HB PK

HB PK content writing and stories of Islamic world history of the world role of humanity on Earth

content writing and social work social media marketing digital marketing
facebook ad manager google ads google adwords youtube ads facebook business creation

15/03/2021

چوہدری کے بیٹے کی شادی تھی چوہدری صاحب نے ایک انوکھا فیصلہ کیا کہ پورے گاؤں کو اس خوشی میں شامل کیا جائے.
اس کے لیے انہوں نے اعلان کروا دیا کہ بیٹے کی شادی کی خوشی میں پنڈ کے ہر گھر کو ایک جانور تحفے میں دیا جائے گا۔
جس گھر میں مرد🤴🏼 کا راج ہو گا وہاں ایک گھوڑا 🐎
دیا جائے گا
اور جس گھر میں عورت👸🏼 کا راج ہوگا وہاں ایک مرغی🐓 دی جائیگی* ۔

گامے کو جانوروں کی ترسیل کا کام سونپ دیا گیا۔
پہلے ہی گھر میں گاما دونوں میاں بیوی کو سامنے بٹھا کر پوچھتا ہے کہ گھر کے فیصلے کون کرتا ہے؟

*مرد بولا : میں🤴🏼*

گامے نے جواب دیا کہ جناب سارے گھوڑے کسی نا کسی کے ہو گئے ہیں
اب صرف تین باقی ہیں؛ ایک کالا، ایک سرخ اور ایک چینا۔ جو تمھیں پسند ہے وہ بتا دو؛
مرد نے فوراً جواب دیا کہ مجھے چینا پسند ہے۔

پاس ہی بیٹھی بیوی نے برا سا منہ بناتے ہوئے اپنے خاوند کو ٹوکا
اور اونچی آواز میں بولی۔ نہیں۔۔ نہیں۔۔ ہم کالا لیں گے،
میں نے دیکھا ہوا ہے، اس کے ماتھے پہ سفید پھلی ہے، وہ بڑا سوہنا ہے۔
مرد نے کہا کہ چلو کالا ہی دے دو👸🏼🤭

گاما آرام سے اٹھا، تھیلے سے ایک مرغی نکالی، عورت کو پکڑائی 😆اور اگلے گھر کو چل دیا۔

*گاما بتاتاہے کہ پورے گاوں میں مرغیاں ہی تقسیم کیں ..😬. ابھی بھی عورت کو حقوق چاہیں۔

15/03/2021

میرا جِسم تے میری مرضی

ناں میں پُورے کپڑے پاواں
مُنڈیاں ورگے وال کٹاواں
بِنا نکاح دے خَصم بناواں
شرم حیاء میں رکھاں فرضی
میرا جِسم تے میری مرضی

دِن دیہاڑے موجاں لُٹاں
بچہ جَم کے رُوڑی سُٹاں
شرح دے بھانویں جُنڈے پُٹاں
میں نی من دی کِسے دی عرضی
میرا جِسم تے میری مرضی

مغرب دی تہزیب چلاویں
گندے مندے نعرے لاویں
پی شراباں گھر نوں آویں
نئیں چلنی ایتھے مرضی ورضی
میرا جسم تے میری مرضی

لاج دی بیڑی کانوں روڑھیں؟
بے حیائیاں کیوں نا چھوڑیں؟
دوزخ ول کیوں آپے ای دوڑیں؟
کاہدی تینوں ایہہ خودغرضی؟

میرا جِسم تے میری مرضی

دسدا ای مِرزا حُکم ربانی
ناں کر نبیﷺ دی نا فرمانی
صدا نی رہنا حُسن جوانی
ہُن کر لے توبہ چَھڈ لاغرضی
رب دا حُکم تے رب دی مرضی..

