13/07/2026
**میرٹ کا جنازہ**
کہتے ہیں اقتدار کا نشہ اور اپنوں کو نوازنے کی ہوس انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ جعفرآباد کے موجودہ سیاسی منظرنامے اور منتخب نمائندے (ایم پی اے) مجید بادینی کے اقدامات کو دیکھ کر یہ کہاوت سو فیصد سچ ثابت ہو رہی ہے۔ جہاں ایک طرف جعفرآباد کے قابل، تعلیم یافتہ اور حقدار نوجوان نوکریوں کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں وہیں دوسری طرف میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے من پسند افراد، رشتہ داروں اور خاص کارندوں میں ریوڑیاں بانٹی جا رہی ہیں۔
رکشہ ڈرائیور سے S&GD کا چوکیدار ایک "معجزاتی" سفر
واہ بادینی صاحب واہ!
آپ کی مہربانیوں کے کیا کہنے۔ ایک غریب رکشہ ڈرائیور جو کل تک سڑکوں پر محنت مزدوری کر رہا تھا، اسے راتوں رات S&GD (سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ) میں چوکیدار بھرتی کروا دیا گیا۔ چلیں کسی غریب کا بھلا ہونا اچھی بات ہے لیکن جب یہ مہربانیاں صرف اپنے پی ایس (پرسنل سیکرٹری) کی "کشتی پار لگانے" اور ذاتی وفاداروں کو نوازنے کے لیے مخصوص ہو جائیں تو اسے بھلا نہیں بلکہ میرٹ کا قتلِ عام کہتے ہیں۔
"میرا کوئی بندہ بھرتی نہیں ہوگا" — ایک بڑا جھوٹ!
موصوف عبدالمجید بادینی صاحب بڑے فخر سے دعویٰ کرتے ہیں کہ "میرے گھر کا کوئی بھی آدمی ایک بھی بندہ سرکاری نوکری پر نہیں ہوگا"۔ چلیے ذرا اس دعوے کی حقیقت اور بادینی صاحب کے "سیاسی خاندان" کی اس فہرست پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو جعفرآباد کے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں:
* سدا بخش ولد امام بخش: جو کہ مجید (بادینی) کا سگا داماد ہے۔
* زرداد ولد گل محمد: جو کہ ایم پی اے صاحب کی پھپھو کا بیٹا ہے۔
* ارسلان ولد مختیار: جو کہ مٹھا کا بھتیجا ہے۔
* امان اللہ ولد رحمت اللہ: یہ بھی مٹھا کا بھتیجا ہے۔
یہ "مٹھا" کون ہے؟ یہ کونسلر ہے اور مجید بادینی کا کزن ہے جس کو بادینی صاحب نے پورے جعفرآباد کا فوکل پرسن بنایا ہے اس وقت یہ جعفرآباد کے سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوا ہے۔ جس کی انگلی کے اشارے پر نوکریاں بانٹی جا رہی ہیں اور میرٹ کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔ اگر مٹھا کے بھتیجے، پھپھو کے بیٹے اور چوکیدار ہی سب کچھ ہیں تو جعفرآباد کے ان عام نوجوانوں کا کیا قصور ہے جن کے پاس ڈگریاں تو ہیں مگر کوئی "بادینی" یا "مٹھا" ان کی پشت پر کھڑا نہیں؟
عوام کب تک خاموش رہے گی؟
یہ سراسر ناانصافی اور جعفرآباد کے غیور عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے۔ برادری ازم، ذاتی چوکیداروں، گارڈز اور قریبی رشتہ داروں کو نوازنے کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔
جعفرآباد کے نوجوانوں سے سوال:
کیا آپ کی تعلیم، آپ کی محنت اور آپ کی ڈگریوں کی قیمت ان من پسند افراد سے کم ہے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ اس اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی کے خلاف آواز اٹھائی جائے!