NH Urdu

NH Urdu All Kind of Urdu News from Around the World. Must Like Our Page & Appreciate Our Effort.

21/01/2023

طالبہ پر تشدد کرنے والی ساتھی طالبات کی ضمانت منظور: 'والدین کو بچوں پر نظر رکھنے کا تو کہا جاتا ہے مگر دوستی رکھنے کا نہیں'

لاہور کی ایک مقامی عدالت نے صوبائی دارالحکومت کے ایک نجی سکول میں ایک طالبہ پر مبینہ تشدد کرنے والی تین نوعمر طالبات کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی ہے۔

لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج نے انتظامیہ سے اس معاملے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے پولیس کو اس واقعے میں ملوث تینوں طالبات کو 30 جنوری تک گرفتار نہ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر گذشتہ روز سے اس واقعے سے متعلق ویڈیو کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین نوعمر طالبات اپنی ایک ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

متاثرہ طلبہ کے والد نے اس واقعے کے خلاف مقامی تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کروائی ہے۔

ایف آئی آر میں انھوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کی بیٹی کو ساتھی طالبات نے منصوبہ بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے چند روز قبل ایک طالبہ کے والد کو ایک ویڈیو بھیجی تھی جس میں طالبہ کی جانب سے منشیات کے استعمال کی بات کی گئی تھی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس کی بنیاد پر اب اس طالبہ نے بدلہ لینے کے لیے دیگر دو طالبات کے ساتھ مل کر ان کی بیٹی کو ’جان سے مارنے‘ کی کوشش کی۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد ان تین طالبات نے ایک مقامی عدالت سے رجوع کیا اور 50، 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی۔

لاہور کے ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے سامنے پہلی بار اس نوعیت کا مقدمہ آیا ہے اور انھوں نے احتیاط سے نہ صرف مقدمے کا اندراج یقینی بنایا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ ان نوعمر طالبات کے مستقبل کو پولیس کارروائی سے نا قابل تلافی نقصان نہ پہنچے۔

ان کے مطابق یہ ایک عام ایف آئی آر سے ہٹ کر طالبات کا مسئلہ تھا جو کہ ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے۔ چونکہ متاثرہ لڑکی کے والد نے ایف آئی آر میں طالبات کی جانب سے نشے کے استعمال اور اقدام قتل جیسے الزامات بھی عائد کیے ہیں، تو ان پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔

ہم نیند کے دوران بیڈ سے گِرتے کیوں نہیں؟اگر آپ رات کو آنکھیں بند کریں اور آپ کی آنکھیں صبح سویرے خود بخود ہی کُھل جائیں ...
20/01/2023

ہم نیند کے دوران بیڈ سے گِرتے کیوں نہیں؟

اگر آپ رات کو آنکھیں بند کریں اور آپ کی آنکھیں صبح سویرے خود بخود ہی کُھل جائیں تو آپ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنھیں اچھی اور پُرسکون نیند میسر ہوتی ہے۔

ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ سوتے وقت ہمارا جسم اور دماغ دونوں حرکت میں ہوتے ہیں۔

ہم خواب دیکھتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، ہنستے ہیں، لوگوں پر چیختے ہیں۔ کبھی چادر اوڑھ لیتے ہیں تو کبھی اتار دیتے ہیں۔ بعض اوقات ساتھ سوئے ہوئے فرد کو لات بھی مار دیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ تو بستر پر گھومتے، جھومتے اور جھول لیتے ہیں۔

مگر چاہے ہم 65 سینٹی میٹر کے کیمپنگ بیڈ پر ہوں یا 200 سینٹی میٹر کے کِنگ سائز بیڈ پر، ہم میں سے اکثر لوگ وہیں بیدار ہوتے ہیں جہاں رات سوئے ہوں، اس بات سے قطع نظر کہ خواب خرگوش میں رات کتنی ہی مصروف گزری ہو۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم سوتے ہوئے بیڈ سے گرتے کیوں نہیں؟

یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں پروفیسر رسل فوسٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’یہ حیرانی کی بات ہے کیونکہ نیند میں ہمارا اردگرد سے رابطہ بالکل منقطع ہوتا ہے۔ صرف اسی صورت میں آنکھ کھلتی ہے اگر کوئی چیخے کہ ’اُٹھ جاؤ‘۔‘

’ہمارا جسم ریسپٹرز کی مدد سے معلومات جمع کرتا رہتا ہے۔‘

یعنی ایک حِس ایسی موجود ہے جو کبھی سوتی نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ چھٹی حِس کی طرح ہے۔ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو یہ اس قدر اچھی نہیں ہوتی۔ اسی لیے بچپن میں کچھ لوگ بیڈ سے گِر جاتے ہیں۔ مگر عمر کے ساتھ اس میں بہتری آتی ہے۔‘

تو نیند میں بھی ہم پوری طرح اپنے حالات سے بے خبر نہیں ہوتے۔ مگر اس کا اثر تب نہیں ہوتا جب ہم نیند میں چلنے لگیں اور ہماری دیوار سے ٹکر ہو جائے۔

کیا اس کا چھٹی حس سے کوئی تعلق ہے؟ فلموں اور ڈراموں میں اسے ایسی حِس ظاہر کیا جاتا ہے جو ہمیں کچھ بُرا ہونے سے پہلے بے چین کر دیتی ہے یا پھر ہمارا بھوتوں سے رابطہ کراتی ہے۔

ہمالیہ کا وہ قصبہ جو آہستہ آہستہ زمین میں دھنستا جا رہا ہے.دو جنوری کو علی الصبح پرکاش بھوتیال کی آنکھ اپنے گھر میں ایک ...
20/01/2023

ہمالیہ کا وہ قصبہ جو آہستہ آہستہ زمین میں دھنستا جا رہا ہے.

دو جنوری کو علی الصبح پرکاش بھوتیال کی آنکھ اپنے گھر میں ایک دھماکے کے ساتھ کُھلی۔ اُنھوں نے لائٹ جلائی تو دیکھا کہ ان کے نئے تعمیر شدہ دو منزلہ مکان کے 11 میں سے نو کمروں کی اینٹوں سے بنی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

پرکاش کے تمام گھر والے گھبرا کر ان دو کمروں میں منتقل ہو گئے جن میں معمولی کریک آئے ہیں۔

52 سالہ پرکاش اور ان کا 11 افراد پر مشتمل خاندان شمالی انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ کے ایک چھوٹے سے ہمالیائی پہاڑی شہر جوشی مٹھ میں رہتا ہے۔

پرکاش بھوتیال کہتے ہیں، ’ہم دیر تک جاگتے رہتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی آواز بھی خوف و ہراس پیدا کر دیتی ہے۔ ہم پوری تیاری کے ساتھ بستر پر جاتے ہیں تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں فوراً باہر نکل سکیں۔‘

لیکن باہر بھی چیزیں اتنی محفوظ نہیں ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جوشی مٹھ میں زمین آہستہ آہستہ دھنس رہی ہے۔ جوشی مٹھ 20 ہزار افراد پر مشتمل ایک قصبہ ہے جو ایک پہاڑی کے کنارے آباد ہے جہاں دو وادیاں 6,151 فٹ کی بلندی پر آپس میں ملتی ہیں۔

تقریباً ساڑھے چار ہزار عمارتوں میں سے 670 سے زیادہ میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جس میں ایک مقامی مندر اور ایک رسیوں سے بنا پُل بھی شامل ہے۔ ایک ایسے علاقے میں جو حکام کے مطابق 350 میٹر چوڑا ہے، فٹ پاتھوں اور گلیوں میں دراڑیں پڑی ہوئی ہیں، دو ہوٹل اب ایک دوسرے پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں، پانی کھیتوں سے باہر اُبل رہا ہے جس کی وجہ واضح نہیں ہے۔

