Pakistan Perspective

Pakistan Perspective NGO working for visually impaired persons of Balochistan

باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے زیارت کے امن و امان کو برقرار رکھنے میں ناکامی اور علاقے میں گڈ گورننس کے فق...
30/07/2026

باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے زیارت کے امن و امان کو برقرار رکھنے میں ناکامی اور علاقے میں گڈ گورننس کے فقدان پر صوبائی وزیر نور محمد دمڑ کی کارکردگی پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان سے فوری وزارتی استعفیٰ طلب کر لیا ہے۔
ضلع زیارت میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے المناک واقعات، امن و امان کی شدید تباھی اور انتظامی طور پر پیدا ہونے والی گمبھیر صورتحال کے پیش نظر بلوچستان کی صوبائی قیادت نے بڑا سیاسی و انتظامی قدم اٹھا لیا ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق سننے ميں آرہا ہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے زیارت کے امن و امان کو برقرار رکھنے میں ناکامی اور علاقے میں گڈ گورننس کے فقدان پر صوبائی وزیر نور محمد دمڑ کی کارکردگی پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان سے فوری وزارتی استعفیٰ طلب کر لیا ہے۔
​باخبر صحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے یہ سخت ترین فیصلہ محض اتفاقیہ نہیں، بلکہ اس کے پسِ پردہ متعدد سنگین اور بدنام وجوہات کارفرما ہیں۔ نور محمد دمڑ پر ایک عرصے سے شدید انتظامی نااہلی، کرپشن، اور اختیارات کے بے دریغ ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے جا رہے تھے۔ علاوہ ازیں، پروجیکٹس اور اہم عہدوں کی بندر بانٹ میں اپنے چہیتوں اور رشتہ داروں کو نوازنے یعنی کھلم کھلا اقربا پروری کی پالیسی نے صوبائی حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
​سب سے تشویشناک پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ نور محمد دمڑ پر مقامی سطح پر امن سوز عناصر اور کالعدم گروہوں کے ساتھ مبینہ "گٹھ جوڑ" کے سنگین الائسنس اور خدشات کا اظہار کیا گیا، جس نے زیارت میں سیکیورٹی کی فضا کو مزید تاریک اور ابتر بنا دیا۔ انہی تمام رسوا کن حقائق، فنڈز میں غیر شفافیت اور عوامی حلقوں میں بڑھتی ہوئی شدید بے چینی کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ نے زیرو ٹالرنس (صفر برداشت) کی پالیسی کے تحت وزیر موصوف کو عہدے سے فارغ کرنے کا فیصلہ حتمی کر لیا ہے۔

موجودہ ملکی سیاسی منظرنامے میں الیکشن کمیشن کے  چیف الیکشن کمشنر کی آئینی مدت کا اختتام اور اس کے بعد کی تقرری کا نازک م...
30/07/2026

