05/05/2026
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ شہید کون تھے؟
شیخ الحديث مولانا محمد ادريس سال 1961ء میں ضلع چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم کا نام مولوی حکیم عبدالحق ہے اور عوام میں مناظراسلام کے نام سے مشہور تھے۔ مولانا محمد ادریس کے دادا کا نام شيخ الحديث مفتی شہزادہ فاضل دارالعلوم ديوبند تھے وہ بھی ایک علمی شخصیت تھے اور اپنے دور کے بڑے مفتی اور شیخ الحدیث تھے۔ آپ كے پردادا كا نام شيخ مولانا محمد اسماعيل ہے۔ جو كه مشهور عالم علامه شمس الحق افغاني كے استاذ تھے اور اپنے علاقے ميں شيخ كے نام سے مشهور تھے۔ آپ عالمی شہرت یافتہ عالم دین حضرت مولانا محمد حسن جان مدنی کے داماد تھے۔ آپ کے دو بیٹے ہیں۔ مولانا انیس احمد جو جامعہ دار العلوم حقانیہ کے فاضل اورجامعہ دار العلوم نعمانیہ میں دینی علوم کے درس وتدریس میں مصروف ہیں اور ایک جید مدرس ہے۔ اور ڈاکٹر محمدسلمان جو طب(میڈیکل) ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔
جامعہ نعمانیہ اتمانزئی چارسدہ 1983 میں مدرس کے طور پر اپنے فرائض ادا کرنا شروع کر دیٔے اور تقریبا 1997 تک یہاں دینی علوم و فنون کے درس دیتے رہے۔ پھر دار العلوم اسلامیہ تنگی میں بطور شیخ الحدیث فائز ہوئے اور 9 سال تک دورہ حدیث کے تمام کتب پڑھاتے رہے۔ پھر وہاں سے اپنے گاؤں میں 6 سال تک صحیح البخاری اور جامع الترمذی اور مؤطائین پڑھاتے رہے۔ او 2013ء سے تاحال دار العلوم نعمانیہ میں شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے مسند پر فائزر ہے اور صحیح البخاری کامل اور جامع الترمذی کامل صحیح مسلم جلد اول پڑھاتے رہے ۔ بخاری اور ترمذی کے مسلسل تدریس کے آپ کے 30 سال مکمل ہو گئے۔ جامعہ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ڈاکٹر شیخ شیر علی شاہ صاحب کے وفات کے بعد مہتمم جامعہ مولانا سمیع الحق صاحب کے شدید اصرار اور خواہش پر وہاں بھی درس شروع کیا،اور وہاں دار العلوم حقانیہ میں سنن ترمذی جلد اول اور بخاری جلد ثانی پڑھا رہے تھے۔
کچھ دن قبل آپ کے ایران و امریکہ کشیدگی کم کرنے پر پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراجِ تحسین کرنے کے بیان پر بعض حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی تھی۔جبکہ آج 5 مئی 2026 کو چارسدہ کے علاقے آتمانزئی میں فائرنگ کے نتیجے میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید ہوگئے،۔