Darul Quran Academy

Darul Quran Academy حج وعمرہ اور ہر قسم انٹر نیشنل ائیر لائن ٹکٹ کے لئے رابطہ کریں۔۔ +923414808042

06/01/2026

*📝 *رائےِ تجزیہ (Video )*
*🔍 شرعی نقطۂ نظر سے وضاحت:*
حالتِ احرام میں مرد کے لیے ایسا جوتا یا چپل پہننا درست ہے جس میں دونوں ٹخنے کھلے ہوں۔
ویڈیو میں نظر آنے والی چپل بند معلوم ہوتی ہے جو ٹخنوں کو ڈھانپ رہی ہے، اس لیے فقہِ حنفی کے مطابق یہ احرام کے آداب کے خلاف ہے۔
📌 اگر کسی مجبوری (زخم، بیماری وغیرہ) کی وجہ سے بند جوتا پہننا پڑ جائے تو شریعت اس کی اجازت دیتی ہے، البتہ دم لازم آتا ہے۔
🤲 مقصد تنقید نہیں بلکہ درست رہنمائی ہے تاکہ عبادت سنت کے مطابق ادا ہو سکے۔

゚viralシfypシ゚viralシalシ

05/01/2026
05/01/2026

یہ گونگا شخص زبان سے نہیں بول رہا، مگر دل سے پوری شدت کے ساتھ اللہ سے باتیں کر رہا ہے۔ ہر اشارہ، ہر حرکت، ہر ہاتھ اُٹھانا اور ہر آنکھ کا بھیگا ہونا دعا کا جزو ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دل کی آواز سب سے بڑی ہوتی ہے، چاہے زبان خاموش ہو یا لبوں پر الفاظ نہ ہوں۔
یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ رب کے حضور دعا کرنے کے لیے الفاظ ضروری نہیں، دل کی سچائی اور خلوص کافی ہے۔ ایک گونگا بھی، اگر دل سے اللہ سے مانگے، تو اُس کی دعا آسمان تک پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے سنتا ہے۔ یہ خاموشی، عاجزی اور محبت کی سب سے بلند مثال ہے۔
゚viralシfypシ゚viralシalシ

03/01/2026

مسجد نبوی ﷺ، جہاں ہر قدم پر رحمت و سکون ہے، میں بھی اگر باپ اور بیٹے کے درمیان جھگڑا ہو، تو یہ نہ صرف انسانی تعلقات کی عظمت کے خلاف ہے بلکہ اللہ کی موجودگی میں بڑا گناہ ہے۔ یہاں آنے والے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ مسجد کے آداب کا خاص خیال رکھے: خاموشی، احترام، دل سے خشوع و خضوع، اور دوسروں کی نافرمانی یا تکلیف سے اجتناب۔ والدین کے ساتھ جھگڑا کرنا یا انہیں تکلیف پہنچانے کی کوشش کرنا بالکل ممنوع ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں والدین کی عزت کی سخت تاکید کی گئی ہے۔
مسجد نبوی ﷺ کی پاکیزہ فضا ہمیں صبر، عاجزی، اور محبت سکھاتی ہے۔ یہاں غصہ، تکبر یا بدزبانی لانے کی بجائے دعا، ذکر، اور دل کی نرمائیاں لے کر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور اپنے والدین کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ، اور اگر تم میں سے کسی کے ساتھ غصہ ہو تو کہاؤ: ربِّ ارحمهما كما رَبَّياني صغيرًا”
یہی حقیقی تقویٰ اور روحانی بلندی ہے، اور یہی ہمیں مسجد نبوی ﷺ کے آداب کی حفاظت اور والدین کی خدمت کا سبق دیتا ہے۔ 🌿🕋