14/03/2021

*استحکام خاندان*
*ابابیل اپنا گھونسلہ کنویں میں بناتی ہے۔۔*

اس لیے اس کے پاس اپنے نومولود بچوں کو اڑنے کی تربیت دینے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں ہوتی۔
بچے اگر گر پڑیں تو اس کا مطلب پانی کی دردناک موت۔۔۔
اس خطرناک جگہ پر کچی تربیت کا رسک نہیں لیا جاسکتا۔
کسی نے کبھی ابابیل کے مرے ہوئے بچوں کو کنویں کے پانی پر تیرتے نہیں دیکھا ہو گا۔۔
کیوں؟؟؟
اس لیے کہ ابابیل اپنے بچوں کی تربیت انتہائی سخت جانی سے کرتی ہے۔
اگر انڈے سے بچے نکلنے سے پہلے وہ کنویں سے دن بھر میں معمول کی 25 اڑانیں بھرتی تھی تو بچے انڈوں سے نکلنے کے بعد دو گنا زائد اڑانے بھرنے لگتی ہے۔
یوں نر اور مادہ روزانہ دن بھر اڑانیں بھر کر اپنے بچوں کو عملی تربیت دیتے ہیں اور ان کا دل و دماغ اس یقین سے بھر دیتے ہیں کہ یہاں سے اڑ کر سیدھا باہر ہی جانا ہے۔
بالکل اس طرح اڑان بھرنا ہے جیسے ہم بھرتے ہیں!!!
ننھے بچے جن کی پیدائش کنویں میں ہوئی ہے اپنے والدین کی پر مشقت زندگی سے لمحہ لمحہ پرواز کا درس لیتے ہیں۔
جس دن بچہ پہلی اڑان بھرتا ہے وہ کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح گھونسلے سے نکل کر سیدھا منڈیر پہ جا بیٹھتا ہے۔

ہماری اولاد ہمارے یقین کے سرمائے سے اپنا حصہ پاتی ہے۔
اگر ہم خود یقین اور عمل کی سخت کوشی سے تہی داماں ہوں گے تو اپنے بچوں کو کیا دیں گے۔
بچے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی باتیں سن کر نہیں بلکہ والدین کے عمل سے سیکھتے ہیں۔۔
وہ والدین پر جتنا اعتماد کرتے ہیں دنیا کے کسی کتابی ہیرو پر نہیں۔۔
*قابل مبارکباد ہیں وہ والدین جو اپنی اولاد کے لیے آسائشیں نہیں ڈھونڈتے بلکہ انھیں زندگی گزارنے کا درس اپنی مجاھدانہ زندگی سے دیتے ہیں۔

14/03/2021

°یُدَبٍّرُ لَكَ الْاَمْر°
یقین دہانی کا سب سے سچا قول یہی ہے کہ اللہ تعالی ہمارے معاملات کی تدبیر کرتا ہے ۔ کبھی کبھار ہم اچانک کسی الجھن میں پھنس جاتے ہیں ، تو نکلنے کی مہلت دی جاتی ہے ، پھر اللہ تعالی ایسا سبب بنا دیتا ہے جو ہمارے وہم وگمان سے بھی دور ہوتا ہے، مشکل دور ہونے لگتی ہے اور اطمینان دل میں گھر کرنے لگتا ہے،
اگر کوئ چیز ہمارے مقدر میں ہے تو چاہے دنیا کے ساری راست بند ہوجائیں ، اللہ تعالی حصول کا کوئ سبب بنادے گا ، جب تک وہ ہماری ملکیت نہ ہوجائے ،
جو ہم چاہتے ہیں وہ ہمیں نہیں ملے گا اور اس کی آرزو کرنا ہمیں تھکادے گا، اس کے برعکس رب ہمیں وہ دے گا جو اس نے ہمارے لئے تدبیر کیا ،
ہم جو کرنا چاہتے ہیں کرلیتے ہیں لیکن ہوتا وہ ہے جو اللہ تعالی چاہے ، اس لئے ہمیں خواہشات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالی کی تقدیر پر راضی رہنے کی ضرورت ہے
جن چیزوں کی خواہشات نے ہمیں تھکادیا ، ابھی تک ہم نے خواہش سامنے رکھ کر حصول کی جستجو کی ۔ لیکن نہ ملی تو ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں مگر مایوس نہ ہوں اور روشنی تلاش کریں ، انشاء اللہ یقین کی خوب آسان راہیں کھلیں گی
اگر امید کا ہر کنارہ چھوٹ رہا ہے تو چھوڑ دو اور اپنا دل خالی کردو اس یقین پر کہ خدا دیکھ رہا ہے ، نہ کچھ یہاں حاصل ہے نہ قائم ۔۔۔ لیکن اگر اللہ تعالی پر حسن ظن کما لیا تو لاحاصل بھی حاصل ہوجائےگا
جس طرح کوئ درخت ایسانہیں کہ اسے ہوا چھو نہ سکے بلکل اسی طرح کوئ انسان ایسا نہیں جسے کبھی مشکل میں نہ ڈالا گیا ہو ، مضبوط درخت کی طرح اپنے یقین کو یکجان کر لو تاکہ اطمینان قلب حاصل ہو ، اور آنے والے دن یوسف کی طرح ہوں ، صبر یعقوب جیسا اجر ملے .