قصبے میں تقریباً 80 خاندانوں کو ان کے گھروں سے سکولوں اور ہوٹلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیمیں پہنچ چکی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لوگوں کو وہاں سے نکالنے کی تیاری بھی ہے۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کہتے ہیں، ’ہماری پہلی ترجیح لوگوں کی زندگی بچانا ہے۔‘

لیکن لوگ یہاں کن حالات میں رہ رہے ہیں یہ دیکھنا بہت دردناک ہے۔

یومیہ اجرت پر کام کرنے والے 52 سالہ درگا پرساد سکلانی کے تین کمروں والے گھر کی دیواروں اور فرش پر دراڑیں پڑنے کے بعد حکام نے ان کے 14 افراد پر مشتمل خاندان کو مقامی ہوٹل میں منتقل کر دیا ہے۔

لیکن دن کے وقت سکلانی اپنے زمین میں دھنستے ہوئے گھر واپس جاتے ہیں، جہاں وہ کھانا پکاتے ہیں اور صحن میں اپنے مویشیوں کو چارہ ڈالتے ہیں، ان کے گھر کا صحن دو فٹ سے زیادہ نیچے آ چکا ہے۔

مایوس ہو کر اُنھوں نے دیواروں کے ساتھ لکڑیاں لگا دی ہیں تاکہ اُنھیں گرنے سے روکا جا سکے۔ سکلانی کی اہلیہ کی حال ہی میں ایک مقامی کلینک میں سرجری ہوئی تھی، اور نہیں معلوم کہ وہ ہوٹل کے تنگ کمرے میں کیسے صحتیاب ہوں گی۔

اِسی خاندان کی ایک رکن نیہا سکلانی کہتی ہیں، ’ہم اپنے گھر کو آہستہ آہستہ دفن ہوتے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دراڑیں وسیع ہوتی جارہی ہیں۔ یہ ایک خوفناک منظر ہے۔‘

اس صورتِ حال سے کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ جوشی مٹھ خود نازک ارضیاتی حالات میں وجود میں آیا تھا۔ یہ قصبہ جو ایک پہاڑی کی درمیانی ڈھلوان پر واقع ہے، تقریباً ایک صدی پہلے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے ملبے پر تعمیر کیا گیا تھا، اور یہ زلزلے کے شکار علاقے میں واقع ہے۔

’حارث بھائی آپ نے ایسا کیا کیا کہ افتخار کو غصہ آ گیا‘: بی پی ایل میں افتخار کی سنچری، ون ڈے ٹیم میں واپسی کے مطالبےنیوز...
20/01/2023

’حارث بھائی آپ نے ایسا کیا کیا کہ افتخار کو غصہ آ گیا‘: بی پی ایل میں افتخار کی سنچری، ون ڈے ٹیم میں واپسی کے مطالبے

نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران ڈراپ ہونے والے افتخار احمد اور خوشدل شاہ کی اس وقت سوشل میڈیا پر دھوم مچی ہوئی ہے کیونکہ گذشتہ روزبنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں دونوں ہی نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔

گذشتہ برس تک افتخار احمد اور خوشدل شاہ دونوں کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر کے مسائل کے حل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں دونوں کو ڈراپ کر دیا گیا اور ان کی جگہ ٹیم میں حارث سہیل اور آغا سلمان کو موقع دیا گیا۔

حالانکہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ان دونوں کرکٹرز کی جانب سے کھیلی گئی اننگز ایک مختلف فارمیٹ میں تھی لیکن اس سال انڈیا میں ہونے والے ورلڈکپ سے قبل پاکستان کو ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو آخری اوورز میں جارحانہ انداز اپنا سکیں اور اس چیز کی کمی نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں بھی محسوس ہوئی۔

پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کی مرکزی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قومی ٹیم کے کھلاڑی اگر انٹرنیشنل کرکٹ نہ بھی کھیل رہے ہوں تو ان کے مداح کی نظریں دوسری لیگز میں بھی ان کی کارکردگی پر مرکوز رہتی ہیں۔