03/01/2026

*جب جہاز میقات کے اوپر سے گزرتا ہے تو عمرہ یا حج کا ارادہ رکھنے والے مسافر کے لیے اسی وقت احرام باندھنا اور نیت کرنا واجب ہو جاتا ہے۔*
تفصیل یہ ہے کہ چونکہ ہوائی جہاز زمین پر موجود میقات سے براہِ راست نہیں گزرتا بلکہ فضا سے اوپر سے عبور کرتا ہے، اس لیے عام طور پر ایئرلائن کی جانب سے اعلان کر دیا جاتا ہے کہ اب میقات آنے والا ہے یا میقات کے اوپر سے گزر رہے ہیں۔ اس اعلان سے کچھ دیر پہلے ہی مسافر کو احرام کی تیاری مکمل کر لینی چاہیے۔
*✈️ طریقہ کار:*
غسل یا وضو کر کے (گھر یا ایئرپورٹ سے ہی) احرام کی چادریں پہن لی جائیں
جہاز میں میقات سے ذرا پہلے
دل میں عمرہ یا حج کی نیت کریں
اور لبیک پڑھنا شروع کر دیں
*📌 اہم نکتہ:*
اگر کوئی شخص میقات سے بغیر احرام گزر جائے تو وہ گناہگار ہوتا ہے اور اس پر دم (قربانی) لازم آتی ہے، الا یہ کہ وہ میقات سے پہلے واپس جا کر احرام باندھ لے۔
یہ مسئلہ خاص طور پر خواتین، بزرگوں اور پہلی بار جانے والے عازمین کے لیے بہت اہم ہے، اس لیے ہوائی سفر میں اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

🌿🛑 *بئر الخاتم*  *مختصر تعارف:* بئر الخاتم (انگوٹھی والا کنواں) مسجد قباء کے مغربی جانب تقریباً 38 میٹر کے فاصلے پر واقع...
01/01/2026

🌿🛑 *بئر الخاتم*
*مختصر تعارف:*
بئر الخاتم (انگوٹھی والا کنواں) مسجد قباء کے مغربی جانب تقریباً 38 میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ یہ کنواں نبی کریم ﷺ کی زندگی کے ایک اہم تاریخی واقعے کا گواہ ہے، جہاں آپ کا مبارک خاتم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے کنویں میں گر گیا۔
محل وقوع:
مسجد قباء، مدینہ منورہ
فاصلے: مسجد قباء سے مغرب کی طرف تقریباً 38 میٹر
*تاریخی اہمیت:*
کنواں کا اصل نام بئر أريس تھا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے نبی ﷺ کا خاتم گرنے کے واقعے کے بعد یہ بئر الخاتم کے نام سے مشہور ہوا۔
اس کنویں کے پانی کا ذائقہ میٹھا اور صاف تھا اور یہ لوگوں کے لیے پینے اور باغات کو سیراب کرنے کا ذریعہ تھا۔
*موجودہ حالت:*
جدید دور میں مسجد قباء کی توسیع کے باعث کنواں زمین کے اندر دفن ہو چکا ہے۔
مقام پر ممکنہ طور پر ایک چھوٹی تختی یا نشان موجود ہے تاکہ تاریخی یاد تازہ رہے۔
شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کے فتویٰ کے مطابق اس جگہ پر دوبارہ گنبد یا تبرک قائم کرنا غیر شرعی رسوم کو فروغ دے سکتا ہے، اس لیے اسے مسمار کر دیا گیا۔
*زائرین کے لیے نکات:*
بئر الخاتم اب نظر نہیں آتا، لیکن مسجد قباء کی زیارت کے دوران اس تاریخی واقعے کو یاد کرنا ایمان کو تازگی دیتا ہے۔
اس مقام پر کھڑے ہو کر نبی ﷺ کے صحابہ کرامؓ کے ساتھ جنت کی خوشخبری یاد کی جا سکتی ہے۔
*Google Map لوکیشن:*
*مسجد قباء، مدینہ منورہ*
https://maps.app.goo.gl/EiDSun6vzxAz9jjr6?g_st=aw

