Molana Muhammad Musaddiq

Molana Muhammad Musaddiq Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Molana Muhammad Musaddiq, Miankhel Kohat, Rawalpindi.

*اسکرین کا غلام یا سجدے کا سپاہی؟*آج کا نوجوان کمزور نہیں ہے… وہ بے سمت ہے۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، دل میں خواہشیں ہیں...
06/03/2026

*اسکرین کا غلام یا سجدے کا سپاہی؟*

آج کا نوجوان کمزور نہیں ہے… وہ بے سمت ہے۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، دل میں خواہشیں ہیں، دماغ میں خواب ہیں — مگر روح خالی ہو رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کیا بن رہا ہے، سوال یہ ہے کہ وہ کس کا غلام بن رہا ہے؟

ایک چھوٹی سی اسکرین نے اس کی توجہ، اس کا وقت، اس کی نیند، اس کی سوچ سب کو قید کر لیا ہے۔ وہ گھنٹوں سکرول کرتا ہے مگر چند منٹ سجدہ مشکل لگتا ہے۔ وہ ہر نوٹیفکیشن پر فوراً جاگ جاتا ہے مگر فجر کی اذان پر نہیں۔ کیا یہ آزادی ہے؟ یا ایک نیا غلامی کا نظام؟

قرآن ہمیں جھنجھوڑ کر یاد دلاتا ہے:
"أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ"
(کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟) — Quran

جب خواہشات حکم دینے لگیں اور انسان ماننے لگے، تو یہی غلامی ہے۔ فرق صرف زنجیروں کا ہے — پہلے لوہے کی ہوتی تھیں، آج روشنی کی اسکرین کی۔

مگر تاریخ گواہ ہے، جب نوجوان نے سجدہ سیکھا تو دنیا نے اس کے سامنے سر جھکایا۔ Salahuddin Ayyubi بھی کبھی ایک نوجوان تھا۔ اس کی طاقت تلوار نہیں، تہجد تھی۔ اس کا اعتماد لشکر نہیں، اللہ پر یقین تھا۔ سجدہ انسان کو جھکاتا نہیں، اسے بلند کرتا ہے۔

آج کا نوجوان اگر چاہے تو وہی اسکرین علم کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے، دعوت کا ہتھیار بھی، امت کی آواز بھی۔ مسئلہ موبائل نہیں، مقصد کی کمی ہے۔ اسکرین کا غلام بنو گے تو وقت تمہیں کھا جائے گا۔ سجدے کا سپاہی بنو گے تو وقت تمہیں یاد رکھے گا۔

فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔
انگوٹھا سکرول کرے گا یا پیشانی زمین کو چھوئے گی؟
تاریخ تمہیں ایک صارف کے طور پر یاد رکھے گی یا ایک مجاہدِ کردار کے طور پر؟

یاد رکھو…
امت کو ایسے نوجوان نہیں چاہییں جو آن لائن ہوں،
امت کو ایسے نوجوان چاہییں جو اللہ سے لائن میں ہوں۔

اب سوچو — تم کون ہو؟

*کارگزاریِ قبولِ اسلام*  *ادارہ سیدنا مُصعب بن عمیرؓ لِدَعْوَةِ الإِيمَانِ* سندھ بلوچستانمورخہ 4 مارچ 2026ءاللہ تعالیٰ ک...
06/03/2026

*کارگزاریِ قبولِ اسلام*
*ادارہ سیدنا مُصعب بن عمیرؓ لِدَعْوَةِ الإِيمَانِ*

سندھ بلوچستان
مورخہ 4 مارچ 2026ء
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ضلع بدین کے علاقہ گولارچی میں بھیل قوم کے افراد میں نومسلمین کے ذریعہ جاری دعوتِ ایمان کی محنت بابرکت ثابت ہوئی۔

صوبائی صاحب کے دورہ کے موقع پر الحمدللہ 7 خاندانوں کے 29 افراد نے صوبائی صاحب کے ہاتھ پر کلمۂ طیبہ پڑھ کر دائرۂ ایمان میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کی۔

اس خوشی کے موقع پر ضلعی منتظم و دیگر ذمہ داران اور چند محبین کی موجودگی میں نومسلمین کی حوصلہ افزائی اور مبارکباد کے لیے مختصر مگر پُراثر نشست منعقد کی گئی۔

