Technical Tariq

Technical Tariq Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Technical Tariq, Karachi.

08/06/2019
کافی سال پہلے کی بات ہے فرانس کے حکام نے "کالی مکھی" سے تنگ آ کر اُسے ختم کرنے کا منصوبہ بنایا اور عام اعلان کے ذریعے اپ...
30/09/2018

کافی سال پہلے کی بات ہے فرانس کے حکام نے "کالی مکھی" سے تنگ آ کر اُسے ختم کرنے کا منصوبہ بنایا اور عام اعلان کے ذریعے اپنی عوام کو حکم دیا کہ ہر شخص روزانہ اپنے حصے کی دس مکھیاں مارے گا، اور ساتھ ہی تمام گندگی کے جوہڑ، کوڑا کرکٹ اور کھلے پانی کی جگہ کو بند کرنے کا پروگرام بھی ترتیب دیا گیا۔ یہ عمل کوئی چھ مہینے چلا اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ فرانس میں ایک بھی کالی مکھی باقی نہ بچی اور اِسے فرانس کی حکومت نے اپنی بہت بڑی کامیابی سمجھا۔۔۔!!!
لیکن۔۔۔لیکن۔۔۔اُس کے بعد کیا ہوا۔۔۔؟ جانتے ہیں آپ۔۔۔؟
اُس سال فرانس میں گندم کی فصل کی پیداوار ہی نہیں ہو سکی، کسانوں کے ساتھ ساتھ حکومت اور زرعی ایکسپرٹ بھی بہت پریشان ہوئے کہ آخر ایسی کیا خرابی پیدا ہو گئی کہ گندم کے سٹے چند انچ کے بعد خود ہی مرجھانے لگے اور گل سڑ کے گِرنے لگے۔۔؟؟؟
کافی تحقیق اور تجربوں کے بعد یہ چیز ثابت ہوئی کہ وہ کالی مکھی اُن مضر اور مہلک بیکٹیریاز کو کھا جاتی تھی جو گندم کی فصل کو تباہ کرتے تھے یا اُگنے سے روکتے تھے، چونکہ اب کوئی کالی مکھی باقی ہی نہ بچی تو پھر اُن بیکٹیریاز نے گندم کی فصل پر حملہ کر دیا اور نتیجتاً فرانس بھر میں کہیں بھی گندم کی پیداوار نہ ہو سکی۔
آخر فرانس کی حکومت کو بیرونِ ملک سے کالی مکھیاں امپورٹ کرنی پڑیں اور پھر کہیں جا کر اُن کا یہ مسئلہ حل ہوا۔۔!!
اِس لیے قدرت کی بنائی ہوئی کسی بھی چیز کو نکما یا بےکار نہ سمجھیں اُس کے کیا فوائد ہیں یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
اگر آپ کو یہ پوسٹ اچھی لگے تو پیج کو لائیک کرنا مت بھولنا آپ کی مہربانی شکریہ

ماؤں کے لئے !بچوں کی اچھی عادات کے فوائد:::::::::::::::::::::::::::::::::::::دیکھئے ! بچوں کی عادتیں ہم خود بگاڑتے ہیں ا...
30/09/2018

ماؤں کے لئے !
بچوں کی اچھی عادات کے فوائد
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::

