29/12/2025
میرپورخاص :
ڈویژن بھر میں غیر قانونی فروخت ہونیوالی شراب وائن شاپ مئنیجر گھنشام داس غیر قانونی وائن شاپس پر سپلائی دے کر شراب فروخت کرانے میں ملوث ہیں جن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہیکہ محکمہ ایکسائز اینڈ نارکوٹکس انکی جیب میں ہے اور سندھ پولیس کو بھی فی بوتل کے حساب سے گھنشام داس پرسنٹیج دیتے ہیں جسکی وجہ سے انکی غیر قانونی شراب با آسانی سرعام فروخت ہوتی ہے اور انکی غیر قانونی فروخت ہوتی شراب کے خلاف محکمہ ایکسائز سمیت سندھ پولیس بھی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لاتی جبکہ اس غیر قانونی دھندے کو متعدد صحافی ہائی لائٹ بھی کر چکے ہیں اور ان بدمست شراب فروشوں کے کارندؤں کے خلاف بحالت مجبوری کوئی نام نہاد کاروائی دکھائی بھی جائے تو پکڑ میں آنے والوں کو کون شراب سپلائی کرتا ہے ؟ اصل میں مال کس کا ہوتا ہے ؟ یہ چیزیں ہمیشہ نام نہاد کاروائیوں کی وجہ سے نظروں سے اوجھل ہی رہتی ہیں کیونکہ ادارے بھاری منتھلی کے عیوض سنجیدہ کوشش ہی نہیں کرتے جبکہ سب سے پہلے انہیں کیفر کردار پر پہنچانا چاہئے تو ہی یہ گھناؤنا دھندہ بند ہو سکتا ہے جو بھاری منتھلی کے عیوض ممکن نہیں جسکا اعلی اداروں کو نوٹس لیکر غیر قانونی شراب فروخت کرنے والوں سمیت انہیں سپلائی دینے والے گھنشام داس ان وائن شاپس جن کے کوٹے سے انہیں اوور ٹائم میں بلیک پر شراب فروخت کے لئے دی جاتی ہے انکے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں نہیں آتی اور بھاری منتھلی کے عیوض سرپرستی کرنے والی ایکسائز اینڈ نارکوٹکس اور جس تھانے کی حد میں یہ گھناؤنا دھندہ جاری ہو ان کالی بھیڑوں کے خلاف نوٹس لیکر سخت قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی تو جرائم کو کیسے کنٹرول کیا جاسکے گا جسکے لئے اعلی اداروں کو نوٹس لیکر نوجوان نسل کو تباہی سے بچانا چاہئے ـ