موجودہ ملکی سیاسی منظرنامے میں الیکشن کمیشن کے چیف الیکشن کمشنر کی آئینی مدت کا اختتام اور اس کے بعد کی تقرری کا نازک مرحلہ اس وقت ملکی سیاست کا سب سے بڑا مرکزِ نگاہ بنا ہوا ہے۔
آئین کے تحت اس اہم ترین تقرری کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت اور اتفاقِ رائے بنیادی شرط ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ریاستی مشینری اور الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ کی کہانیاں جنم لیتی ہیں
چونکہ محمود اچکزئی صاحب آئین کے پاسدار کے طور پر سياسی عمل کرتے ہیں تو اس صورت ميں اچکزئی صاحب کی طرف سے توسيع پر متفق ہونا ممکن نہیں تاہم
موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ وہ اپنی کرسی کو طول دینے اور اس منصب پر دوبارہ براجمان ہونے کے لیے حکمران اتحاد اور طاقتور حلقوں کی ہر فرمائش کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری تھا کہ اپوزیشن کے اندر توڑ پھوڑ کی جائے، اس کی صفوں کو کمزور کیا جائے اور فیصلہ سازمراکز پر بیٹھے مخالفین کو قانونی الجھنوں میں الجھایا جائے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کے سرکردہ رہنما اور اپوزيشن ليڈر محمود خان اچکزئی کو ان کی ہی جماعت کے چیئرمین کے طور پر تسلیم کرنے سے گریز یا انکار اسی بڑی گیم کا ایک لازمی حصہ معلوم ہوتا ہے۔
محمود خان اچکزئی اس وقت حکومت کے خلاف اپوزیشن کا ایک توانا اور اصولی استعارہ بن چکے ہیں، اور چیف الیکشن کمشنر کی نئی تقرری کے حوالے سے وہ اپوزیشن کی صفوں میں ایک فیصلہ کن اور بھاری اہمیت کے حامل ہیں۔ انہیں تکنیکی اور قانونی جواز تراش کر متنازع بنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ اس آئینی تقرری کے عمل میں اپوزیشن کی طرف سے کوئی مضبوط مزاحمت یا قانونی رکاوٹ کھڑی نہ کر سکیں۔
تحریکِ انصاف کے خلاف جو سیاسی اور انتخابی کھیل ماضی میں کھیلا گیا تھا، اب اس کے دائرہ کار کو وسیع کر کے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پشتونخوا ملی عوامی پارٹی تک پھیلا دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے ہاں آئینی اداروں کو غیر جانبدار رکھنے کے بجائے انہیں سیاسی بلیک میلنگ اور دباؤ کا ہتھیار بنا لیا گیا ہے، جو نہ صرف پارلیمانی جمہوریت کی روح کے سراسر منافی ہے بلکہ اس سے ریاست اور عوام کا ان اداروں پر سے بچا ہوا اعتماد بھی تیزی سے اٹھ رہا ہے۔ جب نگران ادارے خود کھلاڑیوں کے روپ میں سامنے آئیں اور انصاف کے بجائے مصلحت کو اپنا قبلہ و کعبہ بنا لیں، تو پھر جمہوریت کا یہ کھیل تماشا بن کر رہ جاتا ہے جس کی بھاری قیمت پورے ملک کو سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔
تجزيہ

16/07/2026

کيا اکلوتے شهيد بهائی کی بہن بهی سياست کر رہی ہیں ؟
نور محمد نے اپنے پانچ بندوں کو دہشتگردوں سے کيسے چهڑوايا يہ دلال ہیں جهوٹا ہیں
نور محمد قاتل ہیں شهید کی بہن کی پکار

زيارت کے لوگ اپنے درميان دلال پہچان ليں!زیارت میں پیش آنے والا المناک سانحہ محض ایک دہشت گردانہ کارروائی نہیں، بلکہ ریاس...
16/07/2026

