08/07/2022
قدرت نے ہمیں دھوپ کی بے پایاں نعمت سے نوازا ہے مگر ہم اس سے استفادہ نہیں کررہے۔سورج کی روشنی سے بجلی بنانے کی ٹیکنالوجی بہت ترقی کرچکی ہے۔ اور دن بدن اَرزاںہوتی جارہی ہے۔ اس سے نہ تو آلودگی پھیلتی ہے نہ اسے پٹرولیم کی طرح درآمد کرنے پرزرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک تیزی سے شمسی توانائی کے منصوبے لگا رہے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے پاکستان اس میدان میں چیونٹی کی طرح رینگ رینگ کر چل رہا ہے حالانکہ دھوپ سے بجلی بنانے کے لیے پاکستان ایک بہت موزوںملک ہے۔اسکے جنوبی علاقوں میں اوسطاً روزانہ آٹھ گھنٹہ سورج کی روشنی موجود رہتی ہے۔گزشتہ دس پندرہ سال سے دنیا بھر میں شمسی توانائی کے استعمال میں تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے ۔چین اس وقت پونے دو لاکھ میگاواٹ بجلی دھوپ سے بنا رہا ہے‘ ترکی دس ہزارمیگاواٹ۔ سنہ دو ہزار دس میں بھارت سورج سے دس ہزار میگاواٹ بجلی بنارہا تھا۔ آج وہ اس طریقہ سے چونتیس ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کررہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی بنانے کی استعدادبہت ہی کم یعنی صرف ڈیڑھ ہزار میگا واٹ ہے۔ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ ہم سورج کی دھوپ سے کم از کم سولہ لاکھ میگاواٹ بجلی بنا سکتے ہیں۔ بلوچستان ‘ سندھ اور جنوبی پنجاب شمسی توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں جہاں سورج کی روشنی سال کے بیشتر حصہ میں وافر دستیاب رہتی ہے۔ شور تو ہمارے حکمرانوں نے بھی بہت مچایا تھاکہ شمسی توانائی کو فروغ دیں گے لیکن کام بہت کم کیا۔ دو ہزار چھ میں وفاقی حکومت نے قابل تجدید توانائی (سورج‘ ہوا وغیرہ سے) کی پالیسی جاری کی تھی لیکن اس کے تحت کوئی خاص کام نہیں ہوا۔ دنیا بھر میں شمسی بجلی کا نرخ اب کوئلہ سے حاصل ہونے والی بجلی سے بھی سستا ہوگیا ہے۔
Contact now
03401693491
03424990628