دیکھئے ! بچوں کی عادتیں ہم خود بگاڑتے ہیں اور جب وہ بگڑی عادتیں ان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہیں تو پھر ہم ان کی اصلاح شروع کر دیتے ہیں۔ بہتر نہیں کہ شروع سے ہی بہتر عادتیں ڈالی جائیں ؟ مثلا آپ یہی دیکھ لیجئے کہ شیر خوار بچے کو ہم غیر ضروری طور پر گود میں اٹھانے لگتے ہیں۔ اب بچہ تو اس عمر میں بھی اس عمر کے تقاضے جتنی ذہانت رکھتا ہے۔ چنانچہ بہت جلد وہ یہ جان جاتا ہے کہ گود سے بڑی کوئی عیاشی نہیں۔ یوں وہ بار بار اس عیاشی یعنی گود کے لئے رونا شروع کردیتا ہے اور اسے ہر وقت گود میں اٹھائے رکھنا آپ کے بس میں نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہوتا پھر یہ ہے کہ آپ اس کا یہ تقاضا پورا نہیں کرپاتے اور وہ رور رو کر انتہائی کم عمری میں نفسیاتی مسائل سے دوچار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ عمر تھوڑی مزید بڑھتی ہے اور وہ چلنا شروع کر دیتا ہے تو آپ اسے بار بار گھر کے باہر پورچ یا گلی تک لے جانے لگتے ہیں۔ یہ کام بھی آپ اس کثرت سے کرتے ہیں کہ وہ فورا سمجھ جاتا ہے کہ اصل عیاشی تو "کھلی فضاء" ہے اب وہ یہ تو نہیں جانتا کہ کھلی فضاء ہر وقت کی عیاشی نہیں چنانچہ وہ اس کے لئے رونا دھونا شروع کردیتا ہے اور چونکہ اسے ہر وقت باہر گھمانا آپ کے بس میں نہیں ہوتا تو اس کا مقدر آنسوؤں کےسوا کچھ نہیں ہوتا یہ رونا اسے مزید نفسیاتی مسائل میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہم نے صلاح الدین سے لے کر وقاص تک کسی کو بھی اس طرح کی لامحدود عیاشیاں نہیں کرائیں۔ گود میں انہیں اتنا ہی اٹھایا جتنے سے انہیں عادت نہیں پڑی۔ باہر بھی انہیں اتنا ہی لے کر گئے جتنا لے جانے سے انہیں عادت نہیں پڑی۔ یہ تو ہوئی بہت ہی چھوٹی عمر کے بچوں کی بات۔ اب ذرا عاقل بالغ بچوں کی جانب آجائے !

ہمارے تینوں بیٹوں کو ہم نے شروع سے ہی اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈال دی تھی۔ چنانچہ اسی کا نتیجہ ہے کہ چھ سال کی عمر کے بعد ان کی ماں نے کبھی ان کے سکول شو پالش نہیں کئے اور بارہ سال کی عمر کے بعد ان میں سے کسی کے بھی کپڑے ماں نے استری نہیں کئے۔ اپنے سارے کام خود کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ آج یہ تک کسی کو نہیں کہتے

"یار پانی پلانا !"

وہ اپنا پانی خود اٹھ کر پیتے ہیں۔ کھانا ان کے آگے ماں لاکر رکھتی ہے لیکن برتن یہ بچے خود سنبھالتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ دیکھئے ! صلاح الدین کی شادی ہوگئی تو ظاہر ہے گھر میں بہو آگئی۔ اب بہو بیچاری تو گویا ہوتی ہی ہر گھر کی "چیف ماسی" ہے۔ گھر کا سارا کام کاج اسی کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ ہر ایک اسی کو حکم جاری کرتا ہے۔ لیکن ہمارے گھر میں حرام ہے جو طارق یا وقاص اپنی بھابی کو کسی کام کا کہتے ہوں۔ کیوں ؟ کیونکہ انہیں بچپن ہی سے اپنے کام خود کرنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ مجھے بس ایک ہی بار از راہ احتیاط یہ ہدایت نامہ جاری کرنا پڑا

"اپنے کام اب بھی خود ہی کرنے ہیں !"

خدا گواہ ہے کہ میرے دونوں بیٹوں نے اس کا رتی برابر بھی برا نہیں منایا اور ان کی بھابی چونکہ ان کی کزن بھی ہیں جنہیں وہ بچپن سے جانتے ہیں تو زبردست قسم کا دوستانہ ماحول قائم ہے۔ اب اگر آپ غور کیجئے تو بچپن میں ڈالی گئی اچھی عادتوں کا بڑی عمر میں جا کر کتنا زبردست فائدہ ہوتا ہے ؟ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میری بہو میرے گھر کی "ماسی" نہیں بہو ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ خواتین گھر پر تو اچھے کپڑے پہنتی نہیں، باہر جاتی ہیں تو تیار ہونے لگتی ہیں۔ بھئی وہ گھر میں اچھے کپڑے کیسے پہنے ؟ ہر دو منٹ بعد آپ کے گھر کا کوئی نواب اسے کچن میں آگ، تیل اور مسالوں میں جھونک دیتا ہے تو وہ وہاں نئے اور اچھے کپڑے کیسے برباد کرے ؟ کیا وہ کچن کے پسینے میں بہانے کے لئے میک اَپ کر سکتی ہے ؟ پہلے اپنے گھر کا نظام متوازن کیجئے اور پھر دیکھئے کہ وہ گھر میں بھی تیار ہوتی ہے کہ نہیں ؟ تیار ہونا یعنی سجنا سنورنا عورت کا شوق بھی ہے اور ذوق بھی۔ اس شوق اور ذوق کی تکمیل کے لئے اسے مناسب موقع تو دیجئے !