مزید برآں مرکز بلال میں دینی تعلیم و تربیت کے لیے 5 افراد کو تیار کیا گیا ہے جو عید کے بعد ان شاء اللّٰہ روانہ ہوں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان سب کو اسلام پر ثابت قدمی عطا فرمائے اور ایمان کی برکتوں سے مالامال فرمائے۔
*اللّٰهُمَّ ثَبِّتْهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ وَاجْعَلْهُمْ مِنَ الصَّالِحِينَ* ۔

#قرآن #حدیث

کیا اہلِ قرآن ( منکرینِ حدیث) نے امت کو اختلاف سے پاک دین سکھایا؟ذرا رجوع کرتے ہیں جاوید احمد غامدی صاحب کی طرف۔غامدی صا...
05/03/2026

کیا اہلِ قرآن ( منکرینِ حدیث) نے امت کو اختلاف سے پاک دین سکھایا؟
ذرا رجوع کرتے ہیں جاوید احمد غامدی صاحب کی طرف۔
غامدی صاحب کے قربانی کے بارے میں مذہب کے بارے میں انسانی ذہن کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا کہ غامدی صاحب قربانی کو کیا سمجھتے ہیں سنت، یا نفل یا کچھ اور؟

غامدی صاحب کا فلسفہ پڑھ کر پتہ چلا کہ غامدی صاحب قربانی کے موضوع میں اپنے نظریوں کے ساتھ ہی اختلاف کئے جا رہے ہیں۔ شاید موصوف اکیلے ہی چار پانچ فرقے بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

غامدی صاحب اپنی کتاب میزان ہی کے مختلف مقامات پر قربانی کے بارے میں الگ الگ حکم لگاتے ہیں۔ کبھی اسے قانون کہتے ہیں کبھی سنت اور کبھی اسے نفل قرار دیتے ہیں۔
(1) قربانی ... قانون ہے: چنانچہ غامدی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ قربانی ایک قانون ہے۔ قربانی کا جو قانون مسلمانوں کے اجتماع اور تواتر عملی سے ہم تک پہنچا ہے، وہ یہ ہے۔
(میزان ص 405 طبع سوم مئی 2008 ء، لاہور )

(2) قربانی سنت ہے:
علامہ صاحب ایک اور جگہ رقمطراز ہیں کہ قربانی سنت ہے:
ان ( عیدین) میں جو اعمال سنت کے طور پر جاری کیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں: (1) صدقہ فطر (2) نماز اور خطبہ (3) قربانی (4) ایام تشریق میں ہر نماز کے بعد تکبیریں۔
(میزان ص 649 طبع سوم ، مئی 2008ء ، لاہور )

(3) قربانی نفل ہے:
پھر تیسری جگہ پر لکھتے ہیں کہ قربانی نفل ہے: یہی قربانی ہے جو حج و عمرہ کے موقع پر اور عید الاضحٰی کے دن ہم ایک نفل عبادت کے طور پر پورے اہتمام کے ساتھ کرتے ہیں ۔"
(میزان ص 404، طبع سوم مئی 2008ء ، لا ہور )
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ: دروغ گو را حافظه نباشد

ایک تو قارئین یہ فیصلہ کریں کہ:
1: کیا شریعت میں کسی نفلی کام کے ثبوت کے لیے بھی اجماع اور تو اتر عملی کی شرط ہے؟
2: کیا نفلی عبادات بھی امت کے ہاں پورے اہتمام کے ساتھ کی جاتی ہیں؟
3: کیا اسلامی شریعت میں نفل بھی قانون ہوتا ہے؟
4: کیا دنیا میں کوئی قانون بھی نفل ہوتا ہے؟

دوسرا اہل قرآن سے سوال ہے کہ کیا آپ نے کبھی اپنے گرو جی کا یہ فلسفہ میزان پر تولا ہے؟

اور حضور آپ تو اپنے آپ کو (اپنی حقیقت کے بالکل برعکس) امت کے بارے انتہائی فکرمند ظاہر کرتے ہیں۔ اپنے گرو جی کو ذرا سمجھائیں کہ جناب کچھ تو عقل سے کام لیں۔ شریعت میں کوئی ایسا عمل بھی ہے جو نفل بھی ہے، سنت بھی اور قانون بھی؟