31/12/2025

صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے دوران *میلینِ اخضرین* سے مراد وہ دو سبز نشانات ہیں جو سعی کے راستے میں نمایاں کیے گئے ہیں۔ یہ نشانات اس مقام کی علامت ہیں جہاں حضرت ہاجرہؑ نے اپنے بچے حضرت اسماعیلؑ کے لیے پانی کی تلاش میں رفتار تیز کی تھی۔ اسی یاد کی پیروی میں شریعت نے مردوں کے لیے ان دونوں سبز نشانات کے درمیان ہلکی دوڑ (رَمل) کو سنت قرار دیا ہے، جبکہ خواتین کے لیے یہاں بھی عام رفتار سے چلنا ہی کافی ہے۔ موجودہ دور میں مسجدِ حرام میں یہ میلینِ اخضرین سبز لائٹس یا سبز ستونوں کی صورت میں موجود ہیں تاکہ ہر زائر کو آسانی سے معلوم ہو سکے کہ سعی کے دوران کہاں رفتار تیز کرنی ہے۔ یہ نشانات سعی کو سنتِ ہاجرہؑ سے جوڑتے ہوئے عبادت میں شعور اور روحانی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔

*🕋 حرمین الشریفین کلچر سیریز* *🌸 حرمین الشریفین کے طواف کی تسبیح (سات دانوں والی تسبیح) 🌸* ✳️حرمین شریفین کی روحانی فضا ...
30/12/2025

*🕋 حرمین الشریفین کلچر سیریز*
*🌸 حرمین الشریفین کے طواف کی تسبیح (سات دانوں والی تسبیح) 🌸*
✳️حرمین شریفین کی روحانی فضا میں ایک خوبصورت رواج یہ بھی ہے کہ زائرینِ کرام اپنے ہاتھ میں سات دانوں والی تسبیح تھامے، ہر شوط کے دوران دل و زبان سے اللہ کی یاد میں مشغول رہیں۔ یہ مختصر عمل نہ صرف دل کو مرکوز کرتا ہے بلکے عبادت میں معنویت کی شاندار روانی پیدا کرتا ہے۔

*طریقۂ کار*
🕋 طواف کے 7 شوط مکمل کریں۔
· 🔢 ہر ایک شوط کے بعد تسبیح کا ایک دانہ آگے سرکیں۔
· ✔️ ساتواں دانہ پورا ہونے پر طواف مکمل تصور کریں۔

*روحانی فوائد*

· ✅ بھول چوک سے محفوظ — شمار میں استحکام رہتا ہے۔
· ✅ دل کی یکسوئی — طواف کی روحانی کیفیت برقرار رہتی ہے۔
· ✅ ہجوم میں سکون — ذہنی انتشار کم ہوتا ہے۔
· ✅ سب کے لیے آسان — نئے زائرین اور بزرگ حضرات کے لیے بہترین معاون۔
✳️تسبیح صرف ایک ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔
اصل کامیابی نیت کی خلوص اور شوطوں کی صحت میں ہے۔
انگلیوں پر شمار کرنا بھی سنت کے مطابق ہے اور کامل درست ہے۔
✳️ہر دانہ، ہر قدم، ہر شوط — دل کی گردش اللہ کے ذکر کے ساتھ ہو۔ یہ معمولی سا عمل طواف کو محض ایک رسم نہیں، بلکہ روح کی گہرائیوں تک پہنچنے کا زینہ بنا دیتا ہے۔
اللہ کرے آپ کا ہر طواف قلب و روح کی سیاحت بن جائے۔ 🌸
🕋 abha international air services✈️
03414808042

