Ammar Khan Niazi Official

Ammar Khan Niazi Official Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ammar Khan Niazi Official, Advertising agency, LaluKhel, mohallah HassanKhel, Mianwali.
(7)

Personalized Paid Advertiser for Business Owners
Google Ads • Meta Ads • Social Media Growth
Remote Jobs | Local & International Clients
📞 WhatsApp: 03096063700
✨ Alhamdulillah — Allah Pak Raziq

30/04/2026

آپ کا بیٹا ، بچہ یا آپ خود کونسی ڈیجیٹل سکل سیکھ رہے ہیں یا سٹرگل کر رہے ہیں ؟

جیسے انسان تھوڑے تھوڑے پیسے بچا کر اپنی ضرورت کے وقت کام میں لاتا ہے،ویسے ہی کچھ نیکیاں خفیہ طور پر اپنے نامۂ اعمال میں ...
30/04/2026

جیسے انسان تھوڑے تھوڑے پیسے بچا کر اپنی ضرورت کے وقت کام میں لاتا ہے،
ویسے ہی کچھ نیکیاں خفیہ طور پر اپنے نامۂ اعمال میں جمع کرتے رہو،

تاکہ جب زندگی کے مشکل لمحے آئیں، تو انہی پوشیدہ اعمال کو وسیلہ بنا کر اللہ سے دعا کرو اور وہ رب اُن خاموش نیکیوں کے صدقے تمہاری پکار قبول فرما لے۔۔۔

30/04/2026

بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے

قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی

آج بھی اسکی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں

کیوں؟

پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں

تباہی 1 دن میں نہیں آ جاتی

صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں:

زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے

وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے

پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں

دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں

انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں

ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے

کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے

بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے

دن کے ایک بجےسر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے

یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ''صبح'' کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے۔

ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے۔

اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا۔

دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا ،،

اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں۔

برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں، برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس ''مرگ آباد'' سے واپس نہیں جاتا۔

لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے

اب 2020 میں آتے ہیں۔

پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں

آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں

بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !

آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے

اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا۔

بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے !

حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی نہیں تھی۔۔(ٹیپو سلطان کی سلطنت )
جس ملک کے ووٹر ذہنی غلام ہوں، پیر غنڈے ہوں مولوی منافق ہوں، ڈاکٹر بے ایمان ہوں، سیاستدان ، اور پولیس ڈاکو ہوں، کچہری بیٹھک ہو ججز بے اعتبار ہوں، لکھاری خوشامدی ہوں، اداکار بھانڈ ہوں، ٹی وی چینل پر مسخرے ہوں، تاجر بے ایمان اور سود خور ہوں، دکاندار چور ہوں، عوام ہے کرام ہوں اور جہاں تین سال کی بچی سے پچاس سال تک کی عورتوں ریپ عام ہو اور مجرموں کو سیاسی دباؤ میں آکر چھوڑ دیا جاۓ۔
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے،، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟

کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اور کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،،

کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.

*جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی*.

اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا. گاہک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہے.

وطن عزیز کی بقاء اور اپنی ترقی کی خاطر اس پبلک ویلفئر میسج کو اپنے حلقہ احباب کے گروپس میں ضرور پھیلائیں اور اس میسج سے سبق ضرور اُٹھانا چاہیے *طاہرچاند*

آج کے پاکستان میں business کرنا پہلے جیسا نہیں رہا۔مارکیٹ بدل چکی ہے… اور رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو گئی ہے۔اب صرف ...
30/04/2026

آج کے پاکستان میں business کرنا پہلے جیسا نہیں رہا۔
مارکیٹ بدل چکی ہے… اور رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو گئی ہے۔

اب صرف اچھی product یا service کافی نہیں،
visibility، branding اور digital presence ہی اصل طاقت بن چکی ہے۔

جو business online نہیں ہے،
وہ آہستہ آہستہ market سے غائب ہو رہا ہے۔

آج کا customer Facebook، Instagram، Google اور TikTok پر ہے،
اور وہی decision لیتا ہے جس brand کو وہ دیکھتا ہے، سمجھتا ہے، اور trust کرتا ہے۔

اسی لیے Digital Marketing اب کوئی option نہیں…
بلکہ ہر business کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

لیکن یہاں بھی ایک بڑی تبدیلی آ چکی ہے—
Artificial Intelligence (AI) نے marketing کے طریقے بدل دیے ہیں۔

اب campaigns زیادہ smart ہیں،
data زیادہ powerful ہے،
اور results پہلے سے زیادہ fast اور targeted ہو چکے ہیں۔

جو لوگ اور businesses AI کو adopt کر رہے ہیں،
وہ آگے نکل رہے ہیں…
اور جو ignore کر رہے ہیں، وہ پیچھے رہ رہے ہیں۔

