The Purpose of this media entertainment & news page to spread entertainment to peoples.We are not hu Verified
27/02/2026
دار الحمد سکول ہڑپہ سٹیشن میں داخلہ کا شاندار آغاز! ✨
آپ کے بچوں کے لیے علم کی نئی دنیا، جہاں ہر سبق ایک معجزہ اور ہر دن ایک نئی دریافت۔ ہمارے انوکھے پروگرام میں سائنسی شعور، روحانی تربیت اور فنکارانہ مہارت کی بھرپور نشوونما۔
Dar Alhamd School
Harappa Station Admissions
Quality Education
Modern Curriculum
Moral Training
Creative Development
Limited Seats
Sahiwal District School
Child Future Building
Scientific Awareness
17/01/2026
Our All-in-One Billing & Point of Sale (POS) Software is designed for every type of business, including Pizza Restaurants, Medical Stores, Pharmacies, Grocery Stores, Trading, Manufacturing, and Installment-Based Businesses.
Manage sales, purchases, inventory, customers, suppliers, profit & loss, cash, and reports with ease.
Fast billing, barcode support, multi-user access, and smart reports help you save time and grow faster.
✅ Easy to Use
✅ Fast & Secure
✅ Offline & Online Support
✅ Lifetime License Available
✅ Customizable for Your Business
Upgrade your business from manual work to smart digital management today.
Billing Software
Point of Sale Software
POS Software
Restaurant POS System
Pizza Restaurant Software
Medical Store Software
Pharmacy Management Software
Grocery Store POS
Retail Billing Software
Inventory Management System
Accounting & Billing Software
Installment Business Software
Manufacturing Business Software
Trading Business Software
Shop Management Software
Offline POS Software
All in One Business Software
Sales Purchase Software
Customer & Supplier Management
ہمارا آل اِن وَن بلنگ اور پوائنٹ آف سیل (POS) سافٹ ویئر ہر قسم کے کاروبار کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس میں پیزا ریسٹورنٹس، میڈیکل اسٹورز، فارمیسی، گروسری اسٹورز، ٹریڈنگ، مینوفیکچرنگ اور قسطوں پر کاروبار شامل ہیں۔
یہ سافٹ ویئر آپ کو سیلز، خریداری، اسٹاک/انوینٹری، کسٹمرز، سپلائرز، کیش، منافع و نقصان اور مکمل رپورٹس کو آسانی سے منظم کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
تیز بلنگ، بارکوڈ سپورٹ، ملٹی یوزر سسٹم اور اسمارٹ رپورٹس کے ذریعے آپ وقت بھی بچاتے ہیں اور کاروبار بھی تیزی سے بڑھاتے ہیں۔
✅ استعمال میں آسان
✅ تیز اور محفوظ
✅ آف لائن اور آن لائن دونوں میں کام کرنے کی سہولت
✅ لائف ٹائم لائسنس دستیاب
✅ ہر بزنس کے مطابق کسٹمائزیشن
اب روایتی طریقوں کو چھوڑیں اور اپنے کاروبار کو اسمارٹ ڈیجیٹل سسٹم پر منتقل کریں۔
11/08/2025
*♦️دنیا کے 7 ارب لوگوں کے 14 ارب انگھوٹے ہیں، جن میں ایسا ڈیزائن بنا ہوا ہے کہ ہر ایک ڈیزائن 14 ارب انسانوں کے ڈیزائنوں میں سے کسی سے نہیں ملتا۔۔۔۔۔!!!* 🥺
`وَفِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ`
*اور خود تمہاری ذات میں بھی ہماری قدرت کی کئی نشانیاں ہیں ، تو کیا تم دیکھتے نہیں ۔۔۔۔۔* 😔💫...
