Voice Of Kech

Voice Of Kech اس پیچ کے ذریعے آپ کو تازہ ترین حالات و واقعات سے آگاہ رکھا جائے گا اور عوامی مسائل کو موثر انداز میں اُجاگر کیا جائے گا۔

تربت پریس کلب کے نومنتخب صدر و کابینہ کو نادرشاہ ابرارکی مبارکبادمعروف سیاسی و سماجی شخصیت نادر شاہ ابرار نے تربت پریس ک...
18/09/2026

تربت پریس کلب کے نومنتخب صدر و کابینہ کو نادرشاہ ابرارکی مبارکباد

معروف سیاسی و سماجی شخصیت نادر شاہ ابرار نے تربت پریس کلب کے نومنتخب صدر حافظ صلاح الدین سلفی صاحب اور نو منتخب کابینہ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحافت معاشرے کی آواز اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ تربت پریس کلب نے ہمیشہ صحافی برادری کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے کے اہم سماجی، عوامی اور علاقائی مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ نومنتخب صدر اور کابینہ صحافتی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھاتے ہوئے آزادی صحافت، حقائق پر مبنی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے لیے موثر کردار ادا کریں گے۔ نئی قیادت صحافی برادری کے باہمی اتحاد و اتفاق کو مزید مضبوط بنانے اور عوام کی آواز متعلقہ حلقوں تک پہنچانے کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔

بے بس باپ                  تحریر : ساجدنوربلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جہاں کے باسیوں کو روزِ اول سے دو لڑائیاں لڑنی پڑتی ہ...
18/09/2026

