گا۔ تربیتی اداروں کو ضم کرکے نیشنل یونیورسٹی آف پبلک ایڈمنسٹریشن قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
اصلاحات میں منظم فوجی طرز کے جائزوں اور ترقی کے نظام سے بھی استفادہ کیا گیا ہے، جبکہ خصوصی مہارت، قیادت کی صلاحیت اور ’’صحیح شخص کے لیے صحیح عہدہ‘‘ کے اصول پر زور دیا گیا ہے۔ منظوری کے بعد ایک عمل درآمد کمیٹی اصلاحات کی نگرانی کرے گی اور 120 دن میں مکمل نفاذ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

19/09/2026

دسمبر 2023 میں دو وکیل شادی کے بندھن میں بندھے تھے ۔۔ انہیں شاید معلوم نہیں تھا کہ صرف دو برس بعد دونوں کا نام ایک ہی مق...
19/09/2026

دسمبر 2023 میں دو وکیل شادی کے بندھن میں بندھے تھے ۔۔ انہیں شاید معلوم نہیں تھا کہ صرف دو برس بعد دونوں کا نام ایک ہی مقدمے، ایک ہی فیصلے اور ایک جیسی سترہ سترہ سال کی سزا کے ساتھ لکھا جائے گا۔

یہ کہانی ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ہے۔

دونوں کا تعلق قانون سے ہے ۔۔ دونوں عدالتوں میں دوسروں کے مقدمات لڑتے رہے ۔۔ قانونی فائلیں پڑھنا، دلائل تیار کرنا اور کسی ملزم کے حق میں عدالت کے سامنے کھڑا ہونا ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا حصہ تھا۔

مگر پھر ایک وقت آیا جب وکالت کرنے والے یہی دو افراد خود ایک مقدمے میں ملزم بن کر عدالت کے سامنے کھڑے تھے۔

یہ معاملہ سوشل میڈیا پر کی جانے والی بعض پوسٹس سے شروع ہوا۔

استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ان پوسٹس میں ریاست اور سکیورٹی اداروں سے متعلق قابلِ اعتراض، غلط اور نقصان دہ مواد پھیلایا گیا۔ اگست 2025 میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی شکایت پر کارروائی شروع ہوئی۔

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے الزامات تسلیم نہیں کیے ۔۔ ان کا مؤقف تھا کہ مقدمے اور عدالتی کارروائی میں قانونی اور آئینی سوالات موجود ہیں۔

پھر 23 جنوری 2026 کو دونوں کو حراست میں لیا گیا۔

اگلے روز، 24 جنوری کو ٹرائل کورٹ نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں دونوں کو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر سترہ سترہ سال قید اور بھاری جرمانوں کی سزا سنادی۔

دو وکیل ۔۔ دو شریکِ حیات ۔۔ اور دونوں کے سامنے ایک ہی طویل سزا۔

لوگوں کے لیے شادی شاید تصاویر، پھولوں اور خوشیوں کا نام ہوتی ہے ۔۔ لیکن کچھ رشتوں کے حصے میں بہت جلد عدالتوں کی راہداریاں، قانونی فائلیں اور انتظار آجاتا ہے۔

یہاں اس کہانی کو کسی سیاسی نعرے یا کسی ادارے کے خلاف الزام میں تبدیل کرنا مناسب نہیں۔

ریاستی اداروں کا احترام اپنی جگہ ۔۔ قانون کے تحت لگائے گئے الزامات اپنی جگہ ۔۔ اور ہر سزا یافتہ شخص کا اپیل اور اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا آئینی حق اپنی جگہ۔

ایمان اور ہادی نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا۔

مہینے گزرتے رہے ۔۔ ان کی درخواستیں عدالتوں میں زیرِ سماعت رہیں ۔۔ ایک جانب سترہ سال کی سزا کا فیصلہ موجود تھا اور دوسری جانب اس فیصلے کے خلاف اپیل۔

پھر 17 ستمبر 2026 کو اس داستان میں ایک اہم موڑ آیا۔

سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کرتے ہوئے دونوں کی ضمانت منظور کرلی۔

عدالت نے دو دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیا اور واضح کیا کہ یہ ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک ہوگی۔