04/08/2025
انسان جب بھٹکتا ہے تو بتوں کو خدا بنا لیتا ہے اور اپنے حقیقی رب کے حکم سے کافر ہو جاتا ہے۔
عاشق جب بھٹکتا ہے تو اپنے معشوق کو حاصل بنا لیتا ہے۔اپنے محبوب کو خدا بنا لیتا ہے ۔اس عشق کی سمجھ نہیں آتی کہ یہ عشق اس عاشق کو کافر کیوں نہیں ہونے دیتا۔اس سوال کا جواب بہت لوگوں نے دیا مگر دل نے انکار کر دیا کیوں کہ سچائی ہمیشہ دل پہ ایک اثر ضرور چھوڑ جاتی ہے چاہے کوئی ظاہری اقرار کرے یا انکار۔
کچھ بھٹکے درویش بھی دیکھے ہیں۔ اول تو اصل عقیدت کے راستے پہ چلا درویش راز بے خودی لوگوں پہ عیاں ہی نہیں ہونے دیتا۔لیکن جو درویش یہ رموز بتانا شروع کر دے تو وہ بھٹک جاتا ہے۔اور جب وہ بھٹکتا ہے تو کوئی نبوت کا دعوی کر کے لعنت کا حقدار اور گناہگار ہو جاتا ہے تو کوئی خدائیت کا دعوی کر بیٹھتا ہے۔کیوں کہ یہ رموز ہضم کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔بس اللہ تعا لی تو انسان کی بے پناہ محبت کی وجہ سے اسے کچھ خاص عنائیت دیتا ہے جس کا مطلب انسان کچھ اور سمجھ بیٹھتا ہے۔
اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنا کسی شریعت کا پابند نہیں۔کسی قانون کا پابند نہیں۔اسے کافر،ہندو،بدھ مت،یہودی،عیسائی ہر مکتبہ فکر کے لوگ حاصل کر سکتے ہیں۔مگر بات آتی ہے فرمانبرداری کی۔اللہ تعالی ان کو قرب نصیب بھی اسی لئیے فرماتا ہے کہ یہ میرا کہا مان لیں۔میرے نبی ﷺ پہ ایمان لے آیئں۔
مگر یہ لوگ قرب پا کر بھی نا فرمان رہتے ہیں اور لوگوں کو بہکاتے رہتے ہیں۔
صرف مسلمان ہی جو قرب پاتے ہیں اللہ کے ہاں اونچے رتبے پاتے ہیں۔
باتیں تو بہت ہی نازل ہوتی ہیں بس یہں پہ اختتام کافی ہے
از قلم: غلام اویس چوہدری
08/06/2025
30/05/2025
🤖 آج کے بچوں کے لیے AI سیکھنا کیوں ضروری ہے؟ — والدین کے لیے ایک پیغام
1. مستقبل کی تیاری 🧠
آج اگر ہم اپنے بچوں کو AI (مصنوعی ذہانت) کے بنیادی تصورات نہیں سکھائیں گے، تو وہ کل کی دنیا میں پیچھے رہ جائیں گے۔
جیسے 90 کی دہائی میں کمپیوٹر سیکھنا ضروری تھا، ویسے ہی 2020 کی دہائی میں AI سیکھنا زندگی کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے۔
2. روزگار کے نئے مواقع 🚀
AI صرف سافٹ ویئر انجینئرز کے لیے نہیں ہے، بلکہ ڈاکٹرز، اساتذہ، انجینئرز، ڈیزائنرز، اور یہاں تک کہ کسانوں تک کے کام میں AI کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔
اگر آپ کا بچہ AI سیکھتا ہے، تو وہ مستقبل کی نوکریوں کے لیے پہلے سے تیار ہوگا۔
3. مشین کو سمجھنا، قابو میں رکھنا 🤖
AI صرف استعمال کرنے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے کے لیے ہے۔ اگر بچے AI کو صحیح طریقے سے سمجھیں گے، تو وہ اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں گے — نہ کہ صرف ایک صارف بن کر رہ جائیں گے۔
4. عالمی مقابلے میں برابر آنا 🌍
دنیا بھر کے بچے AI سیکھ رہے ہیں، روبوٹس بنا رہے ہیں، کوڈنگ کر رہے ہیں، اور نئی ایجادات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اگر ہمارے بچے پیچھے رہ گئے، تو کل کو اُن کا عالمی سطح پر مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔
5. تخلیقی سوچ اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت 💡
AI سیکھنے سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں بڑھتی ہیں۔ وہ صرف کتابی علم تک محدود نہیں رہتے، بلکہ حقیقی دنیا کے مسائل کا حل نکالنا سیکھتے ہیں۔
⸻
📣 والدین کے لیے پیغام:
“یہ وقت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف رٹے لگوانے کے بجائے، انہیں وہ صلاحیتیں دیں جو انہیں دنیا میں کامیاب اور بااعتماد بنا سکیں۔ AI اُن مہارتوں میں سے ایک ہے جس سے آپ کا بچہ صرف سیکھے گا نہیں، بلکہ دنیا کو بدلنے کے قابل بھی بنے گا۔”
AI generated video below.
25/04/2025
جب بندروں کو خبر ملی
کہ جس کسان کی مکئی وہ چوری سے کھاتے تھے،
وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا...
