17/05/2026
عوام جاگیں گے تو نظام بدلے گا
گلگت بلتستان میں ایک بار پھر انتخابات ہونے جا رہے ہیں مگر کہانی وہی پرانی ہے وہی چہرے، وہی پارٹیاں اور وہی کھوکھلے وعدے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ ان پارٹیوں کے لیے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے لڑتے ہیں حالانکہ یہ پارٹیاں خود ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتیں۔ لوگ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے یہ پارٹیاں ان کی ذاتی ملکیت ہوں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اوپر بیٹھے لیڈروں کو اس بات سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ آپ موجود ہیں یا نہیں۔
آخر کیوں آپ اپنے ذاتی تعلقات خراب کریں اور اپنی ذہنی سکون قربان کریں ایک ایسی سیاسی پارٹی کے لیے جو حقیقت میں آپ کی زندگی اور مسائل سے بالکل بے تعلق ہے؟
بہت سے امیدوار انتخابات ختم ہوتے ہی غائب ہو جاتے ہیں اور سالوں تک آپ کے فون کالز تک سننے کی زحمت نہیں کرتے۔ اب جب دوبارہ الیکشن کا وقت آیا ہے تو وہ اچانک آپ کے دروازے پر آ گئے ہیں عاجزی کا دکھاوا کرتے ہوئے آپ سے ووٹ اور حمایت مانگ رہے ہیں۔ وہ یہ سب صرف اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس وقت طاقت آپ کے ہاتھ میں ہے اور آپ کا ووٹ واقعی اہمیت رکھتا ہے۔
یاد رکھیں، ووٹ صرف ایک پرچی نہیں بلکہ آپ کے مستقبل، آپ کے بچوں کی تعلیم، روزگار، سڑکوں اسپتالوں اور انصاف کے نظام کا فیصلہ ہے۔ اگر آپ آج جذبات، نعروں یا برادری ازم کی بنیاد پر ووٹ دیں گے، تو اگلے کئی سال انہی مسائل کے ساتھ گزارنے پڑیں گے۔
یہ وقت صرف جلسوں، نعروں اور سوشل میڈیا بحثوں کا نہیں بلکہ اپنے ضمیر سے سوال کرنے کا ہے۔ کیا جن لوگوں کو آپ بار بار منتخب کرتے آئے ہیں، انہوں نے واقعی آپ کے علاقے، نوجوانوں، تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے کچھ بدلا؟ اگر جواب نہیں ہے، تو پھر صرف پرانی عادت یا جذبات کی وجہ سے دوبارہ وہی غلطی کیوں؟
اپنے ووٹ کو ذاتی مفاد، وقتی لالچ، برادری یا دباؤ کی نذر مت کریں۔ ایک ووٹ پورے علاقے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اگر عوام جاگ جائیں تو طاقتور سے طاقتور نظام بھی بدل جاتا ہے۔
اس بار سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ صرف پارٹی، خاندان یا جذبات کی بنیاد پر ووٹ نہ دیں، بلکہ اس شخص کو ووٹ دیں جو واقعی ایماندار، جوابدہ اور آپ کے علاقے کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسے نمائندے کو منتخب کریں جو الیکشن کے بعد بھی عوام کے درمیان موجود رہے، نہ کہ صرف ووٹ لینے کے وقت۔
قومیں تب بدلتی ہیں جب عوام اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھتے ہیں۔ اس بار اپنے ضمیر، شعور اور مستقبل کے مطابق فیصلہ کریں۔ کیونکہ اگر آج آپ نے صحیح فیصلہ نہ کیا، تو کل شکایت کا حق بھی کمزور پڑ جائے گا۔
✍️ تحریر: سید اسرار علی