22/08/2026
بارہ ربیع الاول — محبتِ رسول ﷺ یا اتباعِ رسول ﷺ؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں جسے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کی خوشی نہ ہو۔ آپ ﷺ سے محبت ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے: کیا ہم محبتِ رسول ﷺ میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ سکتے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں بارہ ربیع الاول کو سالانہ عید یا جشن کے طور پر نہیں منایا۔ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم کے ادوار میں بھی اسے ’’عید میلاد النبی ﷺ‘‘ کے طور پر منانا ثابت نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا:
اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔‘‘
حوالہ: سورۃ المائدہ، آیت 3
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَحْدَثَ فِيْ أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
’’جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، تو وہ مردود ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2697؛ صحیح مسلم، حدیث 1718
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
’’اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، حدیث 867
دین مکمل ہو جانے کے بعد کسی ایسے نئے عمل کو عبادت، ثواب، دینی تہوار یا دین کے مستقل شعار کی حیثیت دینا، جس کی بنیاد قرآن، سنت اور عملِ صحابہ سے ثابت نہ ہو، دین میں اضافہ شمار ہوتا ہے۔
باقاعدہ سالانہ اور اجتماعی میلاد کی تقریبات کا آغاز عہدِ نبوی اور خلافتِ راشدہ میں نہیں ہوا، بلکہ یہ طریقہ بعد کی صدیوں میں رائج ہوا۔ اس کے آغاز کی درست تاریخ اور صورت کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے کسی غیر ثابت شدہ سال یا شخصیت کا نام دینا مناسب نہیں۔
ہم رسول اللہ ﷺ کی آمد کی خوشی سے انکار نہیں کرتے؛ ہم صرف اس خوشی کو منانے کے لیے شرعی دلیل اور رسول اللہ ﷺ و صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ تلاش کرتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت اپنائیں، آپ کی تعلیمات پر عمل کریں، کثرت سے درود و سلام پڑھیں اور اپنی زندگی آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزاریں۔
اس تحریر کا مقصد کسی مسلمان کے ایمان یا محبتِ رسول ﷺ پر فیصلہ لگانا اور کسی کی دل آزاری کرنا نہیں، بلکہ صرف قرآن و سنت کی روشنی میں غوروفکر کی دعوت دینا ہے۔
اپنی رائے دلیل اور احترام کے ساتھ کمنٹس میں ضرور دیں۔
— MBW Official |