یہاں ایک اور حقیقت بھی سمجھ لیں—
آج کے دور میں earning کے مواقع ختم نہیں ہوئے،
بلکہ digital field میں پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

Freelancing، remote jobs، online businesses—
یہ سب انہی لوگوں کے لیے ہیں
جو skills کے ساتھ ساتھ smart tools (AI) کا استعمال جانتے ہیں۔

اگر آپ صحیح skills سیکھ لیں،
اور consistency کے ساتھ کام کریں،
تو آپ نہ صرف اپنے اخراجات پورے کر سکتے ہیں،
بلکہ ایک strong income stream بھی بنا سکتے ہیں۔

یہ وقت ہے کہ ہم صرف traditional سوچ سے باہر نکلیں،
اور اپنے آپ کو modern tools اور strategies کے ساتھ align کریں۔

خاص طور پر parents کے لیے ایک اہم بات:
اگر آپ اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں،
تو انہیں صرف روایتی تعلیم تک محدود نہ رکھیں—

انہیں ڈیجیٹل فیلڈز کے ساتھ Digital Marketing اور ساتھ AI سیکھانا آج کی ضرورت ہے۔
ڈیجیٹل مارکیٹنگ نا بھی آۓ تو بیچنا تو آنا ہی چاہیے ۔

میں آپ کے لیے ہر طرح کی ہیلپ کے لیے ریڈی ہوں
کیونکہ آنے والا وقت انہی کا ہے
جو technology کو سمجھتے ہیں
اور اسے صحیح طریقے سے use کرتے ہیں۔

Ammar Khan Digital Marketer

📞 0309-606-3700

اے آئی کی وجہ سے آل ریڈی وہ ڈپریس ہے اور اوپر سے گرمی بھی ہے تو آس پاس کسی بھی فری لانسر کو دیکھیں تو تھوڑا فاصلے سے گزر...
30/04/2026

اے آئی کی وجہ سے آل ریڈی وہ ڈپریس ہے اور اوپر سے گرمی بھی ہے تو آس پاس کسی بھی فری لانسر کو دیکھیں تو تھوڑا فاصلے سے گزریں اور انکی طرف بار بار نہ دیکھیں!
ان حالات میں وہ چک مار سکتا ہے، اونچے آواز میں گالیاں بھی دے سکتا ہے۔۔۔

اگر آپ کے گھر میں فری لانسر ہے تو اس کو ٹائم پہ کھانا دیں ، اس کو ڈسٹرب نہ کریں۔۔۔
آہو😃

اعجاز اللہ خان کہ رہے ہیں 😃

اور نیکی() اختیار کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
29/04/2026

اور نیکی() اختیار کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

گوگل اب بوڑھا ہو چکا ہے... اسے ریٹائر کرنے کا وقت آ گیا ہے! 👴🛑​کبھی سوچا ہے کہ آخری بار آپ نے گوگل کے دوسرے پیج پر کب کل...
29/04/2026

گوگل اب بوڑھا ہو چکا ہے... اسے ریٹائر کرنے کا وقت آ گیا ہے! 👴🛑
​کبھی سوچا ہے کہ آخری بار آپ نے گوگل کے دوسرے پیج پر کب کلک کیا تھا؟ شاید کبھی نہیں۔ لیکن اب تو نوبت یہ آ گئی ہے کہ ہم پہلے پیج پر موجود ان "نیلے لنکس" پر بھی کلک کرنا نہیں چاہتے۔
​سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں "سرچ" (Search) سے نفرت ہو گئی ہے، ہمیں صرف "جواب" (Answer) چاہیے۔
​وہ دور لد گیا جب ہم گوگل پر جا کر 'Best Cameras for YouTube' لکھتے تھے اور 10 الگ الگ بلاگز کی خاک چھانتے تھے۔ اب ہم AI سے پوچھتے ہیں اور وہ ہزاروں ویب سائٹس کا نچوڑ نکال کر 2 سیکنڈ میں فائنل جواب ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔
​اس تبدیلی کا اثر کیا ہوگا؟ ذرا گہرائی میں سمجھیں:
​ویب سائٹس کا خاموش خاتمہ: جب AI آپ کو براہِ راست جواب دے دے گا، تو آپ کسی کی ویب سائٹ پر کیوں جائیں گے؟ اس کا مطلب ہے وہ لاکھوں بلاگرز اور صحافی جو محنت کر کے معلومات اکٹھی کرتے تھے، ان کا کاروبار ختم ہونے والا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ویب سائٹس صرف "ڈیٹا سورس" بن کر رہ جائیں گی۔
​ایڈز (Ads) کی سلطنت کا زوال: گوگل کا 80% ریونیو اشتہارات سے آتا ہے۔ گوگل آپ کو وہ ویب سائٹ اوپر دکھاتا ہے جس نے پیسے دیے ہوں۔ لیکن Perplexity یا ChatGPT Search جیسے ٹولز کا کوئی ذاتی لالچ نہیں ہوتا؛ وہ صرف وہی دکھاتے ہیں جو آپ کے لیے بہترین ہے۔ یہ "سرچ مارکیٹنگ" کی پوری انڈسٹری کا خاتمہ ہے۔

