Threeshunk تِریشُنڪ

Threeshunk تِریشُنڪ تِریشُنک بلوچستان میں بولی جانے والی سب سے بڑی زبان براہوی میں ”‏چنگاری“ کو کہتے ہیں۔

02/07/2022
زندگی کو غنیمت جانیں۔!_____________________بہلول ایک دن بازار جا رہے تھے۔ کسی نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے۔؟ بولے: لوگوں ک...
02/07/2021

زندگی کو غنیمت جانیں۔!
_____________________
بہلول ایک دن بازار جا رہے تھے۔ کسی نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے۔؟ بولے: لوگوں کی اللہ کے ساتھ صلح کرانے جا رہا ہوں۔ ذرا دیر کو جو واپس ہوئے تو انہی صاحب نے سوال داغا: ہاں جی بہلول میاں۔! لوگوں کی اللہ کے ساتھ صلح ہوئی یا نہیں۔؟
بہلول نے فرمایا "اللہ مان گیا ہے اور صلح کے لئے راضی ہے لیکن لوگ نہیں مان رہے" (دنیا کے جھمیلوں میں لگے پڑے ہیں)
اگلے دن بہلول قبرستان کی طرف جا رہے تھے۔ کسی نے پوچھا: بہلول کدھر کا قصد ہے۔؟ بولے: لوگوں کی اللہ کے ساتھ صلح کرانے جا رہا ہوں۔ پھر جب قبرستان سے واپس آئے تو پوچھا گیا: ہاں جناب! صلح ہوئی یا نہیں۔؟
بہلول نے فرمایا "اب لوگ مان گئے ہیں اور صلح کے لئے راضی ہیں، لیکن اللہ نہیں مان رہا"

(حقیقت دیکھنے کے بعد لوگ پچھتا رہے ہیں لیکن توبہ کا دروازہ بند ہو چکا ہے)

منقول

13/02/2021

‏جس معاشرے میں نکاح مہنگا ہو جائے وہاں زنا کی قیمت 14 فروری پر ایک پھول رہ جاتی ہے...!

Justice?
13/02/2021

Justice?

❣
13/02/2021

کمال کی اسٹوری / اورتجارتایک قصبے کے ہوٹل میں ایک سیاح داخل ہوا اور مالک سے اسکے ہوٹل کا بہترین کمرہ دکھانے کو کہا۔ مالک...
03/01/2021

کمال کی اسٹوری / اورتجارت

ایک قصبے کے ہوٹل میں ایک سیاح داخل ہوا اور مالک سے اسکے ہوٹل کا بہترین کمرہ دکھانے کو کہا۔ مالک نے اسے بہترین کمرے کی چابی دی اور کمرہ دیکھنے کی اجازت دے دی ۔ سیاح نے کاونٹر پر ایک سو ڈالر کا نوٹ بطور ایڈوانس رکھا اور کمرہ دیکھنے چلا گیا ۔
اس وقت قصبے کا قصاب ہوٹل کے مالک سے گوشت کی رقم لینے آگیا ۔ ہوٹل مالک نے وہی سو ڈالر اٹھا کر قصاب کو دے دیے کیونکہ اسے امید تھی کہ سیاح کو کمرہ ضرور پسند آجائے گا

قصائی نے سو ڈالر لے کر فوراً یہ رقم اپنے جانور سپلائی کرنے والے کو دے دی ۔
جانور سپلائی والا ایک ڈاکٹر کا مقروض تھا جس سے وہ علاج کروا رہا تھا تو اس نے وہ سو ڈالر ڈاکٹر کو دے دیے ۔ وہ ڈاکٹر کافی دنوں سے اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھا اس لیے اس نے یہی نوٹ ہوٹل کے مالک کو ادا کر دیا۔
وہ سو ڈالر کا نوٹ کاؤنٹر پر ہی پڑا تھا کہ کمرہ پسند کرنے کے لئے سیڑھیاں چڑھ کر گیا ہوا متوقع گاہک واپس آگیا اور ہوٹل کے مالک کو بتاتا ہے کہ مجھے کمرہ پسند نہیں آیا ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا سو ڈالر کا نوٹ اٹھایا اور چلا گیا !!!۔
اکنامک کی اس کہانی میں نہ کسی نے کچھ کمایا اور نہ کسی نے کچھ خرچ کیا
لیکن
جس قصبے میں سیاح یہ نوٹ لے کر آیا تھا ، اس قصبے کے کتنے ہی لوگ قرضے سے فارغ ہو گئے ۔

حاصل مطالعہ
پیسے کو گھماؤ !! نہ کہ اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاؤ
کہ اسی میں عوام الناس کی فلاح ھے.