ی پی ایل میں افتخار احمد ’بریشال‘ جبکہ خوشدل شاہ ’کومیلا وکٹورینز‘ کی طرف سے کھیل رہے ہیں۔ گذشتہ روز افتخار احمد نے 45 گیندوں پر سنچری سکور کی جس میں نو چھکے اور چھ چوکے شامل تھے۔ انھیں میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔

افتخار احمد اور بریشال کے کپتان شکیب الحسن کی ناقابلِ تسخیر شراکت 192 رنز کی رہی جو ٹی ٹوئنٹیز میں پانچویں وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت ہے۔

دوسری جانب خوشدل شاہ نے کومیلا وکٹورینز کے لیے صرف 24 گیندوں پر 64 رنز کی اننگز کھیلی۔ انھوں نے اس اننگز میں پانچ چھکے اور سات چوکے لگائے۔

افتخار کی اس اننگز کی خاص بات یہ تھی کہ انھوں نے اس دوران پاکستان فاسٹ بولر حارث رؤف کو ایک ہی اوور میں تین چھکے لگائے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’حارث بھائی آپ نے ایسا کیا کیا کہ افتخار کو غصہ آ گیا۔‘

ان دونوں بلے بازوں کی عمدہ بیٹنگ کے بعد پاکستان میں یہ بحث اس وقت عروج پر ہے کہ رواں سال انڈیا میں ہونے والے ون ڈے ورلڈکپ میں جہاں پچز پاکستان اور بنگلہ دیش جیسی ہوں گی وہاں افتخار اور خوشدل جیسے جارحانہ بلے بازوں کی ضرورت محسوس ہو گی۔

سمیعہ نامی صارف نے لکھا کہ خوشدل شاہ ون ڈے میں فنشر کے رول میں ہماری پہلی چوائس ہونی چاہیے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’کیا پاکستان کو ون ڈے ٹیم کے لیے واپس خوشدل شاہ کی طرف دیکھنا چاہیے؟ کیونکہ ون ڈے میچز میں ان کی پرفامنس اچھی رہی ہے۔‘

افتخار احمد کی جانب سے پاکستان کے لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور انھوں نے اہم میچوں میں پاکستان کی بیٹنگ کو سہارا دیا تھا۔

دوسری جانب خوشدل شاہ ورلڈ کپ سے قبل ٹی ٹوئنٹی میچوں میں تو اچھی کارکردگی نہیں دکھا پائے تھے لیکن گذشتہ برس ون ڈے میچوں میں ان کی کارکردگی اچھی رہی تھی۔

اس وقت بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں متعدد پاکستانی کرکٹرز ایکشن میں ہیں جن میں افتخار احمد اور خوشدل شاہ کے علاوہ حارث رؤف، محمد نواز، محمد رضوان، محمد عامر سمیت دیگر کھلاڑی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستانی کھلاڑی اب فروری میں پی ایس ایل میں ایکشن میں نظر آئیں گے جس کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گی جس میں ٹیم میں تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

کیا سعودی عرب کا دوست ممالک کی مشروط مالی مدد کا اعلان پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟ایک ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی...
20/01/2023

کیا سعودی عرب کا دوست ممالک کی مشروط مالی مدد کا اعلان پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب سے فوری امداد کی توقع کر رہا ہے، سعودی عرب کے وزیر خزانہ نے بُدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اتحادی ممالک کو دی جانے والی مالی معاونت کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جا رہا ہے، یعنی بغیر کسی شرط کے براہِ راست گرانٹس اور ڈپازٹس کی پالیسی کو بدل کر اب دوست ممالک میں معاشی اصلاحات پر زور دیا جائے گا۔