آپ کا یہ فلسفہ پڑھ کر امت مسلمہ تو انتہائی تذبذب کا شکار ہو جائے گی۔ اور خطرہ ہے کہ تذبذب کیوجہ سے پاگل پن کا شکار ہو جائے۔
#قرآن #حدیث

حدیث رسول ﷺ کا انکار، قرآن کریم کی من مانی تفسیر، اور دین کو نفسانی خواہشات کے تابع کرنے کا ایک خطرناک رجحان ہے، جس سے د...
05/03/2026

حدیث رسول ﷺ کا انکار، قرآن کریم کی من مانی تفسیر، اور دین کو نفسانی خواہشات کے تابع کرنے کا ایک خطرناک رجحان ہے، جس سے دین کی بنیادی قید و بند سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے. یہ رویہ علم و ریسرچ کے فقدان اور دین سے دوری کا نتیجہ ہے.
#قرآن #حدیث #علمـحدیث

بعض حضرات نے خود ترجمان وحی حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیم ہی کو سرے سے دین سے خارج کر دینے کا عزم صمیم ک...
04/03/2026

بعض حضرات نے خود ترجمان وحی حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیم ہی کو سرے سے دین سے خارج کر دینے کا عزم صمیم کر لیا ہے۔ انصاف پسند حضرات بتائیں کہ دین کی قید و بند سے آزاد ہونے کی اس سے بڑھ کر بھی کوئی کامیاب تدبیر ہو سکتی ہے، کہ ایک گروہ صاف صاف کہے کہ ہم قرآن کے ساتھ حدیث رسول کو نہیں مانتے ! یا بالفاظ دیگر حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اقوال، اعمال اور احوال کو دین کی شرح ماننے سے ہمارا انکار ہے۔ اس انکار کے بعد نتیجتاً وہ اپنی مرضی، خواہش نفس اور عقل کے مطابق قرآنی آیات کی من مانی شرح کریں گے اور اسی کو عین دین قرار دینگے۔
#قرآن #حدیث

لینا میڈینا 1933 میں ٹکراپو، کاسٹروویرینا صوبہ، پیرو میں، والدین ٹبریلو میڈینا، ایک چاندی بنانے والا اور وکٹوریہ لوسی کے...
04/03/2026

لینا میڈینا 1933 میں ٹکراپو، کاسٹروویرینا صوبہ، پیرو میں، والدین ٹبریلو میڈینا، ایک چاندی بنانے والا اور وکٹوریہ لوسی کے ہاں پیدا ہوئیں۔ وہ نو بچوں میں سے ایک تھی۔

پیٹ کے بڑھتے ہوئے سائز کی وجہ سے اس کے والدین اسے پانچ سال کی عمر میں پیسکو کے ایک ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے پہلے سوچا کہ اسے ٹیومر ہے لیکن پھر اس نے طے کیا کہ وہ حمل کے ساتویں مہینے میں تھی۔ ڈاکٹر جیرارڈو لوزاڈا کے پاس لیما کے ماہرین حمل کی تصدیق کرتے ہیں۔

کیس میں بڑے پیمانے پر دلچسپی تھی۔ ٹیکساس کے سان انتونیو لائٹ اخبار نے اپنے 16 جولائی 1939 کے ایڈیشن میں اطلاع دی ہے کہ پیرو کے ماہر امراض نسواں اور دائیوں کی ایسوسی ایشن نے اسے قومی زچگی کے اسپتال میں داخل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور پیرو کے اخبار لا کرونیکا میں رپورٹوں کا حوالہ دیا ہے کہ ایک امریکی فلم اسٹوڈیو نے "اختیار کے ساتھ" ایک نمائندے کو بھیجا ہے تاکہ فلم کو 500 ڈالر کی رقم واپس کرنے کی پیشکش کی جائے۔ حقوق، لیکن "ہم جانتے ہیں کہ پیشکش کو مسترد کر دیا گیا تھا"۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ لوزادہ نے سائنسی دستاویزات کے لیے مدینہ کی فلمیں بنائی تھیں اور انھیں پیرو کی نیشنل اکیڈمی آف میڈیسن سے خطاب کے دوران دکھایا تھا۔ کچھ فلمیں لڑکی کے آبائی شہر کے دورے پر دریا میں گر گئی تھیں، لیکن "علما کو تسخیر کرنے" کے لیے کافی تھیں۔