آخری گزارش یہ کہ ہماری بہو بھی تو ہماری بچی ہے۔ سو اسے بھی اس نئی زندگی کی چند چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ماں بننے کے بعد جو اہم ترین چیز اس بچی کو میں نے سکھائی ہے وہ یہ ہے کہ گھر پر بچے کو ڈائپر میں رکھنے والی ماں "نالائق اور نکمی ماں" ہوتی ہے۔ ڈائپر بچے کو تب پہنایا جائے جب آپ اسے گھر کے باہر لے جا رہے ہوں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا کہ وہ روز کئی گھنٹے تک اپنا پاخانہ اور پیشاب اٹھائے پھرے ؟ خدا گواہ ہے، میں جب کسی کے گھر جاتا ہوں اور وہ اپنا کوئی چھوٹا سا بچہ میری گود میں لا ڈالتے ہیں اور اس بچے نے ڈائپر پہن رکھا ہو تو مجھے یہی لگتا ہے کہ میری گود میں پانچ کلو بچہ، سوا کلو پاخانہ اور ڈیڑھ لیٹر پیشاب لاکر ڈالدیا گیا ہے۔ چنانچہ مجھے اس بچے سے باقاعدہ کراہت ہونے لگتی ہے اور میں جلدی سے اس سے جان چھڑا لیتا ہوں۔ اللہ کا واسطہ ! گھروں پر بچوں کو ڈائپر میں مت رکھا کیجئے۔ ہمارا عمر عالم گھر پر ڈائپر میں نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے اس عمر میں بچہ بار بار پیشاب کرتا ہے سو وہ کرتا ہے اور ماں اسے صاف کرتی ہے، درجنوں پجامے اور پلاسٹک پر بچھائے جانے والے کپڑے گندے ہوتے ہیں سو ہوتے ہیں اور اس کی ماں انہیں دھوتی ہے۔ جنت ویسے ہی ماؤں کے قدموں تلے تھوڑی رکھدی گئی ہے۔ اگر بچوں نے پاخانے ڈائپر میں اٹھائے پھرنے ہیں تو جنت پھر ماؤں کے قدموں تلے نہیں بلکہ ڈائپر بنانے والی کمپنی کے مالک کے قدموں تلے تلاش کرنی شروع کر دیجئے !

گیدڑ سنگهیگیدڑ سنگهی دراصل گیدڑ کے سر میں نکلنے والا ایک دانا (پهوڑا ) ہوتا ہے جو کہ اسکے سر میں اپنی شاخیں پهیلاتا ہے ا...
21/04/2018

گیدڑ سنگهی

گیدڑ سنگهی دراصل گیدڑ کے سر میں نکلنے والا ایک دانا (پهوڑا ) ہوتا ہے جو کہ اسکے سر میں اپنی شاخیں پهیلاتا ہے اور ایک خاص حد تک بڑا ہونے کے بعد خود بخود جهڑ کر گر جاتا ہے گرنے کے بعد بهی یہ جاندار رہتا ہے ، اور اسے جادو ٹونے کرنے والے اٹها کر لے جاتے ہیں اور اپنے خاص مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں.
اسے سندور میں ہی رکها جاتا ہے ورنہ اسکی بڑهوتری ختم ہوجاتی ہے یہاں تک کہ یہ مر جاتا ہے ...کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ نر اور مادہ حالتوں میں ہوتا ہے ...
جادوگروں کے پاس شوہر یا محبوب یا سسرال والوں کو قابو کرنے کے خواہش مند خصوصاً محبت کا حصول چاہنے والے مرد و زن جب آتے ہیں تو انہیں ایک مخصوص رقم کے عوض یہ گیدڑ سنگهی دی جاتی ہے، گیدڑ سنگهی کی ہمیشہ جوڑی ( نر اور مادہ ) ایک ساتھ رکهی جاتی ہے ورنہ بقول ان بد عقیدہ لوگوں کے یہ کام نہیں کرتی اور بے کار ہوجاتی ہے .

