MBW Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from MBW, Social Media Agency, Khan Pur Punjab, Rahimyar Khan.

🌟 Welcome to MBW Official! 🌟

🔥Exclusive Content | Entertainment

📢 Stay updated with the latest videos, trends & more from Muhammad Bilal Warraich (MBW)! 🎬✨

📺 YouTube
https://www.youtube.com/
🎭 TikTok: https://www.tiktok.com/

بارہ ربیع الاول — محبتِ رسول ﷺ یا اتباعِ رسول ﷺ؟اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں جسے ہمارے پیارے نبی حضرت مح...
22/08/2026

بارہ ربیع الاول — محبتِ رسول ﷺ یا اتباعِ رسول ﷺ؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں جسے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کی خوشی نہ ہو۔ آپ ﷺ سے محبت ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے: کیا ہم محبتِ رسول ﷺ میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ سکتے ہیں؟

رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں بارہ ربیع الاول کو سالانہ عید یا جشن کے طور پر نہیں منایا۔ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم کے ادوار میں بھی اسے ’’عید میلاد النبی ﷺ‘‘ کے طور پر منانا ثابت نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا:

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا

’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔‘‘

حوالہ: سورۃ المائدہ، آیت 3

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَحْدَثَ فِيْ أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ

’’جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، تو وہ مردود ہے۔‘‘

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2697؛ صحیح مسلم، حدیث 1718

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

’’اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

حوالہ: صحیح مسلم، حدیث 867

دین مکمل ہو جانے کے بعد کسی ایسے نئے عمل کو عبادت، ثواب، دینی تہوار یا دین کے مستقل شعار کی حیثیت دینا، جس کی بنیاد قرآن، سنت اور عملِ صحابہ سے ثابت نہ ہو، دین میں اضافہ شمار ہوتا ہے۔

باقاعدہ سالانہ اور اجتماعی میلاد کی تقریبات کا آغاز عہدِ نبوی اور خلافتِ راشدہ میں نہیں ہوا، بلکہ یہ طریقہ بعد کی صدیوں میں رائج ہوا۔ اس کے آغاز کی درست تاریخ اور صورت کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے کسی غیر ثابت شدہ سال یا شخصیت کا نام دینا مناسب نہیں۔

ہم رسول اللہ ﷺ کی آمد کی خوشی سے انکار نہیں کرتے؛ ہم صرف اس خوشی کو منانے کے لیے شرعی دلیل اور رسول اللہ ﷺ و صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ تلاش کرتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت اپنائیں، آپ کی تعلیمات پر عمل کریں، کثرت سے درود و سلام پڑھیں اور اپنی زندگی آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزاریں۔

اس تحریر کا مقصد کسی مسلمان کے ایمان یا محبتِ رسول ﷺ پر فیصلہ لگانا اور کسی کی دل آزاری کرنا نہیں، بلکہ صرف قرآن و سنت کی روشنی میں غوروفکر کی دعوت دینا ہے۔

اپنی رائے دلیل اور احترام کے ساتھ کمنٹس میں ضرور دیں۔

— MBW Official |

14 اگست کو لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے، جشنِ آزادی منایا، خوشیاں منائیں — اور یقیناً یہ ہر پاکستانی کا حق ہے۔ 🇵🇰لیکن ایک سو...
15/08/2026

14 اگست کو لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے، جشنِ آزادی منایا، خوشیاں منائیں — اور یقیناً یہ ہر پاکستانی کا حق ہے۔ 🇵🇰

لیکن ایک سوال ضرور بنتا ہے:

کیا ہم صرف جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل سکتے ہیں، اپنے بنیادی حقوق کے لیے نہیں؟

آج مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں بار بار بڑھائی جا رہی ہیں، اشیائے ضروریہ مہنگی ہیں اور بجلی کے بل عام آدمی کی برداشت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔

خصوصاً جون کے بجلی کے بلوں کے حوالے سے ایسے گھرانوں کی شکایات سامنے آئیں جن کی مالی استطاعت انتہائی محدود ہے، مگر ان کے ہاتھ میں 15 ہزار، 20 ہزار روپے یا اس سے بھی زیادہ کے بل تھما دیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا شخص، جس کے گھر کا پورا بجٹ ہی بمشکل چلتا ہو، اتنا بھاری بل کہاں سے ادا کرے؟

اور اس سے بھی بڑا سوال:

اگر بجلی کے محکمے کے ملازمین یا افسران کو مفت یا رعایتی یونٹس اور دوسری مراعات دی جا سکتی ہیں تو ایک مسجد، جو کسی شخص کی ذاتی رہائش یا کاروبار نہیں، اس سے مکمل کمرشل انداز میں بجلی کا بل کیوں وصول کیا جاتا ہے؟

کیا سرکاری افسر مسجد سے زیادہ اس رعایت کا حق دار ہے؟

اسلام ہمیں عدل اور مساوات کا درس دیتا ہے۔ ایسا نظام جس میں عام شہری اور عبادت گاہیں مکمل بوجھ برداشت کریں جبکہ سرکاری عہدوں سے وابستہ افراد کو خصوصی مراعات حاصل ہوں، اس پر سوال اٹھانا بالکل جائز ہے۔

حکومت اگر عوام سے قربانیاں مانگتی ہے تو قربانی کا آغاز حکمران طبقے اور سرکاری مراعات سے ہونا چاہیے۔ پہلے غیر ضروری سرکاری اخراجات، مفت یونٹس، مراعات اور عیاشیاں ختم کی جائیں، پھر عوام سے مزید بوجھ اٹھانے کا مطالبہ کیا جائے۔

عوام ہی ہر بار قیمت کیوں ادا کرے؟
حکمران اور افسر اپنی مراعات کب کم کریں گے؟
مساجد سے بل لیا جا سکتا ہے تو سرکاری افسران کو مفت یونٹس کیوں؟
اور ہم اپنے جائز معاشی حقوق کے لیے پُرامن آواز کب بلند کریں گے؟

آزادی صرف جھنڈا لہرانے اور جشن منانے کا نام نہیں۔
آزادی اپنے حق کے لیے پُرامن آواز اٹھانے، ناانصافی پر سوال کرنے اور حکمرانوں کو جواب دہ بنانے کا نام بھی ہے۔ 🇵🇰

Address

Khan Pur Punjab
Rahimyar Khan
64101

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MBW posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share