بے بس باپ
تحریر : ساجدنور

بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جہاں کے باسیوں کو روزِ اول سے دو لڑائیاں لڑنی پڑتی ہیں ایک بیماری اور موت کے ساتھ اور دوسری اُس نظام کے ساتھ جو اُن کی زندگیوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ جب کسی علاقے میں بیماری کے سبب کوئی شہری انتقال کر جاتا ہے تو اسے تقدیر کا لکھا ہوا کہہ کر اُنکی نعش کو دفن کر دیا جاتا ہے لیکن جب ایک ڈاکٹر اپنی ہی بیٹی کی جان بچانے سے قاصر رہ جائے تو یہ تقدیر نہیں یہ سراسر ریاستی ناکامی ہے۔
ڈاکٹر اقبال بلوچ ایک ایسے ڈاکٹر باپ ہیں جنہوں نے اپنی بارہ سالہ بچی کو زہریلے بچھو کے کاٹنے کے بعد بچانے کے لیے ایک عام انسان کی طرح تگ و دو کی، مگر آخر کار انہیں اپنی بیٹی کی لاش لیے سات سو کلومیٹر کے قریب سفر طے کرنا پڑا۔ یہ صرف ایک ڈاکٹر کی کہانی نہیں ہے یہ بلوچستان کے ہر اُس باپ، ماں، بہن اور بھائی کی کہانی ہے جو گزشتہ 79 سالوں سے سرکاری اسپتالوں میں اپنے عزیزوں کی میتیں اُٹھاتے آئے ہیں۔
ڈاکٹر اقبال بلوچ انٹرنل میڈیسن کے فزیشن ہیں وہ جانتے ہیں کہ کریٹیکل کیئر کیا ہوتی ہے انہیں معلوم تھا کہ زہریلے بچھو کے کاٹنے سے خون کے سرخ خلیے ٹوٹتے ہیں (Hemolysis) گردے فیل ہو جاتے ہیں (Acute Kidney Injury) دل کے پٹھے سوزش کا شکار ہوتے ہیں (Acute Myocarditis) اور پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے (Pulmonary Edema) وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اِس صورتِ حال میں مریض کو وینٹی لیٹر، جدید آئی سی یو اور چوبیس گھنٹے کی نگرانی درکار ہوتی ہے مگر تربت کے ٹیچنگ اسپتال میں یہ سب کچھ موجود نہیں تھا۔
ہمارے اسپتالوں کے “ایچ ڈی یو” (ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس) صرف کاغذوں پر قائم ہیں ,کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ دو اے سی اور دو اسٹاف ممبران کے ساتھ ایک ڈاکٹر کو اپنی بیٹی کی جان بچانے کے لیے خود ہی رات بھر جاگ کر ایف ایف پی اور خون لگاتے رہنا پڑا۔ جب نبض دو سو تک پہنچ گئی اور آکسیجن نوے پر آ گئی تو ڈاکٹر باپ نے فیصلہ کیا کہ بچی کو کراچی لے جایا جائے۔
وہ بے بس ڈاکٹر باپ کرائے کی گاڑی میں اپنی بچی کو لے کر محوِ سفر ہو گئے *کیونکہ سرکاری ایمبولینس قومہ میں گئی ہوئی تھیں*۔
کرائے کی گاڑی کی پچھلی نشست پر انتہائی نازک حالت میں سفر کرتی ہوئی ایک بچی اور ایک باپ جو راستے میں سی پی آر بھی کرتے رہے اور ایک گھنٹے بعد وہ بچی اپنے باپ کی بانہوں میں دم توڑ گئی۔ ایک ڈاکٹر جو دوسروں کی جانیں بچانے کا عادی تھا اپنی ہی بیٹی کی جان نہ بچا سکا۔
سوال یہ ہے کہ قصور کس کا ہے؟
ڈاکٹر اقبال بلوچ نے خود کہا “میں کسی ایک ڈاکٹر، اسٹاف یا ایڈمنسٹریٹر پر الزام نہیں لگا رہا۔ میں مجموعی طور پر اِس نظام کی ناکامی اور بے بسی کو اِس واقعے کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔”
کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ سکورپین اینٹی وینم (Scorpion Antivenom) جو دنیا بھر میں دستیاب ہے مگر مکران میں دستیاب نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے بچے آئندہ بھی اسی طرح اپنی قیمتی جانیں گنواتے رہیں گے؟ کیا ہر سال سینکڑوں جانیں لینے والے اِس زہریلے بچھو کے خلاف ویکسین یا اینٹی وینم مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے؟
ٹیچنگ اسپتال تربت میں مکمل آئی سی یو کیوں نہیں ہے؟ کیا مکران کے لوگ انسان نہیں ہیں؟ کیا اُن کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ جب ایک ڈاکٹر کو اپنے بچی کے لیے آٹھ سو کلومیٹر دور جانا پڑے تو ایک عام شہری کا کیا بنے گا؟
اور یہ “کاغذی سہولیات” کب تک نمائش کے طور پر پیش ہوتی رہیں گی؟ ہر سال حکومت بجٹ میں کروڑوں روپے مختص کرتی ہے۔ بلوچستان حکومت نے پچھلے بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے ستاسی87 ارب روپے مختص کیے ، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایک ایچ ڈی یو میں دو پنکھے اور دو اسٹاف ممبران ہوتے ہیں یہ کس کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے؟
ڈاکٹر اقبال بلوچ کی بچی اب اِس دنیا میں نہیں رہی مگر یہ درد اور یہ بے بسی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمارے نظام کی ہولناک حقیقت صاف نظر آتی ہے اگر ہم نے آنکھیں اسی طرح بند کیے رکھیں تو کل کوئی اور باپ کوئی اور ماں اپنے بچے کی لاش کرائے کی گاڑی کی پچھلی نشست پر رکھ کر گھر لوٹے گا۔

18/09/2026
کیچ کے عوام کی آواز کو آخر کون دبانا چاہتا ہے؟تحریر: گزین بلیدی تربت میں اس وقت حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ بارڈر کی بن...
17/09/2026

کیچ کے عوام کی آواز کو آخر کون دبانا چاہتا ہے؟

تحریر: گزین بلیدی

تربت میں اس وقت حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ بارڈر کی بندش اور کاروبار پر پابندیوں نے ہزاروں خاندانوں کے روزگار کو متاثر کیا ہے، مہنگائی نے غریب آدمی کی کمر توڑ دی ہے، پانی اور بجلی کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، مقامی تاجر کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے پریشان بیٹھے ہیں جبکہ چوری، ڈکیتی، موٹر سائیکل چھیننے اور دیگر جرائم نے عام شہری کا سکون بھی چھین لیا ہے۔

ایسے حالات میں اگر آل پارٹیز کیچ اور انجمن تاجران عوام کے انہی مسائل کو لے کر احتجاج کی آواز بلند کرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ اس احتجاج سے تکلیف آخر کس کو اور کیوں ہو رہی ہے؟

