02/05/2025
حسیب اللہ کی بدقسمتی یا کوئٹہ گلیڈیٹرز کی ناانصافی؟"
کوئٹہ گلیڈیٹرز کی ٹیم میں پورے بلوچستان سے صرف ایک ہی نمائندہ ہے — حسیب اللہ۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسے ٹیم میں صرف پانی پلانے کے لیے رکھا گیا ہے، میچ کھیلنے کے لیے نہیں۔ صرف دکھانے کے لیے کہ "دیکھیں، ہمارے پاس کوئٹہ کا بھی ایک کھلاڑی ہے"۔
ندیم عمر صاحب! کیا یہ کوئٹہ کے کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی نہیں؟
حسیب اللہ کا شمار پاکستان کے باصلاحیت ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ کاش اس کا لوکل بلوچستان کا نہ ہوتا کیونکہ اگر وہ کھیلے گا تو امام الحق یہ پھر معین خان کا بیٹا کس ٹیم میں کھیلے گا۔
اسلٸے پورے 11 کی ٹیم میں جو نام تو کوئٹہ ہے لیکن پورے بلوچستان سے ایک پلیر ہے اس میں وہ بھی بس پانی پلانے رکھا ہے
قومی ٹیم میں اس کا صرف نام آیا، کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ تین سالوں میں اس کے ساتھ جو ہوا بس ٹیسٹ ٹیم میں دو یا تین میچز میں موقع دے کر اسے سائیڈ لائن کر دیا گیا۔
ایسے لوگ جیسے شاہد آفریدی جو خود کو انصاف کا علمبردار اور بلوچستان کا ہمدرد بتاتا ہے، کبھی ایک بوری آٹا تقسیم کرنے بلوچستان آتاتھا ,جب وہ چیف سلیکٹر بنے تو حسیب اللہ کو نظرانداز کر دیا، لیکن باقی سب نۓ پلیرز کو ٹیم میں شامل کیا،باقی سلیکٹرز سے تو کیا گلہ ؟
حتیٰ کہ بعد میں اپنے داماد کو قومی ٹیم کا کپتان بھی بنا دیا۔
پی ایس ایل میں معین خان نے اپنے بیٹے کو تو نام نہاد کوئٹہ گلیڈیٹرز ٹیم کے ذریعے پاکستان ٹیم میں تو پہنچا دیا، لیکن حسیب اللہ جیسے محنتی کھلاڑی کو پانی پلانے تک محدود رکھا۔ کیا صرف اس لیے کہ وہ اس کا والد کرکٹر نہیں یہ پھر وہ بلوچستان سے ہے جو کوٸ نہیں سننتا ۔بیچارے پر ترس کھاؤ نوجوان ہے
آج اگر حسیب اللہ کو بھی سائم ایوب، امام الحق یا معین خان کے بیٹے جتنا صرف 2 فیصد موقع ملے، تو وہ ان سب سے سو گنا بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔
پہلے psl میں حسیب اللہ جب پشاور زلمی میں تھا تو کم از کم 2–3 میچز کھیلنے کو ملتے تھے، لیکن اب جب کوئٹہ نے اسے منتخب کر لیا ہے، وہ خوش تھا کہ اپنے صوبے کی نمائندگی کرے گا۔ لیکن آدھا پی ایس ایل گزر گیا اور ایک میچ بھی کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔
سوال یہ ہے: کیا بلوچستان کے کھلاڑی صرف نمائشی کردار کے لیے رکھے جاتے ہیں؟ وہ چھولے والا بسم اللہ کی طرح اس کو بھی کچھ سال ڈمی پلیر رکھ کر بعد میں ساہیڈ لاٸن کر دینگے کہ جی بلوچستان میں ٹیلنٹ نہیں ہے