30/07/2026
باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے زیارت کے امن و امان کو برقرار رکھنے میں ناکامی اور علاقے میں گڈ گورننس کے فقدان پر صوبائی وزیر نور محمد دمڑ کی کارکردگی پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان سے فوری وزارتی استعفیٰ طلب کر لیا ہے۔
ضلع زیارت میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے المناک واقعات، امن و امان کی شدید تباھی اور انتظامی طور پر پیدا ہونے والی گمبھیر صورتحال کے پیش نظر بلوچستان کی صوبائی قیادت نے بڑا سیاسی و انتظامی قدم اٹھا لیا ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق سننے ميں آرہا ہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے زیارت کے امن و امان کو برقرار رکھنے میں ناکامی اور علاقے میں گڈ گورننس کے فقدان پر صوبائی وزیر نور محمد دمڑ کی کارکردگی پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان سے فوری وزارتی استعفیٰ طلب کر لیا ہے۔
باخبر صحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے یہ سخت ترین فیصلہ محض اتفاقیہ نہیں، بلکہ اس کے پسِ پردہ متعدد سنگین اور بدنام وجوہات کارفرما ہیں۔ نور محمد دمڑ پر ایک عرصے سے شدید انتظامی نااہلی، کرپشن، اور اختیارات کے بے دریغ ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے جا رہے تھے۔ علاوہ ازیں، پروجیکٹس اور اہم عہدوں کی بندر بانٹ میں اپنے چہیتوں اور رشتہ داروں کو نوازنے یعنی کھلم کھلا اقربا پروری کی پالیسی نے صوبائی حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
سب سے تشویشناک پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ نور محمد دمڑ پر مقامی سطح پر امن سوز عناصر اور کالعدم گروہوں کے ساتھ مبینہ "گٹھ جوڑ" کے سنگین الائسنس اور خدشات کا اظہار کیا گیا، جس نے زیارت میں سیکیورٹی کی فضا کو مزید تاریک اور ابتر بنا دیا۔ انہی تمام رسوا کن حقائق، فنڈز میں غیر شفافیت اور عوامی حلقوں میں بڑھتی ہوئی شدید بے چینی کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ نے زیرو ٹالرنس (صفر برداشت) کی پالیسی کے تحت وزیر موصوف کو عہدے سے فارغ کرنے کا فیصلہ حتمی کر لیا ہے۔