بارڈر اس خطے کے غریب عوام کا ذریعۂ روزگار تھا، مگر برسوں سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ ٹوکن اور بارڈر کے کاروبار پر مخصوص بااثر حلقوں نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ غریب نوجوان آج بھی ایک گاڑی اور ایک ٹوکن کے لیے دربدر ہے، جبکہ اسی نظام سے غیرمعمولی فائدہ اٹھانے والوں کے بارے میں سنگین سوالات موجود ہیں۔

اب جب آل پارٹیز کیچ بارڈر کی بندش، بدامنی، مہنگائی، انجمن تاجران کے مسائل، پانی، بجلی اور عام آدمی کے روزگار کے لیے احتجاج کرنے جا رہی ہے تو اسی احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے بعض حلقوں کی غیرمعمولی سرگرمی خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

اگر آپ واقعی عوام کے خیرخواہ ہیں تو بارڈر کھولنے کے مطالبے سے پریشانی کیوں؟
اگر آپ واقعی غریب کے ساتھ ہیں تو ٹوکن نظام کو شفاف بنانے کے مطالبے کی مخالفت کیوں؟
اگر آپ واقعی تربت کے عوام کے نمائندہ ہیں تو چوری، ڈکیتی، مہنگائی، پانی، بجلی اور تاجروں کے مسائل پر آواز اٹھانے والوں کے مقابل کھڑے کیوں ہیں؟

سیاسی اختلاف ضرور کریں، نیشنل پارٹی سے اختلاف کریں، آل پارٹیز کیچ سے اختلاف کریں، ان کی سیاست پر تنقید بھی کریں؛ مگر خدارا عوام کے روزگار اور بنیادی مسائل کو اپنی سیاسی دشمنیوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

آج ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ پنجگور سمیت جہاں بارڈر سے وابستہ غیرقانونی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، کیچ میں بھی ٹوکن سسٹم کی مکمل اور غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں۔ دیکھا جائے کہ ٹوکن کن لوگوں کو ملے، کس طریقۂ کار کے تحت ملے، کتنے عرصے سے مخصوص افراد اس کاروبار سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور کیا واقعی کسی سیاسی یا بااثر حلقے کی سرپرستی میں عام آدمی کا حق محدود کیا گیا؟

اگر سب کچھ قانون اور میرٹ کے مطابق ہوا ہے تو تحقیقات سے کسی کو خوف نہیں ہونا چاہیے۔ اور اگر کسی نے غریب کے روزگار کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنایا ہے تو پھر اس کا نام، کردار اور مفادات قانون کے مطابق عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ سابقہ ادوار میں بارڈر اور ٹوکن نظام میں ہونے والے فیصلوں کی مکمل چھان بین کی جائے۔ کس دور میں کون سا نظام متعارف یا مضبوط ہوا، کس کو فائدہ پہنچا اور عام آدمی کو کتنا حصہ ملا؟ اس کا فیصلہ سیاسی بیانات نہیں بلکہ سرکاری ریکارڈ اور شفاف تحقیقات کریں۔

آج سوشل میڈیا پر کسی سیاسی رہنما کا ترجمان بن کر عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانا آسان ہے۔ کبھی ایک سیاسی شخصیت کا دفاع، کبھی دوسری کا، کبھی تیسری کا؛ لیکن سوال وہی رہے گا کہ کیچ کے غریب عوام کے ترجمان کون ہیں؟

وہ غریب جس کا بارڈر بند ہے، وہ دکاندار جس کی دکان پر گاہک نہیں، وہ نوجوان جس کے پاس روزگار نہیں، وہ گھر جس میں پانی نہیں اور وہ خاندان جو بجلی، مہنگائی اور بدامنی سے پریشان ہے ان کی آواز کون بنے گا؟

نیشنل پارٹی یا آل پارٹیز کیچ سمیت جو سیاسی و سماجی قوتیں ان مسائل کو اٹھا رہی ہیں، ان کے مطالبات کا جواب دلیل، پالیسی اور عملی اقدامات سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ عوامی احتجاج کو کمزور کرنے کی کوششوں سے۔

20 ستمبر کا احتجاج کسی شخصیت کی ذات کا مسئلہ نہیں؛ اصل مسئلہ کیچ کے عوام کا روزگار، امن، کاروبار اور بنیادی حقوق ہیں۔

