Zaraat Naama Gilgit Baltistan زراعت نامہ گلگت بلتستان۔

  • Home
  • Pakistan
  • Skardu
  • Zaraat Naama Gilgit Baltistan زراعت نامہ گلگت بلتستان۔

Zaraat Naama Gilgit Baltistan زراعت نامہ گلگت بلتستان۔ This media page will publish All sorts of Agriculture information to promote poor farmers of the country and to boost county's economy.

ملک میں جدید اور کمرشل زراعت کے فروغ کے لئے کوشاں، اپنے حصے کا دیا جلانے کی ایک کوشش ہے بالخصوص
گلگت بلتستان کے زرعی خبروں اور ایونٹس ڈاکومنٹریز پر اپ ڈیٹ دیتے رہیں گے۔

گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے مشروم پروڈکشن اور مارکیٹنگ ایک کاروباری ائڈیا
10/09/2026

گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے مشروم پروڈکشن اور مارکیٹنگ ایک کاروباری ائڈیا

10/09/2026
وزیراعلیٰ گلگت  بلتستان امجد حسین نے صوبائی سیکریٹری زراعت عثمان احمد کی جانب سے مجوزہ گلگت  بلتستان ایگری کلچر ڈرافٹ پا...
10/09/2026

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے صوبائی سیکریٹری زراعت عثمان احمد کی جانب سے مجوزہ گلگت بلتستان ایگری کلچر ڈرافٹ پالیسی 2027-36کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے میں خود کفالت اور مقامی زمینداروں و کسانوں کو بہتر سہولیات اور مواقع فراہم کرنے اور ان کی خوشحالی کے لیے زرعی پالیسی ناگزیر ہے۔ گلگت بلتستان میں زرعی زمین کو وسعت دینے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، اور زمینوں سے پیداوار میں اضافے اور ان کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ زراعت کی مرتب کردہ مجوزہ پالیسی پر کی منظوری کے بعد اس پر عملدرآمد سے نمایاں بہتری آئے گی۔وزیر اعلیٰ نے صوبائی سیکریٹری زراعت کی سفارش پر گلگت بلتستان میں غیر معیاری کھاد اور زرعی ادویات کی فروخت کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، محکمہ زراعت کے افسران کی معاونت سے غیر معیاری کھاد اور زرعی ادویات بیچنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کریں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان میں مشروم کی پیداوار پر خصوصی توجہ دی جائے، کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی شدید مانگ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قدرتی آفات کی صورت میں فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے اور معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی پالیسی میں ضروری ترمیم کی جائے گی۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے ایگری کلچر ڈرافٹ پالیسی کی تیاری کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضروری ترامیم کے بعد اس پالیسی کو واضح ٹائم لائنز اور درکار وسائل کی تفصیلات کے ساتھ مزید بہتر بنایا جائے، تاکہ منظوری اور فوری عملدرآمد کے لیے اسے جلد اسمبلی میں پیش کیا جا سکے۔

گلگت بلتستان کے ہر گاؤں میں ایگریکلچر کمیٹی کے قیام و فعالیت کا خصوصی حکمسیکریٹری زراعت گلگت بلتستان جناب عثمان احمد صاح...
04/09/2026