اسکے علاوہ لوگ نعوذباللہ اسے شوقیہ گهر میں خیر و برکت کے لیے ، روزگار کے حصول کے لئے، دولت میں اضافے کے لئے خریدتے ہیں اور بہت عقیدت سے اپنے پاس رکهتے ہیں .

گیدڑ سنگهی کے بال باقاعدہ بڑهتے ہیں اور انکی باقاعدگی اور ایک خاص طریقے سے تراش خراش بهی کی جاتی ہے یہ تو تهی گیدڑ سنگهی کے بارے میں وہ معلومات اور عقائد جو مجهے پتا چلے اور میں نے اپنا فرض جان کر آپ تک پہنچائے.
اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان میں کیا سچ ہے اور کیا جهوٹ کیونکہ اللہ ہی سب سے بہتر علم رکهنے والا ہے .
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ گیدڑ سنگهی جیسی عجیب الخلقت چیز کو لوگوں کو فروخت کرتے ہیں وہ بهی اس دعوے سے کہ اسے رکهنے سے آپکے معاشی مسائل دور ہوں گے اور آپ کے گهر روپے پیسے کی ریل پیل ہوگی تو کیا ان لوگوں کی خود کی رہائش اور حلیے دیکھ کر بهی لوگوں کو عقل نہیں آتی . ؟
انکے ذہنوں میں یہ سوال نہیں ابھرتا کہ فروخت کرنے والے کے پاس تو نجانے کتنی تعداد میں انکی جوڑیاں موجود ہیں پهر وہ کیوں ابهی تک خالی ہاتھ ہیں .
ان خالی الذہن لوگوں کو کوئی بتائے کہ یہ بهی بڑا شرک ہے کہ:
تم اللہ کے ہوتے ایک ڈرپوک جانور کے جسم سے خارج ہوئے پهوڑے کو اپنا مشکل کشا مانتے ہو:
لعنت ہو ایسی سوچ رکھنے والوں پر پهر ہندوؤں اور انکے درمیان فرق کیا رہ گیا فقط دن میں پانچ وقت زمین پر ٹکریں مارنے کا ..... جبکہ ان بد نصیبوں کو تو پتا ہی نہیں ہے کہ ان کے گهر کی خوشیاں ، خیروبرکت اور رونق اس بد شکل شے کی وجہ سے نہیں بلکہ بے دلی سے ہی سہی لیکن پانچ وقت رٹی رٹائی سورتیں ، آئیتں پڑهنے اور زمین پر سجدہ کرتے وقت سبحان ربی اعلیٰ کہنے کی ہی بدولت ہیں ...
کاش کہ انکو عقل آسکے .... اللہ انہیں بھلائی و ہدایت عطا فرمائے... آمین

21/07/2017

بالوں کو سیاہ کرنے کا جادوائی طریقہ

ہر کوئی یہ سمجھتاہے کہ اگر بال سفید ہوجائیں تو پھر انہیں سیاہ نہیں کیا جاسکتا اور اس لیے لوگ مختلف طرح کے ہیئر کلر استعمال کرتے ہیں لیکن آج ہم آپ کو سفید بالوں کو دوبارہ کالا کرنے کا آسان ترین نسخہ بتاتے ہیں۔
اجزائ:۔
فلیکس سیڈ آئل (السی کاتیل)200گرام
لیموں چار عدد
لہسن کی تین توڑیاں
بنانے کا طریقہa
لیموں کا رس اور لہسن کو اچھی طرح پیس لیں ، اس کے بعد السی کا تیل اور شہد ڈالیں اور پھر پیس لیں۔اس مرکب کو کسی جار میں ڈال کر اچھی طرح بند کردیں اور مکسچر کو ریفریجریٹر میں رکھ دیں۔ہر کھانے سے 30منٹ قبل ایک بڑا چمچ مسکچر کا کھائیں اور ہمیشہ لکڑی یا پلاسٹک کا چمچ استعمال کریں۔یہ جادوئی مکسچر دن میں تین بار استعمال کرنے سے نہ صرف بال مضبوط ہوکر سیاہ ہونے لگیں گے بلکہ اس سے صحت بھی اچھی رہے گی۔