سپریم کورٹ نے دونوں کو عدالتی وقار اور ڈیکورم کا خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی۔

یہ قانونی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ سزا کی معطلی کا مطلب مقدمے سے بری ہونا نہیں ہوتا۔

ان کی اپیل ابھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے ۔۔ الزامات، دفاع اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔

مگر آج کا حکم ایک شادی شدہ جوڑے کے لیے آزادی کی طرف کھلنے والا ایک دروازہ ضرور ہے۔

محبت ہمیشہ کسی کو دنیا سے چھپا کر محفوظ رکھنے کا نام نہیں ہوتی ۔۔ کبھی محبت یہ بھی ہوتی ہے کہ مشکل وقت آئے تو دونوں ایک ہی صف میں کھڑے رہیں ۔۔ ایک ہی خوف سے گزریں ۔۔ ایک دوسرے کا حوصلہ بنیں ۔۔ اور قانونی راستہ چھوڑنے کے بجائے اسی دروازے پر دستک دیتے رہیں جہاں سے انصاف ملنے کی امید ہو۔

یہ کسی ادارے کی شکست یا کسی فریق کی مکمل فتح کی کہانی نہیں۔

یہ پاکستان کے عدالتی نظام میں موجود اس حق کی کہانی ہے جس کے تحت ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے ۔۔ اور اعلیٰ عدالت اسے دوبارہ جانچ سکتی ہے۔

اب ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے مستقبل کا حتمی فیصلہ اپیل میں ہوگا۔

مگر ان کی کہانی ایک سوال ضرور چھوڑتی ہے ۔۔

شادی کے وقت ساتھ رہنے کا وعدہ کرنا آسان ہوتا ہے ۔۔ مگر جب ایک ہی مقدمہ، ایک ہی سزا اور ایک ہی غیر یقینی مستقبل سامنے کھڑا ہو تو کیا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا محبت کی مشکل ترین صورت نہیں؟

پشاور کے ایک کلب میں انگریز افسر اسکواش کھیلتے تھے ۔۔ اور کورٹ سے باہر نکلنے والی گیندیں اٹھانے کے لیے ایک چھوٹا سا لڑکا...
19/09/2026

پشاور کے ایک کلب میں انگریز افسر اسکواش کھیلتے تھے ۔۔ اور کورٹ سے باہر نکلنے والی گیندیں اٹھانے کے لیے ایک چھوٹا سا لڑکا کھڑا رہتا تھا۔

افسر کھیلتے ۔۔ وہ انہیں غور سے دیکھتا۔

وہ شاٹ لگاتے ۔۔ لڑکا گیند اٹھا کر واپس کردیتا۔

پھر شام ہوتی ۔۔ افسر کلب سے چلے جاتے ۔۔ کورٹ خالی ہوجاتا ۔۔ اور وہی بال بوائے ہاتھ میں ریکٹ پکڑ کر ان کے کھیلے ہوئے شاٹس دہرانے لگتا۔

اس بچے کا نام ہاشم خان تھا۔

وہ پشاور کے قریب نواکلی کے ایک سادہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد برطانوی فوجی افسروں کے کلب میں ملازم تھے۔

ہاشم ابھی چھوٹے تھے کہ والد ایک حادثے میں دنیا سے چلے گئے۔ تعلیم چھوڑنا پڑی ۔۔ اور کلب میں گیندیں اٹھانا اور کورٹ صاف کرنا زندگی کا ذریعہ بن گیا۔

لیکن جس کورٹ پر وہ صفائی کرتے تھے ۔۔ وہی کورٹ ان کی درس گاہ بھی بن گیا۔

کوئی باقاعدہ اکیڈمی نہیں تھی ۔۔ جدید کوچنگ نہیں تھی ۔۔ مہنگا سامان نہیں تھا۔

صرف کھیل کو غور سے دیکھنے والی دو آنکھیں ۔۔ مسلسل محنت کرنے والا جسم ۔۔ اور یہ یقین کہ ایک دن وہ صرف گیند اٹھانے والا لڑکا نہیں رہے گا۔

افسر چلے جاتے تو ہاشم خان کورٹ میں اترتے ۔۔ کبھی ٹوٹے پرانے ریکٹ سے پریکٹس کرتے، کبھی دیوار کو حریف بنا لیتے۔