تشخیص کے چھ ہفتے بعد، 14 مئی 1939 کو، مدینہ نے سیزرین سیکشن کے ذریعے بیٹے جیرارڈو کو جنم دیا۔ وہ 5 سال، 7 ماہ اور 21 دن کی تھیں، جو تاریخ میں سب سے کم عمر بچے کو جنم دینے والی تھیں۔ اس کے چھوٹے شرونی کی وجہ سے سیزرین پیدائش ضروری تھی۔ یہ سرجری لوزاڈا اور ڈاکٹر بسالیو نے کی، جس میں ڈاکٹر کولاریٹا نے اینستھیزیا فراہم کیا۔ ڈاکٹروں نے پایا کہ اس کے جنسی اعضاء قبل از وقت بلوغت سے مکمل طور پر پختہ ہو چکے تھے۔ ڈاکٹر Edmundo Escomel نے طبی جریدے La Presse Médicale میں اپنے کیس کی اطلاع دی، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کی ماہواری آٹھ ماہ کی عمر میں واقع ہوئی تھی، پچھلی رپورٹوں کے برعکس کہ اسے تین یا ڈھائی سال کی عمر سے باقاعدہ ماہواری آتی تھی۔

جیرارڈو کا وزن پیدائش کے وقت 2.7 کلوگرام (6.0 lb؛ 0.43 st) تھا اور اس کا نام لینا کے ڈاکٹر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ جیرارڈو کو 10 سال کی عمر میں یہ جاننے سے پہلے کہ وہ اس کی ماں ہے، مدینہ کو اپنی بہن مانتے ہوئے پرورش پائی۔ ابتدائی طور پر خاندان کے ساتھ رہنے کے بعد، لوزادہ کو لیما میں لوزاڈا کے گھر پر جیرارڈو کی تحویل میں لینے کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد، اس نے لینا کو لیما میں اپنے کلینک میں ملازم رکھا (جہاں وہ بھی رہتی تھی)، حالانکہ لینا صرف جیرارڈو کو کبھی کبھار ہی دیکھ پاتی تھی۔ Gerardo جلد ہی صحت مند ہو گیا، لیکن 1979 میں بون میرو کی بیماری سے 40 سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔

حوالہ جات:

https://www.legit.ng/1228037-lina-medina-story-youngest-mother-world.html

https://web.archive.org/web/20220629015759/https://vimbuzz.com/lina-medina-children-meet-her-son-gerardo-medina/

#قرآن #حدیث #علمـحدیث

03/03/2026

حدیث پر عمل کرنے والے اربوں کی تعداد میں ہیں اور مسلک زیادہ سے زیادہ چار، پانچ ہیں۔ اہلِ قرآن ( منکرینِ حدیث)سو، دو سو ہوں گے اور ان میں دس فرقے بن گئے۔
اخے اختلاف کیوجہ حدیث ہے۔

پہلی صدی ہجری کی تدوین حدیث ۔ #قرآن    #حدیث    #علمـحدیث
03/03/2026

پہلی صدی ہجری کی تدوین حدیث ۔
#قرآن #حدیث #علمـحدیث

قرآن کریم کو خود سمجھنا آسان ہے یا کسی عالم سے پڑھنا ضروری ہے؟ #قرآن    #حدیث        #علمـحدیث
03/03/2026

قرآن کریم کو خود سمجھنا آسان ہے یا کسی عالم سے پڑھنا ضروری ہے؟
#قرآن #حدیث #علمـحدیث

**انکارِ حدیث کے باوجود منکرینِ حدیث میں فرقے کیوں ہیں؟**منکرینِ حدیث یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حدیث اور سنت کو دین کا حصہ م...
02/03/2026

**انکارِ حدیث کے باوجود منکرینِ حدیث میں فرقے کیوں ہیں؟**

منکرینِ حدیث یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حدیث اور سنت کو دین کا حصہ ماننے کی وجہ سے مسلمانوں میں بہت سے فرقے بن گئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر صرف قرآن کو ہی مانا جاتا تو امت میں اتنی تقسیم اور اختلاف نہ ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر فرقہ اپنی اپنی حدیثوں کو درست سمجھتا ہے اور دوسروں کو غلط، اس لیے فرقہ بندی پیدا ہوئی۔

اس بات کے جواب میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ صرف قرآن کو مانتے ہیں، ان کے اندر بھی فرقے کیوں بن گئے؟ وہ سب ایک ہی بات پر متفق کیوں نہیں ہو سکے؟