13/06/2017

کچھ طبی مشورے حکمت کے راز

گلے میں خراش ہو تو اپنے کان کے اندر کھجلی کریں کیوں کہ کان کے اندر رگوں کی بناوٹ ایسی ہے کہ وہاں خارش کرنے سے آپ کے گلے کو خودبخود سکون پہنچے گا۔۔
۔
کسی نہایت شور والی جگہ پر کسی کو سننے میں دشواری ہے؟؟ تو کسی شخص کی بات سننے کے لیے دائیں کان کا استعمال کریں کیوں کہ دایاں کان انسانی آواز کو زیادہ تیزی اور زیادہ بہتری سے کیچ کرتا ہے۔
۔
باتھ روم جانے کی سخت حاجت ہے لیکن باتھ روم پاس نہیں ہے۔۔۔کوئی بات نہیں اپنے پیارے لوگوں کے بارے زیادہ سے زیادہ سوچیں۔۔۔یہ خیالات آپ کے دماغ کو مصروف کر دیں گے اور آپ کا دماغ بھٹک جائے گا۔۔۔
۔
اگلی دفعہ جب بھی ٹیکہ لگوانے جائیں جیسے ہی ٹیکے کی سوئی جسم میں گھسے آپ ہلکا سا کھانس دیں۔۔۔ کیوں کہ کھانسی آپ کی ریڑھ کی ہڈی میں دباو پیدا کر دیتی ہے اور درد جو آپ کے دماغ کی جانب سفرکرنا ہی چاہ رہا ہوتا ہے اس کی شدت کم ہو جاتی ہے۔
۔
اگر آپ نے رات کو زیادہ کھانا کھا لیا ہے اور آپ نے کھانے کے بعد چہل قدمی بھی نہیں کی تو آپ اپنی بائیں جانب سوئیں ۔اس طرح آپ کی غذائی نالیاں آپ کے معدے سے نیچے رہیں گی اور آپ معدے کی تیزابیت محفوظ رہیں گے۔۔۔
۔
دانت میں درد ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔اپنے ہاتھ کی پچھلی جانب انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے مابین درمیان برف رگڑیں۔۔ہاتھ کے پچھلی جانب رگوں کا پھیلاو اس قسم کا ہے کہ منہ میں موجود دانتوں کا درد دماغ تک نہیں پہنچ پاتا۔۔۔

ناک سے خون نکل رہا ہے اور خون رک نہیں رہا؟؟ کاٹن لیں اور اپنا منہ کھول کر اوپر والے مسوڑے میں خالی جگہ رکھ کر زور سے دبا دیں کیوں کہ آپ کے ناک سے بہنے والا زیادہ تر خون مسوڑے کی اوپر والی جگہ سے آتا ہے۔۔۔
۔
نروس ہیں؟ دل کی دھڑکن قابو نہیں ہو رہی؟؟ اپنے ہاتھ کے انگوٹھے کو منہ میں لے کر پھونکیں ماریں۔۔۔۔ ایسا کرنے سے ہاتھ کے انگوٹھے سے منسلک جو رگ دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرتی ہے وہ اپنا کام تیز کر دے گی۔۔
۔
پانی کے نیچے سانس لینا ہے؟؟؟