​SGE اور جوابات کی نئی معیشت: اب گوگل خود مجبور ہو کر اپنا Search Generative Experience (SGE) لا رہا ہے، یعنی گوگل خود بھی اب لنکس کے بجائے AI سے لکھے ہوئے پیراگراف دکھا رہا ہے۔ یہ گوگل کا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے برابر ہے، لیکن ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔
​کی ورڈز (Keywords) کی موت: اب آپ کو کمپیوٹر کی زبان نہیں سیکھنی۔ اب "انسانوں کی زبان" چلتی ہے۔ آپ AI سے ایسے بحث کر سکتے ہیں جیسے کسی استاد سے کر رہے ہوں، اور وہ آپ کی پچھلی باتوں کو یاد رکھ کر جواب دیتا ہے۔
​میرا چیلنج:
آج ایک پورا دن گوگل کے بغیر گزار کر دیکھیں اور صرف AI سرچ انجنز استعمال کریں۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ پچھلے 10 سالوں سے اشتہارات اور غیر ضروری لنکس کے درمیان کتنا وقت ضائع کر رہے تھے۔
​نیچے کمنٹ میں بتائیں: کیا آپ کو لگتا ہے کہ گوگل خود کو بدل کر بچ پائے گا؟ یا تاریخ اسے بھی 'Yahoo' کی طرح بھلا دے گی؟ 👇
Coppied from AI Wala

Thanks Sir ❣️

27/04/2026

MashAllah ❣️❣️❣️
Dada Abdul Wahab Khan

واپسی شرمندگی نہیں، دانائی ہے.ایک جاپانی فلسفی کا کہنا تھا کہ "اگر آپ کسی غلط ٹرین پر سوار ہو جائیں تو جتنی جلدی ممکن ہو...
27/04/2026

واپسی شرمندگی نہیں، دانائی ہے.

ایک جاپانی فلسفی کا کہنا تھا کہ "اگر آپ کسی غلط ٹرین پر سوار ہو جائیں تو جتنی جلدی ممکن ہو قریبی اسٹیشن پر اُتر جائیں، کیونکہ جتنا وقت گزرے گا، واپسی کا سفر اتنا ہی مشکل اور تھکا دینے والا ہو گا۔"

ہم سب کبھی نہ کبھی ایسی "ٹرین" پر سوار ہو جاتے ہیں جو ہمارے خواب، مزاج یا مقصد کے خلاف ہوتی ہے۔ نوکری، رشتہ، رویہ، یا حتیٰ کہ کوئی عادت... لیکن ہم ضد، انا یا خوف کی وجہ سے اگلے اسٹیشن کا انتظار کرتے رہتے ہیں، دل کو سمجھاتے ہیں کہ شاید اگلا اسٹاپ بہتر ہو۔ لیکن دل تو جانتا ہے، یہ ٹرین ہی غلط ہے۔
"اب بھی وقت ہے جلدی اتر جاؤ۔ ورنہ واپسی کا کرایہ تمہارے حوصلے، صحت اور خوابوں سے وصول کیا جائے گا۔" لوگ مذاق اڑائیں گے، پیٹھ پیچھے باتیں کریں گے مگر دل، دماغ، روح کا بوجھ اتر جائے گا۔

اگر آپ بھی کسی ایسی "ٹرین" پر ہیں، جو آپ کو اندر سے پشیمان کر رہی ہے، تو یقین جانیے، اُترنے میں کوئی شرمندگی نہیں۔ حماقت تو وہ ہے جو مسافر اپنی ضد میں کرتا ہے کہ چلنے دو، کچھ تو بدل جائے گا۔ لیکن جو چیز اندر سے بوسیدہ ہو، وہ منزل پر پہنچ کر بھی مظبوط نہیں ہو گی۔
اللہ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے۔
یاد رکھیں واپسی شرمندگی نہیں، دانائی ہے۔
Ammar Khan DM

27/04/2026

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ نے دس ہزار روپے مارکیٹنگ بجٹ کے طور پر مختلف پلیٹ فارمز پرخرچ کیے۔۔۔ تو کس ایڈ سے واقعی آرڈر آیا؟ یا پھر
کس پلیٹ فارم نے سب سے بہتر کام کیا؟ فیس بک, واٹس ایپ ، انسٹاگرام ، یا پھر گوگل ایڈز نے؟

اگر آپ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ کس چینل یا ایڈ نے حقیقت میں پرچیز کروائ ہے
تو آپ کو Attribution Models کا علم ہونا ضروری ہے۔