زيارت کے لوگ اپنے درميان دلال پہچان ليں!
زیارت میں پیش آنے والا المناک سانحہ محض ایک دہشت گردانہ کارروائی نہیں، بلکہ ریاستی اور سیاسی ایوانوں میں پنپنے والے اس گٹھ جوڑ کا ہولناک نتیجہ ہے جس نے آج پورے خطے کو سوگوار کر دیا ہے۔ اکتیس بہادر پولیس اہلکاروں کی شہادت کسی اچانک حملے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی گھنونی سازش کی داستان ہے جس کے کردار ہمارے درمیان موجود ہیں۔ دن کے بارہ بجے جب اسلحہ ختم ہوا پانچ بجے تک یہ جوان مدد کے لیے پکارتے رہے، لیکن ان پانچ گھنٹوں میں ریاست کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مدد کی عدم فراہمی نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا گیا قتل تھا۔
اس سانحے کے بعد سامنے آنے والے حقائق انسانیت کی تذلیل اور حکومتی منافقت کی بدترین مثال ہیں۔ جب نو اہلکاروں کو شہید کیا گیا تو پچیس کو یرغمال بنایا گیا، جن میں سے اکیس کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، جبکہ ایک ایس پی اور تین کانسٹیبلوں کی رہائی صوبائی وزیر نور محمد دمڑ کی سفارش پر عمل میں آئی۔ یہ دہرا معیار اس بات کا غماز ہے کہ اس خونی سوداگری میں جانوں کی قیمت بھی سیاسی وابستگیوں کے ترازو میں تولی گئی۔ کیا باقی اکیس شہیدوں کی جانوں کی کوئی وقعت نہیں تھی، یا پھر یہ "اسٹیٹ نرچرڈ ٹیررازم" کا وہ مکروہ کھیل ہے جہاں وزیر کے حکم پر قاتل اور مقتول کے درمیان فیصلے کیے جاتے ہیں؟
پشتو کی کہاوت "کوربہ ورسرہ مل دی" اس واقعے کی عملی تصویر ہے۔ زیارت کی یہ سر زمین اس وقت تک محفوظ تھی جب تک اندرونی خیانت کا عنصر شامل نہیں ہوا۔ نور محمد دمڑ، جو خود ایک متنازع انتخابی عمل کے ذریعے مسند اقتدار تک پہنچا، اس کی دہشت گردی اور بدعنوانی کا پہیہ ان مقامی لوگوں کے بغیر نہیں چل سکتا تھا جو قبائلی غیرت کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ زیارت کی ایک لاکھ ستر ہزار ایکڑ اراضی کی غیر شفاف الاٹمنٹ سے لے کر اس خونی سانحے تک، ان مفاد پرستوں کا کردار ناقابل معافی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک لواحقین کے ساتھ دھرنوں میں بیٹھ کر ہمدردی کا دکھاوا کر رہے تھے اور آج وہی وزیر کے بدنام جرگوں میں بیٹھ کر شہداء کے لواحقین کے غم کو سیاسی سکورنگ قرار دے رہے ہیں۔
ان دوغلے چہروں کو اب بے نقاب کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ جو لوگ آج بھی نور محمد کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں، وہ درحقیقت قاتلوں کے سہولت کار اور شہیدوں کے لہو کے سوداگر ہیں۔ لواحقین کو خاموشی سے لاشیں دفنانے کی دھمکیاں دینا ظلم کی وہ انتہا ہے جو اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ زیارت کے عوام اب اس خونی سیاست کو مزید پنپنے نہیں دیں گے۔ مطالبہ واضح ہے کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے نور محمد دمڑ اور ان کے مقامی حواریوں کا کڑا محاسبہ کیا جائے، کیونکہ اکتیس شہیدوں کا لہو صرف انصاف کا متقاضی ہے اور یہ قرض چکائے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں۔
آئے ايک ايک دلال کو بے نقاب کرے جبتک يہ دلال دوہری معيار کا ڈرامہ کهيلتے رہیں گے ہم مزيد برباد ہوتے جائے گے


زیارت میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ جس میں ہمارے 31 پولیس اہلکار رياستی سکريپٹڈ ، مينوفيکچرڈ دهشتگردی کے دوران شہید ہوئے،...
12/07/2026

