SAID AFRIDI dara

SAID AFRIDI dara social media worker �

درہ آدم خیل کے عوام کے لیے اہم اطلاعژوندون صحت پروگرام کے تحت ہر کم آمدن والے خاندانوں کو مفت صحت کی سہولیات فراہم کی جا...
21/08/2026

درہ آدم خیل کے عوام کے لیے اہم اطلاع
ژوندون صحت پروگرام کے تحت ہر کم آمدن والے خاندانوں کو مفت صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ژوندون صحت کارڈ کی رجسٹریشن کے لیے متعلقہ مینجمنٹ اور اسٹاف درہ آدم خیل کے شینی کلی ہسپتال میں دو مہینے کے لئے موجود رہے گا ۔

درہ آدم خیل کے تمام اہل افراد سے گزارش ہے کہ شینی کلی ہسپتال کا وزٹ کریں، اپنی اہلیت چیک کروائیں اور رجسٹریشن مکمل کروائیں تاکہ اپکو ہر ہسپتال میں مفت طبی معائنہ، لیبارٹری ٹیسٹ اور ادویات کی سہولت حاصل کی جا سکے۔

یہ اطلاع اپنے مستحق عزیزوں اور دوستوں تک بھی ضرور پہنچائیں۔

ماں نے بیٹے کو معاف کر دیا… مگر جاتے جاتے ایک ایسا جملہ کہہ گئی جو شاید عمر بھر اسے سونے نہ دے 💔لاہور کی ایک بزرگ خاتون ...
20/08/2026

ماں نے بیٹے کو معاف کر دیا… مگر جاتے جاتے ایک ایسا جملہ کہہ گئی جو شاید عمر بھر اسے سونے نہ دے 💔

لاہور کی ایک بزرگ خاتون کبھی اپنے گھر کی ملکہ تھیں۔ شوہر ایک معروف ٹی وی چینل میں جنرل منیجر کے عہدے پر فائز رہے۔ گھر میں عزت، سکون اور خوشحالی تھی۔ شوہر کے انتقال کے بعد بھی بڑے بیٹے نے ماں کو اپنے پاس رکھا اور پوری محبت سے ان کی خدمت کی۔

وہ بیٹا ایک بینک افسر تھا۔ ماں کی ہر ضرورت وقت پر پوری ہوتی۔ ماں نے بھی بیٹے کے لیے اپنی پسند کی دلہن تلاش کی اور بڑی خوشی سے اس کی شادی کی۔

مگر قسمت نے اچانک سب کچھ بدل دیا۔

ایک دن بیٹے کو دل کا دورہ پڑا اور وہ دنیا سے رخصت ہوگیا۔

جس بیٹے کو ماں اپنا سہارا سمجھتی تھی، وہی سہارا چھن گیا۔ بہو بچوں سمیت میکے چلی گئی اور پیغام بھیج دیا کہ وہ واپس نہیں آئے گی، اس کا سامان بھجوا دیا جائے۔

اب بوڑھی ماں چھوٹے بیٹے کے گھر آگئیں۔

وہ مالی طور پر کسی کی محتاج نہیں تھیں، پنشن ملتی تھی۔ ان کی دنیا بھی بہت چھوٹی تھی؛ ایک کونے میں بیٹھ کر نماز پڑھنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور خاموشی سے وقت گزارنا۔

لیکن گھر کا ماحول دن بدن تلخ ہوتا گیا۔

ایک دن بہو نے غصے میں انہیں گریبان سے پکڑ کر گھر سے نکل جانے کو کہا۔

سب سے زیادہ تکلیف شاید بہو کے الفاظ سے نہیں ہوئی…

تکلیف اس بات کی ہوئی کہ بیٹا سب کچھ دیکھتا رہا۔

ماں نے پھر بھی صبر کیا۔

اگلے دن نہ ناشتہ ملا، نہ دوپہر کا کھانا۔ جب ماں نے کھانے کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا:

"یہاں کوئی لنگر خانہ نہیں کھلا ہوا۔"

وہ بوڑھی ماں خاموشی سے اٹھیں، پڑوس میں گئیں اور ایک ہمسائی سے کہا:

"بیٹی، میرے لیے کوئی اولڈ ہوم تلاش کر دو… میں اب کسی کے گھر بوجھ نہیں بننا چاہتی۔"