03/01/2021

شادی کے بعد عموماً وہی لڑکیاں سُکھی رہتی ہیں جو سسرال کی باتیں سسرال اور میکے کے معاملات میکے تک محدود رکھنے کی عادی ہوں ۔
اگر آپ بادشاہ کی بلی بن کر دونوں گھرانوں کی باتیں یہاں وہاں کرتی رہیں گی تو خود نہ یہاں کی رہیں گی نہ وہاں کی۔
ایک بات ذہن میں رکھئیے آپ کی زندگی ٹی وی سیریل، فلموں یا ڈائجسٹ کی کوئی رومانوی کہانی نہیں ہے یہ وہ حقیقت ہے جس میں آپ زندہ ہیں سانس لے رہے ہیں ۔ شادی کے بعد شوہر سے کچھ بھی ڈسکس کرنا چاہیں تو ضرور کریں ۔
لیکن اس میں بھی یہ احتیاط کیجئیے کہ کچھ بھی ڈسکس کرنے اور سب کچھ ڈسکس کر لینے میں بہت فرق ہے۔ جس طرح کسی بھی عام انسان کو دوست اور پھر سب سے خاص دوست بننے میں کچھ وقت لگتا ہے تو شوہر کا معاملہ بھی ویسا ہی ہے۔
شوہر سے محبت کیجئیے، تمام حقوق پورے کرتے ہوئے خوش رکھنے کی کوشش بھی ضرور کیجئیے کہ یہ سب آپ کیلئیے لازم ہے مگر آپکے ساتھ اُنکی بہنوں کا رویہ کیا ہے والدہ کیسا سلوک کرتی ہیں وغیرہ وغیرہ یہ تمام باتیں اگر آپ شروع کے روز میں ہی انکے سامنے ہر وقت اپنے شدید ردِّ عمل کیساتھ پیش کرنا شروع کریں گی تو آپکی توقع کے خلاف کچھ بعید نہیں کہ وہ آپ سے ہی متنفر ہونے لگیں ۔
خیال رہے کہ مرد اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے خلاف کچھ سُننا پسند نہیں کرتا اور خاص طور پر بلکل شروع میں جب ابھی خود آپکی انڈرسٹینڈنگ نہ ہوئی ہو ۔ ایسے میں شادی کے بعد خصوصاً شروع کے کچھ عرصے کی خاموشی لڑکیوں کو بہت ساری مشکلات سے بچا لیتی ہے ۔
اور پھر یہ غلطی بھی کبھی نہ کریں کہ شوہر پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے اُنہیں اپنے میکے والوں کی تمام اچھی بری باتیں بتانے لگیں ، ایسا کرنے سے آپ خود اپنی ہی عزت گھٹانے کا سبب بنتی ہیں بعد میں کسی بھی بدمزگی کے وقت اگر آپکو شوہر سے اُنہی باتوں کے تلخ طعنے ملیں تو اُنکی بد لحاظی پر رونے سے پہلے اپنی جلد بازی پر روئیں کہ آپ نے ایسا موقع دیا ہی کیوں?
یاد رکھئیے ، شادی کے بعد عموماً وہی لڑکیاں سُکھی رہتی ہیں جو سسرال کی باتیں سسرال اور میکے کے معاملات میکے تک محدود رکھنے کی عادی ہوں ۔
اگر آپ بادشاہ کی بلی بن کر دونوں گھرانوں کی باتیں یہاں وہاں کرتی رہیں گی تو خود نہ یہاں کی رہیں گی نہ وہاں کی ۔
اب بھی بہت وقت نہیں گزرا ، اگر گھر میں سکون چاہتی ہیں اور زندگی بدلنا چاہتی ہیں تو پہلے خود کو تھوڑا سا بدلیں یہ سوچ کر ہی سہی کہ آپ کی زندگی کیساتھ اب کئی ایسی زندگیاں جُڑی ہوئی ہیں جو آپکی جذباتیت کی وجہ سے مشکل دور سے گزر رہی ہیں
اگر کسی کو میری باتیں بری لگی ہوں تو معزرت میری زبان زرا کڑوی ہے۔
ہماری پوسٹوں کو اپنے دوستوں عزیزوں کو شیئر ضرور کیا کریں تاکہ ہزاروں افراد مستفید ہو سکیں

جزاک اللہ خیرا کثیرا

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Threeshunk تِریشُنڪ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share