وقت گزرتا گیا ۔۔ بال بوائے ایک بہترین کھلاڑی بن گیا۔

1944 میں انہوں نے آل انڈیا اسکواش چیمپئن شپ جیتی اور اگلے دو سال بھی اپنے اعزاز کا دفاع کیا۔

پاکستان قائم ہوا تو وہ پاکستان ایئر فورس سے وابستہ ہوئے اور 1949 میں نئے ملک کی پہلی قومی اسکواش چیمپئن شپ جیت لی۔

مگر عالمی سطح پر انہیں ابھی کوئی خاص طور پر نہیں جانتا تھا۔

پھر 1951 میں پاکستان نے انہیں برٹش اوپن کھیلنے کے لیے انگلستان بھیجا۔

ہاشم خان تقریباً 37 برس کے تھے ۔۔ ایک ایسی عمر جس میں آج کئی کھلاڑی ریٹائرمنٹ کی تیاری کررہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب مصر کے محمود کریم تھے، جو کئی مرتبہ یہ اعزاز جیت چکے تھے۔

کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ پشاور کا یہ غیرمعروف کھلاڑی کیا کرنے والا ہے۔

فائنل شروع ہوا ۔۔ اور ہاشم خان نے دفاعی چیمپئن کو 9-5، 9-0 اور 9-0 سے شکست دے دی۔

جس کھیل کو انہوں نے کبھی انگریز افسروں کی گیندیں اٹھاتے ہوئے سیکھا تھا ۔۔ اسی کھیل کی سب سے بڑی ٹرافی اب ان کے ہاتھ میں تھی۔

اس دور میں برٹش اوپن کو اسکواش کی غیررسمی عالمی چیمپئن شپ سمجھا جاتا تھا۔

ہاشم خان صرف ایک مرتبہ نہیں جیتے۔

انہوں نے 1951 سے 1956 تک مسلسل چھ برٹش اوپن ٹائٹل اپنے نام کیے ۔۔ اور پھر 1958 میں ساتویں مرتبہ یہ اعزاز جیت لیا۔

پاکستان ابھی دنیا کے نقشے پر نیا ملک تھا ۔۔ وسائل محدود تھے ۔۔ مگر ہاشم خان نے دنیا کو ایک ایسا نام یاد کروادیا جس کے بعد کئی دہائیوں تک عالمی اسکواش پر پاکستانی کھلاڑیوں کی حکمرانی قائم رہی۔

ہاشم کے بعد اعظم خان، روشن خان، قمر زمان، جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے نام سامنے آئے۔

لیکن اس بادشاہت کی پہلی اینٹ اس بال بوائے نے رکھی تھی ۔۔ جو دوسروں کا کھیل دیکھتے دیکھتے خود دنیا کا بہترین کھلاڑی بن گیا۔

ہاشم خان کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ابتدا کتنی چھوٹی ہے، یہ اہم نہیں ۔۔ انسان اپنی محنت سے کہاں پہنچتا ہے، اصل کہانی وہ ہوتی ہے۔

کبھی کسی کے ہاتھ میں ٹرافی دیکھیں تو صرف اس کی آخری جیت نہ دیکھیں ۔۔ اس بچے کو بھی تلاش کریں جو برسوں پہلے خالی کورٹ میں اکیلا پریکٹس کررہا تھا۔

پاکستان کو اپنے ایسے ہیروز کو دوبارہ یاد کرنے کی ضرورت ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہاشم خان کی کہانی ہماری نئی نسل تک پہنچنی چاہیے تو اسے ضرور شیئر کیجیے۔

👑👑🐅🐅🐅ماشاءﷲ 🌸Discover MalakwalAssistant Commissioner Malakwal /Tehsil Administratorوائس اف ملکوالMalakwal ملکوال سوشل می...
19/09/2026

👑👑🐅🐅🐅
ماشاءﷲ 🌸
Discover MalakwalAssistant Commissioner Malakwal /Tehsil Administratorوائس اف ملکوالMalakwal ملکوال سوشل میڈیا نیوز ملکوال مریم نواز شریف

Address


50400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بدل رہا ہے منڈی بہاءالدین posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed advertising & marketing company?

Share