ایٹریبیوشن ماڈل یہ وہ طریقہ ہے جس سے آپ یہ طے کرتے ہیں کہ کس چینل یا ایکشن کو کریڈٹ دیا جائے کسٹمر کی پرچیز کا۔۔۔

کیونکہ کسی نے پہلے انسٹاگرام پر پوسٹ دیکھی۔۔پھر گوگل پر سرچ کیا۔۔۔پھر فیس بک ایڈ پر کلک کیا۔۔اور آخر میں واٹس ایپ پر آرڈر کر دیا۔۔

اب بتائیے۔۔آپ سیل کا کریڈٹ کس کو دیں گے؟

چلیے پہلے مشہور ایٹریبیوشن ماڈلز کو سمجھتے ہیں۔۔

1. First Click Attribution

جو سب سے پہلا ذریعہ تھا، اُسے کریڈٹ ملے گا۔۔

2. Last Click Attribution

آخری ایکشن جیسے واٹس ایپ کلک کو کریڈٹ دیا جائے گا۔۔

3. Linear Attribution

ہر ٹچ پوائنٹ کو برابر کا کریڈٹ ملے گا۔۔

4. Time Decay Attribution

جو جتنا پرچیز کے قریب تھا، اُسے زیادہ کریڈٹ ملے گا۔۔

5. Position Based Attribution.

یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو پہلے اور آخری ٹچ پوائنٹ کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے ۔۔جبکہ درمیان والے ٹچ پوائنٹس
کو کم ویلیو دیتا ہے

6.Data-Driven Attribution (Google Ads Pro)

اے آئ خود ڈیٹا دیکھ کر فیصلہ کرے گا۔۔۔

اب میں آپ کو آسان طریقہ سمجھاتی ہوں جس سے آپ کے لیے کریڈٹ دینے میں آسانی ہوگی ان شاءاللہ

1. First Click Attribution

جب آپ اوئیرنیس بڑھا رہے ہوں یعنی۔۔۔

آپ نیا برانڈ لانچ کر رہے ہیں۔۔مارکیٹ میں پہلی بار داخل ہو رہے ہیں۔۔آپ کو جاننے والا کوئی نہیں ہے۔۔۔مثلا آپ نے برانڈ لانچ کیا ہے، لوگ پہلی بار آپ کی پوسٹ یا ویڈیو ایڈ دیکھ رہے ہیں۔۔۔
تو آپ کو یہ جاننا ہے کہ کس چینل نے پہلی دلچسپی پیدا کی؟

2. Last Click Attribution
جب فوری سیلز چاہیے ہوں۔۔

یعنی آپ کو یہ جاننا ہو کہ کس ایڈ یا چینل نے پرچیز پر مجبور کیا ہے۔۔ان ایڈز میں آپ کا فوکس فوری کنورژن پر ہوتا ہے۔۔مثلا کسٹمر نے تین دن تک انسٹاگرام پوسٹس دیکھیں، پھر گوگل پر سرچ کیا۔۔لیکن آخر میں فیس بک ایڈ پر کلک کر کے آرڈر کر دیا۔۔۔
تو اس صورت میں لاسٹ کلک کو ہی کریڈٹ جاۓ گا۔۔

3. Linear Attribution
جب ہر ایکشن اہم ہو۔۔۔

یعنی آپ کا فنل لمبا ہے۔۔۔

Awareness → Engagement → Retargeting

ہر سٹیپ آپ کے لیے قیمتی ہے۔۔آپ صرف ایک ایڈ یا چینل پر انحصار نہیں کرتے۔۔۔مثلا کسٹمر نے پہلے ویڈیو دیکھی، پھر Carousel پوسٹ، پھر سٹوری، پھر ویب سائٹ وزٹ کی،
تو Linear Model ہر سٹیپ کو کچھ نہ کچھ کریڈٹ دے گا۔

4. Time Decay Attribution

جب آخری سٹیپس زیادہ مؤثر ہوں۔۔

آپ یہ دیکھیں کہ آخر میں کس نے پرچیز کو ٹرگر کیا۔۔مثلا کسی نے دس دن پہلے پروڈکٹ دیکھی تھی،

26/04/2026

جب اللہ تمہیں کسی چیز سے محروم کرتا ہے تو بدلے میں تمہیں اس سے کہیں زیادہ بہتر اور بے شمار نعمتوں سے نواز دیتا ہے، جن کے تم شاید حق دار بھی نہ ہو۔
اس لیے راضی رہنا سیکھو، کیونکہ معجزے صبر مانگتے ہیں اور تقدیر ہمیشہ شکر کرنے والوں کا ساتھ دیتی ہے۔

Address

LaluKhel, Mohallah HassanKhel
Mianwali
42201

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ammar Khan Niazi Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ammar Khan Niazi Official:

Share