18/08/2016
حراموش میں اس تصویر میں دکھتی ہوئی جگہ بیٹھا ہوا تھا۔ کیمرے کا میموری کارڈ
نکالنے کے لیے جیب میں بٹوہ ٹٹولا جس کو آخری دفعہ چیک کیے اور دیکھے تین دن گزر چکے تھے۔ میموری کارڈ نکالتے ہوئے چند رنگ برنگے کاغذوں پر نظر پڑی ۔۔ ارتکاز کیا تو معلوم ہوا کرنسی نوٹ ہیں ۔شاید کسی دنیا میں زندگی کا تسلسل یا۔۔۔ تسلسل کا واہمہ انہی کاغذوں پر انحصار کرتا ہے۔ پھر کچھ کارڈز پر نظر پڑی ۔۔ کافی توجہ کے بعد کھلا کہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز ہیں ۔ یہ ایسے آلے ہیں کہ گر آپ رنگ برنگے کاغذوں کی کمیابی کی وجہ سے واہمے کو توڑ کر نکلنے کی کوشش کریں تویہ آلات آپ کو پھر اسی دائرے میں واپس لے جاتے ہیں ۔۔ جب یہ حقیقت کھلی تو دل چاہا کہ ایک نعرہ مستانہ ماروں اور بٹوہ سامنے تیز بہنے والے چشمے میں پھینک دوں ۔۔ لیکن اچانک ڈاکٹر احسن کی آواز آئی کہ تارڑ صاحب بلا رہے ہیں۔ بس قدرت کو ایک ایسے جنونی کے ہاتھوں بٹوہ بچانا مقصود تھا جس نے تھوڑی دیر پہلے حراموش کے ایک چرواہے سے گاڑھی لسی چڑھائی تھی کہ جس میں مکھن ٗ قطب شمالی کے پاس سمندر میں برفانی تودوں کی طرح۔۔ جگہ جگہ تیرتا تھا ۔ قدرت حرکت میں آئی اور سبب پیدا کیا۔ ڈاکٹر احسن کی آواز رحمت قدرت کی مترجم بنی۔
بٹوہ پھینک دیا ہوتا تو آج کرنسی کی ناموجودگی میں ہائیپر سٹار پر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بل کیسے ادا کرتا ۔۔۔ ابھی یہ لکھتے ہوئے وہی بٹوہ میرے سامنے ہے اور اس میں میری زندگی یا زندگی کے تسلسل کے واہمے کے لیےٗ تمام آلات بحفاظت موجود ہیں۔۔۔۔۔اور حراموش کسی پچھلی رات کے خواب کی مانند کچھ یاد تو ہے لیکن بیچ میں کڑیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔کچھ missing links ہیں
Great work by Waqar Ahmed he is turly pupil of heartrobe amazing intellectual Mustansar Hussain Tarar Pakistantourandtravel
www.pakistantoutntravel.com 0312 5120 590