تاریخ بتاتی ہے کہ کچھ پرانے گروہ جیسے خوارج اور معتزلہ نے بھی حدیث کو نہیں مانا اور خود کو اہلِ قرآن کہا، لیکن اس کے باوجود ان میں بھی کئی فرقے بن گئے۔ ہر فرقہ اپنے آپ کو صحیح اور دوسرے کو غلط کہتا تھا۔ یہاں تک کہ یہ فرقے ختم ہو گئے اور صرف تاریخ میں ان کا ذکر باقی رہ گیا۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ صرف قرآن کو مانتے تھے تو پھر ان میں اختلاف کیوں پیدا ہوا؟

**موجودہ دور کے اہلِ قرآن کے فرقے**

انیسویں صدی میں بھی کچھ لوگوں نے حدیث کا انکار کیا، جیسے سر سید احمد خان، احمد دین امرتسری، عبداللہ چکڑالوی، غلام احمد پرویز وغیرہ۔ یہ سب کہتے تھے کہ صرف قرآن ہی دین کا اصل ذریعہ ہے۔ اس لحاظ سے ان کے خیالات ایک جیسے ہونے چاہئیں تھے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔

ان لوگوں کے درمیان بھی بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ استاد اور شاگرد کے خیالات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ہر گروہ کہتا ہے کہ اس کی بات ہی صحیح ہے اور وہ قرآن سے لی گئی ہے۔

**منکرینِ حدیث کے اختلافات کی وجہ**

منکرینِ حدیث کے مختلف مفکرین ایک دوسرے سے مختلف نظریات پیش کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے عبادات اور دین کے طریقے بھی بدلتے رہتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ایک شخص دوسرے سے مختلف ہے بلکہ ایک ہی شخص کے خیالات بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔

مثلاً ایمان، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات کے بارے میں بھی ان کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف قرآن کو ماننے کے باوجود بھی ان میں اتحاد پیدا نہیں ہو سکا بلکہ اختلافات بڑھتے گئے۔

**نماز کے معاملے میں منکرینِ حدیث کے اختلافات**

جب دین کو سیدھا سادہ ماننے کے بجائے صرف اپنی عقل اور فلسفے کے مطابق سمجھا جائے تو پھر ہر شخص اپنی الگ رائے بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منکرینِ حدیث کے درمیان بہت زیادہ اختلاف پیدا ہو گیا۔ اس کے برعکس عام مسلمانوں (سنی اور شیعہ) کے درمیان کچھ چھوٹے اختلافات کے باوجود نماز جیسے بنیادی معاملات میں اتفاق پایا جاتا ہے۔

اب دیکھیں کہ منکرینِ حدیث کے مختلف لوگوں کے نماز کے بارے میں کتنے مختلف خیالات ہیں:

1. **سر سید احمد خان** پانچ وقت کی نماز کے قائل تھے۔
جبکہ **عبداللہ چکڑالوی** بھی پانچ نمازیں مانتے تھے، لیکن وہ "اللہ اکبر" کہنا درست نہیں سمجھتے تھے اور اس کی جگہ دوسرا ذکر کرتے تھے، اور نماز کا طریقہ بھی مختلف تھا۔

2. چکڑالوی کے ایک گروہ کے لیڈر **مستری محمد رمضان** صرف تین وقت کی نماز مانتے تھے، ہر نماز میں دو رکعت اور ہر رکعت میں صرف ایک سجدہ کرتے تھے۔

3. ایک اور گروہ کے سربراہ **سید رفیع الدین ملتانی** چار نمازوں کے قائل تھے، اور کہتے تھے کہ ہر نماز صرف دو رکعت کی ہونی چاہیے۔

4. **احمد دین امرتسری** صرف دو نمازوں کے قائل تھے، اور نماز کو قرآن سے ثابت نہیں مانتے تھے بلکہ اسے نبی ﷺ کا اجتہاد کہتے تھے۔

5. **غلام احمد پرویز** نماز کے بجائے "نظامِ ربوبیت" کا نظریہ رکھتے تھے۔ وہ خود مسجد میں نماز پڑھنے نہیں جاتے تھے، اور کہتے تھے کہ نماز کی شکل بدلی جا سکتی ہے۔