30/12/2025

🕋 *رمل: طواف میں سنت نبوی ﷺ کا جیتا جاگتا اظہار*
📖 *تعارف و مفہوم*
رمل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "تیزی سے چلنا" یا "دوڑنے کی حالت میں چلنا"۔ شریعت اسلامیہ کی اصطلاح میں اس سے مراد طواف کے پہلے تین چکروں میں تیزی کے ساتھ چلنا اور شانوں کو ہلکا سا ہلانا ہے۔ یہ ایک مستحب سنت عمل ہے جو خاص تاریخی پس منظر رکھتا ہے اور آج بھی لاکھوں مسلمان اس سنت کو زندہ کرتے ہوئے اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں۔

🕋 *تاریخی پس منظر: ایک ایمان افروز واقعہ*

⬅️ *واقعہ حدیبیہ اور اس کا پس منظر*
6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے اس خواب کی تعبیر یہ سمجھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور صحابہ کرام کو عمرہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے 1400 سے زائد صحابہ کرام کے ساتھ عمرہ کی نیت سے احرام باندھا اور بغیر کسی جنگی تیاری کے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔

جب قریش مکہ کو پتہ چلا تو انہوں نے مسلمانوں کو روکنے کا فیصلہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ مقام حدیبیہ میں پڑاؤ ڈالے، جہاں قریش کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ آخرکار صلح حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا، جس کی اہم شرائط میں سے ایک یہ تھی:
مسلمان اس سال بغیر عمرہ ادا کیے مدینہ واپس چلے جائیں
· اگلے سال تین دن کے لیے مکہ آکر عمرہ ادا کریں

⬅️ *عمرۃ القضاء اور رمل کا آغاز*
7 ہجری کے ماہ ذی القعدہ میں، رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام صلح حدیبیہ کی شرط کے مطابق عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے۔ اس عمرہ کو "عمرۃ القضاء" (قصاص والا عمرہ) یا "عمرۃ القضیہ" کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ گزشتہ سال چھوڑے گئے عمرہ کا بدل تھا۔
قریش مکہ نے کوہِ ابو قبیس پر جمع ہو کر مسلمانوں کو دیکھنا شروع کیا۔ ان میں سے کچھ یہ کہہ رہے تھے کہ "مدینہ کی بخار والی آب و ہوا نے انہیں کمزور اور نحیف کر دیا ہے"۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا:
*"تَرَاءَ لَهُمْ غَدًا قُوَّتُكُمْ"*
"کل انہیں اپنی قوت دکھا دو"

صحابہ کرام نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! ہم کس طرح اپنی قوت دکھائیں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: "طواف کے پہلے تین چکروں میں تیزی سے چلو"۔

چنانچہ صحابہ کرام نے طواف قدوم (عمرہ کا پہلا طواف) کے پہلے تین چکروں میں تیزی سے چلنا شروع کیا، اور شانوں کو ہلکا سا ہلایا تاکہ جسمانی قوت کا زیادہ سے زیادہ اظہار ہو۔ قریش یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے اور کہنے لگے: "یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں ہم کہہ رہے تھے کہ مدینہ نے انہیں کمزور کر دیا ہے؟ خدا کی قسم! یہ تو ہمارے گھوڑوں سے بھی زیادہ طاقتور ہیں!"