گلگت بلتستان کے ہر گاؤں میں ایگریکلچر کمیٹی کے قیام و فعالیت کا خصوصی حکم

سیکریٹری زراعت گلگت بلتستان جناب عثمان احمد صاحب کی خصوصی ہدایات کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام دیہات میں ایگریکلچر کمیٹیوں (Agriculture Committees) کو تشکیل دے کر فعال کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں درج ذیل طریقہ کار اختیار کیا جائے گا:
1۔ فارمر کوآپریٹو سوسائٹی
جن گاؤں میں پہلے سے فارمر کوآپریٹو سوسائٹی قائم ہے، اسے ہی ایگریکلچر کمیٹی تصور کرتے ہوئے مزید فعال کیا جائے گا۔
2۔ ایل ایس او (LSO)
جن گاؤں یا علاقوں میں پہلے سے LSO (Local Support Organization) قائم ہے، اسی تنظیم کو ایگریکلچر کمیٹی کے طور پر فعال کیا جائے گا۔
3۔ دیگر سماجی تنظیمیں
جہاں فارمر کوآپریٹو سوسائٹی یا LSO موجود نہیں، لیکن کوئی فعال سماجی تنظیم موجود ہے، وہاں اسی تنظیم کو ایگریکلچر کمیٹی کے طور پر فعال کیا جائے گا۔
4۔ نئی ایگریکلچر کمیٹی کی تشکیل
جن گاؤں میں مذکورہ بالا تینوں میں سے کوئی ادارہ موجود نہیں، وہاں مقامی سطح پر ایک نئی ایگریکلچر کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں نمبرداران، سرکردگان، کسان، نوجوان، خواتین اور فعال سماجی کارکنوں کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا۔
محکمہ زراعت کی ذمہ داری
سیکریٹری زراعت گلگت بلتستان نے تمام متعلقہ افسران اور فیلڈ اسٹاف کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ خود گاؤں گاؤں جاکر ایگریکلچر کمیٹیوں کی تشکیل، تنظیم نو اور فعالیت کو یقینی بنائیں اور ہر گاؤں کی کمیٹی کا مکمل ڈیٹا مرتب کریں۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حکومت گلگت بلتستان کا زرعی وژن ہر گاؤں اور ہر کسان تک پہنچے اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات، مراعات، زرعی خدمات، تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور دیگر فوائد شفاف اور مساوی انداز میں تمام مستحق افراد تک پہنچ سکیں۔
عوام سے خصوصی اپیل
تمام نمبرداران، عمائدین، سرکردگان، کسانوں، نوجوانوں، خواتین اور سوشل ورکرز سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ایگریکلچر کمیٹی کے قیام اور اسے فعال بنانے کے لیے محکمہ زراعت کے فیلڈ افسران اور عملے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
آپ کا فعال تعاون ہی ایک مضبوط، منظم اور خوشحال زرعی گلگت بلتستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔
شکریہ
محکمہ زراعت
حکومت گلگت بلتستان

درخواست برائے اظہارِ دلچسپی"زرعی اور ماحولیاتی سیاحت (Agri & Eco-Tourism) کے فروغ کے لیے مالی و تکنیکی تعاون"اکنامک ٹران...
04/09/2026

درخواست برائے اظہارِ دلچسپی

"زرعی اور ماحولیاتی سیاحت (Agri & Eco-Tourism) کے فروغ کے لیے مالی و تکنیکی تعاون"

اکنامک ٹرانسفارمیشن انیشیٹو (ETI) پروگرام کے تحت قائم کردہ ویلیج ایگریکلچر کوآپریٹو سوسائٹیز (وی اے سیز) اور ان کے ساتھ رجسٹرڈ زمینداروں کے لیے ایک سنہرا موقع!

✅️ درخواست فارم: جی بی آر ایس پی (GBRSP) کے کسی بھی قریبی دفتر سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ درخواست فارم GBRSPکے ویب سائٹhttps://gbrsp.org.pk/wp-content/uploads/2026/08/RFP-agro-eco-tourism-grants-revised.pdf یا ای ٹی آئی ویب سائٹ کے لنک https://www.etigb.com.pk/tenders/سے ڈاون لوڈ بھی کی جا سکتی ہے

✅️ معلومات: اہلیت کا معیار اور درخواست جمع کرانے کا طریقہ کار اس اشتہار میں واضح ہے۔

✅️ آخری تاریخ: درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ پیر، 07 ستمبر 2026 ہے۔

𝐴𝑔𝑟𝑜 & 𝐸𝑐𝑜-𝑇𝑜𝑢𝑟𝑖𝑠𝑚 𝐷𝑒𝑣𝑒𝑙𝑜𝑝𝑚𝑒𝑛𝑡 𝐺𝑟𝑎𝑛𝑡𝑠 𝑓𝑜𝑟 𝑉𝑖𝑙𝑙𝑎𝑔𝑒 𝐴𝑔𝑟𝑖𝑐𝑢𝑙𝑡𝑢𝑟𝑒 𝐶𝑜𝑜𝑝𝑒𝑟𝑎𝑡𝑖𝑣𝑒 𝑆𝑜𝑐𝑖𝑒𝑡𝑖𝑒𝑠 (𝑉𝐴𝐶𝑠) 𝑎𝑛𝑑 𝑖𝑡𝑠 𝑚𝑒𝑚𝑏𝑒𝑟 𝑓𝑎𝑟𝑚𝑒𝑟𝑠 𝑎𝑛𝑑 𝑓𝑎𝑟𝑚𝑒𝑟 𝑔𝑟𝑜𝑢𝑝𝑠 𝑤𝑖𝑡ℎ𝑖𝑛 𝑉𝐴𝐶