6. **اسلم جیراج پوری** کے نزدیک نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ سب نبی ﷺ کے طریقے ہیں اور ان کی مخالفت قرآن کے خلاف ہے۔

7. دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلم جیراج پوری، احمد دین امرتسری سے متاثر بھی تھے، حالانکہ امرتسری صرف دو نمازوں کے قائل تھے، مگر جیراج پوری نماز کو ضروری بھی کہتے تھے۔

8. **علامہ عنایت اللہ خان مشرقی** نماز کو ایک طرح کی جسمانی مشق (پریڈ) سمجھتے تھے تاکہ مسلمان مضبوط اور صحت مند رہیں۔

9. مصر کے ایک عالم **توفیق صدقی** بھی صرف دو نمازوں کے قائل تھے۔

اگر اسی طرح دین کے دوسرے مسائل دیکھے جائیں تو وہاں بھی ایسے ہی اختلافات ملتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے درمیان کوئی ایک متفقہ طریقہ موجود نہیں ہے، بلکہ ہر ایک کا نظریہ دوسرے سے مختلف ہے۔

18 سال سے کم عمر میں نکاح:سوال:حکومتِ وقت نے ۱۸ سال سے کم عمر میں شادی کرنے کو منع قرار دیا ہے، اس پر متعدد علماء کرام ن...
01/03/2026

18 سال سے کم عمر میں نکاح:
سوال:
حکومتِ وقت نے ۱۸ سال سے کم عمر میں شادی کرنے کو منع قرار دیا ہے، اس پر متعدد علماء کرام نے اعتراض کیا کہ جب شریعت نے ایک چیز کو حلال کیا تو آپ کیسے حرام کر رہے ہیں، یہاں ایک طالبِ علمانہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ۱۸ سال سے کم عمر میں بھی نکاح کرنا مباح ہے جیسا کہ ۱۸ سال کے بعد نکاح کرنا کیوں کہ شریعت میں یہاں عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، جب کہ مباحات میں حکومتِ وقت انتظامی مصالح کو دیکھ کر کوئی فیصلہ دے سکتی ہے اور اس کی اطاعت بھی شرعاً واجب ہوتی ہے، لہٰذا جب حکومت اس معاملے میں ممانعت کر رہی ہے تو اس کی اطاعت بھی واجب ہوگی اور خلاف ورزی ناجائز، اس کے باوجود حکومت کا یہ حکم دینا کیوں غلط ہے اور اس کی اطاعت نہ کرنا کیوں ضروری ہے؟

محمد احمد
اسلام آباد

جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محمد احمد صاحب، یہ مسئلہ سمجھنے سے پہلے ذہن میں رکھیں کہ "حاکم کے اختیارات" اور "شریعت کے حدود" کے درمیان فرق ہے۔ آپ کا یہ فرمانا درست ہے کہ مباحات میں حکومت کو انتظامی مداخلت کا حق ہوتا ہے، لیکن اس کی کچھ شرائط اور حدود ہیں جن کی بنیاد پر علماء اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں۔
ذیل میں شرعی اور عقلی دلائل کے ساتھ اس کا تجزیہ پیش ہے:
مباح کو "حرام" کرنے کا اختیار
شریعت کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ حاکمِ وقت کسی مباح چیز کو کسی عارضی مصلحت کی بنا پر "موقوف" یا "محدود" تو کر سکتا ہے، لیکن اسے مستقل طور پر "حرام" قرار دے کر اس پر سزا مقرر نہیں کر سکتا۔
بلوغت کے بعد نکاح کرنا ایک انسانی اور فطری ضرورت ہے۔ شریعت نے اس کے لیے کوئی خاص عمر (جیسے ۱۸ سال) متعین نہیں کی بلکہ "بلوغت" اور "رشد" (سمجھ بوجھ) کو معیار بنایا ہے۔
حلال و حرام کا اختیار: اگر حکومت ۱۸ سال سے کم عمر کے نکاح کو سرے سے "باطل" یا "جرم" قرار دیتی ہے، تو یہ اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرنے کے مترادف ہے، جو کہ "تشریع" اور قانون سازی میں مداخلت ہے، جس کا حق کسی حاکم کو نہیں ہے۔ مصلحتِ عامہ یا مصلحتِ مفہومہ؟
آپ نے فرمایا کہ حکومت انتظامی مصلحت دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔ یہاں دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ مصلحت واقعی "شرعی مصلحت" ہے؟