14/03/2021

💝👑 ھنر اور خودی [۱] 💝👑

👑 خودی سے دوری رسوائی کی جڑ:

خودی سے مراد خود کو پہچاننا ھے، اپنی صلاحیتوں اور اھداف کو پہچاننا، کوئی معاشرہ انسانیت کی معراج کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کے افراد، ذاتی اور اجتماعی خودی تک نہ پہنچ جائیں۔
اگر فن و ھنر انسان کو اسکا اصلی چہرہ دکھائے، تو یہ الہٰی ھنر کہلاتا ھے، اگر انسانی چہرہ بگاڑ کر پیش کرے، فطرت سے دور کرے، تو یہ بت خانے تعمیر کرنے والا، مشرک ھنر ھے۔
پھر یاد دھانی ھو جائے، کہ ھنر زندگی سے جدا نہیں، یہ زندگی کو خودی سے دور بھی ھٹا سکتا ھے اور اسکے قریب بھی کر سکتا ھے! ھنر مند چاھے یا نہ چاھے وہ زندگی کے ھر شعبے پر اثر انداز ھوتا ھے، علم تا سیاست تمام میدانوں میں ھنر مندوں کے ذریعے قوموں کو نجات بھی دی جا سکتی ھے اور رسوا بھی کیا جا سکتا ھے، اسی لیے علامہ اقبال ھنر کا تجزیہ یہاں سیاست، کتاب اور دین کے ساتھ ملا کر پیش کر رھے ھیں:

سرود و شعر و سیاست، کتاب و دین و ھنر
گہر ھیں انکی گرہ میں تمام یک دانہ
ضمیر بندہ خاکی سے ہے نمود انکی
بلند تر ھے ستاروں سے ان کا کاشانہ
اگر خودی کی حفاظت کرین تو عین حیات
نہ کرسکیں تو سراپا فسون و افسانہ
ھوئی ھے زیر فلک امتوں کی رسوائی
خودی سے جب ادب و دیں ھوئے ھیں بیگانہ
[علامہ اقبال، ادبیات فنون لطیفہ، دین و ہنر]

👑 کتاب و دین و ھنر کا مشترکہ راز:

شعر و ادب ھنر کا بنیادی شعبہ ھے، کیونکہ ھر قسم کے فن و ھنر کی تشریح کیلئے، اسے سکھانے کیلئے، اسکی تاریخ مرتب کرنے کیلئے، اس سے فائدہ اٹھانے اور پھیلانے کیلئے، سخن و تقریر اور کتاب و تحریر کا سہارا لیا جاتا ھے، پہلے شعر میں علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے، ھنر کے اس بنیادی شعبے کو سیاست دین اور جامع ھنر کے ساتھ ملا کر، اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ ان سب کے اندر "انکی گرہ میں" دراصل ایک ھی قسم کا "یک دانہ" گہر چھپا ھوا ھے:
سرود و شعر و سیاست، کتاب و دین وھنر
گہر ھیں انکی گرہ میں تمام یک دانہ

آگے وضاحت کرتے ھیں کہ ان سب کی نمود انسانی ضمیر سے ھے، اگر یہ ضمیر کے مطابق کام کریں تو ان کا مقام ستاروں سے بھی بلند ھے:

ضمیر بندہ خاکی سے ہے نمود انکی
بلند تر ہے ستاروں سے ان کا کاشانہ

👑 عین حیات کا سرچشمہ:

"ھنر اور قرآن" کی پچھلی تحریروں میں تذکرہ ھو چکا ھے کہ کس طرح حضرت ابراھیم علیہ السلام نے، نمرود اور اسکے دربار کو انکے ضمیر کی طرف پلٹایا، مگر بعد میں وہ پھر ڈھٹائی پر اڑ گئے۔ اسی انسانی ضمیر کی طرف پلٹانا "تعمیر خودی" کا پہلا مرحلہ ھے! جو بھی شعبہ ضمیر انسانی کو زندہ کرے، اسکا مقام ستاروں سے بھی بلند، کیونکہ یہ ھمیں "سدرۃ المنتہیٰ" کی طرف دعوت دے گا، یہ انسانی معراج کا وہ راستہ ھے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ھمارے لیے کھولا ھے، اسی لیے انہیں اسوۃ الحسنہ قرار دیکر انکی پیروری لازم کی گئی۔ آگے چل کر علامہ اقبال یہ بات واضح کر دیتے ھیں کہ اگر، سیاست و دین و ھنر و کتاب ۔ ۔ ۔ خودی کی حفاظت کریں تو "عین حیات" یعنی خالص زندگی کا سرچشمہ جاری کرسکتے ھیں، لیکن اگر خودی سے دور کریں تو یہ خود بھی افسانے کی طرح ھو جائیں گے اور زندگی کو بھی حقیقت سے دور ھٹا دیں گے:

اگر خودی کی حفاظت کرین تو عین حیات
نہ کرسکیں تو سراپا فسون و افسانہ
ھوئی ھے زیر فلک امتوں کی رسوائی
خودی سے جب ادب و دیں ھوئے ھیں بیگانہ

👑 افکار تازہ سے نیا جہان:

فسون و افسانہ میں دراصل بت سازی کا ضمیر پایا جاتا ھے کیونکہ بت بھِی ھمیں غافل کرکے اصل راستے سے ھٹا دیتا ھے، حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے دور کے نظر آنے والے افسانوں یعنی بتوں کو توڑ ڈالا، آج بھی اگر ھم انسانیت کو ضمیر و خودی کی طرف پلٹانا چاھتے ھیں تو جعلی ھنر کی تخلیق کردہ خیالی اور افسانوی دنیا کو پاش پاش کرنا ھوگا، اس کے بعد ایک نئی دنیا پیدا کرنا ھو گی۔ اسکے لیے علامہ اقبال نے "تازہ جہان" جیسی اصطلاحیں استعمال کی ھیں جو زندگی اور ضمیر کو تازہ دم کر دیتی ھیں:
جہان تازہ کی افکار تازہ سے ھے نمود
کہ سنگ و خشت سے ھوتے نہیں جہاں پیدا
[علامہ اقبال، ادبیات فنون لطیفہ، تخلیق]

علامہ نے تازہ جہان کی بنیاد بھی بتا دی کہ اسکی نمود اور نشوونما نئی افکار سے ھوتی ھے، پتھروں اور اینٹوں سے بت اور اھرام مصر تو بن سکتے ھیں مگر ان میں انسانیت کی لہر نہیں دوڑائی جا سکتی! "تازہ جہان یا افکار تازہ" سے مراد وہ تازگی ھے جو فطرت و اسلام کے نہ تبدیل ھونے اصولوں سے حاصل ھوتی ھے، کیونکہ ھر زمانہ اپنے نئے اصول گھڑ لیتا ھے، زمانے کے من گھڑت اصولوں کی موجودگی میں ان ھمیشہ سے موجود فطری افکار و ضوابط کو زندہ کرنا، نئی افکار کہلاتا ھے، اور انکی بنیاد پر تعمیر ھونے والا، انسانیت کو معراج عطا کرنے والا جہان، نیا جہان کہلاتا ھے۔
تازہ افکار اور تازہ جہان کی اصطلاحیں اس چیز کی طرف بھی اشارہ کرتی ھیں کہ فطرت میں موجود تمام راز کیونکہ تاریخ اور کتابوں میں کشف یا ذکر نہیں ھوئے، اسی لیے ھر زمانے میں جو بھی فطرت، ضمیر اور انسانیت کی طرف پلٹے گا وہ نئے سے نئے راز کشف کرے گا اور انکی بنیاد پر ممکن ھے ایسے تازہ جہان بنائے جو تاریخ میں پہلے کبھی وجود پذیر نہ ھوئے ھوں۔