اکثر یوں ہوتا ہے کہ پانی کی تہہ میں جانے سے پہلے ہم ایک لمبا سانس لیتے ہیں تا کہ پانی کے نیچے زیادہ وقت گزار سکیں۔۔۔ایسا کرنا درست نہیں۔۔پانی کے نیچے جانے سے پہلے تیزی سے چھوٹے چھوٹے سانس لیں۔۔ اور پانی میں چلے جائیں۔۔اس طرح آپ کے دماغ کو آپ دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جائیں کہ آپ کے پاس کافی آکیسجن جمع ہو گئی ہے کیوں کہ آپ کا دماغ ہی ہے جو آپ کو ڈراتا ہے کہ باہر آ جاو آکسیجن کم ہو ہو رہی ہے۔۔چھوٹے چھوٹے سانس لے کر پانی کی تہہ میں جانے سے آپ سات سے دس سیکنڈز زیادہ وقت گزار سکتے ہیں۔
۔
ہاتھ یا پاوں سو گئے ہیں؟؟ کوئی بات نہیں۔۔ابھی جگا لیتے ہیں۔۔اپنے سر کو دائیں سے بائیں یا کلاک وائز اور اینٹی کلاک وائز گھمانا شروع کر دیں۔۔چند سیکنڈز کے اندر اندر ہاتھ یا پاوں نیند سے بیدار ہو جائیں گے۔
۔
ہچکیاں آ رہی ہیں؟؟ْ اپنے انگوٹھے اور دوسری انگلی(شہادت کی انگلی کے ساتھ والی) کو اپنی بھنووں (آئی برو) پر رکھیں اور ہلکا سا دبائیں۔۔کچھ دیر ایسا رہنے دیں ہچکی رک جائے گی ۔۔۔ان شاء اللہ۔

13/06/2017

مسے اور موہکوں کیلیے:

کسی پان فروش سے پان کے ڈنٹهل اور تهوڑا سا چونا لے لیں،ڈنٹهل کو چونے ساته اتنا مسلیں کہ ڈنٹهل سے پانی نکلنے لگے اب اس چونا لگے ڈنٹهل کو مسے یا موہکے پر لگا دیں،چند گهنٹے یا رات بهر لگا رہنے کے بعد صبح اتار کر منہ دهو لیں،تهوڑا عرصہ اس پر عمل کریں موہکے خشک ہو کر جهڑ جائیں گے اور نشان بهی نہیں چهوڑیں گے.

نوٹ:

چونے پر مشتمل یہ ڈنٹهل جلد پر آسانی سے نہیں ٹهہرتا اس لیے پر سنی پلاسٹ لگا لیں

04/06/2017

بسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم
ا لسَـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ

دنیا کی زینتیں:
1-ماں اور باپ
2-نیک اولاد
3-نیک بیوی اور خاوند
4-ہمدرد دوست

آخرت کی زینتیں:
1- علم
2- تقوہ
3-صدقہ
4- حقوق العباد

جسم کی زینتیں:
1- کم کھانہ
2- کم سونا
3- کم بولنا
4- کم ہنسنا

دل کی زینتیں:
1- صبر
2- ذکر
3- شکر
4- غور فکر

ایمان کی زینتیں:
1: حیا
2- پاکیزگی
3- سچائ
4- عدل

اللہ سبحانہ و تعالی آپ سب کو ان تمام زینتوں سے آراستہ فرمآئے آمین

کچھ باتیں جن سے اللہ سخت ناراض ہوتا ہے:

1: اولاد کو گالی دینا خصوصا بیٹی کو۔
2- دل میں بغض رکھنا
3- مہمان کو دیکھ کر منہ بنانا۔

4- آذان کے وقت کام میں مصروف رہنا۔

5- ماں باپ کی عقل کو کوسنا۔
6- نماز کے بعد دعا نہ مانگنا۔
7- کھڑے ہو کر پانی پینا۔

✒9 باتیں جو روزمرہ زندگی میں بهت فائدہ مند ہیں:

🍒اگر خوشی چاهتے هو تو( وقت پر نماز ادا کرو)..

🍒اگر چہرے کو پر رونق بنانا چاهتے هو تو( تہجد پڑهو...)

🍒اگر سکون چاهتے هو تو( قرآن کی تلاوت۔

🍒اگر صحت چا هتے هو تو (روزہ رکهو)۔

🍒اگر مصيبتوں کا حل چاهتے هو تو (استغفار کرو).

🍒اگر برکت چاهتے ہو تو( درود پڑهو).

🍒اگر مشکلات ختم کرنا چاهتے هو تو پڑهو (لا حول ولا قوة إلا باللہ ).

🍒اگر غموں سے نجات چاهتے هو تو (دعا مانگو).

🍒اگر بغیر تهکاوٹ کے نیکیاں کمانا چاهتے هو تو اسے آگے بهیجو اور سمجهو یہ تمهارے لیے اور تمهار
والدین کے لیے صدقہ جاریہ هے.