مصلحت کا معیار کیا ہے ؟ صولِ فقہ کا قاعدہ ہے: "تصرف الإمام علی الرعیة منوط بالمصلحة" ترجمہ رعایا پر امام کا تصرف مصلحت کے ساتھ مشروط ہے
خلافِ شرع مصلحت باطل ہے اگر حکومت یہ کہے کہ ۱۸ سال سے کم عمر میں شادی "صحت" کے لیے مضر ہے، تو یہ ایک جزوی بات ہو سکتی ہے، لیکن اس کی بنیاد پر پوری ریاست میں نکاح پر پابندی لگا دینا سدِ بابِ نکاح ہے، جو معاشرے میں بے راہ روی اور بدکاری (زنا) کا دروازہ کھولتا ہے۔
مفاسد کا موازنہ ،ایک طرف کم عمری کی شادی کے بعض طبی نقصانات ہیں (جو کہ ہر صورت میں نہیں ہوتے)، اور دوسری طرف جوانی میں نکاح سے روکنے کے نتیجے میں پھیلنے والی فحاشی ہے خاص کر زمانہ ہذا کا فاسد ماحول اور فحاشی کے لیے بچہ بچہ تک انٹرنیٹ کی سہولت کا کس با شعور کو انکار ہوگا ؟ ۔ شرعی اصول یہ ہے کہ "بڑے نقصان کو دور کرنے کے لیے چھوٹے نقصان کو برداشت کیا جاتا ہے"۔ نکاح سے روکنا دین اور اخلاق کا بڑا نقصان ہے۔
عقل کے تقاضے :
عقلی طور پر بھی حکومت کا یہ قانون کئی تضادات کا شکار نظر آتا ہے:
انسان ۱۸ سال کا ہو کر اچانک بالغ نہیں ہوتا۔ دیہی علاقوں اور گرم علاقوں میں لڑکے اور لڑکیاں ۱۲ سے ۱۵ سال کی عمر میں جسمانی طور پر بالغ ہو جاتے ہیں۔ انہیں مزید ۳-۴ سال تک نکاح سے قانونی طور پر روکنا ان کی فطرت کے خلاف جنگ ہے۔
اس حکومتی اقدام کے پیچھے جو نظریہ کار فرما ہے وہ مغربی دہرا معیار ہے ، حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی حکومتیں اور عالمی ادارے جو ۱۸ سال سے کم نکاح کو "جرم" کہتے ہیں، وہ اسی عمر میں "رضامندی سے جنسی تعلق" کو جرم نہیں مانتے۔ یعنی نکاح جو ایک ذمہ دارانہ بندھن ہے، وہ ممنوع ہے، لیکن بغیر نکاح کے تعلق کی آزادی دی جاتی ہے۔ یہ عقل کے سراسر خلاف ہے۔

اطاعتِ حاکم کی حد
اسلام میں حاکم کی اطاعت مطلق نہیں بلکہ "معروف" (بھلائی) میں ہے۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: "لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق" خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں

جب حکومت کا قانون ایک شرعی حلال یعنی نکاح کو روک کر ایک حرام اور بدکاری کے مواقع پیدا کر رہا ہو، تو ایسی انتظامی مصلحت "معروف" کے دائرے سے نکل جاتی ہے۔

علماء کا اعتراض اس لیے ہے کہ:
حکومت ایک مستقل شرعی حق (حقِ نکاح) کو چھین رہی ہے۔
عمر کی یہ حد بندی قرآن و سنت کے کسی نص سے ثابت نہیں بلکہ عالمی ہرکاروں کے دباؤ کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے جیسے کہ معروف مذہبی اور سیاسی علماء واضح کررہے ہیں
یہ قانون معاشرتی بگاڑ اور بے حیائی کا سبب بن رہا ہے کیونکہ بلوغت کے بعد نکاح کی ضرورت قانونی کاغذات کی محتاج نہیں ہوتی۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ "زبردستی کی شادی" کو روکے، لیکن "نکاح" پر پابندی نہ لگائے۔

عبداللہ عمر
8 رمضان المبارک 1447 ھ

01/03/2026

Qira'at Ashara. #قرآن #حدیث

Address

Miankhel Kohat
Rawalpindi
26000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Molana Muhammad Musaddiq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share