18/09/2026
بے بس باپ
تحریر : ساجدنور
بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جہاں کے باسیوں کو روزِ اول سے دو لڑائیاں لڑنی پڑتی ہیں ایک بیماری اور موت کے ساتھ اور دوسری اُس نظام کے ساتھ جو اُن کی زندگیوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ جب کسی علاقے میں بیماری کے سبب کوئی شہری انتقال کر جاتا ہے تو اسے تقدیر کا لکھا ہوا کہہ کر اُنکی نعش کو دفن کر دیا جاتا ہے لیکن جب ایک ڈاکٹر اپنی ہی بیٹی کی جان بچانے سے قاصر رہ جائے تو یہ تقدیر نہیں یہ سراسر ریاستی ناکامی ہے۔
ڈاکٹر اقبال بلوچ ایک ایسے ڈاکٹر باپ ہیں جنہوں نے اپنی بارہ سالہ بچی کو زہریلے بچھو کے کاٹنے کے بعد بچانے کے لیے ایک عام انسان کی طرح تگ و دو کی، مگر آخر کار انہیں اپنی بیٹی کی لاش لیے سات سو کلومیٹر کے قریب سفر طے کرنا پڑا۔ یہ صرف ایک ڈاکٹر کی کہانی نہیں ہے یہ بلوچستان کے ہر اُس باپ، ماں، بہن اور بھائی کی کہانی ہے جو گزشتہ 79 سالوں سے سرکاری اسپتالوں میں اپنے عزیزوں کی میتیں اُٹھاتے آئے ہیں۔
ڈاکٹر اقبال بلوچ انٹرنل میڈیسن کے فزیشن ہیں وہ جانتے ہیں کہ کریٹیکل کیئر کیا ہوتی ہے انہیں معلوم تھا کہ زہریلے بچھو کے کاٹنے سے خون کے سرخ خلیے ٹوٹتے ہیں (Hemolysis) گردے فیل ہو جاتے ہیں (Acute Kidney Injury) دل کے پٹھے سوزش کا شکار ہوتے ہیں (Acute Myocarditis) اور پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے (Pulmonary Edema) وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اِس صورتِ حال میں مریض کو وینٹی لیٹر، جدید آئی سی یو اور چوبیس گھنٹے کی نگرانی درکار ہوتی ہے مگر تربت کے ٹیچنگ اسپتال میں یہ سب کچھ موجود نہیں تھا۔
ہمارے اسپتالوں کے “ایچ ڈی یو” (ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس) صرف کاغذوں پر قائم ہیں ,کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ دو اے سی اور دو اسٹاف ممبران کے ساتھ ایک ڈاکٹر کو اپنی بیٹی کی جان بچانے کے لیے خود ہی رات بھر جاگ کر ایف ایف پی اور خون لگاتے رہنا پڑا۔ جب نبض دو سو تک پہنچ گئی اور آکسیجن نوے پر آ گئی تو ڈاکٹر باپ نے فیصلہ کیا کہ بچی کو کراچی لے جایا جائے۔
وہ بے بس ڈاکٹر باپ کرائے کی گاڑی میں اپنی بچی کو لے کر محوِ سفر ہو گئے *کیونکہ سرکاری ایمبولینس قومہ میں گئی ہوئی تھیں*۔
کرائے کی گاڑی کی پچھلی نشست پر انتہائی نازک حالت میں سفر کرتی ہوئی ایک بچی اور ایک باپ جو راستے میں سی پی آر بھی کرتے رہے اور ایک گھنٹے بعد وہ بچی اپنے باپ کی بانہوں میں دم توڑ گئی۔ ایک ڈاکٹر جو دوسروں کی جانیں بچانے کا عادی تھا اپنی ہی بیٹی کی جان نہ بچا سکا۔
سوال یہ ہے کہ قصور کس کا ہے؟
ڈاکٹر اقبال بلوچ نے خود کہا “میں کسی ایک ڈاکٹر، اسٹاف یا ایڈمنسٹریٹر پر الزام نہیں لگا رہا۔ میں مجموعی طور پر اِس نظام کی ناکامی اور بے بسی کو اِس واقعے کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔”
کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ سکورپین اینٹی وینم (Scorpion Antivenom) جو دنیا بھر میں دستیاب ہے مگر مکران میں دستیاب نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے بچے آئندہ بھی اسی طرح اپنی قیمتی جانیں گنواتے رہیں گے؟ کیا ہر سال سینکڑوں جانیں لینے والے اِس زہریلے بچھو کے خلاف ویکسین یا اینٹی وینم مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے؟
ٹیچنگ اسپتال تربت میں مکمل آئی سی یو کیوں نہیں ہے؟ کیا مکران کے لوگ انسان نہیں ہیں؟ کیا اُن کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ جب ایک ڈاکٹر کو اپنے بچی کے لیے آٹھ سو کلومیٹر دور جانا پڑے تو ایک عام شہری کا کیا بنے گا؟
اور یہ “کاغذی سہولیات” کب تک نمائش کے طور پر پیش ہوتی رہیں گی؟ ہر سال حکومت بجٹ میں کروڑوں روپے مختص کرتی ہے۔ بلوچستان حکومت نے پچھلے بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے ستاسی87 ارب روپے مختص کیے ، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایک ایچ ڈی یو میں دو پنکھے اور دو اسٹاف ممبران ہوتے ہیں یہ کس کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے؟
ڈاکٹر اقبال بلوچ کی بچی اب اِس دنیا میں نہیں رہی مگر یہ درد اور یہ بے بسی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمارے نظام کی ہولناک حقیقت صاف نظر آتی ہے اگر ہم نے آنکھیں اسی طرح بند کیے رکھیں تو کل کوئی اور باپ کوئی اور ماں اپنے بچے کی لاش کرائے کی گاڑی کی پچھلی نشست پر رکھ کر گھر لوٹے گا۔