╭┄┅─══════════─┅┄╮
محمدطارق

╰┄┅─══════════─┅┄╯

04/06/2017

مسیحا بنو ! ایک بچے کی رب سے دعائیں
یہ تحریر پڑھتے پڑھتے آنکھوں میں کئی بار آنسو آ گئے، ایک آٹھ سال کا بچہ مسجد کے ایک طرف کونے میں اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے نہ جانے کیا مانگ رها تها، کپڑوں میں پیوند لگے تھے مگر نہایت صاف تهے، اس کے ننھے ننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے اور وہ بالکل بےخبر اللہ پاک سے باتوں میں لگا ہوا تھا جیسے ہی وہ اٹھا ایک اجنبی نے بڑھ کر اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا اور پوچها اللہ پاک سے کیا مانگ رھے ہو؟ اس نے کہا کہ میرے ابو مر گئے ہیں، ان کیلئے جنت میری امی ہر وقت روتی رہتی ہیں، اس کیلئے صبر، میری بہن ماں سے کپڑے مانگتی ہے، اس کیلئے رقم اور دنیا کی منافقت سے پناہ مانگ رہا ہوں، اجنبی نے سوال کیا کہ کیا آپ سکول جاتے ھو؟ بچے نے کہا هاں جی جاتا ہوں، اجنبی نے پوچھا کہ کس کلاس میں پڑھتے ہو، بچے نے کہا نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا بلکہ ماں چنے بنا دیتی ہے وہ سکول کے بچوں کو فروخت کرتا ہوں، بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ہیں، ہمارا یہ کام دھندا ہے، بچے کا ایک ایک لفظ میرے جذبات کو چھید کر روح میں اتر رہا تھا، تمہارا کوئی رشتہ دار اجنبی نہ چاہتے ہوئے بھی بچے سے پوچھ بیٹھا؟
امی کہتی ہیں غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا کیونکہ امی کبھی جھوٹ نہیں بولتی، لیکن انکل جب ہم کهانا کها رہے ہوتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ امی اپ بهی کھائیں تو وہ کہتی ہیں بیٹا میں نے کها لیا ہے اس وقت لگتا ہے وہ جھوٹ بول رہی ہیں، بیٹا اگر گھر کا خرچ مل جائے تو تم پڑھو گے؟ بچہ نے کہا بالکل بھی نہیں کیونکہ تعلیم حاصل کرنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ہیں ہمیں کسی پڑھے ہوئے انسان نے کبھی نہیں پوچھا سب پاس سے گزر جاتے ہیں، اجنبی حیران بهی تها اور پریشان بهی، پهر اس بچے نے کہا کہ ہر روز اسی مسجد میں آتا ہوں کبھی کسی نے نہیں پوچھا، شاید آپ اجنبی ہیں، یہاں تمام آنے والے میرے والد کو جانتے تھے، مگر ہمیں کوئی نہیں جانتا، بچہ زور زور سے رونے لگا، انکل جب باپ مر جاتا ہے تو سب اجنبی بن جاتے ہیں، میرے پاس بچے کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا، ایسے کتنے معصوم ہونگے، جو حسرتوں سے زخمی ہیں، بس خدارا ایک کوشش کیجئے اور اپنے ارد گرد ایسے ضرورت مند یتیموں اور بےسہارا کو ڈهونڈیں اور ان کی مدد کیجئیے، چیریٹی اداروں اور این جی اوز کو دینے کے بجائے اس طرح کے افراد کی مدد کریں، سیلیبریٹی بننے کے چکر میں کسی غیر ضروری جگہ سیمنٹ یا اناج کی بوری دینے سے پہلے اپنے آس پاس کسی غریب کو دیکھ لیں شاید اسکو آٹے کی بوری زیادہ ضرورت ہو، تصویر یا ویڈیو بھیجنے کی جگہ یہ میسج کم ازکم ایک یا دو گروپ میں ضرور شئیر کریں، خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش جاری رکھیں..........
مزید سبق آموز, اسلامی،طبی اور دلچسپ پوسٹس حاصل کرنے کے لیئے مجھے فالو کریں میرا پیج لائیک کریں اس طرح میری تمام پوسٹس آپکو ملتی رہیں گی.

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Technical Tariq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Technical Tariq:

Share