14/03/2021

کہتے ہیں ﮨﺮﻗﻞ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺧﺎﺹ ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺻﺮﺍﺣﯽ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﮑﺮ ﭘﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍِﺱ ﺁﺳﺎﺋﺶ ﭘﺮ ﺣﺴﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ. ﺗﻮ ﺍﮔﺮ آج ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻓﺮﺝ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﮯ ﮔﺎ؟

اﮔﺮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﯽ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﮮ ﭨﯽ ﺍﯾﻢ ﮐﺎﺭﮈ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻥ ﭼﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺘﮯ ﮔﯽ؟

ﺍﮔﺮ ﮐﺴﺮﯼٰ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﮭﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺻﻮﻓﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﺨﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﺭﺍﻡ ﺩﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ؟

ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺷﺘﺮ ﻣﺮﻍ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺟﻦ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﻨﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭﺍﮮ ﺳﯽ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﯾﮟ ﺣﺼﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗھے ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ؟

ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮐﺎﺭ ﻟﯿﮑﺮ ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻓﺮﺍﭨﮯ ﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﯿﮯ.. ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﻏﺮﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻤﻨﮉ ﮨﻮﮔﺎ؟

ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﻏﺴﻞ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ گیزر ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ؟
ﺟﻨﺎﺏ ﺁﭖ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﺳﻮﭺ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ. ﻣﮕﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﯿﮟ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺼﯿﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﻻﮞ ﮨﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﺍﺣﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﻌﺘﯿﮟ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﯿﻨﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ.

ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﭘﮍﮬﯿﺌﮯ، ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ. ﺧﺎﻟﻖ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ.

14/03/2021

۔

سولہ سالہ محمد شہیر نیازی کو کوئی نہیں جانتا تھا جب اس نے فزکس میں ایک تحقیقی مقالہ لکھ کر مغربی سائنسدانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا، لیکن اس لڑکی کو آدھا پاکستان جانتا ہے، جس نے صرف "پارٹی ہو رہی ہے" کہہ کر راتوں رات شہرت کما لی۔

اس کی پانچ سیکنڈ کی وڈیو نے پوری قوم کو ایک پاؤں پر کھڑا کر دیا، پوری قوم نے اس کو اتنی اہمیت دی کہ ہماری قومی کرکٹ ٹیم کو بھی اس کی پیروی کرنی پڑی، انہوں نے سٹیڈیم سے وڈیو بنا کر بھیج دی۔

یہ صرف ایک مثال ہے، جب کہ دوسری طرف چند دن پہلے اسی ملک کی اس قوم کی بیٹی "زارا نعیم" نے ACCA میں پوری دنیا میں پہلی پوزیشن لی مگر کیا کسی کو پتہ چلا؟

کیا کسی بڑے شوشل میڈیا پلیٹ فارم نے اس کو وائرل کیا؟

کیا کسی ٹی وی چینل نے اس کو آن ائیر کیا؟

کیا کسی سیلیبرٹی نے قوم کی اس بیٹی کا ذکر کیا کہ ہم اس کو داد دے سکیں؟

نہیں! ہمارا اصل مسئلہ صرف یہ ہی ہے کہ ہم اپنی قومی ترجیحات گانے، ناچ، ہنسی اور مذاق تک محدود کر دیتے ہیں، جبکہ انٹرنیشنل میڈیا پر خبریں چلی، حتٰی کہ انڈیا نے بھی زارا نعیم کو ترجیح دی۔

ہم ہر مہینے اپنے کسی بچے کو اس کی اس طرح کی چھچھوری حرکتوں کی وجہ سے وائرل کر دیتے ہیں اور ان کو اگنور کر دیتے ہیں جن کے اندر قابلیت پائی جاتی ہے، پھر ہم گلہ کرتے ہیں کہ ہماری نسل خراب ہو رہی ہے، ستم بالائے ستم ان کی یہ الٹی سیدھی حرکتوں کا ٹیلنٹ کا نام دیا جا رہا ہے۔