زیارت میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ جس میں ہمارے 31 پولیس اہلکار رياستی سکريپٹڈ ، مينوفيکچرڈ دهشتگردی کے دوران شہید ہوئے، ایک ایسا زخم ہے جس نے پورے خطے کو سوگوار کر دیا ہے۔
اس المناک واقعے کے بعد عوامی حلقوں میں اس شخص، نور محمد ولد ابراہیم، کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے زرائع کے مطابق اس شخص کا ماضی اور حال کافی دہشتگرد نما ہیں ۔
اسلامی اور شرعی قانون کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ جب کسی مقتول کا قاتل نامعلوم ہو، تو اس کی دیت اور قاتل ریاست کے نمائندوں پر عائد ہوتی ہے، اور آج زیارت کے عوام اسی اصول کے تحت ریاستی مشینری اور مقامی بااثر شخصیات سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
عوامی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا نور محمد کے ماضی اور حال کو دیکھتے ہوئے اسے اس سانحے کا بلاواسطہ یا بالواسطہ ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے؟
ماضی میں انتخابی عمل کے دوران ان کی ساکھ، مبینہ طور پر اپنے ہی قریبی رشتہ دار کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات، اور ایک بڑی انتخابی شکست کے باوجود مبینہ آڈیو لیکس کے ذریعے اقتدار تک رسائی، وہ عوامل ہیں جنہوں نے عوام کا اعتماد مجروح کیا ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد زیارت کی 170,000 ایکڑ اراضی کا غیر شفاف الاٹمنٹ کا عمل اور عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر شخصی وفاداریوں کو ترجیح دینا اس شہر کی تباہی کا سبب بنا ہے۔
آج جب زیارت 31 شہداء کا ماتم کر رہا ہے، تو یہ الزامات مزید سنگین ہو جاتے ہیں کہ اس شخص نے مبینہ طور پر اپنے قریبی رشتہ داروں اور متعلقہ افسران کو تحفظ فراہم کیا جبکہ نہتے غريب بچوں کو شهيد کرنے چهوڑ ديا۔
مزید برآں، شہداء کی میتوں کے احترام کو پامال کرتے ہوئے، مبینہ طور پر غنڈہ عناصر کے ذریعے انہیں زبردستی اٹھوانے کی کوششوں نے عوام میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں۔
عوامی حلقوں کا پرزور مطالبہ ہے کہ نہ صرف اس شخص کے کردار کا محاسبہ کیا جائے بلکہ امن و امان کی بحالی اور مزید خونریزی کو روکنے کے لیے ان کی زیارت میں موجودگی اور اثر و رسوخ کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ 31 شہیدوں کے خون کا حساب ہو اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ زیارت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف جناب محمود خان اچکزئی آج کوئٹہ میں زیارت کے شہداء کے انصاف کے لیے جاری دھرنے میں شرکت ...
12/07/2026

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف جناب محمود خان اچکزئی آج کوئٹہ میں زیارت کے شہداء کے انصاف کے لیے جاری دھرنے میں شرکت کریں گے اور اس عوامی تحریک کی باقاعدہ قیادت سنبھالیں گے۔

اس سے قبل جناب محمود خان اچکزئی نے شہداء کو انصاف دلانے کے لیے کل جماعتی کانفرنس (APC) منعقد کی، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی، اور اس مسئلے پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا۔

آج وہ باقاعدہ طور پر اس تحریک کی قیادت کرتے ہوئے اعلان کریں گے کہ شہداء کے انصاف کی یہ جدوجہد صرف کوئٹہ نہیں بلکہ بلوچستان تک بهی محدود نہیں رہے گی بلکہ اسے پورے ملک میں عوامی تحریک کی صورت میں آگے بڑھایا جائے گا۔

زیارت میں جاری دھرنے کے مقام سے جو لرزہ خیز تفصیلات سامنے آ رہی ہیں،  جس دن 9 بے گناہ اہلکاروں کو شہید کیا گیا، اسی دن د...
09/07/2026

زیارت میں جاری دھرنے کے مقام سے جو لرزہ خیز تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، جس دن 9 بے گناہ اہلکاروں کو شہید کیا گیا، اسی دن دہشت گردوں نے 25 اہلکاروں کو یرغمال بنایا، جن میں ايک ایس پی اور دو ایس ایچ اوز سمیت دیگر جوان شامل تھے۔
کل یہ المناک انکشاف ہوا کہ ان 25 میں سے 21 اہلکاروں کو بهی بے دردی سے شہید کر دیا گیا ہے
جبکہ ایک ایس پی اور 3 کانسٹیبلوں کو صوبائی وزیر نور محمد دمڑ کی سفارش پر دہشت گردوں نے باحفاظت چھوڑ دیا۔يہ دہشتگرد ہیں کون جوکہ ايم وزير کے اتنے سگے ہیں کہ اس کے باندے چهوڑ دئے
یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا کھلا ثبوت ہے، جہاں جانوں کا سودا وزیر کے حکم اور سفارش پر کیا گیا۔ یہ سوال ہر آنکھ سے اشکبار ہے کہ آخر وہ 4 خوش نصیب کون تھے جنہیں صوبائی وزیر کی سفارش پر زندگی ملی؟
کیا ایک پنجابی ایس پی اور وزیر صاحب کے قریبی لوگوں کی جانیں باقی 21 شہداء سے زیادہ قیمتی تھیں؟ یہ دوہرا معیار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ سب کچھ "اسٹیٹ نرچرڈ ٹیررازم" ہے جسے ریاست خود اپنے ہاتھوں سے پروان چڑھا رہی ہے اور صوبائی وزیر نور محمد دمڑ اس مکروہ اور خونیں سوداگری میں براہ راست ملوث ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ آج بھی وزیر موصوف شہداء کے لواحقین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور ان پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ ان لاشوں کو خاموشی سے دفنا دیں، گویا خونِ ناحق کا کوئی حساب ہی نہیں۔ کیا یہ ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ کے لیے ہے، یا غریب کے لہو کی بھی کوئی قیمت ہے؟


صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے شہداء کے لواحقین کو دھرنے میں شرکت سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا اور ایمبولینس بھیج کر سنجاوی کے...
08/07/2026

صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے شہداء کے لواحقین کو دھرنے میں شرکت سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا اور ایمبولینس بھیج کر سنجاوی کے شہداء کے جنازے کو دھرنے میں لے جانے کے بجائے فوری تدفین کی ہدایت دی۔


پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سينئیر رهنماوں پر ايف ائی آر درجضلع زیارت میں گزشتہ دہشت گردی کے واقعے، جس میں پولیس اہلکارو...
01/07/2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سينئیر رهنماوں پر ايف ائی آر درج
ضلع زیارت میں گزشتہ دہشت گردی کے واقعے، جس میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت پانچ افراد شہید ہوئے تھے، کے بعد امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرنے پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینئر رہنما، مرکزی کمیٹی کے رکن نور محمد نورک اور ضلعی مالیات سیکرٹری محمد دین کے خلاف حکومت کی مدعیت میں تھری ایم پی او کے تحت ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔

مذکورہ کارروائی کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ مختلف حلقے اس اقدام کو پرامن احتجاج اور جمہوری حقِ اظہارِ رائے پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔

کوئٹہ (نمائندہ خصوصی)​بلوچستان بالخصوص صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے عوامی حلقوں کی جانب سے بی اے مال (BA Mall) کے مالک خال...
01/07/2026

کوئٹہ (نمائندہ خصوصی)
​بلوچستان بالخصوص صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے عوامی حلقوں کی جانب سے بی اے مال (BA Mall) کے مالک خالد حسین بھٹ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوامی سطح پر یہ سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ مذکورہ فرد ہنہ اور منگلی کے علاقوں میں مبینہ طور پر کالعدم تنظیموں، جن میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے شامل ہیں، کے نام کا سہارا لے کر خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں اور مقامی آبادی کو دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
​کوئٹہ کے مقامی رہائشیوں اور قبائلی عمائدین نے اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خالد حسین بھٹی، جن کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے، پشتونوں کی آبائی اور فطرتی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے عوام مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ہماری زمینیں ہماری پہچان ہیں اور کسی بھی غیر مقامی فرد کو طاقت کے زور پر ان پر قبضہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
​اس صورتحال کے پیشِ نظر عوامی حلقوں کی جانب سے بی اے مال اور اس کے مالک خالد حسین بھٹی کے مکمل سماجی و تجارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک مذکورہ شخص کی جانب سے ان اقدامات کا خاتمہ نہیں ہوتا اور متعلقہ حکام کی جانب سے ان الزامات کی شفاف تحقیقات نہیں ہوتیں، تب تک عوام اس مال اور اس سے وابستہ کسی بھی سرگرمی کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔
​متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے حکومتِ بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنہ اور منگلی کے علاقوں میں مبینہ دہشت گردی اور دھمکیوں کے الزامات کی فوری تحقیقات کی جائیں، زمینوں پر قبضے کے معاملات کا نوٹس لیا جائے تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید نہ بگڑے، اور مقامی لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات پر عمل درآمد نہ ہوا تو وہ اپنے احتجاج کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Address

Chungi Number 6
Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Perspective posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share