𝑳𝒊𝒌𝒆 👍| 𝑭𝒐𝒍𝒍𝒐𝒘 ✅| 𝑪𝒐𝒎𝒎𝒆𝒏𝒕 💬| 𝑺𝒉𝒂𝒓𝒆 ➦

AICS IslamabadAgriculture, Livestock & Fisheries Department Gilgit-BaltistanExcise & Taxation, Zakat & Usher, Cooperatives and Transport Department GBInformation Department Gilgit-BaltistanGilgit-Baltistan Rural Support Programme@followers

ڈینڈیلائن: ایک عام جنگلی پودا، غیر معمولی غذائی اور طبی صلاحیتیںڈینڈیلائن (Dandelion)، سائنسی نام Taraxacum officinale ب...
18/08/2026

ڈینڈیلائن: ایک عام جنگلی پودا، غیر معمولی غذائی اور طبی صلاحیتیں
ڈینڈیلائن (Dandelion)، سائنسی نام Taraxacum officinale بظاہر ایک عام سا جنگلی پودا ہے، لیکن صدیوں سے مختلف معاشروں میں اسے خوراک اور روایتی طب دونوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے پتے، پھول اور جڑیں مختلف غذائی اور نباتاتی مرکبات کا ذریعہ ہیں۔
ڈینڈیلائن کے پتوں میں مختلف وٹامنز اور معدنیات جبکہ پورے پودے میں فلیونوئڈز، پولی فینولز، کیروٹینائڈز، سیسکوئیٹرپین لیکٹونز اور دیگر بایو ایکٹو مرکبات پائے جاتے ہیں۔ یہی مرکبات اسے سائنسی تحقیق کے لیے دلچسپ بناتے ہیں۔
ممکنہ صحت بخش خصوصیات
تحقیقی مطالعات میں ڈینڈیلائن کے بارے میں درج ذیل ممکنہ فوائد زیرِ تحقیق ہیں:
ہاضمہ بہتر کرنے میں معاونت اور روایتی طور پر بدہضمی کے لیے استعمال
قدرتی پیشاب آور (Diuretic) خصوصیات
اینٹی آکسیڈنٹ سرگرمی، جو جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس کے خلاف کام کر سکتی ہے
سوزش کم کرنے والی (Anti-inflammatory) ممکنہ خصوصیات
جگر کے تحفظ سے متعلق ابتدائی تحقیقی شواہد
خون میں گلوکوز کے توازن سے متعلق ممکنہ فوائد
آنتوں کی صحت اور مفید مائیکرو بایوم کے حوالے سے تحقیقی دلچسپی
بعض جراثیم کے خلاف ممکنہ Antimicrobial سرگرمی
قوتِ مدافعت کے نظام پر ممکنہ اثرات
غذائیت کے اعتبار سے خوراک میں تنوع پیدا کرنے کا ایک قدرتی ذریعہ
حالیہ سائنسی جائزوں میں ڈینڈیلائن کے اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی انفلامیٹری، اینٹی مائکروبیل اور ممکنہ جگر محافظ اثرات کا ذکر ملتا ہے، تاہم ان میں سے بہت سے نتائج ابھی لیبارٹری یا جانوروں کے تجربات تک محدود ہیں۔
خوراک اور ویلیو ایڈیشن میں امکانات
ڈینڈیلائن کے نرم پتے سلاد یا پکی ہوئی سبزی کے طور پر، پھول چائے اور مختلف غذائی مصنوعات میں، جبکہ جڑ کو بعض روایتی مشروبات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس سے ہربل ٹی، شہد یا سرکے کے انفیوژن، شربت، جیلی اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔
یہ پودا صرف انسانوں کے لیے اہم نہیں؛ اس کے پھول ابتدائی موسم میں شہد کی مکھیوں اور دیگر جرگ افشاں حشرات کے لیے بھی خوراک کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
ایک ضروری احتیاط
ڈینڈیلائن کو کسی بیماری کا ثابت شدہ علاج سمجھنا درست نہیں۔ امریکی NCCIH کے مطابق انسانی صحت پر اس کے اثرات کے بارے میں ابھی تحقیق محدود ہے اور کسی مخصوص طبی بیماری کے علاج کے لیے مضبوط شواہد موجود نہیں۔ عام غذائی مقدار عموماً محفوظ سمجھی جاتی ہے، تاہم ادویات استعمال کرنے والے افراد یا مخصوص طبی مسائل رکھنے والوں کو باقاعدہ استعمال سے قبل معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔
خلاصہ:
ڈینڈیلائن کو محض ایک ’’جڑی بوٹی‘‘ یا ’’غیر ضروری گھاس‘‘ سمجھ کر نظر انداز کرنا شاید مناسب نہیں۔ یہ ایک ایسا غذائی، نباتاتی اور ممکنہ طبی اہمیت رکھنے والا پودا ہے جس پر جدید سائنس تیزی سے تحقیق کر رہی ہے۔ مستقبل میں اس کے بایو ایکٹو مرکبات سے ہربل مصنوعات، functional foods اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کے امکانات قابلِ توجہ ہیں۔