خدارا! ایسا مت کریں ایسے لوگوں کو وائرل کریں، جو تعلیم کھیلوں و دیگر مثبت ایکٹیویٹیز کے میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔

مجموعی طور دیکھا جائے تو ہماری شوشل میڈیا پر ویورشپ ( veiwership) کس چیز کی ہوتی ہے، ڈانس، گانا، گھٹیا مذاق اور چھچھورا پن اس طرح کی چیزیں۔

ہماری ترجیحات مکمل طور غلط سمت پر جا رہی ہیں، ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور خدارا ان بچوں کو سٹار بنائیں، وائرل کریں جو قابل ہیں اور پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں، تاکہ مزید بچے خواب دیکھ سکیں ناکہ وہ سستی شہرت کی خاطر طرح طرح کے چھچھورے پن کو اختیار کریں اور ہماری اگلی نسل کسی ایسے رستے پر چل پڑے جہاں سے واپسی کا رستہ دشوار ہو جائے۔

13/03/2021

مادام کیوری (مانیا سکلوڈو وسکا)
۔"" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" ""
پولینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی رہتی تھی‘ اس کا نام مانیا سکلوڈو وسکا تھا‘ وہ ٹیوشن پڑھا کر گزر بسر کرتی تھی‘19 برس کی عمر میں وہ ایک امیر خاندان کی دس سال کی بچی کو پڑھاتی تھی‘ بچی کا بڑا بھائی اس میں دلچسپی لینے لگا‘ وہ بھی اس کی طرف مائل ہوگئی چنانچہ دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب لڑکے کی ماں کو پتہ چلا تو اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا‘ اس نے مانیا کو کان سے پکڑا اور پورچ میں لا کھڑا کیا‘اس نے آواز دے کر سارے نوکر جمع کئے اور چلا کر کہا ‘ دیکھو یہ لڑکی جس کے پاس پہننے کیلئے صرف ایک فراک ہے‘ جس کے جوتوں کے تلوئوں میں سوراخ ہیں اور جسے 24 گھنٹے میں صرف ایک بار اچھا کھانا نصیب ہوتا ہے اور وہ بھی ہمارے گھر سے‘ یہ لڑکی میرے بیٹے کی بیوی بننا چاہتی ہے‘ یہ میری بہو کہلانے کی خواہش پال رہی ہے‘‘ تمام نوکروں نے قہقہہ لگایا اور خاتون دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی‘ مانیا کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے اوپر تیزاب کی بالٹی الٹ دی ہو‘ وہ توہین کے شدید احساس میں گرفتار ہوگئی اور اس نے اسی پورچ میں کھڑے کھڑے فیصلہ کیا وہ زندگی میں اتنی عزت‘ اتنی شہرت کمائے گی کہ پورا پولینڈ اس کے نام سے پہچانا جائے گا۔

