06/02/2024
اب ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ کیا ان تین بڑی جماعتوں کے علاوہ دوسری مذہبی جماعتوں کو ووٹ دینا چاہئے ؟؟ یا جب یہ نظام جو ہمارے ملک میں رائج ہے غیروں کا غلام ہے ،تو اس کے خلاف بغاوت کرنی چاہیے ؟؟
"نہیں ہر گز نہیں " ایسا کیا تو ہمارےملک کی سلامتی ہی خطرے میں پڑھ جائے گی (خدا نخواستہ )اور موجودہ مذہبی جماعتوں میں بے شک کچھ خیر موجود ہے لیکن ہمیں اسلام کے نام پر کوئی ایسی جماعت متحد نہیں کرسکتی جس کی قیادت پر کسی خاص مسلک/فرقہ کی چھاپ لگی جیسے جے یو آئی ، ٹی ایل پی وغیرہ اور نہ ہی ایسی جماعت کے جن کی انفرادی زندگیوں میں دین نظر نہ آتا ہو جیسے جماعت اسلامی کی کثیر تعداد اور نہ ہی مدارس اس کام کے ذمہ دار ہیں کیوںکہ ان کا بنیادی مقصد دینی علوم کی تعلیم اور افتاء کے مسائل کا حل ہے اور نہ ہی ہمیں ایسی جماعت یہ کامیابی دلا سکتی ہے جو دینی عبادات اور اخلاقیات تک محدود ہو اور باطل کے خلاف آواز تک نہ اٹھاتی ہو جیسے تبلیغی جماعت و دعوت اسلامی وغیرہ۔
ہمیں ایک ایسی جماعت چاہیے جو جمہوری نظام کے بجائے اسلام کے اصل نظام خلافت قائم کرے، جو دینی عبادات اور انفرادی اخلاقیات پر بھی محنت کرتی ہو اور سیاست اور اقتدار کی قابلیت بھی رکھتی ہو۔ جس میں ہر مکاتب فکر کے مخلص علماء کرام بھی ہوں اور ماہر معیشت اور دیگر فنون کے ماہر افراد بھی ہو ، ہر قوم ، ہر نسل اور ہر زبان بولنے والوں کو اس جماعت میں یکساں مقام حاصل ہو اور اراکین جماعت کی عزت و تقدس کا معیار صرف تقویٰ اور قابلیت پر ہو۔
اس انقلابی جماعت کے قیام کے لیے ہمیں قرآن کریم کی بنیادی تعلیم کو عوام میں عام کرنا ہوگا، یہ سونچ ختم کرنی ہوگی کے قرآن سمجھنا صرف علمائے کرام کا کام ہے بیشک قرآن کی تفسیر اور اس سے مسائل کا استنباط ہرگز عوام کا کام نہیں لیکن قرآن سے براہ راست نصیحت لینا ہر مسلمان کے ایمان کے لیے ضروری ہے جو کچھ مشکل نہیں ۔
ہر مسلمان کو مستند ذرائع سے قرآن کا کم از کم اتنا علم ضرور حاصل کرنا ہوگا جس کے ذریعے وہ قرآن کی اُن آیات کہ جن میں قران کی بنیادی دعوت و تذکیز ہے (توحید ، رسالت اور آخرت، تقویٰ ، دنیا کی بے رغبتی وغیرہ ) بغیر ترجمہ کے سمجھ سکے تاکہ قرآن ہمارے دلوں پر براہ راست اثر انداز ہوسکے اور جب ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد پیدا ہوجائے گی تو فرقہ واریت ، لسانی و قومی تعصب سب ختم ہوجائے گااور اللہ کی طرف سے ایسے افراد کو جماعت کی شکل بھی نصیب ہوجائے گی اور عظیم متقی قیادت کا انتظام بھی ہوجائے گا ان شاء اللہ ۔ ہمیں تو بس اس جماعت کے بہترین کارکن بننے اور اپنے قرب جوار میں اس کی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کرنی ہے۔
ہر مسلمان کا قرآن سے تعلق کتنا ضرور ی اس کے لیے یہ ویڈیو لنک شئیر کررہا ہوں۔