why not Pakistan?
18/08/2026

why not Pakistan?

17/08/2026

کھیت سے متسقبل کی تعمیر

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری کے شعبوں کی جامع اصلاحات اور ترقی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان

گلگت: 17 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری (Agriculture, Livestock & Fisheries) کے شعبوں کو گلگت بلتستان کی معیشت، غذائی خودکفالت، روزگار اور غربت کے خاتمے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے ان شعبوں کی ترقی اور اصلاحات کے لیے تیز رفتار اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

سیکریٹری زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری گلگت بلتستان کی جانب سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو شعبے کی موجودہ صورتحال، بنیادی مسائل، پیداواری خلا اور مستقبل کے لیے جامع اصلاحاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں زراعت، لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے مقامی معیشت کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیہی آبادی کی آمدن میں اضافہ کرنے کے لیے متعدد اہم اصلاحات کی نشاندہی کی گئی۔

بریفنگ کے مطابق گلگت بلتستان کے تقریباً چار میں سے تین گھرانے براہِ راست زمین، زراعت یا مویشیوں سے وابستہ ہیں، جبکہ زراعت، امورِ حیوانات اور ماہی پروری مجموعی طور پر خطے کی معیشت میں سالانہ تقریباً 147.3 ارب روپے کا حصہ ڈال رہے ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ دودھ، گوشت، پولٹری اور انڈوں سمیت متعدد شعبوں میں مقامی پیداوار اور طلب کے درمیان نمایاں خلا موجود ہے، جو ایک طرف غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے چیلنج ہے تو دوسری طرف مقامی سرمایہ کاری، کاروبار اور روزگار کے وسیع مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔

زراعت کے شعبے میں مجوزہ اصلاحات

سیکریٹری زراعت کی جانب سے زراعت کے شعبے میں معیاری بیج کی فراہمی، آف سیزن سبزیوں کی پیداوار، 2,000 ماڈل فروٹ آرچڈز کا قیام، ’’One Valley/One Village, One Product‘‘ پروگرام، شہد کی مکھیوں کی فارمنگ اور نوجوانوں کے روزگار، جدید فروٹ پیک ہاؤسز کے قیام سمیت متعدد اصلاحاتی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

ان مجوزہ اصلاحاتی اقدامات کے لیے سیکریٹری زراعت کی جانب سے 1.62 ارب روپے کی مالی ضرورت/مجوزہ بلاک ایلوکیشن پیش کی گئی ہے۔

امورِ حیوانات کے شعبے میں مجوزہ اصلاحات

امورِ حیوانات کے شعبے میں چارہ پیداوار کے فروغ، سائیلج اور مشینی سہولیات، ’’One Village, One Bull‘‘ بریڈ امپروومنٹ پروگرام، کمرشل ڈیری فارمنگ، پولٹری فارمنگ اور نوجوانوں کے روزگار سمیت اہم اصلاحاتی پروگرام تجویز کیے گئے ہیں۔

