04/06/2017
مسیحا بنو ! ایک بچے کی رب سے دعائیں
یہ تحریر پڑھتے پڑھتے آنکھوں میں کئی بار آنسو آ گئے، ایک آٹھ سال کا بچہ مسجد کے ایک طرف کونے میں اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے نہ جانے کیا مانگ رها تها، کپڑوں میں پیوند لگے تھے مگر نہایت صاف تهے، اس کے ننھے ننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے اور وہ بالکل بےخبر اللہ پاک سے باتوں میں لگا ہوا تھا جیسے ہی وہ اٹھا ایک اجنبی نے بڑھ کر اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا اور پوچها اللہ پاک سے کیا مانگ رھے ہو؟ اس نے کہا کہ میرے ابو مر گئے ہیں، ان کیلئے جنت میری امی ہر وقت روتی رہتی ہیں، اس کیلئے صبر، میری بہن ماں سے کپڑے مانگتی ہے، اس کیلئے رقم اور دنیا کی منافقت سے پناہ مانگ رہا ہوں، اجنبی نے سوال کیا کہ کیا آپ سکول جاتے ھو؟ بچے نے کہا هاں جی جاتا ہوں، اجنبی نے پوچھا کہ کس کلاس میں پڑھتے ہو، بچے نے کہا نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا بلکہ ماں چنے بنا دیتی ہے وہ سکول کے بچوں کو فروخت کرتا ہوں، بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ہیں، ہمارا یہ کام دھندا ہے، بچے کا ایک ایک لفظ میرے جذبات کو چھید کر روح میں اتر رہا تھا، تمہارا کوئی رشتہ دار اجنبی نہ چاہتے ہوئے بھی بچے سے پوچھ بیٹھا؟
امی کہتی ہیں غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا کیونکہ امی کبھی جھوٹ نہیں بولتی، لیکن انکل جب ہم کهانا کها رہے ہوتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ امی اپ بهی کھائیں تو وہ کہتی ہیں بیٹا میں نے کها لیا ہے اس وقت لگتا ہے وہ جھوٹ بول رہی ہیں، بیٹا اگر گھر کا خرچ مل جائے تو تم پڑھو گے؟ بچہ نے کہا بالکل بھی نہیں کیونکہ تعلیم حاصل کرنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ہیں ہمیں کسی پڑھے ہوئے انسان نے کبھی نہیں پوچھا سب پاس سے گزر جاتے ہیں، اجنبی حیران بهی تها اور پریشان بهی، پهر اس بچے نے کہا کہ ہر روز اسی مسجد میں آتا ہوں کبھی کسی نے نہیں پوچھا، شاید آپ اجنبی ہیں، یہاں تمام آنے والے میرے والد کو جانتے تھے، مگر ہمیں کوئی نہیں جانتا، بچہ زور زور سے رونے لگا، انکل جب باپ مر جاتا ہے تو سب اجنبی بن جاتے ہیں، میرے پاس بچے کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا، ایسے کتنے معصوم ہونگے، جو حسرتوں سے زخمی ہیں، بس خدارا ایک کوشش کیجئے اور اپنے ارد گرد ایسے ضرورت مند یتیموں اور بےسہارا کو ڈهونڈیں اور ان کی مدد کیجئیے، چیریٹی اداروں اور این جی اوز کو دینے کے بجائے اس طرح کے افراد کی مدد کریں، سیلیبریٹی بننے کے چکر میں کسی غیر ضروری جگہ سیمنٹ یا اناج کی بوری دینے سے پہلے اپنے آس پاس کسی غریب کو دیکھ لیں شاید اسکو آٹے کی بوری زیادہ ضرورت ہو، تصویر یا ویڈیو بھیجنے کی جگہ یہ میسج کم ازکم ایک یا دو گروپ میں ضرور شئیر کریں، خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش جاری رکھیں..........
مزید سبق آموز, اسلامی،طبی اور دلچسپ پوسٹس حاصل کرنے کے لیئے مجھے فالو کریں میرا پیج لائیک کریں اس طرح میری تمام پوسٹس آپکو ملتی رہیں گی.