تو انہوں نے جشن منایا!
سمجھے اب کوئی روکنے والا نہیں۔
مگر اگلے سال...
جب کھیت خالی رہے، مکئی نہ اُگی،
تو ان پر حقیقت کھلی—
کہ جشن کا نہیں، ماتم کا وقت تھا۔
کسان گیا، تو کھیت سُونے ہو گئے،
اور ہم سب بھوکے رہ گئے۔
آج بھی ایک کسان تکلیف میں ہے،
اس کے درد پر ہنسنے والے،
کل اسی درد میں روئیں گے۔
اس کے مرنے کی خوشیاں نہ مناؤ،
اس کے لیے آواز اُٹھاؤ!
اس کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ!
کیونکہ زراعت اور کسان،
ہماری آن، شان اور پہچان ہیں۔
خوش رہیں، آباد رہیں، مسکراتے رہیں!
14/09/2024
*عارف والا/ خون سفید ہو گیا*
عارف والا/تھانہ رنگشاہ کے علاقہ میں جائیداد کے تنازعہ پر بیٹے نے باپ کو بے دردی سے قتل کر دیا
عارف والا/افسوسناک واقعہ میں گردن تن سے جدا کر دی گئی
عارف والا/چک 18 ی بی کی آبادی دلیل کے وٹو سلمان میں مبینہ طور پر بیٹے نے تیز دھار آلہ سے باپ کی گردن کاٹ دی
عارف والا/منظور احمد ولد الٰہی بخش اپنے گھر میں سو رہا تھا کہ رات گئے اسکے بیٹے نے باپ کو موت کے گھاٹ اتار دیا
عارف والا/بد بخت ملزم بیٹے انصر کو الہ قتل سمیت گرفتار کر لیا گیا
عارف والا/پولیس نے لاش پوسٹمارٹم کے لئے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دی
عارف والا/تھانہ رنگشاہ مصروف تفتیش ہے
عارف والا/یاد رہے کہ عارف والا میں 24 گھنٹے کے دوران یہ دوسرا قتل ہے ۔
Be the first to know and let us send you an email when Awais Ch posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.
کائنات جب سے اللہ رب العز ت کے حکم سے وجود میں آئی ۔ جب سے اللہ کے حکم سے زمین پرحضرت آدم علیہ اسلام اور اماں حوا کو اتارا گیا ۔ جب سے حضرت آدم علیہ اسلام کی آل و اولاد کی زمین پر پیدائش ہونا شروع ہوئی۔ تب سے انسان کو تمام ضرورت زندگی کی شدید ضرورتیں رہیں ۔ انسان تب بھی کھانے ، پینے کے لئے دوڑ لگاتا رہا ۔ کھیتی باڑی تب بھی موجود تھی ۔ اسی دور میں لڑائی جھگڑا بھی ہوتے رہے ۔ مگر ان لڑائی جھگڑوں کے پیچھے کچھ معقول وجوہات ہوتیں تھیں ۔ کیونکہ ابھی انسانوں کو زمین پر رہنے کا نظام اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں ، انبیاء کرام کے ذریعے سمجھایا جا رہا تھا ۔ انہیں بتایا جا رہا تھا کہ مل جل کر کس طرح رہنا ہے ۔کھانا پینا حلال کس طریقے سے حاصل کرنا ہے ۔یہ بہت ہی ابتدا کادور تھا۔ جب انسان ابھی انسانیت کے سلیقے اور آداب سیکھ رہا تھا اور اپنے آنے والی نسلوں کے لئے ہدایات وضع کی جارہی تھی جوں جوں وقت گزرتا گیا کرہ ارض پر انسانوں کی تعداد بڑھنے لگی ۔ ہردور میں کوئی نہ کوئی نبی انبیاء کرام پہ آسمانی کتابیں یا صحیفے اتارے گئے۔ ایک کے بعدا یک نبی اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر پہلے والی نبی کی امت کوبعد میں آنے والی نبی کی پیروی کا حکم دیا گیا ۔ اس طرح جولوگ آنیوالے نبی کی پیروی کرتے تھے وہ صاحب ایمان بن جاتے تھے اور جو نہیں کرتے تھے وہ بے ایمان کافر کہلاتے تھے اور ہیں ۔