اختلاف اپنی جگہ، سیاست اپنی جگہ، مگر غریب کے چولہے پر سیاست بند ہونی چاہیے۔

کیچ کے عوام کو شفاف بارڈر نظام چاہیے۔
انہیں ٹوکن پر اجارہ داری نہیں بلکہ منصفانہ روزگار چاہیے۔
انہیں چوری اور ڈکیتی سے تحفظ چاہیے۔
انہیں پانی اور بجلی چاہیے۔
انہیں آباد بازار اور چلتا ہوا کاروبار چاہیے۔

اور سب سے بڑھ کر، عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جن کے مفادات عوام کے لیے بارڈر کھلنے، نظام شفاف ہونے اور عام آدمی کو اس کا حق ملنے سے متاثر ہوتے ہیں؟

کیچ کسی مافیا، سیاسی شخصیت یا بااثر گروہ کی جاگیر نہیں، کیچ اس کے عوام کا ہے۔

معروف سماجی وعلمی شخصیت نادر شاہ ابرار کی جامعہ الصفہ آبسر میں مہتمم جامعہ محترم مفتی سرفراز ساجد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ م...
17/09/2026

معروف سماجی وعلمی شخصیت نادر شاہ ابرار کی جامعہ الصفہ آبسر میں مہتمم جامعہ محترم مفتی سرفراز ساجد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران مفتی سرفراز ساجد صاحب نے انہیں جامعہ کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی تعارف کراتے ہوئے ادارے کی تعلیمی، انتظامی، تربیتی اور تدریسی سرگرمیوں، طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر انہیں جامعہ کے مختلف شعبہ جات دکھائے گئے اور ادارے میں جاری تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیاگیا۔ جامعہ میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بھی باقاعدہ انتظام ہے تاکہ طلبہ دینی علوم کے ساتھ عصری علوم سے بھی استفادہ کر سکیں۔
مفتی سرفراز ساجد صاحب جامعہ الصفہ آبسر کی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھانے کے ساتھ ساتھ جامعہ الصفہ (بنات) کے بھی مہتمم ہیں، جہاں طالبات کی دینی و علمی تعلیم و تربیت کا مؤثر نظام قائم ہے۔ اس موقع پر نادر شاہ ابرار کو جامعہ الصفہ (بنات) کے بھی مختلف شعبہ جات دکھائے گئے اور وہاں طالبات کی دینی، علمی، تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیاگیا۔ جامعہ الصفہ (بنات) میں طالبات کی دینی و اخلاقی تربیت، علمی نشوونما اور اسلامی اقدار سے وابستگی کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ مفتی سرفراز ساجد صاحب بلوچستان ریذیڈنشل کالج تربت میں بطور لیکچرار بھی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یوں وہ بیک وقت دینی و عصری تعلیم، تربیت اور انتظامی ذمہ داریوں کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
دینی و تعلیمی میدان میں اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مفتی سرفراز ساجد صاحب سماجی مسائل کے حل اور معاشرے کی بہتری کے لیے بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ عوام کے ساتھ ان کا گہرا اور مضبوط رابطہ ہے اور وہ لوگوں کے مسائل کو سننے، ان کے حل کے لیے کردار ادا کرنے اور معاشرے میں مثبت سوچ، باہمی تعاون اور خیر خواہی کے فروغ کو اہمیت دیتے ہیں۔
نادر شاہ ابرار نے جامعہ الصفہ میں جاری دینی و تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ کی اخلاقی تربیت، کردار سازی، علمی استعداد اور فکری نشوونما کے نظام کا مشاہدہ کیا اور اس امر کو قابل تحسین قرار دیا کہ جامعہ میں نئی نسل کو علم و عمل، اخلاق و کردار اور دینی شعور سے آراستہ کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہےتاکہ طلبہ مستقبل میں معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔
نادر شاہ ابرار نے مہتمم جامعہ مفتی سرفراز ساجد صاحب کی دینی، تعلیمی و تربیتی خدمات، مخلصانہ قیادت، دوراندیشی اور انتھک محنت کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک طرف جامعہ الصفہ آبسر اور جامعہ الصفہ (بنات) کی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھانا، دوسری طرف بلوچستان ریذیڈنشل کالج تربت میں تدریسی فرائض انجام دینا اور اس کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کے حل اور عوامی رابطے کو برقرار رکھنا ان کی ہمہ جہت شخصیت اور خدمت کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
نادر شاہ ابرار نے اس موقع پر کہا کہ جامعہ الصفہ جیسے دینی ادارے معاشرے میں دینی و عصری علوم کے فروغ، اخلاق کی آبیاری، دینی شعور کی بیداری اور نئی نسل کی کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ ایسے مخلص اہل علم جو تعلیم، تدریس، تربیت، انتظام اور سماجی خدمت کے میدان میں بیک وقت اپنا کردار ادا کرتے ہیں معاشرے کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔
آخر میں مہتمم جامعہ مفتی سرفراز ساجد صاحب نے نادر شاہ ابرار کی تشریف آوری اور ادارے میں دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ اہل علم، سماجی شخصیات اور دینی و تعلیمی اداروں کے درمیان اس نوعیت کی ملاقاتیں باہمی تعاون، علمی روابط اور معاشرتی خدمت کے جذبے کو مزید فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔

بلیدہ کے نوجوان کے مبینہ اغوا کے بعد تاحال کوئی اطلاع نہیںتربت: بلیدہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان ضمیر شوہاز ولد رحمت اللہ...
16/09/2026

بلیدہ کے نوجوان کے مبینہ اغوا کے بعد تاحال کوئی اطلاع نہیں

تربت: بلیدہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان ضمیر شوہاز ولد رحمت اللہ شوہاز کے بارے میں اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ 11 اگست کو علاج کے لیے گوادر سے کراچی جا رہے تھے کہ راستے میں ہنگول کے مقام پر انہیں بس سے اتار کر مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔

اہلِ خانہ کے مطابق واقعے کے بعد سے تاحال ضمیر شوہاز کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی، جس کے باعث خاندان شدید کرب اور پریشانی میں مبتلا ہے۔

اہلِ خانہ نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ ضمیر شوہاز کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور انہیں بحفاظت اہلِ خانہ تک پہنچایا جائے۔

کولواہ سیگیگ میں شہد غفار سید کے خاندان سے ملاقات آج ایک وفد نے کولواہ سیگیگ جا کر غفار سید کے معزز خاندان سے ملاقات کی ...
15/09/2026

کولواہ سیگیگ میں شہد غفار سید کے خاندان سے ملاقات

آج ایک وفد نے کولواہ سیگیگ جا کر غفار سید کے معزز خاندان سے ملاقات کی اور اہلِ خانہ سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر غمزدہ خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے دکھ میں شریک ہوئے۔

اس ملاقات میں واجہ ڈاکٹر غفور کولواہ، ڈاکٹر ایوب، جانباز کرکٹ الیون کے کپتان عابد، کولواہ ڈنڈار کے سماجی کارکن و ٹیم کے نائب کپتان شہاب امیر، ٹیم کے اونر کے صاحبزادے اور جانباز کرکٹ الیون کے دیگر کھلاڑی بھی موجود تھے۔

اس موقع پر مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر و حوصلے کی دعا کی گئی۔

اللہ پاک مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ اللہ پاک غفار صاحب کی اہلیہ اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور انہیں یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ آمین یا رب العالمین۔

گمشدہ نوجوان انس سے رابطہ ہوگیاتربت کے علاقے ڈگاری کہن سے تعلق رکھنے والے نوجوان انس ولد نادل، جو 13 تاریخ کو تقریباً صب...
15/09/2026

گمشدہ نوجوان انس سے رابطہ ہوگیا

تربت کے علاقے ڈگاری کہن سے تعلق رکھنے والے نوجوان انس ولد نادل، جو 13 تاریخ کو تقریباً صبح 9 بجے موٹر سائیکل خریدنے کے لیے گھر سے نکلا تھا اور اس کے بعد سے لاپتہ تھا، سے بالآخر رابطہ ہوگیا ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق انس سے رابطہ ہونے کے بعد ان کی تشویش اور پریشانی ختم ہوگئی ہے۔ انس کی گمشدگی کے حوالے سے جاری اطلاع پر تعاون اور معلومات فراہم کرنے والے تمام افراد کا اہلِ خانہ نے شکریہ ادا کیا ہے۔

الحمدللہ، انس خیریت سے ہے۔

گمشدگی کی اطلاعانس ولد نادل، جس کا تعلق تربت کے علاقے ڈگاری کہن سے ہے، 13 تاریخ کو تقریباً صبح 9 بجے موٹر سائیکل خریدنے ...
15/09/2026