ہمسائی نے انسانیت کا حق ادا کیا۔ اسی دن ایک اولڈ ہوم تلاش کیا اور اپنی گاڑی میں اس بزرگ خاتون کو وہاں چھوڑ آئی۔

دو دن بعد بیٹا آیا۔

ماں کے کپڑے، شناختی کارڈ اور پنشن کارڈ ان کے حوالے کیے اور صرف ایک جملہ کہا:

"ماں… میں مجبور ہوں۔"

ماں نے بیٹے کو دیکھا۔

نہ بددعا دی، نہ شکوہ کیا، نہ کوئی سوال کیا۔

بس اتنا کہا:

"بیٹا، میں نے تمہیں معاف کیا۔ جاؤ، اللہ تمہیں خوش رکھے۔"

پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ماں نے وہ بات کہی جو شاید اس بیٹے کے دل پر ہمیشہ بوجھ بنی رہے گی:

"لیکن اگر میں مر جاؤں تو یہاں آنے کی زحمت نہ کرنا۔ آج میں تمہارے لیے مر گئی ہوں۔ میری میت کو ہاتھ نہ لگانا، میرا آخری دیدار بھی نہ کرنا… میرے کفن اور دفن کا انتظام یہی لوگ کریں گے۔"

ماں نے بیٹے کو معاف تو کر دیا…

مگر اپنے دل سے اس رشتے کی امید ختم کر دی۔

💔 اولاد شاید یہ بھول جاتی ہے کہ والدین ہمیشہ زندہ نہیں رہتے۔

ایک دن وہی ماں جو ہماری ایک آواز پر دوڑ کر آتی تھی، خاموشی سے دنیا سے چلی جائے گی۔

اس دن نہ دولت کام آئے گی، نہ عہدہ، نہ مصروفیات، نہ یہ جملہ کہ "میں مجبور تھا۔"

اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو آج ہی ان کے پاس بیٹھیں۔

ان کا ہاتھ تھامیں۔

ان سے کہیں:

"امی/ابو، آپ ہمارے لیے بوجھ نہیں… ہماری زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔"

کیونکہ قبرستان میں کھڑے ہو کر آنسو بہانے سے بہتر ہے کہ زندہ ماں باپ کی آنکھوں میں خوشی کے دو آنسو لائے جائیں

19/07/2026
ہوائی فائرنگ والے قاتلوں نے آج پھر درہ آدم خیل سنی خیل کی ننھی بچی مروہ ولد عزیر بار سردار خیل جو سبق پڑھنے مسجد جاتے وق...
24/04/2026

ہوائی فائرنگ والے قاتلوں نے آج پھر درہ آدم خیل سنی خیل کی ننھی بچی مروہ ولد عزیر بار سردار خیل جو سبق پڑھنے مسجد جاتے وقت گولی سر میں لگنے سے زخمی ہو گئی ہے.
مروہ کی خوش قسمتی تھی کہ گولی کہی پھتر سے لگ کر اسکا سپیڈ کافی کم ہو کر سر میں لگ کر اندر تک نہیں گئی تھی ورنہ 100 فیصد اسکی موت یقینی تھی. مروہ کو قاسم خیل ویلفیئر ہسپتال میں آپریشن کر گولی نکال دیا.
خدارہ ہوائی فائرنگ کرتے وقت انسانیت کا خیال رکھ کر اپنی بندوقوں کی منہ پہاڑوں کی طرف کریں.. ورنہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو اس قتل کا آپ ضرور جواب دہ ہونگے....

حاجی شاہ محمود کا بھتیجا، عرفان کا چچازاد بھائی حاجی جمشید خان ولد خان اکبر گاؤں ڈینگان قوم زرغن خیل درہ آدم خیل وفات پا...
19/04/2026

حاجی شاہ محمود کا بھتیجا، عرفان کا چچازاد بھائی حاجی جمشید خان ولد خان اکبر گاؤں ڈینگان قوم زرغن خیل درہ آدم خیل وفات پا چکا ہے۔ نمازے جنازہ آبائی قبرستان شپلکی وال میں شینی کلی کے سامنے بروز پیر صبح 10 بجے ادا کیا جائےگا۔

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SAID AFRIDI dara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share