ایسے میں سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا ان دوست ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے اور اس اعلان سے پاکستان کیسے متاثر ہو سکتا ہے؟ ماہرین کے مطابق نئی سعودی پالیسی سے پاکستان اور افریقہ سمیت دنیا کے مختلف خطے اور ممالک متاثر ہوں گے۔

ایک جانب جہاں معاشی ماہرین اس بیان کو پاکستان کے لیے ’خطرے کی گھنٹی‘ قرار دے رہے ہیں وہیں پاکستانی حکام، جن کے مطابق سعودی عرب کے اعلان کا جائزہ لیا جا رہا ہے، نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ نئی شرائط کا اطلاق پہلے سے کیے جانے والے وعدوں پر نہیں ہو گا۔

قاسم علی شاہ کے ’بیٹے کی بلیئنگ‘: بعض واقعات کے بعد لوگوں کے خاندان تک پہنچ جانے کی بحثسوشل میڈیا وہ جگہ ہے جہاں کوئی بھ...
20/01/2023

قاسم علی شاہ کے ’بیٹے کی بلیئنگ‘: بعض واقعات کے بعد لوگوں کے خاندان تک پہنچ جانے کی بحث

سوشل میڈیا وہ جگہ ہے جہاں کوئی بھی کسی بھی وقت ٹرولنگ کی زد میں آسکتا ہے۔ چاہے پھر وہ نامور شخص ہو یا پھر کوئی عام آدمی۔ اکثر تو ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی بھی سوشل میڈیا صارف آپ کی ویڈو یا آپ سے منسلک کوئی مواد اپنے اکاونٹ پر ڈالتا ہے جو وائرل ہو جاتا ہے جس کے بعد آپ کی ٹرولنگ شروع ہو جاتی ہے۔



حال ہی میں ’موٹیویشنل سپیکر‘ قاسم علی شاہ کی چند ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس کے بعد ان کی ٹرولنگ شروع ہو گئی۔ یہ ٹرولنگ اس وقت شروع ہوئی جب انھوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اور اگلے ہی روز وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کے چند کلپ سیاسی سپوٹرز کو تب تک پسند آئے جب تک وہ ان کے لیڈر کے تعریف تک محدود تھے۔ لیکن ملاقاتوں کے بعد ان کے چند ایسے کلپس بھی سامنے آئے جن میں وہ بظاہر عمران خان پر تنقید کر رہے ہیں جس کے بعد سے انھیں شدید ٹرولنگ کا سامنا ہے جو ان کے مطابق ان تک نہیں رکا بلکہ ان کے بچے کو بھی ٹرول کیا جا رہا ہے۔

’میں نے کون سا جرم کر دیا ہے، مجھے بتائیں؟‘

اس حوالے سے ایک ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ ان کے بیٹے نے انھیں کال کر کے کہا کہ ’میری پوری کلاس پاپا مجھے بُلی کر رہی ہے، تیرے باپ نے کیا کیا ہے‘۔

اس کے بعد وہاں موجود لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے قاسم علی شاہ نے پوچھا کہ ’میں نے کون سے جرم کر دیا ہے، مجھے بتائیں؟ یار کسی کے درد کو محسوس کر کے دیکھیں‘۔

اس کلپ کے وائرل ہونے کے بعد کچھ صارفین ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ ’کسی بھی بچے کو ٹرول کرنا غلط ہے‘۔

یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں ٹرول کیے جانے والے شخص کے ساتھ ساتھ اس کے بچوں اور خاندان کو بھی ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ ماضی میں زیادہ تر ایسے واقعات کی مثالیں دیکھیں تو ان کا سرا بھی سیاست سے ہی جا کر ملتا ہے۔ سیاست میں اختلاف رائے رکھنے یا عدم برداشت کا مظاہرہ کرنا ایک عام سی بات بنتی جا رہی ہے جس سے بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمشُروع اَللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہر بان نہايت رحم والا ہے ۔
20/01/2023

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم
شُروع اَللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہر بان نہايت رحم والا ہے ۔

Address

Wah
47040

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NH Urdu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share