⬅️*رمل کا طریقہ کار: سنت نبوی ﷺ کی روشنی میں*

⬅️ *مکمل طریقہ تفصیل کے ساتھ*

*رمل کا طریقہ کار درج ذیل مراحل پر مشتمل ہے:*

1. *رمل کا وقت:*
رمل صرف طواف کے پہلے تین چکروں میں
· آخری چار چکروں میں عام رفتار سے طواف کیا جاتا ہے
2. *کیفیتِ رمل:*
تیزی کے ساتھ چلنا، لیکن دوڑنا نہیں
· قدموں کو قریب قریب رکھنا، لمبے لمبے قدم نہیں اٹھانا
· شانوں کو ہلکا سا ہلانا (اضطرابِ مِتْکَافِحٌ کی کیفیت)
· پورے جسم میں ایک خاص قسم کی چستی اور طاقت کا اظہار
3. *عملی نمونہ:*
طواف کا چکر عمل کیفیت
پہلا چکر رمل تیزی + شانوں کو ہلانا
دوسرا چکر رمل تیزی + شانوں کو ہلانا
تیسرا چکر رمل تیزی + شانوں کو ہلانا
چوتھا چکر عام طواف عام رفتار
پانچواں چکر عام طواف عام رفتار
چھٹا چکر عام طواف عام رفتار
ساتواں چکر عام طواف عام رفتار
⚠️ *اہم نکات و احتیاطیں*
خواتین کے لیے نہیں: رمل صرف مردوں کے لیے ہے، خواتین عام طواف کریں گی
· بے ساختہ ہونا: رمل میں بناوٹ یا تکلف نہ ہو، قدرتی انداز میں ہو
· نیت ضروری: دل میں سنت کی نیت ہونا ضروری ہے
· طواف متاثر نہ ہو: رمل کی وجہ سے دعائیں پڑھنے، ذکر و اذکار یا طواف کی دیگر سنتیں متاثر نہ ہوں

📚 *فقہی احکام و مسائل*

✅ *رمل کن طوافوں میں سنت ہے؟*
1. طواف قدوم (عمرہ یا حج کا پہلا طواف)
2. طواف زیارت/افاضہ (حج کا رکن، جو 10 ذوالحجہ کو ہوتا ہے)

❌ *رمل کن طوافوں میں نہیں ہے؟*
1. طواف وداع (حج یا عمرہ سے واپسی سے پہلے آخری طواف)
2. نوافل طواف (کسی بھی وقت نفلی طواف)
3. ایسے طواف جن کے بعد سعی نہ ہوتی ہو

*رمل کے فقہی مسائل*

1 *. رمل ترک کرنے والے امور:*

· بیماری یا جسمانی کمزوری
· بڑھاپا
· بھیڑ کی وجہ سے رمل کرنا ممکن نہ ہو
· عورت ہونا
· بچے یا نابالغ ہونا

2. *اگر رمل ترک ہو جائے تو کیا کرے؟*
· جان بوجھ کر چھوڑے تو سنت فوت ہوگی، لیکن طواف درست ہے
· بھول کر یا مجبوری میں چھوڑے تو کوئی گناہ نہیں
· کفارہ یا دم واجب نہیں ہوتا
3 *. رمل میں مذہبی اختلافات:*
حنفیہ: رمل کو عمرۃ القضاء کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں، اب مستحب نہیں
· شافعیہ، مالکیہ، حنابلہ: ہر اس طواف میں رمل مستحب ہے جہاں سعی ہو
· جمہور علماء: رمل اب بھی سنت مؤکدہ ہے

*💫 رمل کی حکمتیں اور روحانی اسرار*
*🌟 ظاہری حکمتیں*
1. تاریخی حکمت: مشرکینِ مکہ کو مسلمانوں کی طاقت و عظمت کا عملی مظاہرہ
2. جسمانی حکمت: عبادت میں جسمانی قوت کا استعمال، جو عبادت کے جامع تصور کو واضح کرتا ہے
3. نفسیاتی حکمت: مسلمان کے اندر اعتماد اور عزم کا احیاء
*⬅️ باطنی حکمتیں*
1. امت کی وحدت کا اظہار: تمام مسلمان ایک ہی طریقے سے اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں
2. تسلسلِ سنت: چودہ سو سال سے یہ سنت مسلسل جاری ہے
3. نبی ﷺ سے محبت کا اظہار: آپ ﷺ کے ہر حکم پر بے چوں چرا عمل
4. عبادات میں تنوع: عبادات کی مختلف شکلیں انسان کی مختلف نفسیاتی اور جسمانی کیفیتوں کے مطابق
*🕋 روحانی فوائد*
1. خشوع میں اضافہ: رمل کے بعد عام طواف میں خشوع و خضوع میں اضافہ ہوتا ہے
2. عبادت کا لطف: مختلف انداز سے عبادت کرنے سے عبادت کا لطف دوبالا ہوتا ہے
3. نبی ﷺ سے روحانی تعلق: ہر قدم پر یہ احساس کہ ہم نبی ﷺ کے طریقے پر چل رہے ہیں