یہ 1891ء تھا‘ وہ پولینڈ سے پیرس آئی‘ اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور فزکس پڑھنا شروع کردی‘ وہ دن میں 20 گھنٹے پڑھتی تھی‘ اس کے پاس پیسہ دھیلا تھا نہیں جو کچھ جمع پونجی تھی وہ اسی میں گزر بسر کرتی تھی‘ وہ روز صرف ایک شلنگ خرچ کرتی تھی‘ اس کے کمرے میں بجلی‘ گیس اور کوئلوں کی انگیٹھی تک نہیں تھی‘ وہ برفیلے موسموں کی راتیں کپکپا کر گزارتی تھی‘ جب سردی برداشت سے باہر ہو جاتی تھی تو وہ اپنے سارے کپڑے نکالتی تھی‘ آدھے بستر پر بچھاتی تھی اور آدھے اوپر اوڑھ کر لیٹ جاتی تھی‘ پھر بھی گزارہ نہ ہوتا تو وہ اپنی ساری کتابیں حتیٰ کہ اپنی کرسی تک اپنے اوپر گرا لیتی تھی‘ پورے پانچ برس اس نے ڈبل روٹی کے سوکھے ٹکڑوں اور مکھن کے سوا کچھ نہ کھایا‘ نقاہت کا یہ عالم ہوتا تھا وہ بستر پر بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو جاتی تھی لیکن جب ہوش آتا تھا تو وہ اپنی بے ہوشی کو نیند قرار دے کر خود کو تسلی دے لیتی تھی‘ وہ ایک روز کلاس میں بے ہوش ہوگئی‘ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا‘ آپ کو دواء کی بجائے دودھ کے ایک گلاس کی ضرورت ہے‘ اس نے یونیورسٹی ہی میں پائری نام کے ایک سائنس دان سے شادی کر لی تھی‘ وہ سائنس دان بھی اسی کی طرح مفلوک الحال تھا‘ شادی کے وقت دونوں کا کل اثاثہ دو سائیکل تھے‘ وہ غربت کے اسی عالم کے دوران پی ایچ ڈی تک پہنچ گئی‘ مانیا نے پی ایچ ڈی کیلئے بڑا دلچسپ موضوع چنا تھا‘ اس نے فیصلہ کیا وہ دنیا کو بتائے گی یورینیم سے روشنی کیوں نکلتی ہے‘ یہ ایک مشکل بلکہ ناممکن کام تھا لیکن وہ اس پر جت گئی‘ تجربات کے دوران اس نے ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو یورینیم کے مقابلے میں 20 لاکھ گنا روشنی پیدا کرتا ہے اور اس کی شعاعیں لکڑی‘ پتھر‘ تانبے اور لوہے غرض دنیا کی ہر چیز سے گزر جاتی ہیں‘ اس نے اس کا نام ریڈیم رکھا‘ یہ سائنس میں ایک بہت بڑا دھماکہ تھا‘ لوگوں نے ریڈیم کا ثبوت مانگا‘ مانیا اور پائری نے ایک خستہ حال احاطہ لیا جس کی چھت سلامت تھی اور نہ ہی فرش اور وہ چار برس تک اس احاطے میں لوہا پگھلاتے رہے‘ انہوں نے تن و تنہا 8 ٹن لوہا پگھلایا اور اس میں سے مٹر کے دانے کے برابر ریڈیم حاصل کی‘ یہ چار سال ان لوگوں نے گرمیاں ہوں یا سردیاں اپنے اپنے جسموں پر جھیلیں‘ بھٹی کے زہریلے دھوئیں نے مانیا کے پھیپھڑوں میں سوراخ کر دیئے لیکن وہ کام میں جتی رہی‘ اس نے ہار نہ مانی یہاں تک کہ پوری سائنس اس کے قدموں میں جھک گئی۔

یہ ریڈیم کینسر کے لاکھوں کروڑوں مریضوں کیلئے زندگی کا پیغام لے کر آئی‘ہم آج جسے شعائوں کا علاج کہتے ہیں یہ مانیا ہی کی ایجاد تھی‘اگر وہ لڑکی چار سال تک لوہا نہ پگھلاتی تو آج کیسنر کے تمام مریض مر جاتے‘ یہ لڑکی دنیا کی واحد سائنس دان تھی جسے زندگی میں دوبار نوبل پرائز ملا‘ جس کی زندگی پر 30 فلمیں اور سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں اور جس کی وجہ سے آج سائنس کے طالب علم پولینڈ کا نام آنے پر سر سے ٹوپی اتار دیتے ہیں۔

جب دنیا نے مادام کیوری کو اس ایجاد کے بدلے اربوں ڈالر کی پیش کش کی تو اس نے پتہ ہے کیا کہا؟ اس نے کہا‘ میں یہ دریافت صرف اس کمپنی کو دوں گی جو پولینڈ کی ایک بوڑھی عورت کا مفت علاج کرے گی‘ جی ہاں! وہ امیر پولش عورت جس نے کبھی کیوری کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا تھا ‘ وہ اس وقت کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکی تھی اور وہ اس وقت بستر مرگ پر پڑی تھی۔
🔰
🔰

03/03/2021

Address

Multan Punjab
Punjab
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HB PK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to HB PK:

Share