16/01/2026
🌙 27 رجب کا روزہ — ایک عام سمجھی جانے والی عبادت؟
ہمارے معاشرے میں کچھ اعمال ایسے ہیں
جو نسل در نسل چلتے آ رہے ہیں
ہم انہیں کرتے ہیں،
دیکھتے ہیں،
سنتے ہیں…
اور پھر دین سمجھ کر اپنا لیتے ہیں۔
انہی میں سے ایک عمل
27 رجب کا روزہ بھی ہے۔
اکثر سنا جاتا ہے:
"آج 27 رجب ہے، روزہ رکھ لو، بہت ثواب ہے"
لیکن…
❓ کیا واقعی اس کی کوئی دینی بنیاد ہے؟
آئیے، آج اس کی حقیقت دیکھتے ہیں۔
📖 ثبوت کہاں ہے؟
قرآنِ مجید میں:
❌ 27 رجب کے روزے کا کوئی ذکر نہیں
احادیثِ صحیحہ میں:
❌ نبی کریم ﷺ سے اس دن کے روزے کی کوئی تخصیص ثابت نہیں
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم:
❌ نہ انہوں نے اس دن کو خاص کیا
❌ نہ روزہ رکھا
❌ نہ اس کی ترغیب دی
⚠️ پھر مسئلہ کیا ہے؟
جب کسی دن یا عبادت کو
خاص ثواب کے ساتھ خاص کر لیا جائے
اور اس کی دلیل قرآن و سنت میں نہ ہو
تو وہ عمل
📌 بدعت کے دائرے میں آ جاتا ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو ہمارے دین میں وہ چیز داخل کرے جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے"
(بخاری، مسلم)
✔️ درست بات کیا ہے؟
اگر کوئی شخص
✅ عام نفلی روزے رکھتا ہے
(مثلاً پیر، جمعرات یا ایامِ بیض)
تو یہ درست ہے
لیکن
❌ صرف 27 رجب کو خاص ثواب سمجھ کر روزہ رکھنا درست نہیں
🤍
دین جذبات سے نہیں
دلائل سے چلتا ہے
اور سچی محبتِ رسول ﷺ
نئے طریقے ایجاد کرنے میں نہیں
بلکہ
نبی ﷺ کے طریقے پر چلنے میں ہے
🌸 سوچیں، پرکھیں، پھر عمل کریں
اللہ ہمیں سنت کو سمجھ کر اپنانے کی توفیق دے۔ آمین