گمشدگی کی اطلاع

انس ولد نادل، جس کا تعلق تربت کے علاقے ڈگاری کہن سے ہے، 13 تاریخ کو تقریباً صبح 9 بجے موٹر سائیکل خریدنے کے لیے گھر سے نکلا تھا، لیکن تاحال اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔

اس کا موبائل نمبر بھی بند جا رہا ہے، جبکہ اہلِ خانہ شدید پریشانی، کرب اور مصائب سے گزر رہے ہیں۔ اہلِ خانہ نے متعلقہ حکام سے انس کی فوری بازیابی کے لیے مدد اور تعاون کی اپیل کی ہے۔

اگر کسی شخص نے انس کو دیکھا ہو یا اس کے بارے میں کوئی معلومات رکھتا ہو تو براہِ کرم نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ کریں۔

رابطہ نمبر: 0320 8205260
03228193458

کہدہ یوسف محلہ میں نئی واٹر سپلائی اسکیم ادھوری، علاقہ مکینوں کا انکوائری کا مطالبہتربت: آبسر گراؤنڈ، کہدہ یوسف محلہ میں...
15/09/2026

کہدہ یوسف محلہ میں نئی واٹر سپلائی اسکیم ادھوری، علاقہ مکینوں کا انکوائری کا مطالبہ

تربت: آبسر گراؤنڈ، کہدہ یوسف محلہ میں گزشتہ سال شروع ہونے والی نئی واٹر سپلائی اسکیم کا کام مبینہ طور پر ادھورا چھوڑ دیے جانے پر علاقہ مکینوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے کی بندش اور فنڈز کے استعمال سے متعلق شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق مذکورہ واٹر سپلائی اسکیم سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے فراہم کردہ فنڈز سے شروع کی گئی تھی، تاہم منصوبہ مکمل ہونے سے قبل ہی کام روک دیا گیا اور اب فنڈز کی کمی یا فنڈز ختم ہونے کو کام کی بندش کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب نیشنل پارٹی کے بعض ذمہ داران کا مؤقف بتایا جاتا ہے کہ واٹر سپلائی اسکیم کے لیے مختص فنڈز مکمل طور پر فراہم کیے جا چکے تھے۔ ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ اگر منصوبے کے لیے مطلوبہ فنڈز جاری ہو چکے تھے تو تعمیراتی کام کس وجہ سے ادھورا چھوڑا گیا؟ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت، جاری شدہ فنڈز، اب تک ہونے والے اخراجات اور باقی ماندہ کام کی تفصیلات عوام کے سامنے لائیں۔

کہدہ یوسف محلہ کے مکین پہلے ہی پینے کے صاف اور میٹھے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ علاقے میں موجود دو پرانی واٹر سپلائی اسکیمیں انتہائی خستہ حالت میں ہیں اور ان کے انتظام و مرمت کے لیے مقامی سطح پر چندہ جمع کرنا پڑتا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ “چندہ ہو تو پانی، چندہ نہ ہو تو پانی بھی نہیں۔”

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایک پرانی اسکیم کا پانی انتہائی کھارا ہونے کے باعث پینے کے قابل نہیں، جبکہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اس کی موٹر بھی بار بار خراب ہوتی رہتی ہے۔ دوسری پرانی واٹر سپلائی اسکیم بھی آئے روز فنی خرابیوں کا شکار رہتی ہے، جس کے باعث مکینوں کو پانی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

علاقہ مکینوں نے نئی واٹر سپلائی اسکیم سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں کہ اس کی تکمیل کے بعد برسوں پرانا پانی کا مسئلہ کسی حد تک حل ہو جائے گا، لیکن منصوبے کا کام ادھورا چھوڑے جانے سے ان کی مشکلات اور مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔

علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واٹر سپلائی اسکیم کی بندش، جاری و خرچ کیے گئے فنڈز اور کام ادھورا چھوڑنے کی وجوہات کی باقاعدہ انکوائری کی جائے، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور منصوبے کو فوری طور پر دوبارہ شروع کرکے مکمل کیا جائے تاکہ کہدہ یوسف محلہ کے مکینوں کو پینے کے صاف پانی کی بنیادی سہولت میسر آسکے۔

Address

Turbat

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice Of Kech posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share