اس طرح ہر دور میں دو فرقے وجود میں رہے ایک صاحب ایمان اور ایک کافر یعنی نافرمان ۔ اللہ تعالیٰ عزوجل نے اپنی محبوب مخلوق انسان کی ہدایات کے لئے اپنے بے شمار پیارے انبیاء کرام زمین پربھیجے اپنے احکامات انبیا کے ذریعے ہم انسانوں تک پہنچائے۔انبیاء کرام علیہ اسلام کا سلسلہ بڑھتا ہوا آکر کار سب سے افضل و محترم محبوب اور پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس تک رہا آپ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ٹھہرے ۔ آپ کے بعد ہدایات کا سلسلہ انبیاء کرام کے ذریعے بڑھنے سے روک دیا گیا کیونکہ آپ پوری انسانیت کے لئے ایک جامع درس قرآن پاک کی صورت میں لے کر آئے اور آج یہ پیغام گھر گھر ہر مسلمان کے پاس موجود ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے دورمبارکہ میں جو لوگ آپ پر ایمان لائے و ہ صاحب ایمان یعنی مسلمان کہلائے اور جو ایمان نہ لائے ان میں سے جو پچھلے انبیاء کرام کے پیروکار رہے وہ یہودی عیسائی کہلائے اور جو سرے سے ہی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت سے انکار کرتے رہے وہ کافر کہلائے اور یہ کافر عیسائی ، یہود آج تک موجود ہیں اور اسی طرح مسلمان جو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ﷺ پر ایمان لائے وہ بھی موجود ہیں اور مسلمانیت کا درس آج تک کافروں ، عیسائیوں کو دیا جا رہا ہے اور دن بدن ان کی مسلمان ہونے کی تعداد میں اضافہ ہوتاجا رہا ہے ۔
اس کرہ ارض پر بے شمار معاشرے وجود میں آئے ہیں اگر آج کے حساب سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ مشہور معاشرے میں یورپی ممالک ہیں ۔ ان کی یورپین ممالک میں سب سے زیادہ تعدد عیسائی اور یہودیوں کی ہے ۔ مطلب عیسائیوں اور یہودیوں کی ایک بڑی تعداد ان ممالک میں موجود ہے اسی طرح اگر آپ ایشیاء کی طرف آئیں تو یہاں آپ کو سب سے بڑا خطہ برصغیر پاک ہند ہے جب تک اس خطہ کی تقسیم نہیں ہوئی تھی تو اس خطے میں ہندو مسلم کی لڑائی جاری تھی اور یہاں تک کہ ہندو مسلم فسادات اس قدر بڑھ گئے کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال جیسے اچھی سوچ رکھے والے لیڈروں نے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ معاشرہ و طن تجویزرکھ دیا اور دلا ئل کے طور پر بتایا کہ مسلمان اور ہندودو الگ تہذیبیں ہیںیہ کبھی بھی اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں جبکہ مسلمان گائے کوذبح کرکے اس کا گوشت کھاتے ہیں ۔ بس ان دو مختلف فرقوں نے پاکستان ہندوستان کی دو الگ ریاستیں بنا دیں تاکہ کسی بھی مسلم یا ہندو کو مذہبی رکاوٹین پیش نہ آئیں ۔ مسلمان اپنے مذہبی طریقے سے عبادات جاری رکھیں اور قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں ۔
تاریخ گواہ ہے کہ آج بھی اس ہندوستان جو مسلمان پاکستان نہ آسکے اپنی مذہبی عبادات کھلم کھلا نہ کر سکتے ہیں ۔ آج بھی وہاں صرف دو گروہ ہیں ہندو مسلم صرف دو فرقے ہندو مسلم۔
مگر اس کے برعکس پاکستان کی طرف دیکھا جائے تو تقسیم 1947 کے وقت یہاں صرف مسلمان آئے تھے اور آج بھی اگر دیکھا جائے تو بظاہر مسلمان ہی دکھائی دیں گے مگرپاکستان کے مسلمانوں کو وہ برصغیر والی پرانی عادتیں نہیں بھولیں کیونکہ برصغیر پاک و ہندمیں تو مسلمان کو اپنے مد مقابل کا فر چاہیے تھا سو پاکستان میں تو صرف مسلمان آچکے تھے ۔ لہذا ان مسلمانوں نے ایک دوسرے کو کافر ثابت کرتے کرتے پاکستان کو کئی فرقوں میں تقسیم کر دیا آج پاکستان کے مسلمانوں میں سنی بریلوی فرقہ ہے ، سنی دیوبندی ہے۔ اہل حدیث ہیں ۔ شیعہ ہیں غرض طرح طرح کے فرقے وجود میں آگئے ۔ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔ مسلمانیت کے نام پر بسنے والے پاکستان کو آج پاکستان کی پہچان اسی فرقہ پر ستی سے ہو رہی ہے ۔ ہم پاکستان کے مسلمان فرقہ پرستی میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو کافر قرار دے کر مار رہے ہیں۔ہمارے عالم دینوں کے درس صرف اور صرف اپنے فرقے کو مسلمان ثابت کرنے کی حد تک اور باقی فرقوں کو کافر ثابت کرنے کی حد تک محدود رہ گئے ہیں ۔ ہر فرقے کا عالم اس قدر برین واش ہو کر نکلتا ہے کہ دوسرے فرقہ کو تووہ من گھڑت دلائل سے کافر ثابت کر ہی دیتا ہے اور ساتھ ساتھ ان نافہم مولویوں کے دلائل سے ثابت شدہ کافری فرقے کے قتل کے ثواب بھی گنوا دئیے جاتے ہیں۔ اصل میں یہ فضا ہندو معاشرے سے ملی ہے قائد اعظم اور علامہ اقبال کو کون بتائے کہ اب آپ ہمیں جواب دیں ۔
آپ لیڈروں نے تو کافروں کو علیحدہ کر کے پاکستان بنا دیا مسلمانوں کے لئے اب آپ اس پاکستان کے اندر کتنے اور پاکستان بناسکتے ہیں ۔ یہاں تو بے شمار فرقے ہیں اور ہر فرقہ دوسرے کوکافر کہتا ہے ایک پاکستان کے اندر بے شمار پاکستان بنادیں تاکہ تمام فرقہ پرست اپنے اپنے ملک کے اندر بیٹھ کر اپنی اپنی مذہبی جنونیت کے بھوت پروان چڑھا سکیں اور اگر ان فرقوں کے علیحدہ علیحدہ ملک بنا بھی دئیے جائیں تو خدا قسم اور اس فرقہ کے اندر بھی کوئی فرقے جنم لیں گے اور اس فرقہ پرست ملک کا اندر کئی فرقے بنیں گے ۔
آج اگر پاکستان کے اندرونی معاملات کی خرابی کا جائزہ لیا جائے تو اس کی سب سے بڑی خرابی فرقہ پرستی ہو گی ۔ اگر آج یہ ناکام جمہوری حکومت پاکستان کے اندر تما م فرقہ پرستی پر بننے والے مدارس پر پابندی لگادے اور تمام مساجد میں صرف اور صرف نمازوں کااہتمام ہو وہاں کوئی مذہبی رونق میلے نہ ہوں صرف اور صرف مساجد عبادت کے لئے ہوں اور ایک فرقہ پرستی سے پاک مسلمانیت والا ادارہ تشکیل دیا جائے جو صر ف اور صرف عملی طور پر مسلمان بننا اور بنانا سکھائے تونہ صرف ہم ایک دوسرے کو کافر ثابت کرنا چھوڑ دیں گے۔ بلکہ ہم میں سے ایک نیا وطن ، نیامسلم معاشرہ جنم لے گا اور وہ ہوگا ۔ “نیا پاکستان “
1947 سے لے کر آج تک کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ سب سے زیادہ گستاخ رسولﷺ ہمارے پاکستان سے ہی بنے جو مختلف فرقوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ فتوے لگاتے تھے ۔فرقے بناتے تھے۔لوگوں کو گمراہ کرتے تھے۔ ان میں گستاخ یوسف کذاب ۔ مرزا قادیانی اور کئی ایک نام پیش پیش ہیں ۔ اسی طرح کئی ایک لوگ بھی موجود ہیں جو گستاخی رسول ﷺ میں پیش پیش ہیں تو اسلام سے ہماری محبت کا نتیجہ یہ ہے کہ فرقہ پرستی کی روش نے سب سے زیادہ گستاخ اس وطن سے پیدا کئے ۔ ان گستاخوں کا وجود صرف اور صرف فرقہ پرستی کی وجہ سے ہوا اور ہمارے نام نہاد علماء کرام دین اسلام کے ٹھیکیدار بن بیٹھے ہیں اورا پنے اپنے فرقے کو آتشیں کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
نیا پاکستان کا وجود پاکستان میں صرف اور صرف فرقہ پرستی پر قابو پانے سے ہی ممکن ہے۔وگرنہ نیا پاکستان بنانے کے سیاسی کھوکھلے نعرے ہی ہیں۔