*🌺 عملی تجاویز اور جدید دور میں رمل*
*🏃‍♂️ عمرہ/حج کرنے والوں کے لیے مشورے*
1. پہلے سے معلومات حاصل کریں: عمرہ/حج سے پہلے رمل کا طریقہ سیکھ لیں
2. عملی مشق: گھر میں یا مسجد میں خالی جگہ پر مشق کر لیں
3. بھیڑ کے اوقات: صبح کے اوقات میں طواف کریں جب بھیڑ کم ہو
4. صحت کا خیال: اگر طبیعت خراب ہو تو رمل نہ کریں
5. نیت کی سلامتی: ریا اور دکھاوے سے بچیں، خالصتاً سنت نبوی ﷺ کی نیت کریں

*⬅️ جدید چیلنجز اور ان کا حل*

1. بھیڑ کی کثرت: اول وقت میں طواف کریں، رمل نہ کر سکیں تو معاف ہے
2. گرمی/سردی: موسم کے مطابق احتیاط کریں، پانی کا استعمال کریں
3. طواف کی جگہ: حجر اسود کے قریب رمل شروع کریں

*📖 قرآن و حدیث میں رمل کا تذکرہ*
*🌙 قرآن مجید کی روشنی میں*
اگرچہ قرآن مجید میں رمل کا براہ راست تذکرہ نہیں، لیکن اس کے مفہوم پر کئی آیات دلالت کرتی ہیں:

· "وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ" (المنافقون: 8)
"عزت تو اللہ، اس کے رسول اور مومنوں ہی کے لیے ہے"
· "وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ" (الأنفال: 60)
"اور ان کے مقابلے کی جتنی طاقت تم میں ہو تیار رکھو"

*📚 احادیث مبارکہ*
1. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
"قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه عام الحديبية... فأمرهم النبي صلى الله عليه وسلم أن يرملوا ثلاثة أشواط ويمشوا أربعة"
(صحیح البخاری، کتاب الحج)
2. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
"لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة... طاف بالبيت سبعا، ورمل ثلاثة"
(صحیح مسلم، کتاب الحج)

*🌟 آخر میں چند سنہری باتیں*
1. رمل محض ایک رسم نہیں، بلکہ سنت نبوی ﷺ کا عملی اظہار ہے
2. ہر قدم نبی ﷺ کی محبت کا اعلان ہے
3. یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ عبادت میں ظاہر و باطن دونوں کا ہونا ضروری ہے
4. رمل ایمان کی تازگی کا ذریعہ ہے
5. یہ عمل ہماری تاریخ سے ہمارا رشتہ مضبوط کرتا है

رمل صرف قدموں کی حرکت نہیں،
یہ تو دل کی حرکت ہے۔
یہ صرف شانوں کا ہلنا نہیں،
یہ تو ایمان کی تڑپ ہے۔
جب ہم رمل کرتے ہیں،
تو ہم صرف تیزی سے نہیں چلتے،
بلکہ تاریخ کے دھارے میں واپس چلے جاتے ہیں۔
ان مقدس لمحات میں،
ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں،
صحابہ کرام کے شانہ بشانہ چلتے ہیں،
اور اپنی پوری امت کے ساتھ
ایک ہی قلب، ایک ہی روح بن جاتے ہیں۔
🌸 اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنت نبوی ﷺ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے ہر قدم کو اپنی رضا کے لیے قبول فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲✨

ABHA international air services✈️
03414808042

Address

Mardan
Mardan
23200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darul Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share