22/02/2026
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
نامور مزاح گو شاعر سید سلمان گیلانی کے انتقال کی خبر دل کو گہرے دکھ میں ڈبو گئی۔ وہ محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ مسکراہٹوں کے سفیر تھے۔ ان کی شگفتہ بیانی، برجستہ انداز اور نفیس مزاح نے اردو ادب کی محفلوں کو برسوں تک روشن رکھا۔ انہوں نے طنز و مزاح کو محض ہنسی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے شعور، ظرف اور فکری گہرائی سے ہم آہنگ کیا۔
سید سلمان گیلانی کی شاعری میں زندگی کی تلخیوں کو بھی اس سلیقے سے پیش کیا جاتا تھا کہ قاری بے اختیار مسکرا اٹھتا، اور اسی مسکراہٹ میں ایک گہرا پیغام بھی پا لیتا۔ ان کا اندازِ بیان دلنشین، زبان شائستہ اور فکر بلند تھی۔ وہ بلاشبہ اردو مزاحیہ شاعری کے اُن چراغوں میں سے تھے جن کی روشنی دیر تک محسوس کی جاتی رہے گی۔
ان کی رحلت اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور اہلِ خانہ و چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
ان کی یادیں، ان کے اشعار اور ان کی مسکراہٹیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ آمین ثم آمین