ان اقدامات کے لیے سیکریٹری زراعت کی جانب سے 1.35 ارب روپے کی مالی ضرورت/مجوزہ بلاک ایلوکیشن پیش کی گئی ہے۔

ماہی پروری کے شعبے میں مجوزہ اصلاحات

ماہی پروری کے شعبے میں ٹراؤٹ فارمنگ کے فروغ، نئے ٹراؤٹ فارمز کے قیام، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور خواتین کی معاشی شمولیت کے لیے گھریلو سطح پر منی فش فارمنگ پروگرام تجویز کیے گئے ہیں۔

ان اصلاحاتی اقدامات کے لیے سیکریٹری زراعت کی جانب سے 400 ملین روپے کی مالی ضرورت/مجوزہ بلاک ایلوکیشن پیش کی گئی ہے۔

مجموعی مجوزہ مالی ضرورت

سیکریٹری زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری کی جانب سے پیش کردہ اصلاحاتی منصوبے میں:

- زراعت: 1.62 ارب روپے
- امورِ حیوانات: 1.35 ارب روپے
- ماہی پروری: 400 ملین روپے
- مجموعی مجوزہ مالی ضرورت: 3.37 ارب روپے

رکھی گئی ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ 3.37 ارب روپے سیکریٹری زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری کی جانب سے اصلاحاتی پروگراموں کے لیے تجویز کردہ مالی ضرورت ہے اور اسے حکومت کی جانب سے منظور شدہ یا حتمی اعلان کردہ بجٹ تصور نہ کیا جائے۔ ان تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے شعبہ وار اور مجموعی مالیاتی پیکیج کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے سیکریٹری زراعت کی جانب سے پیش کردہ اصلاحاتی تجاویز کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شعبہ زراعت، امورِ حیوانات اور ماہی پروری کو محض روایتی سرکاری سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں معاشی ترقی، خود روزگاری، نجی سرمایہ کاری، غذائی خودکفالت اور غربت کے خاتمے کے مؤثر ذرائع میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت گلگت بلتستان ان شعبوں کی ترقی کے لیے ضروری مالی وسائل فراہم کرنے، بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے اور اصلاحاتی پروگراموں پر تیزی سے پیش رفت کے لیے اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل، زرعی تنوع، باغبانی، مویشی پالنے، شہد اور ٹراؤٹ فارمنگ کی صلاحیت کو جدید ٹیکنالوجی، نجی شعبے کی شراکت، بہتر مارکیٹ لنکیجز اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے معاشی مواقع میں تبدیل کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ اصلاحاتی پروگراموں کے لیے واضح اہداف، ٹائم لائنز، کارکردگی کے اشاریے (KPIs) اور مؤثر مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے تاکہ منظور شدہ پروگراموں کے ثمرات براہِ راست کسانوں، مویشی پال حضرات، ماہی گیروں، نوجوانوں اور خواتین تک پہنچ سکیں۔

اس موقع پر شعبہ زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری میں اصلاحات کی نگرانی اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے لیے ALF Reforms Unit کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے، جس کا مقصد اصلاحاتی پروگراموں کی نگرانی، پیش رفت کی رپورٹنگ اور اعلیٰ سطح پر مؤثر مانیٹرنگ کو یقینی بنانا ہے۔

حکومت گلگت بلتستان کے مطابق زراعت، امورِ حیوانات اور ماہی پروری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد دیہی معیشت کو مضبوط بنانا، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنا، خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنا، غذائی خودکفالت حاصل کرنا اور غربت و بے روزگاری کے خاتمے کی جانب مؤثر پیش رفت کرنا ہے۔

Address

Agriculture Complex Hamid Garh
Skardu
16100

Telephone

03468116943

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zaraat Naama Gilgit Baltistan زراعت نامہ گلگت بلتستان۔ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zaraat Naama Gilgit Baltistan زراعت نامہ گلگت بلتستان۔:

Shortcuts

Share